عائشہ اسلام کی گرین زون کہانی
گرین زون کہانی عائشہ اسلام یہ عالم گیر مایوس اور پریشان کن دور کے تسلط میں امید کے دِیے روشن کرنے والے فلسفے سے روشناس ہونے کی کہانی ہے۔ سال تھا 2020 جب پوری دنیا میں کورونا وبا بے قابو تھی اور لوگ اس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا رہے تھے۔ جو وائرس کی لپیٹ میں آنے سے بچ گئے وہ قرنطینہ پابندیوں کے نتیجے میں گہری تنہائی کے احساس میں مبتلا ہوئے۔ تنہائی، معاشی، اقتصادی اور سماجی ابتری کا دباؤ انسانوں میں کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کی وجہ بن رہا تھا۔ ان حالات میں ہم سب ویب سائٹ پر ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم پڑھتے ہوئے میرا تعارف گرین زون فلسفے سے ہوا۔ کسی بھی انسان دوست شخصیت کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور خوشی انسانوں کے دکھوں کو کم کرنا اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسا انسان ہمیشہ اس دھن اور لگن میں ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کی اجتماعی مدد کر سکے۔ وہ کوئی کتاب لکھتا ہے، جسے پڑھ کر باقی انسان اپنے لیے کوئی راہ منتخب کرنے کے فیصلے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی ساز ایجاد کرتا ہے، جسے سن کر غم کا بوجھ دل پر سے سرکنے لگتا ہے۔ کوئی فلسفہ یا اچھوتا آدرش پیش کرتا ہے جو لوگوں کے لیے ان کی زندگی کے معنی اور طرز تبدیل کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر خالد سہیل گرین زون فلسفے کو سیکھانے، سمجھانے اور دکھی انسانوں تک پہنچانے کیلئے زوم پر آن لائن سیمینارز کا انعقاد کروا رہے تھے۔ میں ان گرین زون سیمینارز کا حصہ بنی۔ یوں ڈاکٹر خالد سہیل میرے فیس بُک فرینڈ سے گرین زون فرینڈ بن گئے۔ اب میں اُنہیں بہت اپنائیت سے “ڈاکٹر دوست” کہہ کر پکارتی ہوں۔ گرین زون انسان کا سیفٹی اور کمفرٹ زون ہے۔ گرین زون تھراپی، اپنی ذات پر اپنا کنٹرول لینے کی مشق ہے۔ اپنے موڈ کو منفی چیزوں سے trigger ہونے سے بچائے رکھنے اور ری ایکٹ کے بجائے ایکٹ کرنے کا نام ہے۔ گرین زون فلسفے کا سب سے اہم اصول اپنی مدد آپ ہے۔ جس کے تحت انسان کسی اور کا انتظار کرنے کے بجائے خود اپنا مسیحا بننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ایسے لوگوں سے دور کر لیتا ہے جو اسے ریڈ یا ییلو زون میں دھکیلتے ہیں۔ اور خود کو ایسے لوگوں کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو اسے زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے گرین زون میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ گرین زون میں رہ کر انسان اپنے ساتھ دوستی کر لیتا ہے اور نتیجتاً تنہائی میں بھی انجمن کا گمان گزرتا ہے۔ گرین زون فلسفے کی تفہیم اور اس پر عمل نے میرے ذہن اور موڈ کی کمان میرے ہاتھ میں دے دی۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ گزشتہ برس مارچ کا ذکر ہے کہ میں نے عالمی یوم نسواں کی نسبت سے خواتین کو با اختیار بنانے کے موضوع پر انگریزی میں ایک نظم لکھی اور اسے لکھنے کے بعد اپنے کالج کے ایک پروفیسر کو وٹس ایپ کے زریعے بھیجی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میری لکھی نظم کا تنقیدی جائزہ لیں اور مناسب سمجھیں تو کوئی ترمیم تجویز کر دیں جو اسے زیادہ مؤثر اور بہتر بنا سکے۔ میرے پروفیسر نے نظم پڑھی اور نظر انداز کر دی۔ انہوں نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ بعد ازاں میں نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے محض یہ جملہ کہا: “This idea can be better expressed in prose.”اور خاموش ہو گئے۔ یہ جواب انتہائی دل شکن تھا۔ میں نفسیاتی طور پر ایسی حالت میں جانے والی تھی جس میں مَیں اپنی نظم کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال سکتی تھی۔ مگر پروفیسر کا جواب میرا اعتماد مجروح کرنے میں ناکام رہا کیونکہ میں گرین زون فلسفے پر عمل کرنے کی عادی ہو چکی تھی اور میں نے یہ احساس کرتے ہی کہ میں ریڈ زون میں داخل ہو رہی ہوں، خود کو وہیں روکا۔ ساری صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا اور پورے اعتماد سے وہی نظم internationalwomensday.com کو بھیج دی۔ انہوں نے میری نظم کو نہ صرف سندِ قبولیت بخشی بلکہ اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور دنیا بھر میں قارئین نے میری نظم خوب سراہی۔ مزید یہ کہ میری نظم internationalwomensday.com کی ویب سائٹ پر “Let’s Fly Together” کے عنوان سے اب بھی موجود ہے۔ یہاں نظم کا اردو ترجمہ پیش کر رہی ہوں۔ آؤ اُڑیں ایک ساتھ پر پھیلا کرتوڑیں پدرشاہی کی زنجیریں ہاتھ بڑھا کرچپ نہیں رہنا ، بولنا ہے ہمیںہاتھوں میں ہاتھ لیے بڑھنا ہے ہمیں یہ دَور عورتوں کی رہبری کا ہےان کے عزم، ان کے ارادے، ان کے مقاصد کا ہےجبر کو پیچھے چھوڑ کے ہم یہ کہتی ہیںاپنے جسم کی مالک ہم ہیں ، اپنے ذہن کی مالک ہم ہم ہیں اک دوجی کا سہارا، اک دوجے کی آواز ہیں ہمڈٹی ہیں ہم اپنے حق، اپنے انتخاب کے لیےساتھ مل کے آسماں کی رفعتوں پہ جائیں گیاپنے سارے سَپنے اپنی ہِمتوں سے پائیں گی آؤ بنائیں اک جہاں ایساجہاں محبت نفرتوں پہ حاوی ہواک مستقبل یوں تعمیر ہو کہ جس میںآزاد عورت، مضبوط عورتمحض خواب نہیں، جاگتی حقیقت ہو میں نے پروفیسر کے دل شکن رویے کے منفی اثرات کو گرین زون فلسفے کی مدد سے خود سے دور رکھا۔ میں ذہنی طور پر گرین زون میں رہی اور اپنی ذات اور اپنی تخلیق پر اپنا اعتماد متزلزل نہیں ہونے دیا، جس کی وجہ سے میری نظم دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، بھارت سمیت کئی ممالک میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقاریب میں بارہا پڑھی جاتی ہے۔ اب انڈیا کی سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش نے میری نظم بی اے انگلش آنرز کے تعلیمی نصاب میں شامل کر لی ہے جو یونیورسٹی کی سطح پر طلباء و طالبات کو پڑھائی جائے گی۔ گرین زون فلسفے نے ہی مجھے اس کمزور لمحے پر قابو پا کر درست سمت میں قدم اُٹھانا سکھایا۔ اب میں روایتی مشرقی ریڈ زون معاشرے میں رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو گرین زون









