Author name: admin

Naaye Khwaab

Novel, Absar Fatima

!اب مارُل بولے گا

!اب مارُل بولے گا ابصار فاطمہ قسط نمبر 1 او مارل بچڑا! ادھر آ۔۔۔ حاکم سائیں کے وسیع دربار میں جھاڑو دیتے مارل کے ہاتھ کچھ لمحے کو رکے اور اس کے معصوم چہرے پہ خوف کا سایہ لہرایا۔ حاکم سائیں نے دوبارہ اسے دربار سے ملحقہ حجرے میں بلایا تھا۔ وہ تاریک حجرہ جس کی تاریکی شاید صرف مارل کو نظر آتی تھی۔ ہر دفعہ وہ تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی اور ساتھ ہی مارل کی چپ بھی۔ وہ غلام تھا اور اس حاکم سائیں کا ہر حکم بجا لانا اس کا فرض۔ ————- “یہ تمہارے علاقے کے ابو کبھی کچھ نہیں کریں گے تم لوگ پتا نہیں کیوں جانتے بوجھتے بھی ہر بار اسی شخص کو ووٹ دیتے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے تم لوگ خود بھی حالات نہیں بدلنا چاہتے۔” اس کی نظریں اپنی پیالی پہ تھیں جس میں پڑے دو ٹی بیگز کو وہ ہر ممکن حد تک کھولتے پانی میں گھول دینا چاہتی تھی۔ یا شاید اس کی نظریں ٹی بیگز پہ ضرور تھیں مگر دماغ کا محور اپنی بات تھی اسی لیے بات ختم ہوتے ہی اس نے ٹی بیگز کو چمچ پہ رکھ کر آخری بار نچوڑا اور چمچ سمیت بسکٹ کی پلیٹ میں رکھ دیا۔ “فیری یار, تم اتنی کڑوی چائے کیسے پی لیتی ہو؟”“نور یار، تم اپنے ہی علاقے کے مسائل سے اتنے لا تعلق کیسے رہ لیتے ہو؟”۔ نور علی چند لمحوں تک اسے بغیر پلکیں جھپکائے دیکھتا رہا۔ پھر جھنجھلاہٹ آمیز انداز میں کندھے جھٹکے۔ اس کے انداز میں فرزانہ کے لیے تو نہیں لیکن اس کی بات کے لیے واضح ناگواری تھی۔ “کچھ بولو گے نہیں؟”” کیا بولوں یار؟ ہمیں ایک گھنٹہ ملتا ہے لنچ کا، جو اکثر پورا بھی نہیں ملتا اور تمہیں اپنی بات کرنے کی بجائے سیاست ہی کیوں یاد آتی ہے؟” اس نے اپنے سامنے رکھی چائے کی پیالی ایک طرف کردی اور میز پہ دونوں کہنیاں رکھ کے تھوڑا آگے جھک کے بیٹھ گیا۔“آج میں ہاف ڈے کر لیتا ہوں۔ تم بھی کرلو واپس اوپر جانے کی بجائے یہیں بیٹھ کے مسئلہ حل کر لیتے ہیں اور میرے گاؤں کو فرانس بنا کے ہی اٹھیں گے۔” اس کی جھنجھلاہٹ آمیز سنجیدگی پہ فرزانہ ایک دم ہنس پڑی۔ “اچھا ناں ناراض کیوں ہورہے ہو۔ تمہیں پتا ہے مجھے یہ مسائل کتنا اسٹریسڈ کردیتے ہیں۔ تم سے بات نہ کروں تو کس سے کروں۔” “مجھے بالکل مزا نہیں آرہا۔۔۔۔ ہنستی رہو جتنا مرضی۔ مطلب تم لوگ ایسے ظاہر کرتے ہو جیسے شہر میں تو کوئی مسائل ہی نہیں ہیں۔ سارے مسئلے گاؤں میں ہیں وہ بھی میرے گاؤں میں۔” ” نہیں ہیں؟” فرزانہ کا سوال سنجیدہ تھا لیکن انداز شرارتی تھا۔“مطلب مسئلے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ایسے نہیں ہیں جیسے پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ بھی اسی ملک کا حصہ ہے جہاں کا شرح خواندگی صرف کاغذات میں بڑھ رہا ہے۔ جہاں صرف نام لکھنے والے کو پڑھا لکھا شمار کیا جاتا ہے۔ نہ میرا گاؤں آسمان سے اترا ہے نہ یہ صوبہ۔” اس کے انداز میں کسی حد تک بے بسی نمایاں تھی۔ فرزانہ کو اس پہ ترس آنے لگا۔ ہر بار وہ یہی کوشش کرتی تھی کہ ان کی بات چیت عمومی مسائل تک رہے لیکن کب اور کیسے بات مسائل سے ہوتی ہوئی سیاست اور خاص طور سے نور علی کے گاؤں تک پہنچ جاتی تھی۔ اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ یہ بحث ان کے اچھے خاصے تعلق پہ بھی اثر کر رہی ہے۔ بلکہ صرف اچھا خاصا کہنا تو کافی نہیں تھا اچھا خاصا رومانوی تعلق تھا۔ “اچھا چھوڑو تم چائے تو پیو۔” “ٹھنڈی ہوگئی ہے۔” نور علی کا لہجہ کچھ روٹھا ہوا سا تھا۔ ” ارے مائی فیوڈل لارڈ۔۔۔ معاف فرما دیجیے۔”“یار فیوڈل مت کہا کرو!”” تو نہیں ہو کیا؟” ” بیٹا ہوتا نہ اصلی والا فیوڈل یہاں آفس میں جوتے اور دماغ نہیں گھس رہا ہوتا۔ نہ تمہاری جیسی خود مختار لڑکی سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہوتا۔” اس نے کہتے ہوئے موبائل اسکرین آن کرکے وقت دیکھا اور میز سے کھڑا ہوگیا۔ ” خود مختار عورت” فرزانہ نے بیچ میں سے بات اچک کر تصحیح کی۔ وہ بھی ساتھ ہی کھڑی ہوگئی تھی۔” بتیس سال کی عورت نہیں ہوتی۔” دونوں کینٹین سے باہر کی طرف بڑھ چکے تھے۔” بتیس سال کی ‘مطلقہ’،۔۔۔ عورت ہی ہوتی ہے۔” اس نے مطلقہ پہ تھوڑا زور دیا۔ کینٹین سے باہر اکا دکا لوگ بر آمدے میں آتے جاتے دکھائی دئیے۔ “اب اس پہ لڑ لو۔” وہ دونوں بات کرتے کرتے لفٹ نظر انداز کرکے زینے کی طرف بڑھ گئے۔ “ارے لڑ نہیں رہی۔ بس ایسے ہی کہہ رہی تھی۔ تمہارے مجھے لڑکی کہہ دینے سے تمہارے اور میرے درمیان موجود عمر کا فرق ختم نہیں ہوجائے گا۔” زینے پہ پہلا موڑ مڑتے ہوئے دونوں کے ہاتھ مبہم سے ٹکرائے۔ نور علی نے غیر محسوس انداز میں فرزانہ کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بھی بتا سکتا تھا کہ وہ مسکرا رہی ہے۔ صرف لبوں سے نہیں آنکھوں سے بھی۔ ” محترمہ آپ نے ڈگری پڑھ کے لی تھی یا نقل کی تھی۔” “نقل کی تھی۔” اس کے شرارتی طنزیہ لہجے کو وہ بھی اچھی طرح پہچانتی تھی۔ ” اسی لیے۔۔۔” نور علی کے لہجے میں مصنوعی افسوس تھا۔ ” پڑھ کے ڈگری لی ہوتی تو کم از کم یہ لڑکی بڑی نہیں ہونی چاہیے والی غلط فہمی تو نہ ہوتی۔ دو سال کے فرق سے ویسے بھی آپ ضعیفہ نہیں ہوگئیں۔ میرے کام آہی جائیں گی۔” زینے کی تنہائی نے اس کا انداز اور لہجہ بدل دیا تھا۔ بے ساختہ فرزانہ کی مسکراہٹ گہری ہوگئی” یہ ڈبل میننگ جوک بالکل مت کیا کرو میرے ساتھ۔” اس کے لہجے میں بھی مصنوعی ناراضگی تھی۔“سوری خاتون میں رن مرد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بچی کا باپ ہوں اس لیے ذومعنی والے سے کام چلائیں یک معنی والے واضح لطائف برائے بالغین کی توقع مجھ سے ہرگز مت کریں۔” ” رن مرید ہوتا ہے۔” ” وہ اردو میں ہوتا ہے۔ رن مرد مطلب بیوہ مرد۔” ” توبہ۔۔۔۔ تو رنڈوا کہو ناں” “ارے تو سمجھ گئیں ناں کافی ہے۔” آفس کا دروازہ سامنے آتے ہی فرزانہ نے آہستگی سے ہاتھ

Blog, Rimsha Saeed

اپنا گھر ؛ صرف خواب نہیں، ضرورت ہے

اپنا گھر ؛ صرف خواب نہیں، ضرورت ہے رمشا سعید پچھلے کچھ دنوں کی طرح آج بھی زخمی چہرہ لیے، چائے کی پیالی ہاتھ میں پکڑے وہ سامنے زمین پر موجود ٹوٹے ہوئے گلاس اور بکھرے برتنوں کو دیکھ رہی تھی۔ جو کچھ دیر پہلے اُس کا شوہر غصے میں پھینک کر گیا تھا۔ اور ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اپنے دفع میں کچھ نہیں کہہ سکی تھی۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ بدلے میں ملنے والے طنز کا کوئی جواب نہیں ہوگا اُس کے پاس۔~(پس منظر) حنا ایک تعلیم یافتہ، باشعور، خوبصورت اور خوش اخلاق لڑکی تھی۔ وہ اپنی عقل مندی اور سمجھداری کےتحت ہمیشہ والدین کیلئے باعث فخر رہی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی اُس کی شادی کر دی گئی۔بظاہر تو اُس کا شوہر بہت اچھا اور معاون ثابت ہوا۔ گھر میں خوشحالی ہونے کی وجہ سے کبھی کسی کو اس کے ظاہر کے پیچھے چھپے عیب نظر نہیں آئے۔ وہ مالی لحاظ سے فراخ دل تھا مگر اس کے لہجے میں طنز ہمیشہ سے حنا کو کھٹکتا تھا۔اُس نے کبھی ملازمت کا ارادہ نہ کیا کیونکہ اُس وقت نہ ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی اُس کے شوہر نےاجازت دی۔ ازدواجی زندگی ابتدائی سالوں میں متوازن رہی۔ گھریلو کام کاج میں بھی کبھی کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہوا۔ اُس نے اپنی تعلیم ، اپنا ہنر اور اپنی سمجھداری کو محض اپنا گھر سنوارنے اور اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مہنگائی، سماجی دباؤ اور خاندانی معاملات نے منظرنامہ بدل دیا۔ اُس کا بیٹا خودمختار ہو گیا اور كام کے لئے وطن سے باہر چلا گیا۔ شوہر نے دوستی کی مد میں غلط گروہوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ۔ اسی وجہ سے اس کی مزاجی کیفیت میں تلخی آگئی۔ بے وجہ سیر و تفریح اور دوستوں پر خرچ کی وجہ سے مالی حالات بھی پہلےکی طرح نہیں رہے۔ وہ جملے جو کبھی شراکت داری کی زبان تھے، اب الزام اور تضحیک میں بدلنے لگے۔ ~ “کیا تم نے زندگی میں کبھی کچھ کمایا ہے؟” یہ وہ جملہ تھا جو چند مہینے پہلے، پہلی بار حنا نے شوہر سے سنا تھا جب اس نے گھر کے خرچے کے لئے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اور اُس کے بعد تو یہ معمول بن گیا۔ بے وجہ طنز ، کچھ نہ کرنے کے طعنے، پیسے مانگنے پر چیخنا چلانا۔ اِن حالات میں حنا کی سوچوں نے رُخ بدلہ۔ مسلسل بے رُخی اور طنز نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا اس نے اپنی تعلیم ، اپنی پہچان اور اپنی کامیابی کو چھوڑ کر اپنی زندگی اور اپنی خوبصورتی “اِس گھر” کو بنانے میں صرف کی تھی؟ جہاں اس کو بُنیادی ضروریات کے لئے یہ سب سہنا پڑتا ہے۔ صرف باہر جا کر کام نہ کرنے کے بدلے اُس کی عزت نہیں کی جاتی۔ تعلیم و شعور ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرسکتی کیوں کہ اس کے پاس اس چھت کے علاوہ کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے جہاں وہ رہ سکے۔ اور محض اس ڈر سے وہ جانے کب تک روز اپنے وقار اور عزت کو مجروح ہوتا دیکھے گی۔~یہ کہانی حنا کی نہیں بلکہ ہر اس عورت کی ہے جو اپنی انفرادیت کو کہیں پیچھے چھوڑ کر، معاشرے کے بنائے اصولوں پر، اپنا آپ اپنے گھر بار، بچوں اور شوہر کے نام کر دیتی ہے جو کہ اسکی ڈھلتی عمر میں اسی کو محتاج کر دیتا ہے۔سماجی سطح پر جب بھی خواتین کے حقوق، خودمختاری اور تحفظ پر بات کی جاتی ہے تو اکثر گفتگو تعلیم، ملازمت اور مساوی مواقع تک محدود رہتی ہے۔ تاہم، ایک ایسا پہلو جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، وہ ہے “رہائشی خودمختاری” — یعنی عورت کا اپنے نام پر، اپنی مرضی سے، ایک ذاتی ٹھکانہ رکھنا۔ یہ مضمون اسی پہلو کا تجزیہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کے پاس اپنا گھر ہونا نہ صرف اس کی فلاح، بلکہ اس کی خودی، وقار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے جُڑا ہوا ہے۔ ایک عورت جب کسی کی ملکیت میں مقیم ہو — چاہے وہ شوہر ہو یا والد — تو اُس کی خود مختاری مشروط ہو جاتی ہے۔ معاشرتی طور پر عورت کو اکثر “کفیل کے تابع” رہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ تصور نہ صرف محدود ہے بلکہ غیر پائیدار بھی، کیونکہ وقت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدل سکتی ہے — اور تحفظ صرف تعلقات سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح مرد کے لیے ذاتی جائیداد طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے، عورت کے لیے بھی یہ محض قانونی کاغذ نہیں بلکہ ایک وجودی تحفظ ہے۔ کسی صورتِ حال میں اگر عورت کے پاس جانے کو اپنی جگہ ہو، تو وہ بے بسی سے نہیں، وقار سے فیصلہ کرتی ہے۔حنا جیسے کئی کردار تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عملی زندگی میں شریک نہیں ہوتے، کیونکہ اُنہیں سکھایا ہی نہیں جاتا کہ تعلیم خودمختاری کی سیڑھی ہے، صرف شادی کی زینت نہیں۔ گھر بنانا عورت کی ذمےداری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر موقع میسر ہو تو عورت کو یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بُنیادی ضروریات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی، اپنے وقار اور اپنی شناخت کے لئے آگے بڑھنا چاہے۔خواتین کے مسائل کو صرف جذباتی یا فردی تجربات کے زاویے سے نہیں، بلکہ ادارتی اور ساختیاتی سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک عورت کے پاس مالی اختیار، قانونی شعور اور ذاتی رہائش ہو، تو وہ ایک فعال فرد کے طور پر زندگی گزار سکتی ہے، نہ کہ صرف ایک سہارے کی محتاج۔ یہ وقت ہے کہ ہم “گھر” کو صرف جذباتی وحدت نہ سمجھیں، بلکہ عورت کی شناخت، وقار، اور خودمختاری کے ایک ٹھوس مظہر کے طور پر تسلیم کریںاب وقت ہے کہ ہم صرف گفتگو سے آگے بڑھیں  عورت کا اپنا گھر —ایک محفوظ کل،ایک باعزت آج،اور ایک آزاد وجود کی ضمانت ہے۔ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Hammad Niazi

Dwelling in the Light of Fragments: A Study of Dhaji Dhaji Roshni by Qandeel Badr

Dwelling in the Light of Fragments: A Study of Dhaji Dhaji Roshni by Qandeel Badr Hammad Niazi Dhaji Dhaji Roshni, a recently published Urdu poetry collection from Balochistan written by  Qandeel Badr. Qandeel Badr belongs to “Gohar Ghar”, a prominent literary family of Balochistan. Gohar Ghar has already made a significant mark in Pakistani as well as Balochistani literature. Notable literary names from this family such as Saeed Gohar, the late Daniyal Tareer, Injeel Saheefa, Bilal Aswad, and Tamseel Hafsa — are no longer unfamiliar names in the world of Pakistani literature. The title of the book meaning “Shimmering in Shards of Light” is both an aesthetic and emotional thesis. The poet writes in fragments, in dissolving images, in luminous pain. But these fragments do not scatter without purpose; they orbit an unspoken center, a searching, a presence that feels like absence. The voice that emerges from this book is distinctively feminine, vulnerable but not weak, delicate yet defiant, drenched in metaphor, myth, and a longing that feels older than language itself. This is poetry that resists linearity. The poems do not tell stories so much as they invoke visions. At times, the poetess is a girl made of jal (burning water), at others she is a shattered mirror, a swallowed scream, a walking void. What’s compelling is how fluently she merges the personal with the cosmic. The pain of lost love becomes indistinguishable from a spiritual vacuum. The metaphor of a train’s whistle becomes the sound of separation, exile, the dividing of self and beloved. A window that remains half-open becomes a portal to unfinished dreams. The language is never didactic or direct, it pulses with shadows and reflections, like a lake trembling in wind. Elemental imagery dominates this collection. The poet frequently identifies herself with water, fire, earth, and light. She is rain if she cries, a cloud if she stays silent. Her body is a clay pot spinning endlessly on a wheel, her soul flickers like a dying lantern. In many moments, she does not describe feelings but becomes them. This method of merging subject and metaphor gives her verses a surreal, Sufi-like resonance. She writes, “I drank from the cup of wonder,” and elsewhere, “I dissolved into light.” One cannot tell whether these lines are spiritual awakenings or breakdowns, and perhaps they are both. The sacred and the broken meet constantly in her verse, and it is precisely in their overlap that the poetry breathes most deeply. Her relationship with the divine is as fraught as her relationship with the self. In several poems, she addresses God directly, questioning His silence. She asks, with haunting clarity, whether revelation has stopped coming her way. Even the act of learning letters “from alif to meem” is turned into a spiritual practice, and when this practice fails to yield presence, it leaves behind only exhaustion. This distance from divinity doesn’t result in atheism; rather, it leads to a deeper hunger. She searches the void for signs, and in doing so, offers us a theology of absence, where even silence is a kind of speech. Love in this collection is never romanticized. It is dismembering. It is exile. It is divine and dangerous. The beloved is often faceless, or fused with images of God, stars, or silence. One poem asks: “Was it love, or just the light I got lost in?” The speaker’s identity blurs with that of the other. Even gender becomes fluid at times. The poet writes from a female perspective, but her images reject stereotype. The woman here is not waiting or weeping in conventional ways.She is building rhythms from birdsong, planting suns on her forehead, and arguing with angels. She is writing herself back into myth and scripture with a voice that is both ancient and blisteringly current. Stylistically, the poet makes excellent use of free verse, though echoes of classical ghazal rhythms ripple throughout. Repetition is used not just for musicality, but as an emotional incantation. The lines often spiral inward, each one digging deeper into a central wound. Many poems end not with conclusions but with questions, voids, silences. This refusal to provide resolution is honest; it mirrors the very nature of longing, the very texture of grief. Despite its surrealism, the poetry remains rooted in the lived realities of the subcontinent. References to trains, gumbads, pottery wheels, wedding windows, and familial memory all tie the poet’s voice to the regional and the specific. And yet, she lifts these images into a universal register. The poem where she says she was written with her father’s pen and lost inside her mother’s palm is both intimate and mythic—a memory folded into metaphor, a life turned into symbol. Poems like “Tan Bartan”, “Idraak”, “Main ne zindagi doobtay sooraj se seekhi hai”, “Shaam dhalnay ko hai”, “Lori”, and “Pyaala bhar chuka hai” are certainly a beautiful addition to modern Urdu poetry. This poetry, with its Eastern infused, gendered tone, is rarely seen in the contemporary literary landscape of Balochistan. I hope that reading this book will introduce you to a beautiful tone of our new poetry. In the end, Dhaji Dhaji Roshni is not merely a poetry collection۔It is a spiritual topography, an echo chamber, a mirror house filled with flickering lamps and trembling reflections. It does not seek to resolve the tension between presence and absence, or light and shadow. Instead, it invites us to dwell inside that very tension. This is a voice that whispers, chants, weeps, and sometimes screams—but always, it illuminates. The shards may be scattered, but they shine. The book is published by Gohar Ghar Publication Quetta. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Ayesha Hassan

Beyond Therapy Rooms: How Schools, Workplaces, and Communities Can Redesign Mental Health Support

Beyond Therapy Rooms: How Schools, Workplaces, and Communities Can Redesign Mental Health Support Mental health challenges are widespread. According to the World Health Organization, one in four people will experience a mental health disorder at some point in their lives. Yet, despite growing awareness, many never receive the help they need. Barriers such as stigma, high costs, lack of services, or simply not recognizing symptoms keep millions from seeking therapy. Moreover, even when therapy is available, it is often separated from daily life. This means that people may get professional help for an hour each week, but spend the rest of their time in environments that overlook or even worsen their mental wellbeing. For mental health support to be truly effective, we need to integrate it into our everyday spaces.Most mental health problems begin before age 25, making schools a crucial place for early support. Students spend many hours each day in classrooms, yet mental health is often ignored or misunderstood in these environments. A school committed to mental wellbeing can make a world of difference. By training teachers to recognize signs of distress, establishing peer-support programs, and creating calm spaces where students can take breaks, schools can help students feel safe and supported. When mental health is addressed early, it can prevent small issues from growing into lifelong challenges.Mental health directly affects how we work. Stress, burnout, and depression can lead to decreased productivity and higher turnover, costing companies and economies billions. Yet many workplaces treat mental health as a personal problem instead of part of organizational culture. Simple steps can make a significant impact. Companies can introduce mental health days, provide flexible hours for employees who need them, and create training programs for managers to better support their teams. Workplaces that prioritize mental health not only help their employees but also benefit from improved morale and performance.Beyond schools and workplaces, our communities are the places where we find connection, identity, and belonging. Unfortunately, many communities still see mental health as a taboo subject, which prevents people from seeking or offering help. Community centers, libraries, places of worship, and neighborhood organizations can all play a role in changing this. Hosting awareness events, offering support groups, and providing educational resources in local languages can make mental health a shared priority. When communities become safe spaces for open conversations, stigma begins to fade.A Vision for Everyday Mental Health SupportFor mental health support to reach everyone, it must become part of our culture—not just something reserved for clinics. This means creating environments where talking about mental health is normal, and where seeking help is met with compassion, not judgment. Schools should integrate mental health education into their curriculums. Workplaces should make mental wellbeing part of their policies and practices. Communities should offer spaces where people can share their feelings and find support without fear.Change requires commitment from every level of society. Governments and policymakers must prioritize funding for mental health programs in schools and workplaces. Employers must recognize the importance of mental health for their staff. Community leaders must challenge stigma and promote awareness. But individuals also have a role to play. Checking in on friends, listening without judgment, and encouraging those who need help to seek it are powerful acts of care that anyone can do. Together, these small and large efforts can create a society where mental health support is accessible, accepted, and embedded in daily life.Mental health should not be confined to therapy rooms. By bringing support into our schools, workplaces, and communities, we can reach more people, earlier, and more effectively. A culture of everyday mental health support has the power to transform lives, strengthen societies, and create a more compassionate world. It is time we work together to make this vision a reality. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Poetry, Fatima Tu Zahra

قرضِ حسنہ

قرضِ حسنہ فاطمہ الزھراء سنو نوعِ انساں پہ تم ایک احساں کرورنج و دشنام کے سب اثاثے سمیٹووہ ٹوٹے ہوئے خواب کی کرچیاں پھر ہنسی میں ابھرتے سبھی دکھ، الم اور مایوسیاں تم اکٹھی کروپھر اٹھا کر یہ بے کار سامان تم بحرِ مضطر کی پاتال میں چھوڑ دوپر ایسا تو ممکن نہیں ہے یہاںیہ جو دنیا ہے، مکر و فریب اس کے سبہزاروں طریقوں سے الجھائیں گےاور تعفن زدہ حبسِ بے جا میں گھٹ کرتمہارے سبھی خواب مر جائیں گے تو کیا ہے کہ مشکل ہے جینا یہاںپر آساں تو مرنا بھی ہرگز نہیں ہےتو ایسا کرو اب کہ جینا سکھاؤشکستوں کو بابِ محبت پڑھاؤوہ روحوں کی تشنہ لبی کو مٹاؤ تو بھٹکے ہوؤں کو بھی رستہ دکھاؤ مگر یاد رکھو یہ احساں نہیں ہے تمہارے لیے قرضِ حسنہ ہے یہ کہ چند ٹوٹے دلوں کو سمیٹے ہوئے تم اس نظمِ فانی سے جب جاؤ گےتو تمہارے سبھی زخم بھر جائیں گےکہ یہ چند لمحے، تمہارا اثاثہ کسی کے سکوں کا جو مصرف ہوئے اپنے خالق کے آگے گواہوں کی صورت تمہارے طرف دار بن جائیں گے Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Nabila Mughal

DISCOVER THE LIFE-CHANGING BENEFITS OF EMBRACING SLOW LIVING

By adopting a slow living philosophy, you may create a more purposeful, mindful existence that aligns with your greatest values. It entails moving at the appropriate pace throughout. The slow movement focuses on doing things well rather than trying to accomplish them faster. This typically entails reducing activity, slowing down, and giving your top priorities enough time to devote to the things that are most important to you. Low living is a way of living that places an emphasis on awareness, simplicity, and concentrating on what really matters. Slowing down is more crucial than ever in the fast-paced world of today, when pressures from work and life, along with technology, can easily leave us feeling overstimulated and anxious. The concept of slow living places a strong emphasis on intentionality, attention, and simplicity. It is characterized by an intense appreciation for the present moment, a rejection of worldly pursuits, and a focus on what is really important. There are many benefits to leading a simple life, such as better mental and emotional health, more solid relationships, and a clearer sense of purpose. People who simplify their lives are better able to concentrate on the important things in life and have more purposeful and fulfilled lives. The idea underpinning slow and simple lifestyle is that the adventure of life is of greater worth than its destination. People may concentrate on the here and now and appreciate life’s experiences when they slow down. A deeper sense of calm and satisfaction as well as a heightened appreciation for life may result from this. The psychological and general well-being of an individual can be greatly enhanced by simplifying and slowing down in one’s life. Better mood, reduced worry, and an increased sense of calm and contentment might arise from this. Stronger bonds and connections can also arise from simplifying and slowing down one’s life. Making meaningful experiences and spending time with loved ones a priority can help people connect with those around them on a deeper, more meaningful level. Having more financial freedom might also come from living a slower, more straightforward lifestyle. By focusing on what really important and cutting back on non-essential spending, people can save money and lower their debt. To incorporate slow and simple living into your life, you must reassess your priorities. To do this, you must sit back and consider what matters most to you and what you want to put first in your life. One of the main elements of slow living is lowering worry and interruptions. This may entail putting an end to notifications, setting time limits for social media use, and concentrating on what really counts. Mindfulness is a necessary habit for slow life. This is staying in this very moment and painng attention to your thoughts, feelings, and environment.  You can find greater serenity and contentment in your life, as well as less stress and better focus, by practicing mindfulness. Trend of Slow Living. Low Adopting a Hygge lifestyle? Maybe.   However, I believe it is about something more profound and fundamental than simply     always feeling comfortable and happy.It all comes down to making sure you free up enough period, intergalactic, and psychological clutter to permit you to recognize and give significance to the things that matter utmost to you. Of course, also enjoy them! adopting a leisurely lifestyle As summer gives way to autumn here in Australia, the temperature is dropping. It seems like the ideal moment to discuss slowing down. Explain your rationale You want to slow down, but why?Do you have problems with your physical or mental health as a result of stress? Do you yearn for greater happiness, more meaning in life, or more time? It is time to accept a life that moves slowly. Remove the extraneous. Not everything is vital, required, or urgent. Examine all of the commitments you have scheduled for the upcoming month and identify areas where you might make savings. Sometimes an excellent thing might be had in excess.To make room for the best, we must say no to the good. Bring your passion to life Take some time to dream and explore the passions that ignite your heart, mind, and body. Take lengthy strolls. Engage in lengthy discussions with both friends and strangers. Peruse captivating literature, attend Ted lectures, and pose intelligent queries on Google. The rabbit hole can occasionally take us to amazing places. Accept leisurely time. As the postpandemic world picks back up speed, we must intentionally guard the time in our lives to slow down, bake bread, knit socks, and work on large jigsaw puzzles. Not because we are powerless, but rather because we understand the advantages of taking our time, slowing down, and letting our minds roam and our hands create. Create sluggish habits We are not always able to move slowly. The demands of family life prevent us from always moving at our own speed. But we do have choices that can support us. It made an exceptionally drastic decision to give up our careers and move into a trailer. It is not necessary for us to carry out tasks in the same manner as before. We have the power to forge our own route, accept a slower pace of life, and lead healthier lives. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Qurratulain Shoaib

بچے ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

بچے ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ قرۃالعین شعیب ہر بچے کی عادات اور فطرت مختلف ہوتی ہے۔ ایک بچے کو ہم نے کیسے ڈیل کیا اس فارمولے کو دوسرے بچے پر لاگو نہیں کر سکتے ۔ کچھ بچے ایک بار کہہ دینے سے چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ دوسرے بچے جو بار بار کہنے سے بھی نہیں بیٹھیں گے۔ اسی طرح ایک بچہ ہر وقت روتا رہتا ہے جب کہ دوسرا مسکراتا رہتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہےاگر کوئی چیز ایک بچے کو اچھی لگی تو دوسرے بچے کو بری بھی لگ سکتی ہے۔ بچے کی نفسیات کو سمجھنا سب سے اہم ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ یا اس کے عمل کے پیچھے کے محرکات کیا ہیں۔ اس کی پسند نا پسند کیا ہے۔ وہ کیا سوچتا اور کیا چاہتا ہے۔ میں بچوں سے منسلک مختلف اداروں میں کام کرچکی ہوں۔ ایک سکول میں بطور کیمپس ڈائریکٹر کام کر رہی تھی ۔ ایک دن ایک ٹیچر ایک بچے کو میرے پاس لائیں جو پہلی کلاس کا طالب علم تھا۔ بچہ کی عمر سات سال تھی۔ وہ غصہ سے سرخ ہوئے جا رہی تھیں کہ مس i cant handle This child anymore. میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں میڈم یہ روزانہ ڈرائنگ کی کلاس میں اتنی اچھی ڈرائنگ کرتا ہے اور میرے فائل میں لگانے سے پہلے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیتا ہے یہ بہت بدتمیز بچہ ہے۔ میں اس کی یہ بدتمیزی مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ اس وقت میں سمجھ گئی کہ بچہ چھوٹے کاغذ کے ٹکڑے کیوں کرتا ہے۔ ٹیچر کو کہا آپ چھٹی کے وقت ملیں۔ بچے کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ آپ نے اس کے ٹکڑے کر کے کیا کرنا تھا۔ وہ ڈرا سہما جواب نہیں دے پایا نہ ہی چہرہ اپر اٹھا رہا تھا۔ میں نے دوستی کرنے کے لیے اسے چاکلیٹ تھما دی۔ پھر پوچھا کہ آپ ان ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑ کر تصویر بنانا چاہتے ہو۔ وہ مسکرا دیا اور کہتا جی۔ میں نے اسے گلو دی پیپر دیا اور کہا آپ بناؤ۔ وہ بچہ اتنا خوش تھا کہ جیسے اس نے کوئی خزانہ حاصل کر لیا۔ اس کی باڈی لینگویج تبدیل ہو گئی۔ وہ جو سر جھکا کر آنسو بہا رہا تھا ۔ تیزی تیزی سے ٹکڑے جوڑنے لگا۔ چھٹی کے بعد ٹیچر کو بٹھا کر سمجھایا کہ بچہ کیا چاہتا تھا اور اس کی نفسیات کیا تھی۔ تو اس نے کہا میں نے اس پہلو پرکبھی نہیں سوچا۔ انھیں سمجھایا کہ بچے کا ہر عمل بدتمیزی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ہر عمل کے پیچھے کوئی محرک ہوتا ہے اسے تلاش کیا کریں۔ ایسے کئی اور واقعات ہیں جہاں بچے کی نفسیات کو سمجھے بغیر اسے دباو اور مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کیا چاہتا ہے ، ایسا کیوں کرتا ہے اس کے عمل کے پیچھے کی وجہ کوئی جاننا نہیں چاہتا۔ نہ اساتذہ نہ ہی والدین۔ ہر بچہ منفرد شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر بچے کے جذبات ، کیفیات اور پھر ردعمل مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی ایک بچہ دوسرے بچے جیسا نہیں ہوتاہے۔ اکثر والدین اور اساتذہ بچوں کا موازنہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ کہ فلاں کا بچہ تو بہت ذہین ہے۔ یا وہ پوزیشن ہولڈر ہے۔ کھیل میں اچھا ہے۔ آپ بھی اس جیسے بنو۔ کوئی ایک بچہ دوسرے بچے جیسا کبھی نہیں بن سکتا۔ ہر بچے کی اپنی الگ شناخت ، سوچ اور فکر ہے۔ اس کی اپنی الگ دنیا ہے۔ بچے کو اس کے اندر کا جہاں خود تسخیر کر کے آباد کرنے میں اس کی مدد کریں۔ہر بچے کے دل و دماغ کی دنیا الگ ہے۔ صلاحیتیں اور خواب الگ ہیں ۔ سکولوں میں بچے کا رویہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔اس لیے ایک بچے پر اپنائی گئی حکمت عملی دوسرے پر لاگو کرنا مؤثر نہیں ہوتا۔بچہ جس رویے کا اظہار کرتا ہے، اس کے پیچھے کوئی محرک ضرور ہوتا ہےجو بچہ ہر وقت روتا ہے یا جو بچہ ہر وقت ہنستا ہے ، دونوں کے پیچھے کوئی نفسیاتی، جذباتی یا جسمانی محرک ہوتا ہے۔ جیسے توجہ کی کمی ، خوداعتمادی کی کمی ، کسی اندورنی خوف یا دباؤ کا اظہارِ ، اظہارخیال کے دوسرے ذرائع کی کمی۔ تخلیقی بچوں کے جذبات کی پیچیدگی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ والدین اور اساتذہ عموما ظاہری رویے کو دیکھتے ہیں، اندرونی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔جب کہ ایک باشعور استاد یا نگہبان وہ ہوتا ہے جو یہ سوال کرے کہ بچہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ والدین اور اساتذہ مشاہدہ کریں کہ اس بچے کے رویے کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ بچے کی باڈی لینگویج ، بول چال، اور معمولات پر نظر رکھیں۔غور کریں اور ہر عمل کے پیچھے محرک کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں سے مختلف سوالات کریں۔ بچے سے براہِ راست نرمی سے بات کریں۔بچے کو اس کے مسائل کا حل دیں، سزا نہیں نہ ہی مار اور ڈانٹ۔ اگر آپ انھیں نہیں سمجھ پا رہے تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ اس کی مدد لیں۔ اگر والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کی نفسیات کو سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ بچہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے پیچھے کوئی محرک ضرور ہوتا ہے۔ تو بہت سے بچے صحت مند اور خوشگوار بچپن گزار سکتے ہیں۔ اور اس خوشگوار بچپن کے اثرات ان کی آنے والی نسلوں تک جائیں گے۔ اس طرح صحت مند اور خوشحال نسلیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ بچوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنانا اساتذہ اور والدین کے ساتھ ساتھ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سکولوں میں چائلڈ کانسلرز کی تعیناتی کو ممکن بنائیں۔ اور جن سکولوں اور بچوں کے اداروں کے پاس کانسلرز نہ ہوں انھیں مہیا کرے۔ یہ بہت حد تک ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مد میں عوام میں شعور اجاگر کرے۔ جب والدین ، اساتذہ اور ریاست بچوں کی نفسیات کے حوالے سے ایک پیج پر ہوں گے تو ہی ہمارا معاشرہ بہت سے نفسیاتی مسائل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکے گا۔ Leave a Reply Cancel

Blog, Aisha Aslam

عائشہ اسلام کی گرین زون کہانی

گرین زون کہانی عائشہ اسلام یہ عالم گیر مایوس اور پریشان کن دور کے تسلط میں امید کے دِیے روشن کرنے والے فلسفے سے روشناس ہونے کی کہانی ہے۔ سال تھا 2020 جب پوری دنیا میں کورونا وبا بے قابو تھی اور لوگ اس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا رہے تھے۔ جو وائرس کی لپیٹ میں آنے سے بچ گئے وہ قرنطینہ پابندیوں کے نتیجے میں گہری تنہائی کے احساس میں مبتلا ہوئے۔ تنہائی، معاشی، اقتصادی اور سماجی ابتری کا دباؤ انسانوں میں کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کی وجہ بن رہا تھا۔ ان حالات میں ہم سب ویب سائٹ پر ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم پڑھتے ہوئے میرا تعارف گرین زون فلسفے سے ہوا۔ کسی بھی انسان دوست شخصیت کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور خوشی انسانوں کے دکھوں کو کم کرنا اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسا انسان ہمیشہ اس دھن اور لگن میں ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کی اجتماعی مدد کر سکے۔ وہ کوئی کتاب لکھتا ہے، جسے پڑھ کر باقی انسان اپنے لیے کوئی راہ منتخب کرنے کے فیصلے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی ساز ایجاد کرتا ہے، جسے سن کر غم کا بوجھ دل پر سے سرکنے لگتا ہے۔ کوئی فلسفہ یا اچھوتا آدرش پیش کرتا ہے جو لوگوں کے لیے ان کی زندگی کے معنی اور طرز تبدیل کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر خالد سہیل گرین زون فلسفے کو سیکھانے، سمجھانے اور دکھی انسانوں تک پہنچانے کیلئے زوم پر آن لائن سیمینارز کا انعقاد کروا رہے تھے۔ میں ان گرین زون سیمینارز کا حصہ بنی۔ یوں ڈاکٹر خالد سہیل میرے فیس بُک فرینڈ سے گرین زون فرینڈ بن گئے۔ اب میں اُنہیں بہت اپنائیت سے “ڈاکٹر دوست” کہہ کر پکارتی ہوں۔ گرین زون انسان کا سیفٹی اور کمفرٹ زون ہے۔ گرین زون تھراپی، اپنی ذات پر اپنا کنٹرول لینے کی مشق ہے۔ اپنے موڈ کو منفی چیزوں سے trigger ہونے سے بچائے رکھنے اور ری ایکٹ کے بجائے ایکٹ کرنے کا نام ہے۔ گرین زون فلسفے کا سب سے اہم اصول اپنی مدد آپ ہے۔ جس کے تحت انسان کسی اور کا انتظار کرنے کے بجائے خود اپنا مسیحا بننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ایسے لوگوں سے دور کر لیتا ہے جو اسے ریڈ یا ییلو زون میں دھکیلتے ہیں۔ اور خود کو ایسے لوگوں کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو اسے زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے گرین زون میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ گرین زون میں رہ کر انسان اپنے ساتھ دوستی کر لیتا ہے اور نتیجتاً تنہائی میں بھی انجمن کا گمان گزرتا ہے۔ گرین زون فلسفے کی تفہیم اور اس پر عمل نے میرے ذہن اور موڈ کی کمان میرے ہاتھ میں دے دی۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتی ہوں۔ گزشتہ برس مارچ کا ذکر ہے کہ میں نے عالمی یوم نسواں کی نسبت سے خواتین کو با اختیار بنانے کے موضوع پر انگریزی میں ایک نظم لکھی اور اسے لکھنے کے بعد اپنے کالج کے ایک پروفیسر کو وٹس ایپ کے زریعے بھیجی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میری لکھی نظم کا تنقیدی جائزہ لیں اور مناسب سمجھیں تو کوئی ترمیم تجویز کر دیں جو اسے زیادہ مؤثر اور بہتر بنا سکے۔ میرے پروفیسر نے نظم پڑھی اور نظر انداز کر دی۔ انہوں نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ بعد ازاں میں نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے محض یہ جملہ کہا: “This idea can be better expressed in prose.”اور خاموش ہو گئے۔ یہ جواب انتہائی دل شکن تھا۔ میں نفسیاتی طور پر ایسی حالت میں جانے والی تھی جس میں مَیں اپنی نظم کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال سکتی تھی۔ مگر پروفیسر کا جواب میرا اعتماد مجروح کرنے میں ناکام رہا کیونکہ میں گرین زون فلسفے پر عمل کرنے کی عادی ہو چکی تھی اور میں نے یہ احساس کرتے ہی کہ میں ریڈ زون میں داخل ہو رہی ہوں، خود کو وہیں روکا۔ ساری صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا اور پورے اعتماد سے وہی نظم internationalwomensday.com کو بھیج دی۔ انہوں نے میری نظم کو نہ صرف سندِ قبولیت بخشی بلکہ اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور دنیا بھر میں قارئین نے میری نظم خوب سراہی۔ مزید یہ کہ میری نظم internationalwomensday.com کی ویب سائٹ پر “Let’s Fly Together” کے عنوان سے اب بھی موجود ہے۔ یہاں نظم کا اردو ترجمہ پیش کر رہی ہوں۔ آؤ اُڑیں ایک ساتھ پر پھیلا کرتوڑیں پدرشاہی کی زنجیریں ہاتھ بڑھا کرچپ نہیں رہنا ، بولنا ہے ہمیںہاتھوں میں ہاتھ لیے بڑھنا ہے ہمیں یہ دَور عورتوں کی رہبری کا ہےان کے عزم، ان کے ارادے، ان کے مقاصد کا ہےجبر کو پیچھے چھوڑ کے ہم یہ کہتی ہیںاپنے جسم کی مالک ہم ہیں ، اپنے ذہن کی مالک ہم ہم ہیں اک دوجی کا سہارا، اک دوجے کی آواز ہیں ہمڈٹی ہیں ہم اپنے حق، اپنے انتخاب کے لیےساتھ مل کے آسماں کی رفعتوں پہ جائیں گیاپنے سارے سَپنے اپنی ہِمتوں سے پائیں گی آؤ بنائیں اک جہاں ایساجہاں محبت نفرتوں پہ حاوی ہواک مستقبل یوں تعمیر ہو کہ جس میںآزاد عورت، مضبوط عورتمحض خواب نہیں، جاگتی حقیقت ہو میں نے پروفیسر کے دل شکن رویے کے منفی اثرات کو گرین زون فلسفے کی مدد سے خود سے دور رکھا۔ میں ذہنی طور پر گرین زون میں رہی اور اپنی ذات اور اپنی تخلیق پر اپنا اعتماد متزلزل نہیں ہونے دیا، جس کی وجہ سے میری نظم دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، بھارت سمیت کئی ممالک میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقاریب میں بارہا پڑھی جاتی ہے۔ اب انڈیا کی سنٹرل یونیورسٹی آف آندھرا پردیش نے میری نظم بی اے انگلش آنرز کے تعلیمی نصاب میں شامل کر لی ہے جو یونیورسٹی کی سطح پر طلباء و طالبات کو پڑھائی جائے گی۔ گرین زون فلسفے نے ہی مجھے اس کمزور لمحے پر قابو پا کر درست سمت میں قدم اُٹھانا سکھایا۔ اب میں روایتی مشرقی ریڈ زون معاشرے میں رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو گرین زون

Iffat Naveed
Blog, Iffat Navaid

دادا،دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر

دادا،دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر عفت نوید شادی کے بعد بچوں کی پیدائش،ان کی پرورش و تربیت انسان کے اندر ایک نئی امنگ اور طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ اپنے بچوں کی صحت، خوش گوار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے وہ اپنی ساری توانائی اور اسباب اس کی منزل ِ مقصود کو آسان بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ پھر وقت آپ کی محنت کے ثمر دکھاتا ہے بچے اونچا اڑنے کے لیے پر پھیلا چکے ہیں۔آپ نے اڑان بھرنے کے لیے انہیں راستہ دکھایا، ان کی رہنمائی کی۔ خود کڑی دھوپ میں رہ کر انہیں سایہ فراہم کیا مشکلات اٹھائیں۔ شدید آزمائشوں سے گزرے،لیکن انہیں آرام آسائش اور سہولیات مہیا کیں۔ انہیں اپنی تھکن اور تکلیف کااحساس بھی نہ ہونے دیا۔ یہ سب ممکن ہوا کیوں کہ اس سب میں بھی ایک لطف، تشفی، تسلی، آ پ کی مرضی اور خواہش تھی۔ آپ کر سکتے تھے، کیا۔ یہ آپ کی اپنی بڑی کامیابی ہے۔ جس کے مسرت آپ اپنے دل و دماغ میں محسوس کرتے ہیں اور خود کو توانا پاتے ہیں۔زمانے کے اطوار ہمیشہ سے بدلتے رہے ہیں اور انسانی مزاج اور رویو ں میں لچک کے باعث انسان سماج کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہا ہے۔ جوانی میں انسان خود بھی نئے انداز اختراع کرتا ہے۔اور نئے انداز کو بخوشی قبول کرتا ہے۔لیکن بڑھاپے کی دھلیز پر قدم رکھتے ہی اس کے مزاج میں برد باری اور سنجیدگی کے ساتھ یکسانیت آجا تی ہے۔ اس کی شوق، مصروفیات،اور لباس میںکو ئی تنوع نہیں ہو تا۔اس سب میں بھی وہ آزاد ہے۔اپنے مزاج اور سہولت کے حساب سے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا رہن سہن کے انداز اپنانے میں با اختیار ہو۔ اسی طرح اسے دوسروں کو بھی ان کی پسند نا پسند اور زندگی کے فیصلوں کا اختیار دینا چاہیے۔بزرگ والدین جب روزگار سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں اور ان کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے، ِ فکرات، شکوک و شبہات، انجانے خوف کے لیے۔ جس کا اظہار وہ محبت سے نہیں تکبر کے احساس کے ساتھ کرتے ہیں مگر ظاہر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ رہنمائی کر رہے ہوں۔ایک گھر جسے آپ نے بنایا، یا وراثت میں ملا۔ اگر آپ کے بچے اپنا مکان نہیں بنا سکے اور آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ تب ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ انہیں ان کی زندگی، ان کے انداز اور خواہشات کے مطابق جینے دیں۔ اپنے پوتا، پوتیوں سے صرف شفقت کریں،انہیں دعائیں دیں۔ ان کی نگہبانی اور رہنمائی کریں۔ اگر ان کے مزاج اور شوق آپ کو پسند نہیں، تو یہ بات اپنے تک رکھیں۔ ان کے معاملات اور سرگرمیوں پر ان کے والدین کی نگاہ ہے۔ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے واقف ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کے لیے ویسے ہی فکر مند رہتے ہیں جیسے آپ۔ اولاد جب اپنے پیروں پر کھڑی ہو جا تی ہے۔ ان کا اپنا ایک کنبہ ہوتا ہے۔ بلا وجہ کی نصیحت، نکتہ چینی اور دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت نوجوانوں کو اپنے بزرگ والدین سے دور کر دیتی ہے۔ اور پھر بزرگ خود ترسی میں مبتلا ہو کر خود اپنے ہاتھوں اپنی صحت، اور ذہنی کیفیات برباد کر دیتے ہیں۔کچھ بزرگ فکر نہیں کرتے ٹوہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر اپنی پوتیوں کی۔پکنک پر کیوں گئی؟ دیر سے کیوں آئی؟ کوچنگ میں رات کو دس بجے کون سی کلاس ہو تی ہے؟۔ کپڑے کیسے پہنے ہیں ؟خاص طور پر پوتے یا پوتی کی شادی، منگنی سے پہلے انہیں اعتماد میں لینا، ان کی رائے کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنا، سب سے بڑا معرکہ ہو تا ہے۔ اور اگر اولاد اپنے کنبے کے ساتھ اپنے بزرگ والدین کے مکان میں رہتی ہے، اس لیے اپنے بچوں کی زندگی کے فیصلے، رشتے طے کرنا کا سارا اختیار دادا، دادی کا! سب آپ کی سنتے اور مانتے ہیں۔ آپ اس تابع داری پر خوش، لیکن جان لیجیے کہ وہ تابع ہیں نہیں وہ مجبور ہیں۔ ان کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ آپ کے پوتا پوتی آپ کی رعایا نہیں۔ جوان خون کے آگے کو ئی مجبوری نہیں۔ لیکن والدین کی مجبوری ان کے علم بغاوت بلند کرنے میں رکاوٹ ہے۔ مگر کوئی بھی مشکل، یا مجبوری سدا نہیں رہتی۔ا ن کے گناہ ثواب، صحیح غلط،جنت دوزخ، برا بھلا، جزا سزا سے خود کو بری الزمہ سمجھیے۔ آپ انہیں جتنا آزاد چھوڑیں گے۔ خود کو بھی اتنا ہی آزاد اور خوش محسوس کریں گے کیوں کہ سب کی محبت اور حقیقی احترام آپ کو زندگی اور ان پیارے رشتوں سے قریب کر دے گا۔ آپ کی اولاد عازم ِ سفر ہے۔ ان کی زندگی کی گاڑی کے بریک کے ان کے ہاتھ میں ہیں، اور ایکسیلیٹر پر ان کا پیر ہے۔ انہیں اپنے ہم سفر بے حد عزیز ہیں۔ وہ ان کو تمام سہولیات، ضروریات، اسباب اور حفاظت کے ساتھ منزل پر اسی طرح پہنچائیں گے ۔ جیسے آپ نے اپنے وقت میں کیا تھا۔

Blog, Meher Ali

ادب اور انسانی ذہن

مہرعلی تاریخ کے ہر موڑ پر فنونِ لطیفہ اور ادب کسی نہ کسی صورت میں انسانی زندگی میں موجود رہے ہیں۔ گویا انسان ازل سے اپنے اندر کا اظہار کرتا آیا ہے چاہے وہ اساطیر ہوں،غاروں میں بنی تصاویر ہوں یا پھر لوک شاعری اور کہانیاں ۔۔۔۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا پتھروں پر مختلف نقش بنانا، ان دیکھے دیوتاؤں اور بھوت پریت کو اپنی داستانوں اور نظموں کا حصہ بنانا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کا متلاشی ہے جو اس یہاں اسے میسر نہیں یا یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ اس کا وجود اُس کی جسم کے قیدخانے سے فرار چاہتا ہے اس لیے وہ ایسی ایسی دنیائیں تخلیق کرتا ہے یا پھر فرائڈ کے مطابق وہ معاشرے کی لگائی پابندیوں سے بچنے کی خاطر اپنی جبلی خواہشات کا اظہار ایسے طریقوں سے کرتا ہے جو معاشرے میں قابلِ قبول ہوں یعنی فن اور ادب۔ اس کو نفسیات میں Sublimation کا نام دیا گیا ہے۔۔۔یہاں تک کہ سائنس اور فلسفہ، جو کہ تجربات، عقل اور منطق کی روشنی میں سچ کی تلاش کرتے ہیں ان میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کہانیاں شامل ہوجاتی ہیں۔۔۔قدیم فلسفہ سے لے کر جدید سائنس تک ایسی کئی کہانیاں موجود ہیں۔۔نیوٹن کے سر پر سیب کا گرنا اور اس سے کششِ ثقل کا دریافت ہونا جو کہ سائنسی دنیا کا بہت مشہور واقعہ ہے، سٹیفن ہاکنگ کے نزدیک ایک افسانے کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ انسان کی اس فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فن اور ادب انسانی ذہن کی تخلیق ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن پر گہرے اثرات بھی رکھتے ہیں۔۔۔۔ڈیجیٹل دور نے جہاں انسان کے کئی مسائل کا خاتمہ کیا ہے وہیں نئے مسائل کو جنم بھی دیا ہے اور پہلے کی طرح اب وہ مسائل خارجی نہیں بلکہ داخلی ہیں۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے قدم جیسے جیسے آگے بڑھ ہیں ویسے ویسے انسان کے ذہنی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس کی نفسیات مزید الجھاؤ کا شکار ہورہی ہے ان کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔۔۔۔ایسے میں فن اور ادب بہت حد تک مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ انسانی ذہن تصاویر اور علامتوں میں سوچتا ہے حتیٰ کہ اسے خواب میں بھی ایسی ہی علامتوں اور تصاویر کا سامنا ہوتا ہے۔۔۔۔انسان جب ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہے تو پرانے واقعات تصاویر کی صورت میں اس کے ذہن کی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں، ہوبہو حال اور مستقبل کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔انسان جب کسی فن پارے سے آنکھ ملاتا ہے یا پھر کسی ناول، افسانے یا شعر کو پڑھتا ہے تو اپنے ذہن میں ایسی ہی تصاویر کو جنم دیتا ہے۔۔۔مثال کے طور پر Albert Camus کے ناول The Stranger کو اگر پڑھا جائے تو آغاز سے اختتام تک ہم الفاظ پڑھ کر اپنے ذہن میں تصاویر کو جنم دیتے ہیں اور خود کو اس کردار کی جگہ رکھ دیتے ہیں جو اپنی زندگی میں شدید لایعنیت کا شکار ہے اور اسے کسی بھی بڑے سانحے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔یہاں میں کچھ مثالیں شاعری سے دے کر اپنی بات کو مزید واضح کروں گا۔۔۔ زرد ملبوس پہن کر وہ چمن میں آئیوہ بھی منجملۂ تصویرِ خزاں لگتی ہے (ثروت حسین) اس شعر کو پڑھتے ہوئے ایک dynamic picture اچانک ذہن کے کینوس پر ابھر آتی ہے جس میں زرد لباس پہنے ہوئے ایک حسین عورت خزاں کی طرح رقص کررہی ہے اور یقیناً یہ تصویر ہم سب کی اپنی اپنی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد ہے وہ رات زیرِ آسمانِ نیلگوں یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی راتچاند کی کرنوں کا بے پایاں فسوں، پھیلا ہواسرمدی آہنگ برساتا ہوا ہر چار سواور مرے پہلو میں تو۔۔۔۔۔ (ن ،م راشد) راشد کی نظم کے اس حصے میں ایک مکمل تصویر بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔۔۔آسمانِ نیلگوں، رات، چاند کی کرنیں، محبوب کا پہلو میں ہونا یہ سب الفاظ اس تصویر کو جنم دیتے ہیں۔۔۔   A touch of cold in the Autumn night—I walked abroad,And saw the ruddy moon lean over a hedgeLike a red-faced farmer.I did not stop to speak, but nodded,And round about were the wistful starsWith white faces like town children (T.E HULME) مشہور انگریزی امیجسٹ شاعر کی یہ نظم بھی میرے خیال کی ترسیل کےلیے ایک اچھی مثال ہے۔۔۔اگر آپ touch of cold, autumn night, ruddy moon, red-faced farmer, white faces childern, جیسے الفاظ پر غور کریں تو کتنی ہی دلکش تصاویر بنتی ہیں جو ہمارے وجود میں سرایت کرکے مختلف احساسات پیدا کرتی ہیں۔۔۔۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں فن اور ادب انسان کی قوتِ متخیلہ کو بڑھا دیتے ہیں اور اسے اپنے اندر سے نکلنے کی راہ دیتے ہیں۔۔۔۔ادب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ادب تخلیق کرنا بھی کافی حد تک ذہنی الجھاؤ یا ہمارے اندر موجود کئی ایسے احساسات اور جذبات کو purify کرسکتا ہے جسے ارسطو اپنی بوطیقا میں catharsis کا نام دیتا ہے۔۔۔۔بیسویں صدی کی انگریزی شاعری میں ایک تحریک confessionist poetry کے نام سے ہے جس میں شاعروں نے اپنے زندگی میں ہوئے واقعات کو براہِ راست اپنی شاعری کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی۔۔۔سلویا پلاتھ اس حوالے سے ایک بہت اہم نام ہے۔۔۔۔بلاشبہ اس تحریک کا مقصد بھی یہی تھا کہ فرد جن چیزوں کا سامنا کرتا ہے اور جو محسوس کرتا وہ کھل کر بیان کردے۔۔۔ادب تخلیق کرنا انسان کے لاشعور میں موجود فنا کے خوف کو بھی کم کرتا ہے۔۔۔۔موت اور فنا کا خوف انسان کے وجود کا حصہ ہے۔۔۔وہ اسے طاقِ نسیاں پر بھی رکھ دے تو یہ خوف اس کے لاشعور میں موجود رہتا ہے۔۔۔ایسے میں فن اور ادب کی تخلیق انسان کے اس خوف کو ختم نہیں تو کم ضرور کردیتی ہے۔۔۔ہم آج بھی قدیم انسان کو غار میں بنے نقوش سے پہچانتے ہیں یا اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں اور شاعروں کو آج ہم صرف ان کے الفاظ کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔۔۔۔ادب کا انتخاب کرنا بھی بے حد ضروری ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کوئی ذہنی الجھاؤ کا شکار انسان ادب کو مطالعہ کرے۔۔۔ایسی صورت میں ایسے ادب کو منتخب کرنا چاہیے

Scroll to Top