قرۃالعین شعیب

میں ایک ایسے بورڈنگ ہوم میں کام کر رہی تھی جہاں تین سال سے لے کر چھ سال کی بچیاں تھیں۔ میرے سامنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے حوالے سے بے شمار کیسز ہیں۔ میں آج ایک اہم واقعہ شیئر کر رہی ہوں جو والدین، اساتذہ اور بورڈنگ ہومز میں بچوں کی نگہداشت پر مامور لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایک بچہ جو اظہار کرنے کے قابل نہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، اس کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے۔

ہمارے پاس بورڈنگ ہوم میں ایک بچی، تسمیہ بتول تھیں۔ بہت بھولی اور معصوم، جو اپنی ماں کو کھو چکی تھیں۔ اور پھر ان کے والد نے انھیں یہاں داخل کروا دیا۔ ماں کے بعد باپ کی جدائی، دوستوں اور اس محلے، گلی اور کوچے سے جدائی جہاں وہ سارا دن آزادانہ گھوما کرتی تھی۔ بورڈنگ ہوم اس کے لیے ایک قید بن گیا۔ وہ روتی رہتی، مسلسل روتی، اور اچانک پیٹ درد کی شکایت کرتی۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا جاتا، میڈیسن دی جاتیں، مگر وہ بچی اچانک پیٹ درد سے تڑپنے لگتی۔
ڈاکٹرز بھی دوائیں تبدیل کر کر کے تھک چکے تھے۔ اور ہم اس کی صورت حال پر بہت پریشان تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ سب بچے باہر آؤٹنگ پر جا رہے تھے، جب کہ تسمیہ نے جانے سے انکار کر دیا۔ بہت کوشش کی، مگر وہ نہ مانی۔ پیٹ درد کی شکایت کر کے کمرے میں لیٹ گئی۔ میں دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے بے انتہا رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے اسے آفس میں بلالیا۔ وہ میرے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔ چھ سالہ تسمیہ کا ہاتھ میں نے محبت سے اپنے ہاتھ میں لیا، ماتھے پر پیار کیا، تو اس نے رونا بند کر دیا۔ میں نے اس کا سراپنی گود میں رکھا تو وہ مسکرانے لگی۔ میں اس کے بال سہلانے لگی ۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ پیٹ درد محض جدائی کی تکلیف بھی تو ہو سکتی ہے۔ جب اسے اپنے پیارے یاد آتے ہوں۔ یہ درد شاید وہ غبار ہے جو اتنی سی بچی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔
میں نے اس سے پوچھا، “پیٹ میں درد کب ہوتا ہے؟” اس نے کہا، “جب مجھے امی ابو یاد آتے ہیں۔” اور پھر میں نے پوچھا، “آپ کا دل گھبراتا ہے اور آپ رونے لگتی ہو؟” اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ یہ وہ بے قراری ہے، وہ درد ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنوں سے جدائی دیکھی ہو۔ اس غبار کو محسوس کیا ہو۔
میں نے اس بچی کو سینے سے لگایا، بہت پیار دیا جیسے ایک ماں پیار دے سکتی ہے۔ وہ مسکرانے لگی اور کہنے لگی، “میرا درد ختم ہو گیا۔” پھر میں نے اسے کہا، “جس وقت بھی آپ کی اس طرح کیفیت ہو، آپ نے بھاگ کر میرے دفتر آنا ہے اور مجھے گلے لگا لینا ہے۔” یقین کریں، اس تھراپی اور محبت سے وہ بچی چند دنوں میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ وہ ہشاش بشاش اور خوش رہنے لگی۔ کہیں ہم نے تین ماہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی۔ اور اب وہ مسکرانے لگی۔ میں نے بھی روزانہ صبح اس سے گلے ملنے کو اپنا معمول بنا لیا۔
بچے کی جذباتی ضرورت ماں کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ نے ماں تخلیق کی۔ بچوں کے زیادہ تر مسائل جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کو، بورڈنگ یونٹس کے ہیڈز ، یتیم خانوں کے سربراہان کو ، بچوں کی نگہداشت پر معمور لوگوں کو اور ماؤں کو بچوں کی جذباتی ضروریات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تسمیہ کے درد کو میں نہ سمجھتی تو یہ درد اس کا عمر بھر کا روگ بن جاتا۔ کتنی تسمیہ ہوں گی جن کے درد کو کوئی نہیں سمجھ پاتا ہوگا ۔۔۔ اور بہت سے بچپن کے دکھ اور مسائل عین جوانی میں نفسیاتی مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی جذباتی ضروریاتِ کو بچپن میں ہی پورا کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے دکھوں کو سمجھنا چاہیے۔

تسمیہ کی حالت “سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر” کی مثال تھی، جہاں جذباتی درد جسمانی علامات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جیسے کہ پیٹ درد۔ بچوں میں یہ علامات اکثر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ اپنی جذباتی کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔

والدین، اساتذہ، اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچے جسمانی کے ساتھ ساتھ جذباتی نگہداشت کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔ ان کے آنسو، ضد، یا خاموشی اکثر اندرونی دکھ، خوف، یا محرومی کا اظہار ہوتے ہیں۔ محبت، توجہ، اور مستقل جذباتی سپورٹ وہ دوا ہے جو کسی بھی دوائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

ہمارے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں کی جذباتی ذہانت کو سمجھنا اور فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان معصوم دلوں کی دنیا کو سمجھ کر ہی ہم ایک محفوظ، مثبت، اور محبت بھرا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Scroll to Top