ہاروکی موراکامی کی کتاب " نارویجن ووڈ

ریویوتحریر مقدّس مجید

جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔ ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔

یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں جیسا کہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی بدولت پیدا ہونے والی معاشرتی بے چینی کے بارے میں ہے۔ بالخصوص اس وقت پروان چڑھتی بے چین نوجوان نسل جو نفسیاتی مسائل کے اندھیروں سے بہت زیادہ گِھر چکی تھی اور خودکشی کا رحجان بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی عدم برداشت اور شدت پسندی کے واقعات بھی بہت عام ہو گئے تھے۔

یہ ایک دلچسپ ناول ہے لیکن اس کو پڑھتے پڑھتے میں کہیں کہیں بہت اداس بھی ہو گئی تھی کیونکہ اس کو لکھنے والے نے ان نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کو اتنی باریکی سے پیش کیا ہے کہ آپ ان کی کیفیات سے جڑ پاتے ہیں۔ یہ کہانی تین دوستوں کی ہے وٹانابے، کیذوکی اور ناؤکو۔ کیذوکی اور ناؤکو بچپن سے دوست تھے اور جیسے جیسے جوان ہوئے یہ صرف ایک بچے اور بچی کی دوستی ہی نہ رہی بلکہ ان کے مابین اور بھی تعلقات نے جگہ بنا لی اور ایک دوسرے کے بغیر رہنا ناممکن ہو گیا۔ وٹانابے ٹین ایج میں ان کا دوست بنا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی دوستی تھی۔ کیذوکی ایک غیر روایتی شخصیت کا حامل شخص تھا اور اس کے لڑکے دوستوں میں صرف وٹانابے تھا اور یہ بات وٹانابے کیلئے حیران کن تھی کہ ایسا قابل لڑکا صرف مجھے ہی دوستی کیلئے کیوں چن سکتا ہے۔ ناؤکو اور وٹانابے بھی اچھے دوست تھے مگر تبھی زیادہ بات چیت کرتے جب کیذوکی موجود ہوتا۔ حالات بالکل معمول کے مطابق چل رہے تھے کہ ایک دن کیذوکی نے اپنی جان لے لی۔ اس کی خودکشی نے وٹانابے اور ناؤکو کو شدید متاثر کیا۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے وٹانابے ٹوکیو آ گیا۔ ادب پڑھنے لگا اور ہاسٹل میں رہنے لگا۔ ناؤکو سے دوبارہ اس کا رابطہ ہوا اور وہ ویک اینڈز پر لمبی سیر پر ایک ساتھ پیدل جانے لگے۔ ناؤکو اس کے ساتھ ہوتی مگر بہت کم باتیں کرتی یا شاید الفاظ ہی نہ چن پاتی مگر وٹانابے کو ناؤکو کی موجودگی اچھی لگتی۔ وہ دونوں کیذوکی کی باتوں سے اجتناب برتتے کیونکہ یہ تکلیف دہ تھا۔ ناؤکو جب بیس سال کی ہوئی تو کیک کاٹنے کی رسم کے بعد وہ وٹانابے کے گلے لگ کر چلا چلا کر روئی اور اس کے آنسو تھمتے ہی نہیں تھے۔ وہ کسی نفسیاتی اذیت میں تھی اور شاید ایک عرصے سے تھی۔ اس کی سالگرہ کی رات وٹانابے اس کے پاس ہی ٹھہرا کیونکہ ناؤکو چاہتی تھی۔ اس کے بعد نفسیاتی مسائل کے اندھیروں نے اسے ایسا گھیرا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر واپس چلی گئی۔ ان دونوں کا رابطہ بھی ختم ہو گیا جس کی وجہ سے وٹانابے بہت پریشان ہو گیا اور ناؤکو کے گھر کے پتے پر اسے خط لکھتا رہا۔ پھر ایک دن پہاڑی علاقوں میں واقع ایک ہسپتال سے ناؤکو کا خط آیا جہاں وہ زیر علاج تھی۔ اس نے وٹانابے کو اس غیر معمولی جگہ اور اپنے نئے اندازِ زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے وٹانابے کو وہاں آنے کی دعوت دی۔ وٹانابے دو دن کیلئے اس جگہ گیا اور ناؤکو کی چالیس سالہ روم میٹ ریکو سے بھی ملا۔ ریکو ایک طلاق یافتہ خاتون اور ایک بچی کی ماں وہاں پر گزشتہ سات آٹھ برس سے رہ رہی تھی وہ بھی شدید نفسیاتی اذیت سے تنگ آ کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں پہنچی ہوئی تھی۔ وٹانابے کو ناؤکو کے قریب رہنا بہت اچھا لگا اور اس نے چند مہینوں کے بعد دوبارہ بھی اس جگہ کا دروہ کیا۔ ناؤکو نے وٹانابے کو اپنے بچپن میں پیش آنے والی تکلیف دہ چیزوں کے بارے میں بتایا جب اس نے اپنی بڑی بہن جس سے وہ بہت محبت کرتی تھی اس کو اپنے کمرے کی چھت سے جھولتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کی بہن جو کہ ایک ہونہار طالب علم تھی اچانک سے اس دنیا سے اپنے آپ چلی گئی۔ پھر اس نے کیذوکی کے متعلق بات کی کہ وہ بھی کتنا پر سکون تھا جس دن وہ جانتا تھا کہ اس دنیا سے چلا جائے گا۔ ناؤکو نے بتایا کہ اس کے نفسیاتی مسائل کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ شاید ساری زندگی وہ ان الجھنوں کو سلجھانے میں ہی گزار دے۔

وٹانابے کے ہاسٹل میں اسکا ایک روم میٹ تھا جو انتہائی صاف ستھرا اور اصول پسند قسم کا انوکھا سا نمونہ تھا۔ اس کے علاوہ اس کی دوستی ناگاساوا سے ہوئی جو کہ ایک امیر زادہ تھا اور عجیب طرزِ زندگی رکھتا تھا۔ وہ ہر ویک اینڈ اپنی گرل فرینڈ ہیسٹومی ہونے کے باوجود اور اور عورتوں کے شکار میں نکل پڑتا تھا اور ہوٹل میں انجان عورتوں کے ساتھ راتیں گزارنا اسکا مشغلہ تھا۔ اس نے وٹانابے کو بھی اس عادت میں گھسیٹا لیکن وٹانابے کو اکثر اوقات ہوٹل میں انجان عورتوں والے معاملے سے خود سے گھن آنے لگتی تھی اور ناؤکو سے اس غیر معمولی ہسپتال میں ملنے کے بعد سے تو وہ اس عادت سے بہت دور ہو گیا تھا۔ ہیسٹومی ناگاساوا کو بہت چاہتی تھی اور ناگاساوا کا یہ رویہ اسے بہت تکلیف دیتا تھا۔ ناگاساوا اپنی اچھی ملازمت کے سلسلے میں جرمنی چلا گیا اور ہیسٹومی نے اس کے چند سالوں بعد خودکشی کر لی۔ اس کتاب میں یہ نکتے کو عمدگی سے واضح کیا گیا ہے کہ کیسے نوجوان اپنے مسائل کو سمجھنے اور ان کا سامنے کر پانے سے قاصر رہتے ہیں اور نفسیاتی اذیتوں کی دلدل میں دھنسے چلے جاتے ہیں اور ان اذیتوں سے نکلنے کیلئے وقتی سکون کے متلاشی بنتے ہوئے انجانوں کے ساتھ بھی جسمانی تعلقات قائم کرنے پر تل جاتے ہیں اور جب مسائل کا مناسب حل نہیں نکل پاتا اور ہر مسئلے میں گھن اور پچھتاوا گھلتا رہتا ہے تو خود کشی کو ہمیشہ کے سکون کا ذریعہ جانتے ہوئے اپنی جان آپ لے لیتے ہیں۔

وٹانابے کی یونیورسٹی میں بھی مختلف اسٹوڈنٹ گروپس اپنے نظریات کی بناء پر انقلابی تحریکوں میں شامل ہونے لگتے ہیں اور یونیورسٹی کچھ وقت کیلئے بند ہو جاتی ہے۔ وٹانابے کی ایک کلاس فیلو جو زبان اور غصے کی ذرا تیز ہوتی ہے مگر وٹانابے کو چاہنے لگتی ہے آہستہ آہستہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرنے لگتی ہے۔ وٹانابے کے ذہن میں صرف ناؤکو ہوتی ہے مگر ناؤکو شاید وٹانابے کو اس طرح اپنانے کیلئے تیار ہی نہیں تھی سو میڈوری کو اپنی جگہ بنانے میں وقت نہیں لگتا۔ وٹانابے ایک الجھن میں رہتا ہے۔ ایک دن ریکو (ناؤکو کی روم میٹ) وٹانابے کو ناؤکو کی خودکشی کے بارے میں اطلاع دیتی ہے کہ کیسے ناؤکو گہرے جنگل میں ایک پھندے کے ساتھ مردہ حالت میں کسی درخت سے جھولتی ہوئی پائی گئی۔ وٹانابے ناؤکو کی موت سے بالکل بکھر جاتا ہے اور آخر میں وہ اور ریکو ماچس کی تیلیاں جلا جلا کر اور گٹار پر گانے بجا کر ناؤکو کو خوشگوار خدا حافظ بولتے ہیں۔ ریکو گٹار پر ناؤکو کا پسندیدہ گانا نارویجین ووڈ بھی بجاتی ہے جسے سن کر ناؤکو پر سکون بھی ہو جاتی تھی اور افسردہ بھی۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top