Blog

Blog

Blog, Aisha Aslam

عائشہ اسلام کی گرین زون کہانی

گرین زون کہانی عائشہ اسلام یہ عالم گیر مایوس اور پریشان کن دور کے تسلط میں امید کے دِیے روشن کرنے والے فلسفے سے روشناس ہونے کی کہانی ہے۔ سال تھا 2020 جب پوری دنیا میں کورونا وبا بے قابو تھی اور لوگ اس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا رہے تھے۔ جو وائرس کی لپیٹ میں آنے سے بچ گئے وہ قرنطینہ پابندیوں کے نتیجے میں گہری تنہائی کے احساس میں مبتلا ہوئے۔ تنہائی، معاشی، اقتصادی اور سماجی ابتری کا دباؤ انسانوں میں کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کی وجہ بن رہا تھا۔ ان حالات میں ہم سب ویب سائٹ پر ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم پڑھتے ہوئے میرا تعارف گرین زون فلسفے سے ہوا۔ کسی بھی انسان دوست شخصیت کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور خوشی انسانوں کے دکھوں کو کم کرنا اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسا انسان ہمیشہ اس دھن اور لگن میں ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کی اجتماعی مدد کر سکے۔ وہ کوئی کتاب لکھتا ہے، جسے پڑھ کر باقی انسان اپنے لیے کوئی راہ منتخب کرنے کے فیصلے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی ساز ایجاد کرتا ہے، جسے سن کر غم کا بوجھ دل پر سے سرکنے لگتا ہے۔ کوئی فلسفہ یا اچھوتا آدرش پیش کرتا ہے جو لوگوں کے لیے ان کی زندگی کے معنی اور طرز تبدیل کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر خالد سہیل گرین زون فلسفے کو سیکھانے، سمجھانے اور دکھی انسانوں تک پہنچانے کیلئے زوم پر آن لائن سیمینارز کا انعقاد کروا رہے تھے۔ میں ان گرین زون سیمینارز کا حصہ بنی۔ یوں ڈاکٹر خالد سہیل میرے فیس بُک فرینڈ سے گرین زون فرینڈ بن گئے۔ اب میں اُنہیں بہت اپنائیت سے “ڈاکٹر دوست” کہہ کر پکارتی ہوں۔ گرین زون انسان کا سیفٹی اور کمفرٹ زون ہے۔ گرین زون تھراپی، اپنی ذات پر اپنا کنٹرول لینے کی مشق ہے۔ اپنے موڈ کو منفی چیزوں سے trigger ہونے سے بچائے رکھنے اور ری ایکٹ کے بجائے ایکٹ کرنے کا نام ہے۔ گرین زون فلسفے کا سب سے اہم اصول اپنی مدد آپ ہے۔ جس کے تحت انسان کسی اور کا انتظار کرنے کے بجائے خود اپنا مسیحا بننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ایسے لوگوں سے دور کر لیتا ہے جو اسے ریڈ یا ییلو زون میں دھکیلتے ہیں۔ اور خود کو ایسے لوگوں کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو اسے زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے گرین زون میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ گرین زون میں رہ کر انسان اپنے ساتھ دوستی کر لیتا ہے اور نتیجتاً تنہائی میں بھی انجمن کا گمان گزرتا ہے۔ گرین زون فلسفے کی تفہیم اور اس پر عمل نے میرے ذہن اور موڈ کی کمان میرے ہاتھ میں دے دی۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ گزشتہ برس مارچ کا ذکر ہے کہ میں نے عالمی یوم نسواں کی نسبت سے خواتین کو با اختیار بنانے کے موضوع پر انگریزی میں ایک نظم لکھی اور اسے لکھنے کے بعد اپنے کالج کے ایک پروفیسر کو وٹس ایپ کے زریعے بھیجی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میری لکھی نظم کا تنقیدی جائزہ لیں اور مناسب سمجھیں تو کوئی ترمیم تجویز کر دیں جو اسے زیادہ مؤثر اور بہتر بنا سکے۔ میرے پروفیسر نے نظم پڑھی اور نظر انداز کر دی۔ انہوں نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ بعد ازاں میں نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے محض یہ جملہ کہا: “This idea can be better expressed in prose.”اور خاموش ہو گئے۔ یہ جواب انتہائی دل شکن تھا۔ میں نفسیاتی طور پر ایسی حالت میں جانے والی تھی جس میں مَیں اپنی نظم کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال سکتی تھی۔ مگر پروفیسر کا جواب میرا اعتماد مجروح کرنے میں ناکام رہا کیونکہ میں گرین زون فلسفے پر عمل کرنے کی عادی ہو چکی تھی اور میں نے یہ احساس کرتے ہی کہ میں ریڈ زون میں داخل ہو رہی ہوں، خود کو وہیں روکا۔ ساری صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا اور پورے اعتماد سے وہی نظم internationalwomensday.com کو بھیج دی۔ انہوں نے میری نظم کو نہ صرف سندِ قبولیت بخشی بلکہ اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور دنیا بھر میں قارئین نے میری نظم خوب سراہی۔ مزید یہ کہ میری نظم internationalwomensday.com کی ویب سائٹ پر “Let’s Fly Together” کے عنوان سے اب بھی موجود ہے۔ یہاں نظم کا اردو ترجمہ پیش کر رہی ہوں۔ آؤ اُڑیں ایک ساتھ پر پھیلا کرتوڑیں پدرشاہی کی زنجیریں ہاتھ بڑھا کرچپ نہیں رہنا ، بولنا ہے ہمیںہاتھوں میں ہاتھ لیے بڑھنا ہے ہمیں یہ دَور عورتوں کی رہبری کا ہےان کے عزم، ان کے ارادے، ان کے مقاصد کا ہےجبر کو پیچھے چھوڑ کے ہم یہ کہتی ہیںاپنے جسم کی مالک ہم ہیں ، اپنے ذہن کی مالک ہم ہم ہیں اک دوجی کا سہارا، اک دوجے کی آواز ہیں ہمڈٹی ہیں ہم اپنے حق، اپنے انتخاب کے لیےساتھ مل کے آسماں کی رفعتوں پہ جائیں گیاپنے سارے سَپنے اپنی ہِمتوں سے پائیں گی آؤ بنائیں اک جہاں ایساجہاں محبت نفرتوں پہ حاوی ہواک مستقبل یوں تعمیر ہو کہ جس میںآزاد عورت، مضبوط عورتمحض خواب نہیں، جاگتی حقیقت ہو میں نے پروفیسر کے دل شکن رویے کے منفی اثرات کو گرین زون فلسفے کی مدد سے خود سے دور رکھا۔ میں ذہنی طور پر گرین زون میں رہی اور اپنی ذات اور اپنی تخلیق پر اپنا اعتماد متزلزل نہیں ہونے دیا، جس کی وجہ سے میری نظم دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، بھارت سمیت کئی ممالک میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقاریب میں بارہا پڑھی جاتی ہے۔ اب انڈیا کی سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش نے میری نظم بی اے انگلش آنرز کے تعلیمی نصاب میں شامل کر لی ہے جو یونیورسٹی کی سطح پر طلباء و طالبات کو پڑھائی جائے گی۔ گرین زون فلسفے نے ہی مجھے اس کمزور لمحے پر قابو پا کر درست سمت میں قدم اُٹھانا سکھایا۔ اب میں روایتی مشرقی ریڈ زون معاشرے میں رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو گرین زون

Iffat Naveed
Blog, Iffat Navaid

دادا،دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر

دادا،دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر عفت نوید شادی کے بعد بچوں کی پیدائش،ان کی پرورش و تربیت انسان کے اندر ایک نئی امنگ اور طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ اپنے بچوں کی صحت، خوش گوار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے وہ اپنی ساری توانائی اور اسباب اس کی منزل ِ مقصود کو آسان بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ پھر وقت آپ کی محنت کے ثمر دکھاتا ہے بچے اونچا اڑنے کے لیے پر پھیلا چکے ہیں۔آپ نے اڑان بھرنے کے لیے انہیں راستہ دکھایا، ان کی رہنمائی کی۔ خود کڑی دھوپ میں رہ کر انہیں سایہ فراہم کیا مشکلات اٹھائیں۔ شدید آزمائشوں سے گزرے،لیکن انہیں آرام آسائش اور سہولیات مہیا کیں۔ انہیں اپنی تھکن اور تکلیف کااحساس بھی نہ ہونے دیا۔ یہ سب ممکن ہوا کیوں کہ اس سب میں بھی ایک لطف، تشفی، تسلی، آ پ کی مرضی اور خواہش تھی۔ آپ کر سکتے تھے، کیا۔ یہ آپ کی اپنی بڑی کامیابی ہے۔ جس کے مسرت آپ اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتے ہیں اور خود کو توانا پاتے ہیں۔زمانے کے اطوار ہمیشہ سے بدلتے رہے ہیں اور انسانی مزاج اور رویو ں میں لچک کے باعث انسان سماج کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہا ہے۔ جوانی میں انسان خود بھی نئے انداز اختراع کرتا ہے۔اور نئے انداز کو بخوشی قبول کرتا ہے۔لیکن بڑھاپے کی دھلیز پر قدم رکھتے ہی اس کے مزاج میں برد باری اور سنجیدگی کے ساتھ یکسانیت آجا تی ہے۔ اس کی شوق، مصروفیات،اور لباس میںکو ئی تنوع نہیں ہو تا۔اس سب میں بھی وہ آزاد ہے۔اپنے مزاج اور سہولت کے حساب سے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا رہن سہن کے انداز اپنانے میں با اختیار ہو۔ اسی طرح اسے دوسروں کو بھی ان کی پسند نا پسند اور زندگی کے فیصلوں کا اختیار دینا چاہیے۔بزرگ والدین جب روزگار سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں اور ان کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے، ِ فکرات، شکوک و شبہات، انجانے خوف کے لیے۔ جس کا اظہار وہ محبت سے نہیں تکبر کے احساس کے ساتھ کرتے ہیں مگر ظاہر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ رہنمائی کر رہے ہوں۔ایک گھر جسے آپ نے بنایا، یا وراثت میں ملا۔ اگر آپ کے بچے اپنا مکان نہیں بنا سکے اور آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ تب ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ انہیں ان کی زندگی، ان کے انداز اور خواہشات کے مطابق جینے دیں۔ اپنے پوتا، پوتیوں سے صرف شفقت کریں،انہیں دعائیں دیں۔ ان کی نگہبانی اور رہنمائی کریں۔ اگر ان کے مزاج اور شوق آپ کو پسند نہیں، تو یہ بات اپنے تک رکھیں۔ ان کے معاملات اور سرگرمیوں پر ان کے والدین کی نگاہ ہے۔ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے واقف ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کے لیے ویسے ہی فکر مند رہتے ہیں جیسے آپ۔ اولاد جب اپنے پیروں پر کھڑی ہو جا تی ہے۔ ان کا اپنا ایک کنبہ ہوتا ہے۔ بلا وجہ کی نصیحت، نکتہ چینی اور دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت نوجوانوں کو اپنے بزرگ والدین سے دور کر دیتی ہے۔ اور پھر بزرگ خود ترسی میں مبتلا ہو کر خود اپنے ہاتھوں اپنی صحت، اور ذہنی کیفیات برباد کر دیتے ہیں۔کچھ بزرگ فکر نہیں کرتے ٹوہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر اپنی پوتیوں کی۔پکنک پر کیوں گئی؟ دیر سے کیوں آئی؟ کوچنگ میں رات کو دس بجے کون سی کلاس ہو تی ہے؟۔ کپڑے کیسے پہنے ہیں ؟خاص طور پر پوتے یا پوتی کی شادی، منگنی سے پہلے انہیں اعتماد میں لینا، ان کی رائے کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنا، سب سے بڑا معرکہ ہو تا ہے۔ اور اگر اولاد اپنے کنبے کے ساتھ اپنے بزرگ والدین کے مکان میں رہتی ہے، اس لیے اپنے بچوں کی زندگی کے فیصلے، رشتے طے کرنا کا سارا اختیار دادا، دادی کا! سب آپ کی سنتے اور مانتے ہیں۔ آپ اس تابع داری پر خوش، لیکن جان لیجیے کہ وہ تابع ہیں نہیں وہ مجبور ہیں۔ ان کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ آپ کے پوتا پوتی آپ کی رعایا نہیں۔ جوان خون کے آگے کو ئی مجبوری نہیں۔ لیکن والدین کی مجبوری ان کے علم بغاوت بلند کرنے میں رکاوٹ ہے۔ مگر کوئی بھی مشکل، یا مجبوری سدا نہیں رہتی۔ا ن کے گناہ ثواب، صحیح غلط،جنت دوزخ، برا بھلا، جزا سزا سے خود کو بری الزمہ سمجھیے۔ آپ انہیں جتنا آزاد چھوڑیں گے۔ خود کو بھی اتنا ہی آزاد اور خوش محسوس کریں گے کیوں کہ سب کی محبت اور حقیقی احترام آپ کو زندگی اور ان پیارے رشتوں سے قریب کر دے گا۔ آپ کی اولاد عازم ِ سفر ہے۔ ان کی زندگی کی گاڑی کے بریک کے ان کے ہاتھ میں ہیں، اور ایکسیلیٹر پر ان کا پیر ہے۔ انہیں اپنے ہم سفر بے حد عزیز ہیں۔ وہ ان کو تمام سہولیات، ضروریات، اسباب اور حفاظت کے ساتھ منزل پر اسی طرح پہنچائیں گے ۔ جیسے آپ نے اپنے وقت میں کیا تھا۔

Blog, Meher Ali

ادب اور انسانی ذہن

مہرعلی تاریخ کے ہر موڑ پر فنونِ لطیفہ اور ادب کسی نہ کسی صورت میں انسانی زندگی میں موجود رہے ہیں۔ گویا انسان ازل سے اپنے اندر کا اظہار کرتا آیا ہے چاہے وہ اساطیر ہوں،غاروں میں بنی تصاویر ہوں یا پھر لوک شاعری اور کہانیاں ۔۔۔۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا پتھروں پر مختلف نقش بنانا، ان دیکھے دیوتاؤں اور بھوت پریت کو اپنی داستانوں اور نظموں کا حصہ بنانا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کا متلاشی ہے جو اس یہاں اسے میسر نہیں یا یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ اس کا وجود اُس کی جسم کے قیدخانے سے فرار چاہتا ہے اس لیے وہ ایسی ایسی دنیائیں تخلیق کرتا ہے یا پھر فرائڈ کے مطابق وہ معاشرے کی لگائی پابندیوں سے بچنے کی خاطر اپنی جبلی خواہشات کا اظہار ایسے طریقوں سے کرتا ہے جو معاشرے میں قابلِ قبول ہوں یعنی فن اور ادب۔ اس کو نفسیات میں Sublimation کا نام دیا گیا ہے۔۔۔یہاں تک کہ سائنس اور فلسفہ، جو کہ تجربات، عقل اور منطق کی روشنی میں سچ کی تلاش کرتے ہیں ان میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کہانیاں شامل ہوجاتی ہیں۔۔۔قدیم فلسفہ سے لے کر جدید سائنس تک ایسی کئی کہانیاں موجود ہیں۔۔نیوٹن کے سر پر سیب کا گرنا اور اس سے کششِ ثقل کا دریافت ہونا جو کہ سائنسی دنیا کا بہت مشہور واقعہ ہے، سٹیفن ہاکنگ کے نزدیک ایک افسانے کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ انسان کی اس فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فن اور ادب انسانی ذہن کی تخلیق ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن پر گہرے اثرات بھی رکھتے ہیں۔۔۔۔ڈیجیٹل دور نے جہاں انسان کے کئی مسائل کا خاتمہ کیا ہے وہیں نئے مسائل کو جنم بھی دیا ہے اور پہلے کی طرح اب وہ مسائل خارجی نہیں بلکہ داخلی ہیں۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے قدم جیسے جیسے آگے بڑھ ہیں ویسے ویسے انسان کے ذہنی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس کی نفسیات مزید الجھاؤ کا شکار ہورہی ہے ان کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔۔۔۔ایسے میں فن اور ادب بہت حد تک مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ انسانی ذہن تصاویر اور علامتوں میں سوچتا ہے حتیٰ کہ اسے خواب میں بھی ایسی ہی علامتوں اور تصاویر کا سامنا ہوتا ہے۔۔۔۔انسان جب ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہے تو پرانے واقعات تصاویر کی صورت میں اس کے ذہن کی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں، ہوبہو حال اور مستقبل کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔انسان جب کسی فن پارے سے آنکھ ملاتا ہے یا پھر کسی ناول، افسانے یا شعر کو پڑھتا ہے تو اپنے ذہن میں ایسی ہی تصاویر کو جنم دیتا ہے۔۔۔مثال کے طور پر Albert Camus کے ناول The Stranger کو اگر پڑھا جائے تو آغاز سے اختتام تک ہم الفاظ پڑھ کر اپنے ذہن میں تصاویر کو جنم دیتے ہیں اور خود کو اس کردار کی جگہ رکھ دیتے ہیں جو اپنی زندگی میں شدید لایعنیت کا شکار ہے اور اسے کسی بھی بڑے سانحے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔یہاں میں کچھ مثالیں شاعری سے دے کر اپنی بات کو مزید واضح کروں گا۔۔۔ زرد ملبوس پہن کر وہ چمن میں آئیوہ بھی منجملۂ تصویرِ خزاں لگتی ہے (ثروت حسین) اس شعر کو پڑھتے ہوئے ایک dynamic picture اچانک ذہن کے کینوس پر ابھر آتی ہے جس میں زرد لباس پہنے ہوئے ایک حسین عورت خزاں کی طرح رقص کررہی ہے اور یقیناً یہ تصویر ہم سب کی اپنی اپنی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد ہے وہ رات زیرِ آسمانِ نیلگوں یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی راتچاند کی کرنوں کا بے پایاں فسوں، پھیلا ہواسرمدی آہنگ برساتا ہوا ہر چار سواور مرے پہلو میں تو۔۔۔۔۔ (ن ،م راشد) راشد کی نظم کے اس حصے میں ایک مکمل تصویر بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔۔۔آسمانِ نیلگوں، رات، چاند کی کرنیں، محبوب کا پہلو میں ہونا یہ سب الفاظ اس تصویر کو جنم دیتے ہیں۔۔۔   A touch of cold in the Autumn night—I walked abroad,And saw the ruddy moon lean over a hedgeLike a red-faced farmer.I did not stop to speak, but nodded,And round about were the wistful starsWith white faces like town children (T.E HULME) مشہور انگریزی امیجسٹ شاعر کی یہ نظم بھی میرے خیال کی ترسیل کےلیے ایک اچھی مثال ہے۔۔۔اگر آپ touch of cold, autumn night, ruddy moon, red-faced farmer, white faces childern, جیسے الفاظ پر غور کریں تو کتنی ہی دلکش تصاویر بنتی ہیں جو ہمارے وجود میں سرایت کرکے مختلف احساسات پیدا کرتی ہیں۔۔۔۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں فن اور ادب انسان کی قوتِ متخیلہ کو بڑھا دیتے ہیں اور اسے اپنے اندر سے نکلنے کی راہ دیتے ہیں۔۔۔۔ادب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ادب تخلیق کرنا بھی کافی حد تک ذہنی الجھاؤ یا ہمارے اندر موجود کئی ایسے احساسات اور جذبات کو purify کرسکتا ہے جسے ارسطو اپنی بوطیقا میں catharsis کا نام دیتا ہے۔۔۔۔بیسویں صدی کی انگریزی شاعری میں ایک تحریک confessionist poetry کے نام سے ہے جس میں شاعروں نے اپنے زندگی میں ہوئے واقعات کو براہِ راست اپنی شاعری کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی۔۔۔سلویا پلاتھ اس حوالے سے ایک بہت اہم نام ہے۔۔۔۔بلاشبہ اس تحریک کا مقصد بھی یہی تھا کہ فرد جن چیزوں کا سامنا کرتا ہے اور جو محسوس کرتا وہ کھل کر بیان کردے۔۔۔ادب تخلیق کرنا انسان کے لاشعور میں موجود فنا کے خوف کو بھی کم کرتا ہے۔۔۔۔موت اور فنا کا خوف انسان کے وجود کا حصہ ہے۔۔۔وہ اسے طاقِ نسیاں پر بھی رکھ دے تو یہ خوف اس کے لاشعور میں موجود رہتا ہے۔۔۔ایسے میں فن اور ادب کی تخلیق انسان کے اس خوف کو ختم نہیں تو کم ضرور کردیتی ہے۔۔۔ہم آج بھی قدیم انسان کو غار میں بنے نقوش سے پہچانتے ہیں یا اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں اور شاعروں کو آج ہم صرف ان کے الفاظ کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔۔۔۔ادب کا انتخاب کرنا بھی بے حد ضروری ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کوئی ذہنی الجھاؤ کا شکار انسان ادب کو مطالعہ کرے۔۔۔ایسی صورت میں ایسے ادب کو منتخب کرنا چاہیے

Blog, Qurratulain Shoaib

بورڈنگ ہوم کی ڈائری سے (سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر)

قرۃالعین شعیب میں ایک ایسے بورڈنگ ہوم میں کام کر رہی تھی جہاں تین سال سے لے کر چھ سال کی بچیاں تھیں۔ میرے سامنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے حوالے سے بے شمار کیسز ہیں۔ میں آج ایک اہم واقعہ شیئر کر رہی ہوں جو والدین، اساتذہ اور بورڈنگ ہومز میں بچوں کی نگہداشت پر مامور لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایک بچہ جو اظہار کرنے کے قابل نہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، اس کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے۔ ہمارے پاس بورڈنگ ہوم میں ایک بچی، تسمیہ بتول تھیں۔ بہت بھولی اور معصوم، جو اپنی ماں کو کھو چکی تھیں۔ اور پھر ان کے والد نے انھیں یہاں داخل کروا دیا۔ ماں کے بعد باپ کی جدائی، دوستوں اور اس محلے، گلی اور کوچے سے جدائی جہاں وہ سارا دن آزادانہ گھوما کرتی تھی۔ بورڈنگ ہوم اس کے لیے ایک قید بن گیا۔ وہ روتی رہتی، مسلسل روتی، اور اچانک پیٹ درد کی شکایت کرتی۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا جاتا، میڈیسن دی جاتیں، مگر وہ بچی اچانک پیٹ درد سے تڑپنے لگتی۔ڈاکٹرز بھی دوائیں تبدیل کر کر کے تھک چکے تھے۔ اور ہم اس کی صورت حال پر بہت پریشان تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ سب بچے باہر آؤٹنگ پر جا رہے تھے، جب کہ تسمیہ نے جانے سے انکار کر دیا۔ بہت کوشش کی، مگر وہ نہ مانی۔ پیٹ درد کی شکایت کر کے کمرے میں لیٹ گئی۔ میں دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے بے انتہا رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے اسے آفس میں بلالیا۔ وہ میرے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔ چھ سالہ تسمیہ کا ہاتھ میں نے محبت سے اپنے ہاتھ میں لیا، ماتھے پر پیار کیا، تو اس نے رونا بند کر دیا۔ میں نے اس کا سراپنی گود میں رکھا تو وہ مسکرانے لگی۔ میں اس کے بال سہلانے لگی ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ پیٹ درد محض جدائی کی تکلیف بھی تو ہو سکتی ہے۔ جب اسے اپنے پیارے یاد آتے ہوں۔ یہ درد شاید وہ غبار ہے جو اتنی سی بچی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے اس سے پوچھا، “پیٹ میں درد کب ہوتا ہے؟” اس نے کہا، “جب مجھے امی ابو یاد آتے ہیں۔” اور پھر میں نے پوچھا، “آپ کا دل گھبراتا ہے اور آپ رونے لگتی ہو؟” اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ یہ وہ بے قراری ہے، وہ درد ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنوں سے جدائی دیکھی ہو۔ اس غبار کو محسوس کیا ہو۔ میں نے اس بچی کو سینے سے لگایا، بہت پیار دیا جیسے ایک ماں پیار دے سکتی ہے۔ وہ مسکرانے لگی اور کہنے لگی، “میرا درد ختم ہو گیا۔” پھر میں نے اسے کہا، “جس وقت بھی آپ کی اس طرح کیفیت ہو، آپ نے بھاگ کر میرے دفتر آنا ہے اور مجھے گلے لگا لینا ہے۔” یقین کریں، اس تھراپی اور محبت سے وہ بچی چند دنوں میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ وہ ہشاش بشاش اور خوش رہنے لگی۔ کہیں ہم نے تین ماہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی۔ اور اب وہ مسکرانے لگی۔ میں نے بھی روزانہ صبح اس سے گلے ملنے کو اپنا معمول بنا لیا۔بچے کی جذباتی ضرورت ماں کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ نے ماں تخلیق کی۔ بچوں کے زیادہ تر مسائل جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کو، بورڈنگ یونٹس کے ہیڈز ، یتیم خانوں کے سربراہان کو ، بچوں کی نگہداشت پر معمور لوگوں کو اور ماؤں کو بچوں کی جذباتی ضروریات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تسمیہ کے درد کو میں نہ سمجھتی تو یہ درد اس کا عمر بھر کا روگ بن جاتا۔ کتنی تسمیہ ہوں گی جن کے درد کو کوئی نہیں سمجھ پاتا ہوگا ۔۔۔ اور بہت سے بچپن کے دکھ اور مسائل عین جوانی میں نفسیاتی مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی جذباتی ضروریاتِ کو بچپن میں ہی پورا کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے دکھوں کو سمجھنا چاہیے۔ تسمیہ کی حالت “سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر” کی مثال تھی، جہاں جذباتی درد جسمانی علامات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جیسے کہ پیٹ درد۔ بچوں میں یہ علامات اکثر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ اپنی جذباتی کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ والدین، اساتذہ، اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچے جسمانی کے ساتھ ساتھ جذباتی نگہداشت کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔ ان کے آنسو، ضد، یا خاموشی اکثر اندرونی دکھ، خوف، یا محرومی کا اظہار ہوتے ہیں۔ محبت، توجہ، اور مستقل جذباتی سپورٹ وہ دوا ہے جو کسی بھی دوائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں کی جذباتی ذہانت کو سمجھنا اور فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان معصوم دلوں کی دنیا کو سمجھ کر ہی ہم ایک محفوظ، مثبت، اور محبت بھرا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Blog, Aaliya Arooj

تنگ گلی

تنگ گلی عالیہ عروج تنگ گلی میں، اذان آج پھر اپنے معذور باپ کے ساتھ سبزی کی ریڑھی دھکیلتا ہوا فرنس موڑ سے گزرا تو حسبِ دستور پان والے نے وہی پرانا فقرہ چست کیا: “اوئے، ذرا سیدھا ہو کر دکھا سوہنیا، ساری سبزیاں منٹوں میں بکا لوں گا!” اور پھر وہی گھٹیا، اونچا قہقہہ۔اذان روز اپنے باپ پر کسی جانے والی یہ باتیں سنتا تھا، مگر وہ ‘اذیت’ کے لفظ سے ناواقف تھا۔ وہ تو بس اتنا سمجھتا تھا کہ بیماری صرف جسمانی ہوتی ہے، جو اس کے ابا کو ہے، اور اس کی اماں کو ہے۔ اور پھر اس کے ننھے ذہن میں سوال ابھرتا: “کیا میں ٹھیک ہوں؟” جب اذان نے ہوش سنبھالا تھا، اسے اماں ابا صحت مند لگتے تھے اور اپنا آپ بیمار محسوس ہوتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس معاشرے نے اسے تلخ حقیقت کا مفہوم سمجھا دیا۔مُنے پان والے کی باتوں نے تو جیسے اب اس کے احساس کو سُن کر دیا تھا، مگر تھوڑا آگے جا کر اذان نے مسجد کے اپنے دوست احمد کو سکول جاتے دیکھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے بہت کرب ناک ہوتا تھا۔مُنے پان والے نے جب اذان کو یوں کھویا کھویا دیکھا تو پاس آ کر اس کے منہ پر پان کا پورا پتہ مل دیا۔ اذان کے جسم میں جیسے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا۔ پاس کھڑا ہجوم کھلکھلا کر ہنس گیا۔ مگر اذان خاموش رہا۔ وہ سب کو معمول کے مطابق اور خود کو غیر معمولی (ابنارمل) محسوس کرتا تھا۔ وہ ذہنی صحت کے تصور سے ناواقف تھا، حالانکہ موجودہ حالات اسے اندر سے بدتر کر رہے تھے۔وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ اگلی گلی میں جا کر موجود نلکے سے منہ دھونے لگا۔ اذان کا باپ، “اکّو”، اپنی معذوری اور بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بننے پر خود کو کوس رہا تھا۔ مگر اس باپ بیٹے کے پاس ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہ تھا۔ڈاکٹر طلحہ اپنی چھت سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ نیچے اترے۔ اذان کو منہ دھونے اور سنبھلنے کا وقت دینے کے بعد اس کے قریب آئے۔ انہوں نے آلو پالک خریدی اور باتوں باتوں میں دونوں کے حالات اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیا۔ ہفتہ بھر وہ ان سے سبزی خریدتے رہے اور یوں آہستہ آہستہ ان کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔ایک مہینے بعد ڈاکٹر طلحہ تمام پہلوں کو سمجھ کر اور ترتیب دے کر اذان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اذان اور اسکے والد کو ایک دکان کا بتایا جو ڈاکٹر طلحہ کے دوست کی تھی اور وہ ڈاکٹر طلحہ سے مشورہ کرنے کے بعد بہت کم کرائے پر دینے کو تیار تھا۔ دونوں باپ بیٹے نے مشورہ کیا۔اكو ویسے ہی اپنے بیٹے کی خود کی وجہ سے عزتِ نفس مجروح ھوتے دیکھتا خود ہی خود میں بہت شرمندہ ہوتا رہتا تھا۔اس کے بعد ڈاکٹر طلحہ نے روز دکان پر آ بیٹھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اذان کے ذہن کی گنجلیں کھولنی شروع کیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد اذان کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اسے بیماری اور صحت کا مفہوم زیادہ واضح ہوا۔اور پھر سال بعد اذان سکول جانے لگا۔ زندگی آسان تو اب بھی نہیں ہوئی تھی، مگر ہاں، بہت سے مسئلوں میں الجھے رہنے کی بجائے، اذان اب کچھ مسائل پر قابو پانے لگا تھا۔زندگی میں کبھی ہمیں کسی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی زندگی ہمیں کسی کا کندھا بننے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے مواقعوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، یہی تو زندگی کی روشن کرنیں ہیں۔

Blog, Iffat Navaid

یہ بچیاں معصوم ہیں آوارہ نہیں۔ عفت نوید

یہ بچیاں معصوم ہیں آوارہ نہیں عفت نوید جن گھروں میں لڑکیوں پر بے جا پابندیاں ہوتی ہیں، یا پھر جوائنٹ فیملی سسٹم یا بچوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے ماں باپ بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ نہیں دے پاتے، گھر کے سب بڑوں کی باتیں سننا، چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا،کام کاج کرتے رہنا، پڑھائی لکھائی میں دوسرے بچوں سے پیچھے ہونے کی وجہ سے والدین اوراساتذہ سے سخت و سست سننا، ایسے میں بچیاں ذہنی آسودگی کے لیے لڑکوں سے میل ملاپ بڑھاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بچیاں اپنی محنت، ذہانت اخلاق اور فرماں برداری کی وجہ سے اسکول میں اساتذہ کی پسندیدہ بھی ہو تی ہیں لیکن ایک مرحلہ آتا ہے جب گھر سے توجہ، محبت اور اعتماد کی عدم دستیابی کی بنا پر پر غیروں سے ان چیزوں کی طلبگار ہو جا تی ہیں۔ کسی کا پیار سے دیکھنا، توجہ دینا، سراہنا ان کے لیے خوشیوں کا سبب بن جا تا ہے۔اسکولوں میں اکثر چھوٹی بچیاں لڑکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے انہیں میسج کرتی ہیں، محبت بھرے خط لکھتی ہیں، جن میں ان سے محبت کا واضح اظہار ہو تا ہے۔نو عمر لڑکے اسے ایک کھیل سمجھ کر ان کے ساتھ شریک ہو جا تے ہیں۔ لیکن ان معصوم دوستیوں میں کو ئی کانٹریکٹ نہیں ہو تا، وعدے وعید نہیں ہوتے، ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائی جا تیں۔ کچی عمر کی محبتیں، رنجشیں، کلفتیں بھی پوری طرح نہیں کھلتیں۔اکثر چھوٹی سی بات پر شکوے شکایات لڑائی میں تبدیل اور پھر اپنی شدید خفگی کا اظہار کسی دوسرے لڑکے کو اپنی جانب ملتفت کرنے پر ہو تا ہے۔ کسی دوسرے کی جانب رخ کرنے،اپنی جانب مائل کر کے، در اصل وہ اپنی ہستی کی وہ قدر جاننا چاہتی ہیں، جو انہیں گھر میں نصیب نہیں ہوئی۔۔معصوم بچیاں عشق، محبت کے مفہوم سے نا آشنا ہوتی ہیں۔ ایک سے لڑائی، دوسرے کو پیغامِ محبت۔ اسکول میں ایسی لڑکی ، باقی لڑکیوں کے لیے عبرت اور لڑکوں کے لے بازی بن جا تی ہے۔جو باری آنے پر کسی دوسرے کے ہاتھ آئے۔نرم دل استاد بچی کو اپنے طور پر سمجھاتے ہیں۔ سخت گیر استاد ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیتے ہیں۔ اب آنسوؤں کو ہتھیار کر طور پر استعمال کر کے ہمدردیاں بٹوری جاتی ہیں۔ لڑکے مہنگے گفٹ دے کر لڑکی کی توجہ صرف اپنی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں۔ایسی قدر و قیمت جان کر یہ بچیاں اپنی التفات ِ نظر کے دام بڑھا دیتی ہیں۔جب پانی سر سے اونچا ہو گیا۔ بات لڑکوں کے والدین کے علم میں آئی۔ انہوں نے سکول آکر طوفان سر پر اٹھا لیا۔ان کے خیال میں ایک آوارہ لڑکی ان کے لڑکوں کو لوٹ رہی تھی۔ ہیڈ مسٹریس نے انہیں لڑکی کو سخت سزا، اور اسکول سے نکال دینے کے عندیے پر روانہ کیا۔ہیڈ مسٹریس کو اپنے اسکول کی ساکھ عزیز تھی۔ جسے ان کے خیال میں ایک گیارہ بارہ سال کی بچی داؤ پر لگا رہی تھی۔ لڑکی کے والدین کو بلا یا گیا۔ وہ سارے لڑکے جنہیں لڑکی نے جال میں پھنسایا تھا۔ آفس میں طلب کیے گئے۔لڑکے چور بنے چپ کھڑے رہے۔ تو طوفان کا رخ لڑکی کی جانب موڑ دیا گیا۔ پے در پے سخت سوالوں سے پریشان ہو کر لڑکی نے خود اعتراف کر لیا کہ اس نے کس کس سے کیا کیا وصول کیا۔والدین بیٹی کا اعتراف سن کر شرم سے زمین میں گڑ جاتے ہیں۔ شرمندگی کے باعث نہ صرف خود ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، بلکہ بچی کو بھی ایسے ملامت کرتے ہیں جیسے اس نے چار پانچ قتل کر دیے ہوں۔مزید کیا کہوں۔۔۔۔۔بچی کی ان حرکات کو نظر انداز کریں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جی ہاں کچھ نہیں ہو ا، نہ آسمان واٹا ہے، نہ زمین پھٹی ہے۔ بس اس کو زرا رخ بدل کر دیکھیں یہ بیٹی نہیں بیٹا ہوتی، چار پانچ لڑکیاں اس کے آگے پیچھے ہوتیں، تب آپ کا رد عمل کیا ہو تا کیا آپ یوں ہی زمین میں گڑے رہتے، بیٹے کا جینا دوبھر کر دیتے،اسے اسکول جا نے، سے روک دیتے۔ ظاہر ہے کچھ نہ کرتے۔تو اب بھی وہی کیجیے، ہنس کر ٹال دیجیے۔ اور اپنا احتساب کیجیے۔ آپ سے کہاں غلطی ہو ئی ہے۔ اپنے اعمال اور گھر کے ماحول پر نظر ثانی کریں۔بچیوں کو نرم لہجے میں سمجھائیں، ان سے ناراضی کے اظہار کے بجائے انہیں گلے لگائیں۔ ڈھیر ساری باتیں کریں۔ ان کی خواہشات اور ارادوں کی بابت جاننے کی کوشش کریں۔ان کے واہمے، ڈر،خوف آپ کے دیے ہوئے اعتماد سے ہی دور ہوں گے۔ورنہ وہ کسی روز گھر سے بھاگ جائیں گی۔ یا پھر پہلے رشتے پر ہی ہاں کر دیں گی۔ کیوں کہ آپ کا ماحول، اعتماد اور محبت ان کے پر پھیلانے اور سانس لینے کو کم ہے۔

Review, Blog, Muqadas Majeed

To speak of emotions, is to speak of the heart

To speak of emotions, is to speak of the heart For they are one and the same, never apart (Daima Hussain) Tides of Emotion’ is the first poetry book of a dynamic educator, poet, writer and blogger Daima Hussain who started her own blog under the title Chardasuuraj.com in 2018. Gradually, this blogger surrendered in front of the magic of poetry, dedicated her efforts to exploring diverse poetic forms and allowed the untapped poet in her to pen down her scattered imaginations in the form of moving poems. Daima’s poems delve deeper into the complexities of emotional patterns and I truly loved her specific poems describing particular emotions and feelings like joy, gratitude, passion, contentment, boredom, anxiety, monotony, anger, hate and weariness. Her expression reflects her art of conveying complicated abstract concepts in mature, meaningful and touching words. I agree with the idea that creativity and sensitivity are twin sisters. The creative touch and the emotional depth that Daima’s poems present, point to the ocean of sensitivity that she holds in her heart. Her poem ‘Story of the Bag’ displays her artistic lens of finding life-lessons and interesting stories in daily-life things that go unnoticed. Poem ‘To Butterflies’ is a conversation with my favourite insects, the butterflies, an admiration of their beauty, spell and freedom. Daima turned into a poet in her mature years but deep down there was a baby poet in her who was collecting memories and imaginative ideas, who had been growing with her and at this point it pushed Daima and handed her over the stored treasure to be turned into meaningful poems. Reviewed by Muqadas Majeed Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Poetry, Blog, Meher Ali

صبح کی پہلی کرن مهر علی

عنوان : صبح کی پہلی کرن ( مهر علی) شام اتری آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے صبح کی پہلی کرن! دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے صبح کی پہلی کرن! نادیہ سے یوں کم نامیوں کے پھول چنا چھوڑو سے گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پریوں ٹہلنا چھوڑ دے رات کا در توڑ دے صبح کی پہلی کرن! اں کی سیڑھیاں نیچے اتر جلدی جلدی آسماں کی ۔ اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کرڈھونڈ اس تاریک بن میں شادمانی کا ہرن صبح کی پہلی کرن! Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Absar Fatima

احساسِ بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے؟

احساس بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے ؟  ہم دنیا میں بیک وقت کئی رشتوں، چیزوں، اور کاموں سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اور عوامل ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں پہ اثر کرتے ہیں۔ اور اکثر ہمیں احساسِ بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ احساسِ بےبسی تب جنم لیتا ہے جب حالات ہماری خواہش سے بہت مختلف ہوں اور ان کا مختلف ہونا ہمیں بے چینی، جھنجھلاہٹ اور کبھی کبھی جذباتی تکلیف میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ جس نوعیت کے حالات ہوتے ہیں اسی شدت کی احساسِ بے بسی ہوتی ہے۔ مثلاً سردی میں کولڈ ڈرنک پینے کی خواہش پوری نہ ہوپانے پہ جو احساسِ بے بسی ہوگا وہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو بیماری میں دوا تک رسائی نہ رکھ پانے پہ ہوگا۔ کچھ حالات میں ہمیں یہ ماننا ضروری ہے کہ ہم ہر وقت ہر کام اپنی خواہش کے مطابق نہیں کر سکتے۔ اور محدود اختیار ہونے میں کوئی بری بات نہیں۔ لیکن کچھ مسائل میں ان حالات پہ قابو پانا اور ان کا حل بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ خاص طور سے جہاں مسئلہ آپ کی بقاء کا ہو۔ وہ بقاء کئی پہلوؤں کی حامل ہوسکتی ہے۔ یعنی کبھی آپ مادی اشیاء تک رسائی نہ ہونے پہ احساسِ بے بسی محسوس کرتے ہیں اور کبھی اپنے لیے فیصلے کا اختیار نہ ہونے پہ، کبھی یہ احساسِ بے بسی تب محسوس ہوتا ہے جب کوئی ہمارے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے لیکن یا تو اس کی معاشرتی حیثیت یا آپ کی کوئی معاشرتی زمہ داری کی وجہ سے آپ اس کے غلط رویے پہ کوئی ردعمل نہیں دے پاتے یا اسے روک نہیں پاتے۔ اس قسم کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب ہم کسی ابیوسیو یا پرتذلیل تعلق میں ہوں۔ وہ چاہے ہمارے والدین کی طرف سے ہو، بہن بھائیوں کی طرف سے، شریک حیات کی طرف سے، باس کی طرف سے یا دوستوں کی طرف سے۔ اور کچھ حالات میں اولاد کی طرف سے بھی ممکن ہے۔ یہ احساسِ بے بسی ہمیں شدید جذباتی اذیت کا شکار کر دیتا ہے۔ اگر یہ احساسِ بے بسی مستقل ہو تو یہ کئی نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔  کبھی کبھی یہ احساسِ بے بسی مسلسل اعصابی تناؤ کا شکار رکھتی ہے اور بتدریج ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر حالات بدل بھی جائیں تو ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے جب تک دوسرے لوگ نہ بدل جائیں۔ یہ احساس ہمیں ڈپریشن کی طرف لے جاسکتا ہے۔ مسلسل ایک مایوسی کی کیفیت طاری رہتی ہے کیوں کہ ہمیں کسی بھی فیکٹر پہ اختیار محسوس نہیں ہوتا۔ ہر قدرتی احساس کی طرح یہ احساس بھی وقتی ہو تو پریشانی کی بات نہیں بلکہ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ جب ہم کسی وجہ سے بے بسی محسوس کر رہے ہیں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس سچویشن کا مشاہدہ کریں۔ پھر یا تو ان حالات کو قبول کرلیں یا اگر ضروری ہے تو ان حالات کو مثبت انداز میں بدلنے کے اقدامات کرسکیں۔ لیکن جب یہ احساس مسلسل طاری رہنے لگے تو یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور تعلقات پہ اثر کرنے لگتا ہے۔ ہم یا تو مکمل طور پہ اپنی زندگی کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا پھر ہم اس احساس کو ختم کرنے کے لیے دوسروں کی زندگی میں دخل اندازہ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسروں کو اپنی مرضی سے چلانے کے باوجود اگر آپ کا احساسِ بے بسی آپ کے نفسیاتی مسائل کا شاخسانہ ہے تو کئی لوگوں پہ اختیار رکھتے ہوئے بھی آپ خود کو بہت کمزور اور بے اختیار شخص محسوس کریں گے۔ اپنے مرضی کے خلاف ہوئے چھوٹے چھوٹے کاموں پہ بھی ہم شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جائیں گے اور دوسروں پہ مزید سخت رویہ مسلط کرنا شروع کردیں گے۔ والدین اساتذہ اور باس کا، اولاد، شاگرد یا ماتحت کی غلطی پہ انہیں صفائی کا موقع نہ دینا اور ان کے جواب کو نافرمانی سمجھنا اسی احساس بے بسی کا ردعمل ہے۔ جب تک ہم اپنی ذات پہ اختیار بڑھانے پہ کام نہیں کریں گے تب تک ہم یا تو دوسروں کو اپنی ذات پہ اختیار دیتے رہیں گے یا زبردستی دوسروں کی ذات پہ خود حاکم بننے کی کوشش کریں گے۔ جب ہم ایک دفعہ جان جاتے ہیں کہ ہمارا احساسِ بے بسی ہماری اندرونی وجوہات کاشاخسانہ ہے تو ہم ناصرف ان وجوہات پہ کام کرنا شروع کرتے ہیں بلکہ یہ مشاہدہ کرنا شروع کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار ہماری زندگی کے کن کن عوامل پہ اب بھی ہے۔ پھر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار جن عوامل پہ نہیں ہے ان پہ ہونا چاہیے یا نہ ہونا بھی ٹھیک ہے یا جزوی اختیار ہے۔ مثال کے طور پہ میرے لیے میرے لباس کے انتخاب پہ کون سے عوامل اثر کر رہے ہیں؟ مجھے خود کیسا لباس پسند ہے؟ میرے گھر والوں کی طرف سے مجھے وہ لباس منتخب کرنے کی اجازت ہے؟ میرے معاشرے میں وہ لباس قابل قبول ہے؟ میں کس موسم میں وہ لباس پہننا چاہتی ہوں کیا وہ مجھے موسم کی شدت سے بچائے گا؟ یہاں آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کچھ جگہ میرا اختیار جزوی ہے۔ یعنی اگر میں سردی میں کسی تقریب کے لیے سلک کی ساڑھی پہننا چاہوں اور کسی گرم کمرے میں رہوں تو میں باآسانی پہن سکوں گی۔ لیکن اگر مجھے گھر والوں کی طرف سے ساڑھی پہننے کی اجازت نہیں ہے تو مناسب موسم میں بھی نہیں پہن سکوں گی۔ موسم کی شدت اور گھر کی طرف سے اجازت نہ ہونا دونوں طرح کی بےبسی الگ احساس دے گی۔ یہاں اگر میں اپنا جزوی اختیار استعمال کرنا چاہوں تو میں یہ دیکھ سکتی ہوں کہ کس قسم کی ساڑھی گھر والوں کے لیے قابلِ قبول ہوسکتی ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہم روز اپنے لیے کئی فیصلے کر رہے ہوتے ہیں مگر اس کا ادراک نہیں کرپاتے۔ اور چند بڑے بڑے فیصلوں میں دوسروں کا اثر

Dr. Mahan Aslam
Blog, Dr. Mahan Aslam

Beyond the Present: How Marriage and Parenthood Shape Generations

Marriage and parenthood are often celebrated as life’s greatest milestones, marking the start of a beautiful new chapter. However, alongside the joy and excitement, these roles come with unspoken challenges and sacrifices —realities that are rarely acknowledged. What’s often portrayed as perfection hides the complexities that many face in these life-changing experiences. In the book It Didn’t Start with You by Mark Wolynn (2017), I encountered a thought-provoking concept: the transmission of generational trauma. It made me realize that many of the struggles we face are not as unique as we think—they often echo across The book explains how emotional and mental burdens can be unknowingly passed down from a mother to her unborn child. It’s eye-opening to consider that a child may start carrying the weight of inherited struggles even before birth. While numerous factors shape a child’s mental health, a significant portion of it begins during pregnancy. The emotional and mental challenges a mother faces deeply affect her child, often becoming an unspoken legacy that is carried forward. These generational patterns influence not only the immediate family but can also have lasting effects on future generations. This is why it’s crucial to start having honest conversations about the hidden realities of marriage and parenthood now. Too often, we focus on how these milestones affect us in the present, but the responsibilities we take on extend far beyond the immediate moment. These challenges are passed down through generations, impacting future generations in ways they didn’t choose and often without their knowledge. By not addressing these issues now, we’re unfairly passing on struggles to those who had no part in creating them. As soon as individuals marry, there’s an immediate societal expectation for pregnancy, as if it’s the natural next step. However, what many fail to understand is that the transition into parenthood is not merely physical—it’s emotional, mental, and deeply impactful on the future of both the mother and the child as I discussed above. Once pregnant, however, she is often expected to maintain the same health, energy, and routine as she had before, with little regard for the physical, emotional, and mental toll pregnancy can take. In my experience as a medical student, I’ve heard countless remarks in gynecology wards that reflect this attitude. I’ve often heard comments like, ‘She’s not the only one who’s been pregnant. We’ve been there too and still managed the work.’ These remarks, typically from family members or even other women, reduce pregnancy to physical endurance, ignoring the deeper emotional struggles. Instead of offering support, many women are shamed for not being able to ‘push through,’ further adding to the burdens they face Every challenge a mother faces, whether it’s stress, emotional strain, or physical hardship, has the potential to impact the baby’s development, from physical health to mental well-being. Moreover, once the child is born, the first ten years of their life are crucial in shaping who they will become as adults. The love, care, and upbringing they receive during these formative years, along with the nutrition they have access to, all play vital roles in their future health, mindset, and overall development. The foundation laid in these early years becomes the blueprint for their adulthood, influencing everything from their emotional resilience to their ability to form healthy relationships. Therefore, understanding the interconnectedness of a mother’s well-being during pregnancy and her child’s future is key to breaking the cycle of generational struggles and ensuring healthier futures. In today’s generation, women are often expected to play dual roles as both nurturers and providers, which becomes an overwhelming burden for them and their children. Balancing these responsibilities can be particularly difficult, as the pressure to provide financially alongside caring for the family takes a toll on a woman’s physical and mental health. Similarly, the traditional role of a father as the sole provider also has its own set of pressures, making it difficult for him to handle the emotional and financial weight alone. These gendered expectations often result in the inheritance of burdens, limiting both parents’ emotional wellbeing and creating an environment that affects the mental health of children as well. As we continue to pass these norms on, it’s crucial that we begin questioning and changing these societal structures. Creating spaces where both men and women are supported in their roles, and where shared responsibilities are emphasized, can help break this cycle, offering a healthier and more balanced environment for future generations. While some challenges in marriage and parenthood may be inevitable, they can be minimized through open communication and mutual understanding. Before taking on shared responsibilities, both partners should take the time to truly understand each other’s needs, capabilities, and emotional states. Rather than sticking to outdated norms where the father is the sole provider and the mother is expected to be the only nurturer, both roles should be shared in a way that considers the emotional and physical capacities of each partner. For instance, during the initial phase after childbirth, when the mother is going through one of the hardest transitions, the father should be the one offering support, both emotionally and physically. By creating spaces where both men and women are equally supported in their roles and responsibilities are shared, we can help break the cycle of unbalanced expectations and create a healthier, more equitable environment for future generations. Khushal dasSeptember 22, 2025 at 2:24 am | Edit Goood one.. create a healthier, more equitable environment for future generations. Reply NabilaMay 3, 2025 at 12:44 am | Edit Nice! Reply Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Scroll to Top