تھر کی مزاحمتی آواز، سندھی چھوکری
میرا نام عروج فاطمہ کپری ہے، لیکن زیادہ تر لوگ مجھے میرے فن سے جڑے نام “سندھی چھوکری” کے نام سے جانتے ہیں۔ میرا تعلق ضلع میرپور خاص، سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں فضل محمد کپری سے ہے جہاں روز مرہ ضروریات کے بنیادی مسائل کا سامنا ہے — صاف پانی و میعاری تعلیم کی قلت کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے مسائل ہیں۔ اور اس سب سے بڑھ کر لڑکیوں کے خواب دیکھنے، جینے اور اپنے لیے آواز اٹھانے میں بہت رکاوٹیں ہیں۔
بچپن سے ہی میرے دل میں کئی سوال تھے: لڑکیوں کو ہمیشہ خاموش کیوں رہنے کو کہا جاتا ہے؟ لوگ ہمارے مسائل کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟ جب ان سوالوں کے جواب مجھے کہیں اور سے نا ملے تو میں نے خود ان کی تلاش شروع کردی اور یہی سوال میری طاقت بن گئے، اور میں نے لکھنا اور اپنے دل کی بات کہنا شروع کیا۔
2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے میرے گاؤں کو تباہ کر دیا — ہمارا گھر، اسکول، پورا علاقہ، سب کچھ ختم ہو گیا۔ مگر اس نقصان کے لمحے میں مجھے کچھ ایسا حاصل ہوا جو نا صرف میری طاقت بنی ہے بلکہ کئی اور میری طرح کی لڑکیوں کی بھی, اور وہ تھی میری آواز! میں نے فیصلہ کیا کہ اب کبھی خاموش نہیں رہوں گی۔ تب میں نے ریپ کو اپنی آواز بنانے کا فیصلہ کیا، اور “سندھی چھوکری” کا جنم ہوا۔
میری ریپ موسیقی صرف گیت نہیں، بلکہ میرے جذبات، سوالات، اور سچ بولنے کا ذریعہ ہے۔ ان میں میں خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی، اور ناانصافی جیسے حقیقی مسائل کو اجاگر کرتی ہوں۔
اسی سال، میں نے شِرکت گاہ ویمنز ریسورس سینٹر کے زیرِ اہتمام “فیمینسٹ انسٹیٹیوٹ” کی تربیت میں شرکت کی۔ اس تربیت نے مجھے مزید علم اور اعتماد دیا۔ اس کے بعد میں نے مختلف دیہاتوں میں آگاہی سیشنز کا انعقاد شروع کیا — جن کے موضوعات میں حیض کی صحت، انسانی حقوق، خواتین کا بااختیار ہونا، اور ماحولیاتی انصاف شامل تھے۔ میں نے کئی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنے علاقے میں بہتری لانے کے لیے کام شروع کیا۔
اپنے بھائی محمد کپری المعروف “ٹاکسک صوفی” کے ساتھ مل کر میں نے پھنجی گینگ(یہ سندھی زبان کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے: اپنی /اپنا گینگ) کی بنیاد رکھی — یہ ایک میوزک گروپ اور تخلیقی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد دیہی علاقوں کے نوجوان فنکاروں کی مدد اور رہنمائی کرنا ہے، تاکہ وہ بھی فن کے ذریعے اپنی کہانی سنا سکیں اور اپنی آواز بلند کر سکیں۔
پھنجی گینگ کے ذریعے ہم نے لاہوتی میلہ جیسے بڑے ثقافتی پروگراموں میں پرفارم کیا اور اپنا میوزک آن لائن شیئر کیا۔ لوگ ہمارے گیتوں سے جُڑتے ہیں کیونکہ وہ حقیقی تجربات پر مبنی ہوتے ہیں۔
میرا ایک معروف و مشہور گیت جس میں عزم و ہمت جھلکتی ہے”بول اُٹھو” ہے، جس کا مطلب ہے “آواز بلند کرو”۔ یہ گانا شِرکت گاہ کی مدد سے تیار ہوا اور ایک نسوانی ترانہ بن گیا۔ یہ لڑکیوں اور عورتوں کو خاموشی توڑنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ اگر ہم نہیں بولیں گے تو کوئی نہیں سنے گا، لیکن اگر ہم بولیں گے تو ہماری آواز سب کچھ بدل سکتی ہے۔ یہ گانا سوشل میڈیا پر شیئر ہوا اور کئی خواتین کے پروگراموں میں بجایا گیا۔ بہت سی نوجوان لڑکیوں نے مجھ سے کہا کہ اس گانے نے انہیں امید اور حوصلہ دیا۔
آج میں یقین سے کہتی ہوں کہ تھر کی ہر لڑکی، بلکہ پاکستان بھر کی ہر لڑکی کو بولنے، خواب دیکھنے، اور قیادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ سندھی چھوکری صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے — کہ گاؤں کی لڑکیاں بھی اُٹھ سکتی ہیں، کہ ہماری زبان اور ثقافت طاقتور ہیں، اور یہ کہ فن مزاحمت اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ صرف میری کہانی نہیں، بلکہ ہر اُس لڑکی کی کہانی ہے جو خاموشی توڑنا چاہتی ہے اور حق کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔ میرا یہ عزم ہے کہ میں اپنے فن کے ذریعے ایسے ہی ہزراوں ایسی لڑکیوں کی آواز بن کر ان کو اپنی آواز تلاش کرنے کے لیے متحرک رہوں گی جب تک تھر کی یہ مزاحمتی آواز انقلاب میں نہیں بدل جاتی!
4 Comments
Truly inspiring 👍
آپ کی کہانی پڑھ کر دل کو بہت سکون اور خوشی ملی۔ کپری جیسے علاقے سے ابھر کر، جہاں روزمرہ کے چیلنجز اور خاص طور پر لڑکیوں کے لیے رکاوٹیں بے شمار ہیں، آپ نے جس ہمت اور اعلی عزم کا مظاہرہ کیا ہے وہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔ آپ نے نہ صرف اپنے سوالات کا جواب خود ڈھونڈا بلکہ انہیں اپنی طاقت بنا کر “سندھی چھوکری” کی صورت میں ایک نئی پہچان حاصل کی۔ 2022 کے سیلاب جیسی آفت کو بھی آپ نے اپنی آواز بننے کا ذریعہ بنایا، یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ہر مشکل کو مواقع میں بدلنے کا ہنر جانتی ہیں۔ آپ کی ریپ موسیقی صرف گیت نہیں بلکہ خواتین کے حقوق، تعلیم، اور ماحولیاتی انصاف جیسے اہم مسائل پر ایک طاقتور بیانیہ ہے جو سننے والوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے۔
آپ کا “بول اٹھو” گانا صرف ایک نغمہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جو لاکھوں لڑکیوں کو اپنی آواز بلند کرنے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ شریکت گاہ اور ویمنز ریسورس سینٹر کے ساتھ آپ کی وابستگی اور “پھنجی گینگ” کی بنیاد رکھنا، یہ سب آپ کی لگن اور دوسروں کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کا یہ وژن کہ تھر کی ہر لڑکی اور پاکستان بھر کی ہر لڑکی کو بولنے، خواب دیکھنے اور قیادت کرنے کا حق حاصل ہے، ایک روشن مستقبل کی کرن ہے۔ آپ کا فن مزاحمت اور تبدیلی کا ایک بہترین ذریعہ بن چکا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ آپ کی یہ جدوجہد تھر سے ابھر کر ایک بڑے سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ آپ نے ثابت کر دکھایا ہے کہ گاؤں کی لڑکیاں بھی آسمان کو چھو سکتی ہیں!
It is really inspiring to see such powerful stories through Naaye Khwaab.
Urooj’s story is so touching that it is a comvination of the apprciation of one’ art and culture along with the freedom of speech being practised uniquely.
Found power in chaos!! truly inspiring