دادا،دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر
عفت نوید
شادی کے بعد بچوں کی پیدائش،ان کی پرورش و تربیت انسان کے اندر ایک نئی امنگ اور طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ اپنے بچوں کی صحت، خوش گوار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے وہ اپنی ساری توانائی اور اسباب اس کی منزل ِ مقصود کو آسان بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ پھر وقت آپ کی محنت کے ثمر دکھاتا ہے بچے اونچا اڑنے کے لیے پر پھیلا چکے ہیں۔آپ نے اڑان بھرنے کے لیے انہیں راستہ دکھایا، ان کی رہنمائی کی۔ خود کڑی دھوپ میں رہ کر انہیں سایہ فراہم کیا مشکلات اٹھائیں۔ شدید آزمائشوں سے گزرے،لیکن انہیں آرام آسائش اور سہولیات مہیا کیں۔ انہیں اپنی تھکن اور تکلیف کااحساس بھی نہ ہونے دیا۔ یہ سب ممکن ہوا کیوں کہ اس سب میں بھی ایک لطف، تشفی، تسلی، آ پ کی مرضی اور خواہش تھی۔ آپ کر سکتے تھے، کیا۔ یہ آپ کی اپنی بڑی کامیابی ہے۔ جس کے مسرت آپ اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتے ہیں اور خود کو توانا پاتے ہیں۔
زمانے کے اطوار ہمیشہ سے بدلتے رہے ہیں اور انسانی مزاج اور رویو ں میں لچک کے باعث انسان سماج کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہا ہے۔ جوانی میں انسان خود بھی نئے انداز اختراع کرتا ہے۔اور نئے انداز کو بخوشی قبول کرتا ہے۔لیکن بڑھاپے کی دھلیز پر قدم رکھتے ہی اس کے مزاج میں برد باری اور سنجیدگی کے ساتھ یکسانیت آجا تی ہے۔ اس کی شوق، مصروفیات،اور لباس میں
کو ئی تنوع نہیں ہو تا۔
اس سب میں بھی وہ آزاد ہے۔اپنے مزاج اور سہولت کے حساب سے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا رہن سہن کے انداز اپنانے میں با اختیار ہو۔ اسی طرح اسے دوسروں کو بھی ان کی پسند نا پسند اور زندگی کے فیصلوں کا اختیار دینا چاہیے۔
بزرگ والدین جب روزگار سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں اور ان کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے، ِ فکرات، شکوک و شبہات، انجانے خوف کے لیے۔ جس کا اظہار وہ محبت سے نہیں تکبر کے احساس کے ساتھ کرتے ہیں مگر ظاہر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ رہنمائی کر رہے ہوں۔
ایک گھر جسے آپ نے بنایا، یا وراثت میں ملا۔ اگر آپ کے بچے اپنا مکان نہیں بنا سکے اور آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ تب ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ انہیں ان کی زندگی، ان کے انداز اور خواہشات کے مطابق جینے دیں۔ اپنے پوتا، پوتیوں سے صرف شفقت کریں،انہیں دعائیں دیں۔ ان کی نگہبانی اور رہنمائی کریں۔ اگر ان کے مزاج اور شوق آپ کو پسند نہیں، تو یہ بات اپنے تک رکھیں۔ ان کے معاملات اور سرگرمیوں پر ان کے والدین کی نگاہ ہے۔ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے واقف ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کے لیے ویسے ہی فکر مند رہتے ہیں جیسے آپ۔ اولاد جب اپنے پیروں پر کھڑی ہو جا تی ہے۔ ان کا اپنا ایک کنبہ ہوتا ہے۔ بلا وجہ کی نصیحت، نکتہ چینی اور دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت نوجوانوں کو اپنے بزرگ والدین سے دور کر دیتی ہے۔ اور پھر بزرگ خود ترسی میں مبتلا ہو کر خود اپنے ہاتھوں اپنی صحت، اور ذہنی کیفیات برباد کر دیتے ہیں۔
کچھ بزرگ فکر نہیں کرتے ٹوہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر اپنی پوتیوں کی۔
پکنک پر کیوں گئی؟ دیر سے کیوں آئی؟ کوچنگ میں رات کو دس بجے کون سی کلاس ہو تی ہے؟۔ کپڑے کیسے پہنے ہیں ؟
خاص طور پر پوتے یا پوتی کی شادی، منگنی سے پہلے انہیں اعتماد میں لینا، ان کی رائے کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنا، سب سے بڑا معرکہ ہو تا ہے۔ اور اگر اولاد اپنے کنبے کے ساتھ اپنے بزرگ والدین کے مکان میں رہتی ہے، اس لیے اپنے بچوں کی زندگی کے فیصلے، رشتے طے کرنا کا سارا اختیار دادا، دادی کا! سب آپ کی سنتے اور مانتے ہیں۔ آپ اس تابع داری پر خوش، لیکن جان لیجیے کہ وہ تابع ہیں نہیں وہ مجبور ہیں۔ ان کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ آپ کے پوتا پوتی آپ کی رعایا نہیں۔ جوان خون کے آگے کو ئی مجبوری نہیں۔ لیکن والدین کی مجبوری ان کے علم بغاوت بلند کرنے میں رکاوٹ ہے۔ مگر کوئی بھی مشکل، یا مجبوری سدا نہیں رہتی۔
ا ن کے گناہ ثواب، صحیح غلط،جنت دوزخ، برا بھلا، جزا سزا سے خود کو بری الزمہ سمجھیے۔ آپ انہیں جتنا آزاد چھوڑیں گے۔ خود کو بھی اتنا ہی آزاد اور خوش محسوس کریں گے کیوں کہ سب کی محبت اور حقیقی احترام آپ کو زندگی اور ان پیارے رشتوں سے قریب کر دے گا۔ آپ کی اولاد عازم ِ سفر ہے۔ ان کی زندگی کی گاڑی کے بریک کے ان کے ہاتھ میں ہیں، اور ایکسیلیٹر پر ان کا پیر ہے۔ انہیں اپنے ہم سفر بے حد عزیز ہیں۔ وہ ان کو تمام سہولیات، ضروریات، اسباب اور حفاظت کے ساتھ منزل پر اسی طرح پہنچائیں گے ۔ جیسے آپ نے اپنے وقت میں کیا تھا۔