اب مارل بولے گا قسط نمبر 6

مارل!۔۔۔۔۔
اسے کسی نے سرگوشی نما آواز دی۔
وہ طویل راہداری کے ایک ہونے میں گھٹنوں میں سردئیے بیٹھا تھا۔ ابھی ابھی حاکم سائیں کے کمرے سے لوٹا تھا۔ اس کا بارہ سالہ وجود راہدری کے کونے میں بکھر سا گیا تھا۔ اسے ہر بار خود کو سنبھالنا شدید مشکل لگتا تھا۔ آج بھی وہ سانس لیتے رہنے کی، زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ جس کی خواہش اور ہمت روز بروز کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی۔
آواز پہ اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سنسان راہداری میں اس کے علاوہ کوئی اور ذی روح موجود نہیں تھی۔
“مارل اوپر دیکھو”۔۔۔۔
آواز دوبارہ آئی اس نے سر اوپر اٹھایا۔ راہداری کی دیواروں پہ شاہ لطیف کی شاعری کی خطاطی سے بنی سات سورمیوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اس کے بالکل سامنے والی دیوار پہ ماروی سے منسوب خطاطی آویزاں تھی۔ اسے یوں لگا جیسے اس خطاطی میں چھپے نقوش اس سے مخاطب ہوں۔ وہ اٹھ کر اس تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرزانہ نے خبر دیکھ کر ہونٹ بھینچ لیے۔ اس نے نظر اٹھا کے نور علی کی طرف دیکھا وہ بھی اپنے موبائل میں کچھ دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں دلچسپی اور لاتعلقی بیک وقت موجود تھیں۔ فرزانہ کو ایک لمحے کے لیے لگا وہ بھی وہی خبر دیکھ رہا ہے اور اس کی آنکھوں کے تاثر نے اسے بے چین کردیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے ایک دم ہی نور کو مخاطب کیا، ” نور!” اس کے لہجے میں شدید تیزی اور سختی تھی۔ نور نے سر اٹھا کے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں موجود دلچسپی کی جگہ تحیر آن ٹھہرا تھا۔ فرزانہ نے جارحانہ انداز میں اپنا موبائل نور کے سامنے رکھ دیا۔ جیسے جتانا چاہ رہی ہو کہ تم جو چھپانا چاہ رہے تھے وہ مجھے پتا چل گیا ہے۔ نور علی نے اپنا موبائل ٹیبل پہ رکھ دیا اور فرزانہ کا موبائل ہاتھ میں لے لیا۔ نور کے موبائل کی روشن اسکرین پہ ایک مختصر مزاحیہ وڈیو موجود تھی جو دو سے تین سیکنڈ چلتی اور پھر دوبارہ شروع ہوجاتی۔ نور کی نظریں فرزانہ کے موبائل پہ تھیں اور فرزانہ کی نور کے موبائل پر۔ تھوڑی ہی دیر بعد فرزانہ کو احساس ہوا کہ نور نے شاید خبر پڑھ لی ہے اور اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔
“یہ تمہارا ڈسٹرکٹ ہے ناں؟” فرزانہ نے کوشش کی کہ اس کا لہجہ جارحانہ نہ رہے مگر شاید ابھی بھی کچھ اسی لہجے کا شائبہ باقی رہ گیا تھا۔
“ہاں! تو؟”
نور علی کے سوال پہ فرزانہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھی رہی۔
“تم نے یہ خبر دیکھی تھی…؟”
“نہیں، ابھی تم نے دکھائی تو پتا چلا۔” فرزانہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
“تم اس فیملی کو جانتے ہو؟”
“نہیں یار، مجھے کیسے پتا ہوسکتا ہے۔ یہ کافی دور کے گوٹھ کی خبر ہے۔ بس ڈسٹرکٹ ایک ہے۔ اور ویسے بھی ایسی خبریں تو روز آتی ہیں اخباروں میں۔ “
“روز آتی ہیں تو کیا اہمیت ختم ہوجائے گی؟” فرزانہ کا لہجہ دوبارہ تیز ہوگیا اسے لگا نورعلی اس واقعے پر اپنا اور علاقے کا دِفاع کررہا ہے۔
“نہیں یار، اہمیت ہے بہت اہمیت ہے۔ مگر ہر واقعے میں متاثرہ خاندان کے بارے میں معلوم ہونا ضروری نہیں ناں۔ دیہاتوں میں ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ کبھی سچے ہوتے ہیں کبھی بس آپس کے جھگڑوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔”
“مطلب بچہ جھوٹ بول رہا ہے؟” فرزانہ کا غصہ کچھ مزید بڑھ گیا۔
“فئیری کیا ہوگیا ہے؟ اس میں غصے کی کیا بات ہے۔ اور وہ بھی پبلک پلیس پہ؟ میں نے اس خبر کے بارے میں کب کہا۔ میں تو عمومی واقعات کی بات کر رہا تھا۔ گھر چل کے بات کریں اس پہ؟”
فرزانہ نے چند لحظے اس دیکھا پھر خاموشی سے اپنا موبائل اس کے ہاتھ سے لے کر کینٹین سے باہر نکل گئی۔ نور علی بھی فوراً ہی نکل آیا مگر تب تک فرزانہ لفٹ میں سوار ہوچکی تھی اور لفٹ کا دروازہ بند ہورہا تھا۔
اپنی ٹیبل پہ آکر فرزانہ بہت دیر تک اسی خبر کے بارے میں سوچتی رہی۔ خبر کی تفصیل نے اسے ذہنی اور جذباتی طور پہ مضطرب اور منتشر کردیا تھا۔ زیادتی کرنے والے لڑکے اس بچے کے دوست بھی تھے اور ایک ہی ذات سے تعلق رکھتے تھے اس لیے رشتے دار بھی تھے۔ فرزانہ کو اندازہ تھا کہ اکثر دیہات میں ایک ذات کا مطلب رشتے دار ہونا ہی ہوتا ہے۔ فرزانہ سوچے جارہی تھی کہ کوئی اپنے رشتے دار بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ خاص طور سے جس سے دوستی کا دعویٰ ہو۔ اسے ساتھ ساتھ نور علی کے رویے پہ بھی غصہ آرہا تھا۔ وہ اس خبر کو اتنا معمولی کیسے لے سکتا تھا۔ اگر خدا ناخواستہ وہ ہمارا بچہ ہوتا۔ فرزانہ نے یہ سوچ آتے ہی آنکھوں کو زور سے بھینچا اور سر کو ایک دم جھٹکا جیسے اس سوچ کو فوراً دماغ سے جھٹک دینا چاہتی ہو۔ وہ ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچ کر کہ جس کا دنیا میں آنے کا پتا بھی نہیں تھا اتنی پریشان ہو گئی تھی اور نور۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے اپنی کیفیت سے گھبرا کے ساتھ بیٹھی شمائلہ کو پکارا۔
” شمائلہ”
” ہمم” شمائلہ کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود فائل پہ تھیں۔
“ارے یار ادھر دیکھو۔ میری بات سنو ذرا”
“ہاں بولو۔” شمائلہ نے فائل جزوی انداز میں یوں بند کرلی کہ بند فائل میں بھی اس کی شہادت کی انگلی بک مارک کی طرح اس صفحے پہ تھی جو وہ پڑھ رہی تھی۔

” یار لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کیسے کر لیتے ہیں؟” فرزانہ کے لہجے میں بے یقینی اور دکھ ایک ساتھ تھا۔
” کیوں تم نے پیڈوفائلز کے بارے میں نہیں سنا۔”
” ہاں سنا ہے۔ نیٹ پہ سرچ کرکے تفصیل بھی پڑھی ہے۔ مگر پھر بھی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ جنسی کشش تو ایک خوبصورت رومانوی جذبہ ہے۔ یہ پھول جیسے معصوم بچوں پہ تشدد کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں لوگ؟”
“عجیب بات کردی محترمہ، کون سے یوٹیوپیا کی بات کر رہی ہو۔ یہاں اس دنیا میں تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ جرائم ہی جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بلکہ ہمارے یہاں تو میاں بیوی میں بھی جنسی تعلق میں رومان مفقود ہوتا ہے۔ ویسے تمہارے دماغ میں اس وقت یہ بات کیوں آگئی؟ ” شمائلہ کو بات کرتےکرتے احساس ہوا کہ فرزانہ نے بغیر کسی تمہید کے ایک بالکل الگ بات شروع کردی تھی۔
“ہاں۔ اصل میں میں نے فیس بک پہ ابھی ایک خبر دیکھی۔ چھوٹے سے دس سالہ بچے کے حوالے سے۔ زیادتی کرنے والے اس کے دوست ہیں۔ نور علی کے ڈسٹرکٹ کی خبر ہے۔”
” تمہیں خبر ڈسٹرب کر رہی ہے یا یہ بات کہ یہ نور علی کے ڈسٹرکٹ کی ہے۔” شمائلہ کو فرزانہ کی شخصیت کا کافی اندازہ تھا اس نے سیدھا فرزانہ کی دُکھتی رگ پکڑی۔ فرزانہ نے بے یقینی کے ساتھ کندھے اچکا دئیے۔
“یار، اس کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔” فرزانہ اپنی مرضی کا نیتجہ نکال چکی تھی۔ پھر مزید بولی
“وہ ایسے واقعے پہ اتنا لاپرواہ ردعمل کیسے دکھا سکتا ہے؟”
“کبھی تم نے کراچی کی خبریں سرچ کرکے دیکھی ہیں؟ مہینے میں دس پندرہ کیسز آرام سے ہوتے ہیں۔ تم نے کتنے روک لیے؟”
“یار تم میرا نکتہ نہیں سمجھ رہیں۔” فرزانہ کے لہجے میں بےبسی نما جھنجھلاہٹ تھی۔
” ٹھیک، سمجھاؤ۔ میں سن رہی ہوں۔” شمائلہ نے ہاتھ میں پکڑی فائل میز پہ رکھ دی اور اس پہ کہنیاں ٹکا لیں اور انگلیوں کو آپس میں پھنسا کے پل سا بنا لیا اور اس پہ ٹھوڑی رکھ کے فرزانہ کو دیکھنے لگی۔
“یار مجھے یہ مسئلہ نہیں ہے کہ ایسے کیسز کہاں کہاں ہورہے ہیں۔ لیکن مجھے نور علی کا ایسے کیسز پہ ردعمل پریشان کر دیتا ہے۔ وہ خیال رکھنے والا اور حساس شخص ہے لیکن اس کے اپنے علاقے اور لوگوں کے لیے اس کی یہ شخصیت۔۔۔۔۔”وہ چند لحظہ رکی۔ “مجھے لگتا ہے وہ ہمارے ساتھ اور اپنے لوگوں کے ساتھ الگ الگ شخصیت رکھتا ہے۔ جب کہ اس کے لوگوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔”

شمائلہ نے سر ہلایا۔
“یہ تو تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے کہ وہ ایک حساس شخص ہے اور اپنے اردگرد لوگوں کا خیال رکھتا ہے۔ لیکن اس حساب سے تو اصولاً تمہیں یہ ماننا چاہیے تھا کہ وہ اپنے لوگوں کا بھی اسی طرح خیال رکھتا ہوگا۔”
” یار اس کے علاقے کے مسائل دیکھو اور پھر اس کا اتنا ریلیکس ہونا دیکھو عجیب نہیں ہے؟”
“کیوں عجیب ہے؟ کراچی میں روز کوئی نہ کوئی بچہ مین ہول میں گر جاتا ہے، کوئی ٹرالر کسی کو کچل جاتا ہے، ہمارے کام کے دوران ابھی بھی بجلی بند ہے، ہم اپنے لوگوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟”
“تم نے پھر وہی بات کردی۔ میں شاید تمہیں سمجھا نہیں پائی۔”
” میری پیاری فئیری، میرا خیال ہے تم خود بھی ابھی سمجھ نہیں پائیں۔ ایک کام کرو۔ آج جاکر نور علی سے بات کرو۔ یہ والی نہیں بلکہ یہ کہ تمہیں گاؤں لے جائے، کچھ عرصے وہاں رہو دیکھو کہ نور علی اپنے لوگوں میں کیسا ہے۔ پھر شاید بہت سی باتیں واضح ہوجائیں۔”

فرزانہ نے شمائلہ کی بات پہ سر ہلایا جیسے واقعی بات کی منطق سمجھ آگئی ہو۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

1 Comment

  • Ayesha Abdur Rahman

    Good

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top