Author name: admin

Naaye Khwaab

Blog, Laiba Rashid

From Hesitation To Healing: My Green Zone Therapy’s Expereince

From Hesitation To Healing: My Green Zone Therapy’s Experience Trying therapy for the first time through initiative of green zone therapy by Naaye Khwaab was an experience I never thought of.I had never entered a space that could really be non judgemental allowing you to speak your heart out and facing your fears. Upon an invitation by my friend Muqaddas, a Green Zone Trainer, I thought why not give it a chance and this chance changed my life. Attending the Green Zone Therapy Fellowship felt like entering a quiet, sacred space within myself—one I had long forgotten existed. It didn’t heal me overnight, nor did it promise to erase what life had carved into me. But slowly, gently, it began to open the stubborn doors I had shut tight—the ones guarding pain that never really belonged to me in the first place. The kind of pain that seeps in through other people’s wounds, the kind that makes you carry battles you were never meant to fight.The therapy helped me see how much of my suffering came from external forces—from people around me, their traumas, their pain, and the ripple effects of their actions. I had been holding onto a grudge for so long, not because I was the one who was hurt, but because someone I loved deeply had been hurt by someone else I also once held close. And in that tug of war, I was the rope—torn between resentment and empathy, hatred and softness. I found myself emotionally exhausted, confused, and stuck.Through the sessions, I was given the space to reflect deeply on the people in my life—who brings peace, who brings pain, and who simply doesn’t deserve the power to trigger my emotions anymore. I learned that it’s okay to step away from things that aren’t mine to fix. That just because I cared for both people involved didn’t mean I had to bleed for a war I never signed up for. I was never a mediator. I was a listener. And somehow, that role turned into a wound of its own.One of the most powerful moments for me was the letter-writing exercise. I poured into that paper every ounce of anger, sorrow, and the unsaid words I’d been carrying for years—things I could never say aloud, not even in the future. Because some bridges don’t just burn; they disappear. And while communication may solve many things, sometimes there’s no opportunity left to speak. So I wrote, not for closure with them, but for freedom within myself.Green Zone Therapy became the safe space where I could finally acknowledge what I’d been suppressing. It helped me realize that it’s not my job to solve other people’s conflicts. If two people are at odds—even if I love them both—it’s their path to navigate, not mine. I can hope they heal, I can wish them peace, but I cannot sacrifice my mental well-being in the name of loyalty.Healing, I’ve learned, isn’t a one-time event—it’s a choice I make every day. I train my thoughts like muscles, gently bringing them back to the path I’ve chosen when they wander into old wounds. I remind myself that I’m not carrying that grudge anymore. I’m not walking around with hate in my heart. Even if the thoughts come back sometimes—and they will—I now know how to let them pass without letting them stay.Green Zone Therapy didn’t just help me fix one trauma—it gave me the tools to live lighter, to love smarter, and to protect my peace without guilt. And for that, I am deeply, profoundly grateful. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Review, Dr. Sarah Ali

تخلیقی اقلیت: روایت سے آزادی کا سفر

تخلیقی اقلیت: روایت سے آزادی کا سفر ڈاکٹر سارہ علی خان ڈاکٹر خالد سہیل اور نعیم اشرف صاحب دونوں کو مبارکباد کہ ڈاکٹر صاحب جنہوں نے انتہائ انسان دوست کتاب Creative Minority لکھی جو اب اردو میں تخلیقی اقلیت کے نام سے نعیم اشرف صاحب کی بدولت میسر ہے۔ نعیم اشرف نے اس کمپلکس موضوع کی کتاب کوانتہائ سہل زبان میں اردو کے قلب میں ڈھالا ہے جو بیش قیمت عمل ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ حاصل کر سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ذہنی صحت کی طرف آگاہی بڑھے گی اسی طرح اس کتاب کی اہمیت کا ادراک ہو گا ۔اس لیے میں نے ڈاکٹر صاحب سے بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کی کتاب کا آخری حصہ جو کہ تخلیقی اقلیت سے تعلق رکھنے والےان افرادکے بارے میں ہے، جنہوں نے اپنے ذہنی سکون کے لیے ڈاکٹر صاحب سے رجوع کیا، اس میں ممکن ہو تو اضافہ کریں کہ جب آپ اپنے جیسے لوگوںُ کی عزم کی تخلیق کی اپنے کام اور مقصد سے جنون کی کہانیاں پڑھتے ہیں تو وہ زیادہ پر اثر ہوتی ہیں۔ اس کتاب میں بہت سی سطریں ہیں جو آپکی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں اور اس کے بعد لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو قلم توڑ دینا چاہیے جیسے کہ ایک جج فیصلہ سنا دینے کے بعد توڑ دیتا ہے۔ چند سطریں جنہوں نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا، ان میں سے کچھ یہ ہیں: “واں گوں کی پیدائش سے ایک سال قبل ان کا بھائ فوت ہو گیاتھا جس کا نام بھی ونسنٹ تھا۔ انسان سوچتا ہے کہ یہ بچہ بڑا ہو کر جب اپنے بھائی کی قبر دیکھنے گیا ہو گا اور کتبے ہر اپنا نام لکھا دیکھا ہو گا تو اس نے کیسا محسوس کیا ہو گا “ اس کو پڑھتے ہوئے مجھے اسکے برعکس خیال آیا کہ ہمارے تو بچوں کو زبردستی میت اور قبرستان لے جایا جاتا ہے اس بات کا خیال کیے بغیر کہ بچوں کے ذہن پر کیا اثرات ہوں گے اور خاص کر حساس بچوںُ کے دماغ پر۔ اسی طرح اس کتاب کے پہلے صحفے پر درج ان کا اندیشہ ملاحظہ فرمائیے:باہر کے اس شور میں خالدمجھ کو ڈر ہےاندر کی موسیقی اک دنمرجھا جاۓ گی جہاں انہوں نے اپنے لیے اس اندیشے کو غلط ثابت کیا ہے وہیں پر میرے خیال میں یہ کتاب لکھ کر انہوں نے تمام تخلیقی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس زندگی کی راہ دکھائی ہے جس سے وہ اپنے اندر کی موسیقی کو زندہ رکھ سکیں اور اس کے ردھم پر اپنی تخلیق کا رقص جاری رکھ سکیں۔ تخلیقیی شخصیت اور اسکی قیمتاس سب میں مجھے احساس ہے کہ اس موسیقی کو زندہ رکھنے کی قیمت وہ تمام اشخاص جو تخلیقی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں چکاتے ہیں اور خالد سہیل نے بھی اس کی قیمت چکائ ہے کیونکہ وہ خود اس اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب کہنا میرے لیے آسان نہیں کیونکہ میں نے اس کی قیمت اپنے والد کو چکاتے دیکھا ہے۔ یہ قیمت ان تخلیقی شخصیات کی کامیابی کے بعد ان کے اردگرد کے لوگوں اور دوست احباب کو شاید معمولی محسوس ہو لیکن یہ افراد خود اور ان کے پیار کرنے والے اس کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی قیمت سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اس لیے میں نے جب اس کتاب کا باب “تخلیقیات اور جنسیات” پڑھا تو ڈاکٹر صاحب کو کہا اس میں اولادیات کو بھی شامل کرنا چاہیے کہ صرف ان شخصیات کی زندگی میں محبت یا ازداجی تعلق تک ان کی تخلیق کے اثرات محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی اولاد تک جاتے ہیں اور اس کی جھلک نیلسن منڈیلا کے باب میں ہمیں ملتی ہے کہ یہ دکھ اور خوشی اکٹھی ہو جاتی ہے کہ آپکے ماں یا باپ سے صرف آپ نہیں اور بھی لوگ محبت کرتے ہیں لیکن یہ دکھ کہ آپ اپنے باپ یا ماں کو دوسرے کے ساتھ شئیر کر رہے ہیں اور وہ صرف آپکے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ اوروں کے لیے بھی ان کے دل میں اتنی محبت ہے جتنی آپکے لیے۔یہ بہت بڑے المیے کو جنم دیتا ہے کیونکہ آپ ان کو اس تخلیقی جنگ میں زخم کھاتا اور گھاؤ لگتا دیکھتے ہیں اور ان کے جنون کے آگے کچھ کر نہیں پاتے صرف ان کا ساتھ خاموش رہ کر یا تسلی دے کر ہی دے پاتے ہیں۔ تخلیقی شخصیات کی جدوجہد: ایک المیہمیرے الفاظ اس تکلیف کو بیان نہیں کر سکتے جو میں یہ سب کہتے ہوۓ محسوس کر رہی ہوں کہ میں نے اپنے والد ڈاکٹر کرامت علی جو اس سب سے گزرتے دیکھا ہے۔ وہ جب Vanderbilt سے اکنامکس میں ڈگری کر کے لوٹے تو واپس آنے کی ان پر کوئی پابندی نہیں تھی کہ وہ حکومت پاکستان کو یہ کہہ کر ان کا اسکالرشپ واپس کر چکے تھے کہ اُن کو یورنیوسٹی کی طرف سے اسکالرشپ مل گیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ یہ کسی اور مستحق طالب علم کو دے دیا جاۓ۔ علاوہ ازیں، ان کے پاس اسی یورنیورسٹی کا جاب لیٹیر بھی تھا جسے وہ یہ کہہ کر منع کر آۓ تھے کہ وہ اپنے شہر ملتان میں ایک ایسا اکنامکس ریسرچ سینٹیر (بہاؤالدین زکریا یورنیوسٹی میں جس کا اسی سال قیام ہوا تھا) بنانا چاہتے تھے جہاں پر عالمی سطح کا اکنامکس میں ریسرچ کا کام ہو۔ مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے ملتان میں تعلیم کے میعار کو بہتر کیا جا سکے اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ طبقات( کسان اور بھٹے مزدروں) تک تعلیم کی سہولیات کو فراہم کر کے ان کو ملتان کے جاگیردارانن اور سرمایادارانہ نظام سے چھٹکارا دلایا جا سکے۔ امریکہ جانے سے پہلے وہ اور میرے تایا اپنے دوستوں کے ہمراہ بھٹہ مزدوروں کی تنظیم سازی کے کام میں مصروف عمل رہے تھے لیکن ان کی واپسی کے بعد ان کو تین سال تک اپائٹمنٹ کے باوجود یورنیوسٹی جوائن نہیں کرنے دی گئ کہ جماعت اسلامی کو ان کا وجود ناگوار تھا اور جب جوائن کر لی تو میں نے ایک دن اپنے والد کو سکون میں نہیں دیکھا لیکن وہ ہار ماننے والوں

Blog, Hammad Niazi

“مکالمے کے حوالے سےچند طالب علمانہ معروضات”

حماد نیازی کسی بھی موضوع یا متن کو مکالمے کی نہج تک تب لانا چاہیے جب ہمیں اس متن کے تمام مندرجات سے مکمل نہیں تو کم ازکم اتنی آگاہی ضرور ہو کہ وہ اس کے معروف معانی یا معلوم تعبیرات کا احاطہ کر سکے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر دو انتہاؤں پر رہنے والے ہمارے” جید ثقہ” عالم نما لوگ اس موضوع کے بنیادی متن کی اہم، ضروری اور معاصر تعبیرات تو کجا، اس متن کی زبان کو ہی اپنے اذہان کے شعور کی تشکیل کے لیے قبول نہیں کر پاتے مگر جب ان سے کہا جائے کہ یہ متن تو آپ کے بے ترتیب اور بے سمت اخلاقی خود ساختہ نظام زندگی کو رد کرتا ہے تو اسی متن کے مندرجات پر وہ وہ عالمانہ بلکہ فقیہانہ اعتراضات سامنے لے آتے ہیں کہ جن کا اس موضوع یا متن سے دور دور تک کوئی طفلانہ تعلق بھی نہیں بنتا مگر انکی پیش کش اور لہجے کے تکبر سےایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے علم اپنے ازلی و ابدی ہر معانی میں صرف ان کے پاس ہی موجود ہے اور وہ اس خزانہ ء بے بہا کی ہر ممکنہ تعبیر کے بلا شرکت غیرےمالک ہیںپھر اس پر دوہرا ظلم یہ کہ ان بے سروپا اعتراضات کوسوال کے علمی دائرے سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی متن سے آگاہی کے بعد اس کی مختلف تعبیرات سے متعلق خالص علمی سوال مکالمے کے متنوع اسالیب سے متعارف کراتے ہیں اور ان سے ہی متن کی تعبیرات سے اصل آگاہی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔مگر ایسے بے سروپا اعتراضات جن کا اول و آخر منشا و مبدا موضوع سے آگاہی کی بجائے صرف اس موضوع یا متن سے برآمد ہونے والے مخالف بیانیہ سے متفق لوگوں کو الجھا کر زیرِ دست لانے کے سوا کچھ اور نہ ہو تو پھر مکالمہ کو مناظرہ میں بدلتے ہوئے چند لمحے درکار ہوتے ہیں۔ مکالمہ ایسے فکری ماحول میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اگر یہی سوال اور بحث کی دعوت متن سے آگاہی کے بعد خالص تعمیری نیت سے دی جا رہی ہو تو اس متن کے نا معلوم یا غیر معروف معانی اور تعبیرات کی طرف کئی راہیں کھل سکتی ہیں.اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف کا خالص تعمیری پہلو دوسرے مکتبہ فکر کی نظر میں تخریبی پہلو قرار پا سکتا تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مکالمے کے تعمیری پہلو سے مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہر دو نکتہ نظر کسی ایک پہلو پر ہر صورت متفق ہوں مکالمے کے ممکنہ نتائج میں سے ایک نتیجہ کسی ایک خاص مقام پر دونوں کے مابین اتفاق کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے مگر یہ نہ بھی ہو تو ایک ہی متن کی مختلف تعبیرات کے رد و قبول کے معیارات کا تعین ہو جانا، اس متن کی ہر تعبیر کا سماجی و تہذیبی سطح پر دائرہ کار کا طے ہونا اور یہ بھی نہ ہو تو کم از کم باہمی اختلاف کا خالص علمی اظہار ہی اگر ہو تب بھی یہ سارا عمل ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے ہم اور کچھ نہیں تو مکالمے کی مبادیات سے ہی واقف ہو جائیں تو ہماری ذاتی زندگی سے لے کر سماجی زندگی کے کئی حوالوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی تشکیل میں اس پہلو پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا اور اس خلا کے مہلک نتائج میں سے سب سے کم تر نتیجہ ہر سطح کی عدم برداشت کا وائرس ہے جو اس وقت کم از کم ہمارے معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے. . Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Suniya Daar

نفسیاتی شفا کا فلسفہ

سنیہ ڈار جب ہم کسی اور کی کہانی میں خود کو دیکھتے ہیں، تو اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔درحقیقت تو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے، لیکن ہمیں اس بات کا ڈر بھی ہوتا ہے کہ ہمیں واقعی پہچان لیا جائے۔ ہم تھراپی میں اپنے مسائل کو ایک قیمتی خزانے کی طرح تھامے آتے ہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ ہم شروع سے ہی غلط سوالات پوچھتے رہے ہیں۔ ہمارے سب سے گہرے زخم اکثر اوقات اُن باتوں یا واقعات ہی کی وجہ سے نہیں ہوتے جو ہمارے ساتھ ہوئیں، بلکہ اُن کہانیوں سے ہوتے ہیں جو ہم نے زندہ رہنے کے لیے اپنے اندر تخلیق کر لیں اور ہم ان کہانیوں میں جینے لگے۔ سچ خاموشی سے آتا ہے، اُن چھوٹے لمحوں میں جب ہم آخرکار تکلیف دہ حقائق کا سامنا کرنے سے بھاگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہم اندر کی کہانیوں میں اپنے فرار حاصل کرنے کو چیلنج کرتے ہیں۔ اپنی ذات اور زندگی کے جن حصوں کو ہم سب سے زیادہ چھپاتے ہیں، اور اپنے جن حقائق سے ہم بھاگتے رہتے ہیں انہیں جرات اور وقار سے دیکھ پانے اور قبول کر پانے سے ہی شفا کا آغاز ہوتا ہے۔ تھراپی میں بیٹھے دو عام انسانوں کے درمیان اکثر آنسو بہتے ہیں، جبکہ ایک ہر چیز کو ٹھیک کرنے کی خواہش سے لڑ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اپنے ایک ہاتھ میں توثیق و تسلی اور دلاسے کے ساتھ دوسرے ہاتھ میں آئینہ لیے بیٹھا ہوتا ہے تا کہ لڑنے والا اس میں اپنی ذات اور حقائق کا عکس دیکھ سکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کبھی کبھی مدد اور اصل حل بس یہی ہوتا ہے کہ دردناک لمحات میں ساتھ موجود رہا جائے اور خود سے حالت جنگ میں مبتلا انسان کا اپنے ہی اندر موجود اس کے اپنے مسیحا سے تعلق بحال کیا جائے ۔ ہم مسائل کا فورا حل چاہتے ہیں ، جبکہ بعض اوقات اُنہیں حل کرنے کی بجائے صرف تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم غیر محسوس جذبات کے ساتھ بیٹھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، اور جلد حل ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اصل تعلق کامل الفاظ میں نہیں ہوتا — بلکہ اُس ہمت میں ہوتا ہے جو ہمیں روکے رکھتی ہے جب دل چاہتا ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ دیں۔ ہماری گہری شفا تب آتی ہے جب ہمیں واقعی دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے، اور جب ہمارا تانہ بانہ ہمارے اندر کے مسیحا سے جڑ جاتا ہے نہ کہ جب ہمیں کوئی جواب یا حل ملتا ہے۔ ایک تشخیص اچانک سامنے آتی ہے، جو ہمارے خود کو دیکھنے کا انداز بدل دیتی ہے اور عام لمحوں کی خوبصورتی کو بے نقاب کرتی ہے۔  ہمیں آزادی تب ملتی ہے جب ہم موت سے انکار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور زندگی کی مختصر مدت کو قبول کرتے ہیں۔ ہم جینے کو مؤخر کرتے ہیں، کامیابیوں اور کامل رشتوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ انجام کا خوف ہمیں حقیقی آغاز سے روکے رکھتا ہے۔ ہمارا محدود وقت کوئی ظالمانہ مذاق نہیں — بلکہ وہ چیز ہے جو ہر چیز کو معنی دیتی ہے۔ وقت قیمتی تب بنتا ہے جب اُس کی حدود ہوں؛ محبت گہری تب ہوتی ہے جب ہم اُس کی نازکی کو پہچانیں۔ ہماری فانی حیثیت خوشی کو برباد نہیں کرتی — وہی تو اُسے جنم دیتی ہے۔“کچھ بھی کام نہیں کر رہا”، ہم کہتے ہیں، حالانکہ ہم وہی پرانے طریقے دہراتے رہتے ہیں ایسے بہت کچھ سے اپنی نظریں چرا کر جو موجود تو ہے لیکن ہمارے لیے نیا ہے اور پرانے طریقوں پر زندگی گزارتے رہنے کا کمفرٹ ہی وہ چیز ہے جو ہمیں مطلوبہ زندگی سے دور رکھتا ہے۔ ہمارے اندر کا ایک بڑا فریب یہ ہوتا ہے کہ تبدیلی بڑے بڑے ڈرامائی فیصلوں سے آتی ہے، جبکہ تبدیلی درحقیقت مسلسل لیے جانے والے بہت چھوٹے چھوٹے قدموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم کسی بجلی کے کوندنے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ ایک سادہ، سچا سوال کرنے، ایک حد مقرر کرنے، یا ایک لمحے کے لیے کمزوری دکھانے کی طاقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ترقی بڑی بڑی باتوں میں نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے تجربات میں ہوتی ہے جہاں ہم نئے طریقے آزماتے ہیں۔ آگے کا راستہ کسی اچانک وارد ہونے والی بصیرت سے نہیں، بلکہ ایک غیر یقینی قدم اٹھانے اور پھر اٹھاتے رہنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہماری شفا کسی کامل فہم سے نہیں، بلکہ روزانہ کی گئی چھوٹی سی مشق اور  نامکمل ہمت سے آتی ہے

Blog, Khushal das Parmar

Self-Doubt is a Liar: Here is How to Shut It Down

Self-Doubt is a Liar: Here is How to Shut It Down “You’re not good enough.”“You don’t belong here.”“Someone else is better than you.” If these thoughts have ever echoed in your mind, you already know the exhausting, invisible power of self-doubt. It comes in during quiet moments or before the big decisions in your life. It hides itself as realism or humility, but really, it’s a thief — a thief of dreams, opportunities, and potential. Self-doubt is more than hesitation, it’s a habitual undermining of your own worth. But here’s the truth: self-doubt is a liar, and you don’t have to keep listening to it. Most of us mistakenly believe that self-doubt is a warning to stop, rethink, or step back. In reality, it’s resistance hiding behind a mask. Steven Pressfield, in his transformative book The War of Art, describes this internal resistance vividly. “Most of us have two lives. The life we live, and the unlived life within us. Between the two stands Resistance. Resistance will tell you anything to keep you from doing your work.” That’s exactly what self-doubt does — it fabricates a story where you fail before you even try. But recognizing this is the first step toward reclaiming your power. When you confront resistance head-on, you open the door to creativity and growth. But where does it come from? Often, it doesn’t start with us. It starts with voices we embedded from a teacher who doubted us, a parent who pushed perfection, a society that set impossible standards, and social media that only shows the best parts of others’ lives — making us feel like we are losers. I believe it doesn’t matter whether you were born into a poor family or a wealthy one, or whether you come from a deprived region or a privileged metropolitan city, we have all faced such challenges in different forms. Glennon Doyle, in her book Untamed, talks about this beautifully: “Your job, throughout your entire life, is to disappoint as many people as it takes to avoid disappointing yourself.” We’ve been trained to seek external validation at the expense of our inner truth, and self-doubt thrives in that gap. But reclaiming your voice means learning to trust yourself again, to honor your own path — and yes, you can free yourself from the shadows of self-doubt. It is human nature to easily believe what feels familiar — self-doubt feels that way. Daniel Kahneman, in Thinking, Fast and Slow, explains that the more often we hear something, even in our own minds, the more we believe it. He writes, “Familiarity is not easily distinguished from truth.” So even if the thought “I can’t do this” isn’t true, we start to accept it as fact because we’ve replayed it so many times. That’s why simply being aware of the thought isn’t enough — we have to unlearn it. Similarly, we can see around us that many people talk very well; they give the best possible examples on the art of living and dealing with psychological challenges, but their own lives are often troubled because simply knowing positive thoughts isn’t enough — they haven’t truly made them a part of their daily mindset or actions. So, whether negative or positive, thoughts only work when we repeat them often and genuinely accept them as true. It is very important to note that what does help is action. For the action, you need confidence. In her book The 5 Second Rule, Mel Robbins explains that, “Confidence is a skill you build through action.” Confidence is not something you wait to feel — it’s something you build. You don’t need to feel ready or be highly motivated, or wait for permission or validation from anyone to start. You need to move with consistency. Every time you act despite your fear, you weaken the grip, the intensity, and the pseudo-strength of self-doubt. Another powerful tool is visualization — but not the kind that imagines everything is going wrong. Imagine things that are going right. Picture success. Picture progress. Jen Sincero, in You Are a Badass, puts it bluntly: “Your thoughts and beliefs dictate your reality.” If you keep imagining the worst, that’s the story you start living. But if you dare to imagine yourself winning, succeeding, thriving, speaking up, showing up — your brain starts rewriting the script. We have often heard our parents say, “Stay in good company,” and motivational speakers often remind us to “Surround yourself with positive people.” They are absolutely right. We cannot underestimate the influence of the people around us. If your environment constantly triggers your insecurities, it’s not you — it’s your system. James Clear, in his book Atomic Habits, says, “You do not rise to the level of your goals. You fall to the level of your systems.” And your social circle is one of those systems. Spend time with people who uplift, support, and believe in you, especially when you can’t yet believe in yourself. The right environment can help rewrite the stories we tell ourselves. Surrounding yourself with positive influences creates the foundation for lasting positive change. Most importantly, speak to yourself with compassion. The tone you use in your own head matters. If you wouldn’t call your best friend a failure for making a mistake, then don’t say it to yourself. Kristin Neff, in her book Self-Compassion, encourages us to offer ourselves the same kindness we offer others: “With self-compassion, we give ourselves the same kindness and care we would give to a good friend.” Self-doubt often masks shame, and shame only grows in silence. Speak gently, kindly, honestly — especially when you’re struggling. Remember, healing begins the moment you choose understanding over judgment. Be patient with yourself — growth is a journey, not a race. If you think you’re the only one struggling with self-doubt, I’m sorry to say that’s not true — even the bravest people feel it. The difference is, they don’t let it stop them. Jordan Peterson writes in 12

Blog, Hammad Niazi

The Smell of Moth Orchids”: On the Resonant Wounds of Naheed Qamar’s Poetry

“The Smell of Moth Orchids”: On the Resonant Wounds of Naheed Qamar’s Poetry Written by : Hammad Niazi To step into Naheed Qamar’s poetry is to step onto a landscape on which the smell of moth orchids in the wind becomes the very air of settled hurt. This is not just a jumble of words; it is the pounding of existence’s broken, scattered pieces, ringing through centuries of quiet to drive a beam of light into the darkness of the soul. Her poems are a mirror in which the scars of time, the valleys of loneliness, and the ashes of love look for their own reflection. The deluge of human experience, which passes through the framework of her work, is actually the deluge flowing into “the aqueduct of time” (زمانے کی کاریز) to find its way towards the heart of the narrative. Every word weighs upon the heart like a stone – phrases like “the moon growing on the chest of the heart” (دل کے سینے پر اگتے چاند) not only attain un-questionable heights of imagery but cover the pain of being as if a blazing star had come to rest upon the palm. It is from here that the question arises, pulsing at the heart of each poem: “What is that which we seek in the heart of the story?” (وہ کیا ہے جسے ہم کہانی کے دل میں ڈھونڈتے ہیں؟). For Naheed, this quest is not wordplay; it is the magic of wound upon wound, where “the flow of blood” (لہو کی روانی) is the only reality. Time, in her poetry, is a hurt traveler, “lost in the corridor of time” (وقت کی راہداری میں بھٹکا ہوا), standing on the ruins of itself. “Leaf by leaf, scattering days” (پتی پتی بکھرتے دن) and “wooden staircases of memory” (یاد کے چوبی زینے) are not just symbols, but fragments of earth from the tearing apart of existence. When she says: “What did we live for, even if we lived — without sky, without earth” (ہم جیے بھی تو کیا — بے فلک، بے زمیں), it is not a complaint, but an expression of that human condition where the price of being “laborers of love’s dreams” (خواب محبت کے مزدور) is always paid through the hands of indifference. Aesthetic bittersweetness lies in Naheed Qamar’s words. Images like “the moon on the branch of sight” (شاخ نظر پر چاند) and metaphors like “grief’s ice-bound cage” (غم کے یخ بستہ پنجرے) make her poetry visual sculptures. But this beauty is never bereft of suffering. The agony concealed in each stunning word is such a “whirlpool of the separation” (برہا کی منجدھار) which “resonates within the jugular vein” (شہ رگ کے بھیتر گونجتی). Her manner is so silken that even the hilt of the sword yields to silk’s pliability – “The scale-pan itself measuring union, separation’s sting itself” (خود ماشہ تولہ وصل کا، فرقت کی ٹیس بھی آپ). In poetry, Naheed’s poems are a fire dancing on its own ashes. Descriptions such as “glistening from the ash of love” (عشق کی راکھ سے دمک) and “kohl of pain” (درد کے سرمے) do not just make her poetry a verbal wonder, but display an energetic philosophy of living in which “the heart’s paralysis” (دل کا سکتہ) is actually life’s biggest reality. When she writes, “At seeing you, heart, wind, time, world, all stood still” (تجھے دیکھ کر دل، ہوا، وقت، دنیا جہاں تھم گئے تھے), it is not only a romantic situation, but that cosmic silence where existence breathes in for eternal breath. There is no line drawn between death and life in Naheed Qamar’s work. “The hour of resurrection” (حشر کی گھڑی) and “the sun falling into the netherworld” (پاتال میں گرتا سورج) are two faces of the same coin. That is why, while reading her poetry, the reader sees herself/ himself in a “twilight” (دھندلکے) where “weakness of vision” (ضعف بصارت) also becomes a symbol for the opening of the inner eyes. Slipping into the abyss of her words, one is left with the sensation that one is “the heart itself, trembling upon its own ruins” (خود اپنے ملبے پہ سہما ہوا دل). As drips from a wounded crane, the remaining bead of a dried tear, or the forgotten echo of an incomplete cry, these poems hold in them the quintessence of pain and silence instead of words. The sun passeth over them, but they are the bony remains of hopes interred in the slaughter fields of dreams, gathered by the frosty sighs of night and left at the doorstep of dawn. These are scream poems, silent screams that are etched into the decayed walls of lost cities—screams that howl with every breeze—pleading hands, moaning lost voices. They are a pain too deep to be spoken, but too agitated to remain still, and were conceived out of stifled howls that were never fully voiced—or perhaps never truly heard. The last thing to note is this: Naheed Qamar’s poetry is not observation; it is the tear of a century, penned with “ink burning on tiny hands” (ننھے ہاتھوں پہ جلتی ہوئی روشنائی). It is the account of that “fruitless toil” (بے سود مشقت) which speaks of each faceless spirit homeless “in your earth and sky” (تیرے ارض و سما میں). Maybe this is the reason that her poetry rents a chasm within the soul while being read – as if an injured silence (گھائل چپ) had all at once become audible. And this rift is, in fact, the path of that light passing through the air perfumed with the aroma of moth orchids to reach the remotest recesses of our soul. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Iffat Navaid

احسان لینا قبول کریں

احسان لینا قبول کریں عفت نوید ہم نے اکثر لوگوں کو، خاص طور پر بزرگوں سے سنا ہے کہ اللہ چلتے ہاتھ پیر اٹھا لے۔ کسی کا محتاج نہ کرے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنا،اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دینا۔کسی سے اپنا کام کہتے،اپنا بوجھ ڈالتے، اپنی تکلیف بتاتے، خودداری کے احساس پر ٹھیس لگتی ہے اس لیے بہت سے لوگ اپنی پریشانی مشکل، تکلیف یا ضرورت کسی کو نہیں بتاتے کسی سے شیئر نہیں کرتے۔ بہت سے لوگوں کو ہمدردیاں سمیٹنا اچھا نہیں لگتا۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں قابل ترس سمجھیں۔ خودداری کا یہ احساس بعض اوقات شخصیت اور اعصاب کو اس بری طرح جکڑ لیتا ہے کہ انسان اپنے قریب ترین رشتوں اور چاہنے والوں پر بھی اپنی پریشانی ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ اور پیارے بھی کون سگی اولاد سگے بہن بھائی، شوہر یا پھر قریب ترین دوست۔ مجھے اپنی مثال دیتے اچھا نہیں لگتا لیکن خامی بیان کرنے کے لیے میں خود کو، خود سے نزدیک پاتی ہوں۔ مجھے بخار تھا،پانی کی طلب محسوس ہوئی، شوہر سامنے بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی کھڑی ہوئی چکرا کر بستر پر بیٹھ گئی۔ شوہر نے پوچھا ” کیا چاہیے”؟ میں نے کہا ”پا نی”   ٗ  ‘‘پانی ’’  پانی پی کر انہیں گلاس تھما دیا۔ انہوں نے گلاس میز پر رکھا اور غصے سے بولے ”میں تمہارے سامنے بیٹھا تھا،مجھے کہتیں۔جس طرح تمہیں سب کی خدمت کرنا اچھا لگتا ہے، ہمیں بھی اچھا لگتا ہے۔ ہمیں بھی موقع دو۔ایسا نہیں کہ تم کسی کو تکلیف دینا نہیں چاہتیں، اصل بات یہ ہے کہ تم کسی کا احسان لینا نہیں چاہتیں۔ تم انا پرست ہو۔“ مجھے لگا وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ انا پرستی اچھی چیز نہیں، اپنی تکالیف جھیلتے، درد برداشت کرتے، اپنے احساسات کو اپنی ذات تک محدود کرتے اور اذیت پسندی سے گزر کر جانے کب ہم خود پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ انسان کو کسی بھی مشکل، درد،تکلیف سے نکلنے کے لیے سوائے اپنی ذات کے کوئی نظر نہیں آتا، وہ خود ہی سے تمام مسائل کا حل مانگتے ہیں اور انہیں تنہا حل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور اسے خود داری کا نام دیتے ہیں۔مگر ایک بات ہمیں یاد رکھنا ہوگی کہ انا پرست اور خوددار ہونے میں بڑا فرق ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کا ایک دوسرے سے درد کا بھی رشتہ ہے۔ اپنے ہوں یا پرائے انسانیت درد کے رشتے سے جڑی ہے۔ درد بانٹنا،غموں کا مداوا کرنا، تکلیف میں ساتھ دینا ہر حساس انسان کی فطرت ہے۔ جس کے تحت وہ لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خدمت کے جذبے کا احترام کرنا چاہیے۔ بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے کچھ لوگ اپنی ذات کے مضبوط حصار میں اتنے قید ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو وہ اسے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے تن تنہا ہاتھ پیر مارتے ہیں۔ دریا کی لہروں کے بھنور میں پھنسنے والا شور مچانے کے بجائے محض ہاتھ پیر چلائے تو کنارے پر کھڑے لوگ اسے ایک مشاق تیراک سمجھ کر اس پر کوئی توجہ نہیں دیں گے۔ کسی کی مدد کرنا، خیال کرنا، کسی ضرورت کے لیے پوچھتے رہنا یہ پیار کرنے والوں کے دلی سکون کا باعث ہوتا ہے۔ عام طور پر بزرگ اپنے بچوں کی پریشانی، بے آرامی اور زحمت کے خیال سے انہیں اپنی کوئی تکلیف نہیں بتاتے، اپنے احساسات اور کیفیات کا ذکر نہیں کرتے۔ کسی ضرورت کا اظہار نہیں کرتے، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ان سے پیار کرنے والے ان کی جنبش لب کے منتظر ہیں۔ جسے وہ زحمت سمجھ رہے ہیں وہ ان کے لیے راحت ہے۔ اپنوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ان کے لیے رحمت ہے۔ بزرگ انہیں رحمت و راحت سے محروم کر کے خود تو دل میں یہ اطمینان لیے جاں کنی کے عذاب سے گزر کر عالم ارواح سدھار جاتے ہیں کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہوئی۔مگر اپنے خونی رشتوں کے لیے پچھتاوا، ملامت اور لوگوں کی لعن طعن، اثاثے میں چھوڑ جاتے ہیں۔

Kalsoom Nisar
Blog, Kalsoom Nisar

وہ مظلوم نہیں بس تھکی ہوئی ہے

وہ مظلوم نہیں بس تھکی ہوئی ہے کلثوم نثار یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر یہ جملہ جس کو سنا کر خوش قسمتی کا احساس اور اپنے جلے دل کے پھپھولے ظاہر کیے جا رہے ہوتے ہیں، اسکی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ کے تحت کیا جاتا ہے۔ خاندان والے کہتے ہیں ” ہماری بیٹی ہے ہم اسکا خیال رکھیں گے”مگر وقت کے ساتھ یہ خیال رکھنے کا دعویٰ کنٹرول، تنقید اور تنگ نظری میں بدل جاتا ہے.کھانے میں نمک کم ہو جائے تو باتیں، بچے بیمار ہو جائیں تو لاپروائی کے طعنے۔ کوئی کام اپنی مرضی سے کر لے تو خودسر ہونے کا الزام۔ اور سب سے بڑھ کر: “شوہر کے بغیر عورت کچھ نہیں!” شوہر جب سالوں بعد آتا ہے، تو عورت کے لیے وہ شخص اجنبی سا بن چکا ہوتا ہے۔ دن رات کی ذمہ داریاں، بچوں کی پرورش، سسرال کی فرمائشیں، اور خود اپنی خاموشی… یہ سب اس کے اندر ایک خلا پیدا کر دیتے ہیں۔ جب وہ اپنا دکھ کسی سے کہنا چاہے تو کہا جاتا ہے:“صبر کرو، تمھارے شوہر تو باہر تمھارے لیے محنت کر رہے ہیں!”مگر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ کیا اس کا دل نہیں چاہتا کہ اس سے بھی کوئی بات کرے؟ کوئی اس کی ہاں میں ہاں ملائے؟ کوئی اس کے آنسو دیکھ کر روکے، نہ کہ طعنہ دے؟ ایسی عورتیں اکثر ڈپریشن، انزائٹی، خود اعتمادی کی کمی، اور احساسِ کمتری جیسے ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہیں خواب دیکھنے سے پہلے ہی روکا جاتا ہے، اپنے فیصلے خود کرنے پر شرمندہ کیا جاتا ہے، اور اگر وہ بولیں، تو بدتمیز یا ناشکری کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ سسرال اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ عورت کی دیکھ بھال کر رہا ہے، مگر درحقیقت وہ اسے مسلسل جج کر رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ ہنستی ہے تو “بہت خوش ہے”، اگر وہ خاموش ہے تو “بڑا نخرہ ہے”، اگر وہ کسی بات پر اعتراض کرے تو “منہ پھٹ اور بد لحاظ ہو گئی ہے”۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے، رویے، نظر انداز کرنا، تنقید کرنا — سب ایک نفسیاتی زخم بن جاتے ہیں۔ سسرال کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ بہو ایک انسان ہے، روبوٹ نہیں۔ اسے جذباتی، ذہنی اور اخلاقی سپورٹ کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف تنقید۔ جو مرد پردیس میں ہیں، ان کے لیے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ صرف پیسے بھیج دینا کافی نہیں۔ اپنی بیوی سے جذباتی تعلق رکھنا، اس کی سننا، اس کا حال پوچھنا بھی ضروری ہے۔ یہ عورتیں خاموش ہیں، کمزور نہیں۔وہ تنہا اور ٹوٹی ہوئی ہیں، مگر اپنے ہمسفر کی محبت و ہمت سے انکا ٹوٹا وجود انکی ہمت بن سکتا ہے۔وہ صرف سنجیدگی سے سنی جانا چاہتی ہیں۔ان کی قربانی، ان کی خدمت، ان کی خاموشی کو “فرض” مت سمجھیں — یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے، جسے تسلیم کرنا سب کا فرض ہے۔ یہ کہانیاں صرف کہانیاں نہیں، یہ سچ ہے — ہمارے گھروں کی دیواروں کے بیچ، ہمارے محلوں کی گلیوں میں، اور ہماری خاموش چائے کی پیالیوں کے اندر پلتا سچ۔کبھی سوچا ہے کہ جب ایک عورت سسرال میں خاموش بیٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھ رہی ہوتی ہے، تو وہ کیا دیکھ رہی ہوتی ہے؟ شاید اپنے شوہر کا چہرہ، شاید اپنی ذات کا ماضی، یا شاید وہ زندگی جس میں وہ بھی انسان تھی، صرف کسی کی بیوی، بہو یا ماں نہیں۔ہمیں ان عورتوں کو صرف “مری ہوئی امیدیں” سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا، بلکہ ان کے اندر کی چنگاری کو دوبارہ روشنی دینا ہے۔ یہ تب ہوگا جب: گھر والے سنیں، روکیں نہیں۔ شوہر بات کریں، بس پیسہ نہ بھیجیں۔ محلے والی حسد و طنز کرنے کی بجائے تھوڑی محبت سے دیکھیں۔ کوئی ہمدرد پوچھے: “تم کیسی ہو؟” بغیر کسی طنز کے۔ اور سب سے بڑھ کر… وہ خود اپنی آواز کو سنیں، دبائیں نہیں۔ہر عورت جو سسرال میں تنہا ہے، وہ “مظلوم” نہیں — وہ محض تھکی ہوئی ہے۔ اسے بس تھوڑا سا سہارا، تھوڑی سی سمجھ، اور تھوڑی سی اپنی جگہ واپس چاہیے۔کیوں نہ آج ہم سب مل کر اُس کے لیے وہ جگہ خالی کر دیں؟!کہ وہ صرف سانس نہ لے، زندگی بھی جیے Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Review, Muqadas Majeed

ہاروکی موراکامی کی کتاب ” نارویجن ووڈ

ہاروکی موراکامی کی کتاب ” نارویجن ووڈ ریویوتحریر مقدّس مجید جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔ ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔ یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں جیسا کہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی بدولت پیدا ہونے والی معاشرتی بے چینی کے بارے میں ہے۔ بالخصوص اس وقت پروان چڑھتی بے چین نوجوان نسل جو نفسیاتی مسائل کے اندھیروں سے بہت زیادہ گِھر چکی تھی اور خودکشی کا رحجان بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی عدم برداشت اور شدت پسندی کے واقعات بھی بہت عام ہو گئے تھے۔ یہ ایک دلچسپ ناول ہے لیکن اس کو پڑھتے پڑھتے میں کہیں کہیں بہت اداس بھی ہو گئی تھی کیونکہ اس کو لکھنے والے نے ان نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کو اتنی باریکی سے پیش کیا ہے کہ آپ ان کی کیفیات سے جڑ پاتے ہیں۔ یہ کہانی تین دوستوں کی ہے وٹانابے، کیذوکی اور ناؤکو۔ کیذوکی اور ناؤکو بچپن سے دوست تھے اور جیسے جیسے جوان ہوئے یہ صرف ایک بچے اور بچی کی دوستی ہی نہ رہی بلکہ ان کے مابین اور بھی تعلقات نے جگہ بنا لی اور ایک دوسرے کے بغیر رہنا ناممکن ہو گیا۔ وٹانابے ٹین ایج میں ان کا دوست بنا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی دوستی تھی۔ کیذوکی ایک غیر روایتی شخصیت کا حامل شخص تھا اور اس کے لڑکے دوستوں میں صرف وٹانابے تھا اور یہ بات وٹانابے کیلئے حیران کن تھی کہ ایسا قابل لڑکا صرف مجھے ہی دوستی کیلئے کیوں چن سکتا ہے۔ ناؤکو اور وٹانابے بھی اچھے دوست تھے مگر تبھی زیادہ بات چیت کرتے جب کیذوکی موجود ہوتا۔ حالات بالکل معمول کے مطابق چل رہے تھے کہ ایک دن کیذوکی نے اپنی جان لے لی۔ اس کی خودکشی نے وٹانابے اور ناؤکو کو شدید متاثر کیا۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے وٹانابے ٹوکیو آ گیا۔ ادب پڑھنے لگا اور ہاسٹل میں رہنے لگا۔ ناؤکو سے دوبارہ اس کا رابطہ ہوا اور وہ ویک اینڈز پر لمبی سیر پر ایک ساتھ پیدل جانے لگے۔ ناؤکو اس کے ساتھ ہوتی مگر بہت کم باتیں کرتی یا شاید الفاظ ہی نہ چن پاتی مگر وٹانابے کو ناؤکو کی موجودگی اچھی لگتی۔ وہ دونوں کیذوکی کی باتوں سے اجتناب برتتے کیونکہ یہ تکلیف دہ تھا۔ ناؤکو جب بیس سال کی ہوئی تو کیک کاٹنے کی رسم کے بعد وہ وٹانابے کے گلے لگ کر چلا چلا کر روئی اور اس کے آنسو تھمتے ہی نہیں تھے۔ وہ کسی نفسیاتی اذیت میں تھی اور شاید ایک عرصے سے تھی۔ اس کی سالگرہ کی رات وٹانابے اس کے پاس ہی ٹھہرا کیونکہ ناؤکو چاہتی تھی۔ اس کے بعد نفسیاتی مسائل کے اندھیروں نے اسے ایسا گھیرا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر واپس چلی گئی۔ ان دونوں کا رابطہ بھی ختم ہو گیا جس کی وجہ سے وٹانابے بہت پریشان ہو گیا اور ناؤکو کے گھر کے پتے پر اسے خط لکھتا رہا۔ پھر ایک دن پہاڑی علاقوں میں واقع ایک ہسپتال سے ناؤکو کا خط آیا جہاں وہ زیر علاج تھی۔ اس نے وٹانابے کو اس غیر معمولی جگہ اور اپنے نئے اندازِ زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے وٹانابے کو وہاں آنے کی دعوت دی۔ وٹانابے دو دن کیلئے اس جگہ گیا اور ناؤکو کی چالیس سالہ روم میٹ ریکو سے بھی ملا۔ ریکو ایک طلاق یافتہ خاتون اور ایک بچی کی ماں وہاں پر گزشتہ سات آٹھ برس سے رہ رہی تھی وہ بھی شدید نفسیاتی اذیت سے تنگ آ کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں پہنچی ہوئی تھی۔ وٹانابے کو ناؤکو کے قریب رہنا بہت اچھا لگا اور اس نے چند مہینوں کے بعد دوبارہ بھی اس جگہ کا دروہ کیا۔ ناؤکو نے وٹانابے کو اپنے بچپن میں پیش آنے والی تکلیف دہ چیزوں کے بارے میں بتایا جب اس نے اپنی بڑی بہن جس سے وہ بہت محبت کرتی تھی اس کو اپنے کمرے کی چھت سے جھولتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کی بہن جو کہ ایک ہونہار طالب علم تھی اچانک سے اس دنیا سے اپنے آپ چلی گئی۔ پھر اس نے کیذوکی کے متعلق بات کی کہ وہ بھی کتنا پر سکون تھا جس دن وہ جانتا تھا کہ اس دنیا سے چلا جائے گا۔ ناؤکو نے بتایا کہ اس کے نفسیاتی مسائل کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ شاید ساری زندگی وہ ان الجھنوں کو سلجھانے میں ہی گزار دے۔ وٹانابے کے ہاسٹل میں اسکا ایک روم میٹ تھا جو انتہائی صاف ستھرا اور اصول پسند قسم کا انوکھا سا نمونہ تھا۔ اس کے علاوہ اس کی دوستی ناگاساوا سے ہوئی جو کہ ایک امیر زادہ تھا اور عجیب طرزِ زندگی رکھتا تھا۔ وہ ہر ویک اینڈ اپنی گرل فرینڈ ہیسٹومی ہونے کے باوجود اور اور عورتوں کے شکار میں نکل پڑتا تھا اور ہوٹل میں انجان عورتوں کے ساتھ راتیں گزارنا اسکا مشغلہ تھا۔ اس نے وٹانابے کو بھی اس عادت میں گھسیٹا لیکن وٹانابے کو اکثر اوقات ہوٹل میں انجان عورتوں والے معاملے سے خود سے گھن آنے لگتی تھی اور ناؤکو سے اس غیر معمولی ہسپتال میں ملنے کے بعد سے تو وہ اس عادت سے بہت دور ہو گیا تھا۔ ہیسٹومی ناگاساوا کو بہت چاہتی تھی اور ناگاساوا کا یہ رویہ اسے بہت تکلیف دیتا تھا۔ ناگاساوا اپنی اچھی ملازمت کے سلسلے میں جرمنی چلا گیا اور ہیسٹومی نے اس کے چند سالوں بعد خودکشی کر لی۔ اس کتاب میں یہ نکتے کو عمدگی سے واضح کیا گیا ہے کہ کیسے نوجوان اپنے مسائل کو سمجھنے اور ان کا سامنے کر پانے سے قاصر رہتے ہیں اور نفسیاتی اذیتوں کی دلدل میں دھنسے چلے جاتے ہیں اور ان اذیتوں سے نکلنے کیلئے وقتی سکون کے متلاشی بنتے ہوئے انجانوں کے ساتھ بھی جسمانی تعلقات قائم کرنے پر تل جاتے ہیں اور جب

Blog, Urooj Fatima

میرا نام عروج فاطمہ کپری ہے

تھر کی مزاحمتی آواز، سندھی چھوکری میرا نام عروج فاطمہ کپری ہے، لیکن زیادہ تر لوگ مجھے میرے فن سے جڑے نام “سندھی چھوکری” کے نام سے جانتے ہیں۔ میرا تعلق ضلع میرپور خاص، سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں فضل محمد کپری سے ہے جہاں روز مرہ ضروریات کے بنیادی مسائل کا سامنا ہے — صاف پانی و میعاری تعلیم کی قلت کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے مسائل ہیں۔ اور اس سب سے بڑھ کر لڑکیوں کے خواب دیکھنے، جینے اور اپنے لیے آواز اٹھانے میں بہت رکاوٹیں ہیں۔ بچپن سے ہی میرے دل میں کئی سوال تھے: لڑکیوں کو ہمیشہ خاموش کیوں رہنے کو کہا جاتا ہے؟ لوگ ہمارے مسائل کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟ جب ان سوالوں کے جواب مجھے کہیں اور سے نا ملے تو میں نے خود ان کی تلاش شروع کردی اور یہی سوال میری طاقت بن گئے، اور میں نے لکھنا اور اپنے دل کی بات کہنا شروع کیا۔ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے میرے گاؤں کو تباہ کر دیا — ہمارا گھر، اسکول، پورا علاقہ، سب کچھ ختم ہو گیا۔ مگر اس نقصان کے لمحے میں مجھے کچھ ایسا حاصل ہوا جو نا صرف میری طاقت بنی ہے بلکہ کئی اور میری طرح کی لڑکیوں کی بھی, اور وہ تھی میری آواز! میں نے فیصلہ کیا کہ اب کبھی خاموش نہیں رہوں گی۔ تب میں نے ریپ کو اپنی آواز بنانے کا فیصلہ کیا، اور “سندھی چھوکری” کا جنم ہوا۔میری ریپ موسیقی صرف گیت نہیں، بلکہ میرے جذبات، سوالات، اور سچ بولنے کا ذریعہ ہے۔ ان میں میں خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی، اور ناانصافی جیسے حقیقی مسائل کو اجاگر کرتی ہوں۔ اسی سال، میں نے شِرکت گاہ ویمنز ریسورس سینٹر کے زیرِ اہتمام “فیمینسٹ انسٹیٹیوٹ” کی تربیت میں شرکت کی۔ اس تربیت نے مجھے مزید علم اور اعتماد دیا۔ اس کے بعد میں نے مختلف دیہاتوں میں آگاہی سیشنز کا انعقاد شروع کیا — جن کے موضوعات میں حیض کی صحت، انسانی حقوق، خواتین کا بااختیار ہونا، اور ماحولیاتی انصاف شامل تھے۔ میں نے کئی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنے علاقے میں بہتری لانے کے لیے کام شروع کیا۔ اپنے بھائی محمد کپری المعروف “ٹاکسک صوفی” کے ساتھ مل کر میں نے پھنجی گینگ(یہ سندھی زبان کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے: اپنی /اپنا گینگ) کی بنیاد رکھی — یہ ایک میوزک گروپ اور تخلیقی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد دیہی علاقوں کے نوجوان فنکاروں کی مدد اور رہنمائی کرنا ہے، تاکہ وہ بھی فن کے ذریعے اپنی کہانی سنا سکیں اور اپنی آواز بلند کر سکیں۔ پھنجی گینگ کے ذریعے ہم نے لاہوتی میلہ جیسے بڑے ثقافتی پروگراموں میں پرفارم کیا اور اپنا میوزک آن لائن شیئر کیا۔ لوگ ہمارے گیتوں سے جُڑتے ہیں کیونکہ وہ حقیقی تجربات پر مبنی ہوتے ہیں۔ میرا ایک معروف و مشہور گیت جس میں عزم و ہمت جھلکتی ہے”بول اُٹھو” ہے، جس کا مطلب ہے “آواز بلند کرو”۔ یہ گانا شِرکت گاہ کی مدد سے تیار ہوا اور ایک نسوانی ترانہ بن گیا۔ یہ لڑکیوں اور عورتوں کو خاموشی توڑنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ اگر ہم نہیں بولیں گے تو کوئی نہیں سنے گا، لیکن اگر ہم بولیں گے تو ہماری آواز سب کچھ بدل سکتی ہے۔ یہ گانا سوشل میڈیا پر شیئر ہوا اور کئی خواتین کے پروگراموں میں بجایا گیا۔ بہت سی نوجوان لڑکیوں نے مجھ سے کہا کہ اس گانے نے انہیں امید اور حوصلہ دیا۔ آج میں یقین سے کہتی ہوں کہ تھر کی ہر لڑکی، بلکہ پاکستان بھر کی ہر لڑکی کو بولنے، خواب دیکھنے، اور قیادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ سندھی چھوکری صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے — کہ گاؤں کی لڑکیاں بھی اُٹھ سکتی ہیں، کہ ہماری زبان اور ثقافت طاقتور ہیں، اور یہ کہ فن مزاحمت اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ صرف میری کہانی نہیں، بلکہ ہر اُس لڑکی کی کہانی ہے جو خاموشی توڑنا چاہتی ہے اور حق کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔ میرا یہ عزم ہے کہ میں اپنے فن کے ذریعے ایسے ہی ہزراوں ایسی لڑکیوں کی آواز بن کر ان کو اپنی آواز تلاش کرنے کے لیے متحرک رہوں گی جب تک تھر کی یہ مزاحمتی آواز انقلاب میں نہیں بدل جاتی! Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Scroll to Top