یہ بچیاں معصوم ہیں آوارہ نہیں
عفت نوید
جن گھروں میں لڑکیوں پر بے جا پابندیاں ہوتی ہیں، یا پھر جوائنٹ فیملی سسٹم یا بچوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے ماں باپ بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ نہیں دے پاتے، گھر کے سب بڑوں کی باتیں سننا، چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا،کام کاج کرتے رہنا، پڑھائی لکھائی میں دوسرے بچوں سے پیچھے ہونے کی وجہ سے والدین اوراساتذہ سے سخت و سست سننا، ایسے میں بچیاں ذہنی آسودگی کے لیے لڑکوں سے میل ملاپ بڑھاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بچیاں اپنی محنت، ذہانت اخلاق اور فرماں برداری کی وجہ سے اسکول میں اساتذہ کی پسندیدہ بھی ہو تی ہیں لیکن ایک مرحلہ آتا ہے جب گھر سے توجہ، محبت اور اعتماد کی عدم دستیابی کی بنا پر پر غیروں سے ان چیزوں کی طلبگار ہو جا تی ہیں۔ کسی کا پیار سے دیکھنا، توجہ دینا، سراہنا ان کے لیے خوشیوں کا سبب بن جا تا ہے۔
اسکولوں میں اکثر چھوٹی بچیاں لڑکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے انہیں میسج کرتی ہیں، محبت بھرے خط لکھتی ہیں، جن میں ان سے محبت کا واضح اظہار ہو تا ہے۔نو عمر لڑکے اسے ایک کھیل سمجھ کر ان کے ساتھ شریک ہو جا تے ہیں۔ لیکن ان معصوم دوستیوں میں کو ئی کانٹریکٹ نہیں ہو تا، وعدے وعید نہیں ہوتے، ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائی جا تیں۔ کچی عمر کی محبتیں، رنجشیں، کلفتیں بھی پوری طرح نہیں کھلتیں۔
اکثر چھوٹی سی بات پر شکوے شکایات لڑائی میں تبدیل اور پھر اپنی شدید خفگی کا اظہار کسی دوسرے لڑکے کو اپنی جانب ملتفت کرنے پر ہو تا ہے۔ کسی دوسرے کی جانب رخ کرنے،اپنی جانب مائل کر کے، در اصل وہ اپنی ہستی کی وہ قدر جاننا چاہتی ہیں، جو انہیں گھر میں نصیب نہیں ہوئی۔۔
معصوم بچیاں عشق، محبت کے مفہوم سے نا آشنا ہوتی ہیں۔ ایک سے لڑائی، دوسرے کو پیغامِ محبت۔ اسکول میں ایسی لڑکی ، باقی لڑکیوں کے لیے عبرت اور لڑکوں کے لے بازی بن جا تی ہے۔جو باری آنے پر کسی دوسرے کے ہاتھ آئے۔
نرم دل استاد بچی کو اپنے طور پر سمجھاتے ہیں۔ سخت گیر استاد ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیتے ہیں۔ اب آنسوؤں کو ہتھیار کر طور پر استعمال کر کے ہمدردیاں بٹوری جاتی ہیں۔ لڑکے مہنگے گفٹ دے کر لڑکی کی توجہ صرف اپنی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں۔ایسی قدر و قیمت جان کر یہ بچیاں اپنی التفات ِ نظر کے دام بڑھا دیتی ہیں۔
جب پانی سر سے اونچا ہو گیا۔ بات لڑکوں کے والدین کے علم میں آئی۔ انہوں نے سکول آکر طوفان سر پر اٹھا لیا۔ان کے خیال میں ایک آوارہ لڑکی ان کے لڑکوں کو لوٹ رہی تھی۔ ہیڈ مسٹریس نے انہیں لڑکی کو سخت سزا، اور اسکول سے نکال دینے کے عندیے پر روانہ کیا۔
ہیڈ مسٹریس کو اپنے اسکول کی ساکھ عزیز تھی۔ جسے ان کے خیال میں ایک گیارہ بارہ سال کی بچی داؤ پر لگا رہی تھی۔
لڑکی کے والدین کو بلا یا گیا۔ وہ سارے لڑکے جنہیں لڑکی نے جال میں پھنسایا تھا۔ آفس میں طلب کیے گئے۔لڑکے چور بنے چپ کھڑے رہے۔ تو طوفان کا رخ لڑکی کی جانب موڑ دیا گیا۔ پے در پے سخت سوالوں سے پریشان ہو کر لڑکی نے خود اعتراف کر لیا کہ اس نے کس کس سے کیا کیا وصول کیا۔
والدین بیٹی کا اعتراف سن کر شرم سے زمین میں گڑ جاتے ہیں۔ شرمندگی کے باعث نہ صرف خود ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، بلکہ بچی کو بھی ایسے ملامت کرتے ہیں جیسے اس نے چار پانچ قتل کر دیے ہوں۔
مزید کیا کہوں۔۔۔۔۔بچی کی ان حرکات کو نظر انداز کریں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جی ہاں کچھ نہیں ہو ا، نہ آسمان واٹا ہے، نہ زمین پھٹی ہے۔ بس اس کو زرا رخ بدل کر دیکھیں یہ بیٹی نہیں بیٹا ہوتی، چار پانچ لڑکیاں اس کے آگے پیچھے ہوتیں، تب آپ کا رد عمل کیا ہو تا کیا آپ یوں ہی زمین میں گڑے رہتے، بیٹے کا جینا دوبھر کر دیتے،اسے اسکول جا نے، سے روک دیتے۔ ظاہر ہے کچھ نہ کرتے۔
تو اب بھی وہی کیجیے، ہنس کر ٹال دیجیے۔ اور اپنا احتساب کیجیے۔ آپ سے کہاں غلطی ہو ئی ہے۔ اپنے اعمال اور گھر کے ماحول پر نظر ثانی کریں۔
بچیوں کو نرم لہجے میں سمجھائیں، ان سے ناراضی کے اظہار کے بجائے انہیں گلے لگائیں۔ ڈھیر ساری باتیں کریں۔ ان کی خواہشات اور ارادوں کی بابت جاننے کی کوشش کریں۔ان کے واہمے، ڈر،خوف آپ کے دیے ہوئے اعتماد سے ہی دور ہوں گے۔
ورنہ وہ کسی روز گھر سے بھاگ جائیں گی۔ یا پھر پہلے رشتے پر ہی ہاں کر دیں گی۔ کیوں کہ آپ کا ماحول، اعتماد اور محبت ان کے پر پھیلانے اور سانس لینے کو کم ہے۔