Suniya Daar

Suniya Daar

Blog, Suniya Daar

وقت ہر زخم کا مرہم ہے

وقت ہر زخم کا مرہم ہے ایسا کچھ نہیں جتنا دل شکن بسا اوقات یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں — تھراپی، ڈائری لکھنا، غور و فکر کرنا، ذہنی و جسمانی مشقیں مشکل گفتگوئیں — اور پھر بھی آپ کو وہی جذباتی تکلیف محسوس ہو۔ آپ نے کبھی کتابیں پڑھیں۔ کبھی حدود مقرر کرنے پر کام کیا۔ کبھی تھراپی میں خط لکھا اور پھر اسے رسم کے طور پر جلا دیا۔ پھر بھی، کہیں نا کہیں کسی لیول پر وہی کیفیت واپس آتی ہے، سینے میں جکڑن، وہ مانوس سا خوف، وہ یادیں جو اعصابی نظام کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، اور وہ آنسو جو کسی ایک گانے پر بہہ نکلتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں: میرے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ یہ سب ختم کیوں نہیں ہو جاتا؟ آپ خود کو بتاتے ہیں کہ آپ آگے بڑھ چکے ہیں، آپ خود پر بہت کام کر چکے ہیں۔ مگر آپ کا جسم شاید ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکا ہوتا۔ تب لوگ کہتے ہیں: “بس وقت دو۔”وقت گزرنے کے ساتھ سب بھلا ہو جائے گا اور اگر آپ میری طرح ہیں تو یہ جملہ آپ کو بہت سطحی یا پریشان کن محسوس ہوگا۔ تو کیا میں بس یہاں بیٹھ کر انتظار کروں؟جیسے جیسے وقت گزرے گا سب صحیح ہونے کا انتظار کرتی رہوں؟ میں عام طور پر بہت سی جگہوں پر وہ پہلی انسان ہوتی ہوں جو کہتی ہے کہ صرف وقت ہمیں شفا نہیں دیتا۔ بلکہ یہ اہم ہے کہ ہم اپنے وقت کا استعمال کیسے کرتے ہیں اور میں اب بھی اسی بات پر قائم ہوں لیکن مجھے یہ ماننا ہوگا کہ ہاں وقت اور اسپیس کی بھی ایک اپنی اہمیت ہے۔ وقت ہمیں فاصلے کا موقع دیتا ہے اس چیز، جگہ، شخص یا ان حالات و واقعات سے جن کے ساتھ ہماری اٹیچمنٹ اور سروائیول کی جنگ میں ہمارا سابقہ پیش آتا ہے اور جن سے ہمارا زخم وابستہ ہوتا ہے اور اس وقت کے بیتنے اور فاصلہ ملنے سے ہمیں سمجھنے کی اسپیس میسر آتی ہے کہ آخر کیا ہوا تھا، ہماری تکلیف کی حقیقت کیا تھی، ہماری طرف آنے والی تکلیف میں ہمارا کردار کیا تھا، ہمیں کیا ٹھیک کرنا ہے، ان غلطیوں کو کیسے ہم دوبارہ نہ دہرائیں جن میں ہم مبتلا رہ چکے، اور سب سے اہم یہ کہ ہم اس سب کا مطلب کیسے اخذ کریں جو ہم پر بیت چکا۔یوں سمجھیں وقت اور فاصلہ ہمیں اس جنگل کو درختوں سے الگ دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے جہاں ہم رہ رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب ہم جنگل میں رہا کرتے تھے تو جنگل اور درخت ایک ہی محسوس ہوتے تھے اور جب ہم نے وقت کے ساتھ وہاں سے نکل کر اس جگہ اور یہاں موجود ہر چیز ، یہاں درپیش آنے والے مصائب کو باہر سے جانچا تو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ جنگل کو درختوں سے الگ کر کے دیکھا تو بہت کچھ مختلف دیکھنے لگا۔ ژاں پال سارتر نے لکھا: “آزادی یہ ہے کہ آپ اُن چیزوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں جو آپ کے ساتھ ہو چکی ہیں۔اور میں نے پایا ہے کہ روح اور دل و دماغ پر لگے زخموں کے لیے نسخہ شفا بھی بہت حد تک یہی ہےیعنی وہ آزادی کہ ہم اُن زخموں کے غلام نہ رہیں جو ہمیں چیر گئے تھے۔ لاہور شہر میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے باوجود بھی مجھے برسوں اس شہر میں رہنے نے بے حد بے چین رکھا۔ اس شہر میں رہتے ہوئے ہمیشہ میں مضطرب رہی اور میرا آسمان کچھ زیادہ ہی اُداس رہتا۔ ہر وقت یہاں سے نکل کر کہیں دور جا کر بس جانے کے خیالات تنگ کرتے۔ دوپہر تک ایسا لگتا جیسے میں اپنی ہی کھال سے باہر نکل آؤں اور اُسے کسی چیز یا کسی پر دے ماروں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ شہر مجھے میرے تعلقات میں میری مسلسل گھبراہٹ کے ادوار، اور اس اندھیرے کے ساتھ کنیکٹ رکھتا جو اُس وقت تک میرے اندر بسا رہا جب تک میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ مجھے خود کا ہی کچھ علم نہیں تھا — نہ یہ کہ میں کون ہوں، نہ یہ کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہی ہوں۔ کس اندھیرے میں گم ہوں ۔یہ مجھے اُس خود کی یاد دلاتا تھا جسے میں بھولنا چاہتی تھی —میری ذات کے وہ حصے جو کسی وقت میں کہیں گم تھے، اور میں غلط فیصلے کر رہی تھی۔لیکن دو سال اسلام آباد میں بسنے بہت مہینے کراچی میں خود کے ساتھ وقت گزارتے رہنے کے بعد اب جب پچھلے کچھ مہینے مجھے مسلسل لاہور آنا جانا اور کچھ دن کے لیے قیام کرنا پڑا تو حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ مجھے کچھ بے چینی اور گھبراہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ نہ اضطراب، نہ چڑچڑاپن، نہ بے چینی۔ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر کا وہ زخم مندمل کر دیا ہو۔ جیسے ڈینٹسٹ آپ کے مسوڑھوں پر سن کرنے والی دوا لگا دے تو کسی نا کسی درجے میں دباؤ  محسوس ہونے کے باوجود بھی درد نہیں ہوتا۔ مجھے اب بھی وہ دکھ انہی رشتوں سے مل کر، انہیں رستوں سے گزر کر یاد آتے رہے، جہاں سے میرے زخم جڑے تھے لیکن میں اب اُن زخموں میں نہیں رہ رہی تھی وہ اندھیرا چھٹ چکا تھا جیسا کہ کبھی میرے اندر ماضی میں ہوا کرتا تھا ۔ مجھے لگا میں اپنے زخموں سے کہیں اوپر اٹھ چکی تھی۔ برسوں لگے، تھراپی، خود کی تلاش اور کئی بار سخت اور تکلیف دہ ذاتی تبدیلیاں پیدا کرنے پر کام کرنے میں۔لیکن جب میں نے اپنا کام مکمل کر لیا، تب وقت نے بھی اپنا کام کیا۔ اور اُس نے کیا۔اب میں وہی شہر جا سکتی ہوں، مکمل طور پر پُر سکون ہو کر بے اثر، لاتعلق، بلکہ تھوڑا سا مطمئن بھی۔ وقت اور فاصلہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم درد کو حکمت میں تبدیل کریں۔ ہم جو کچھ جھیل چکے ہوں، اُس کو اپنے اندر پائیں تو اُسے خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ فلسفی ہائیڈیگر نے کہا تھا:” ہم وقت میں موجود نہیں ہم خود وقت ہیں۔”ہمارا وجود یادوں، معنی،

Blog, Suniya Daar

غم سے تعلق

غم سے تعلق غم زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے اور مختلف حالات و واقعات میں پلے بڑھے افراد کی دکھ، غم یا تکلیف کو سہنے اور پراسس کر پانے کی قوت برداشت مختلف ہوتی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے نروس سسٹم ڈیویلپمنٹ اس کو میسر آنے والے ماحول اور مواقع پر منحصر ہوتی ہے اور مختلف ماحول و ذرائع میں پلے بڑھے انسانوں کے لیے نروس کیپسٹی یا قوت برداشت کا مختلف ہونا فطری ہی نہیں ایک سائنسی حقیقت ہے۔نیورو سائیکالوجی کی سائنسی تحقیقات پر کچھ لوگ اپنی تکلیف کو اسی لیے کم وقت میں جبکہ کچھ لوگ قدرے زیادہ وقت میں پراسس کر پاتے ہیں اور ہر کسی کی رفتار انفرادی ہوتی ہے۔ یہ جاننا بہت اہم ہے کہ بہت سے افراد خود کو درپیش دکھ یا تکلیف سے کہیں زیادہ اپنی تکلیف پر اپنے ردعمل یا اظہار کے طریقوں پر اپنی طرف آنے والے معاشرتی و اجتماعی رویوں کے باعث نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔معاشرہ اور اردگرد کے لوگ عمومی طور پر ہم سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم جلدی آگے بڑھ جائیں۔ کسی بھی فرد کی انفرادی قوت برداشت اور نیورل کیپیسٹی(Neural capacity) کا لحاظ کیے بغیر اس کا موازنہ جلدی آگے بڑھ جانے والے لوگوں سے کرتے ہوئے اسے کمزور تصور کیا جاتا ہے۔ تکلیف میں مبتلا انسان کے انفرادی رد عمل و اظہار کو سمجھنے اور قبولیت فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل جج کیا جاتا ہے۔ جذباتی سہارا دینے کے بجائے پند و نصائح  کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔ڈاکٹر جوآن کیچیٹورے کی کتاب “Bearing the Unbearable” اس سوچ کے خلاف ایک نرم مگر طاقتور پیغام دیتی ہے۔یہ کتاب فوری حل یا آسان جواب اور پند و نصائح فراہم کرنے کی بجائے ان لوگوں کے لیے ایک محبت بھرا ساتھی بن جاتی ہے جو کسی عزیز کے بچھڑنے یا کسی درد کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس کتاب کے چند پیغامات کچھ اس طرح ہیں ۔ہر شخص کا غم دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، جیسے ہر انسان کے انگلیوں کے نشان الگ ہوتے ہیں۔غم منانے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہو سکتا۔اس انفرادیت کو تسلیم کرنا ہمیں اس دباؤ سے آزاد کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی توقعات کے مطابق غم کا اظہار کریں۔غم صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔تھکن، نیند کا خراب ہونا یا بھوک میں کمی جیسے علامات بہت عام ہیں۔ان علامات کو سنجیدگی سے لینا اور جسم کی آواز سننا اس وقت بہت ضروری ہوتا ہے۔ ارد گرد کے لوگوں کا ان علامات سے گزرنے والے فرد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔غم تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے البتہ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم زندگی میں کچھ کھو دینے یا زندگی کے تلخ حقائق کے ساتھ اپنے تعلق کو ایکسپلور کریں ۔یہ تعلق شعوری طور پر ایکسپلور کرنا دل کو سکون، قبولیت اور مقصد دے سکتا ہے۔شفا ایک سیدھا، فکسڈ اور آسان راستہ نہیں بلکہ نشیب و فراز سے بھرا سفر ہے۔یہ ضروری ہے کہ ہم خود کو ہر قسم کے جذبات کو محسوس کرنے کی اجازت دیں، بغیر کسی شرمندگی کے۔آہستہ آہستہ اٹھایا گیا ہر قدم، چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، ایک بڑی کامیابی ہوتا ہے۔غم کے دوران دوسروں سے جڑنا زندگی کی ڈور بن جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے ساتھ تجربات بانٹنا جو خود بھی اسی راہ سے گزرے ہوں، یا آپ کو سمجھنے اور سپورٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں ایک محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ایسا ہمدردی بھرا تعلق دل کو تقویت دیتا ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد ایسے لوگ یا ایسا کوئی ذاتی سرکل موجود نہیں تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا اور ایکسپرٹ کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار نان ججمنٹل اسپیس میں کرنا اپنی ذات اور دکھ سے تعلق استوار کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔غم انسان کو انتہائی کمزور اور نازک محسوس کرا دیتا ہے۔ اس کمزوری کو اپنانا، کھلے دل سے قبول کرنا انسان ہونے کا فطری اور خوبصورت حصہ ہے۔یہی نرمی ہمیں اصل شفا یعنی اپنی ذات سے گہرے اور انسانیت پر مبنی تعلق اور زندگی کے حقائق کو قبول کر کے انکے ساتھ اندرونی سکون پیدا کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔غم کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو “ٹھیک” کیا جا سکے۔یہ ایک لمبی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے، جس کے ساتھ ہمیں جینا سیکھنا ہوتا ہے۔وقت کے ساتھ غم بدل سکتا ہے، پھر سے سامنے آ سکتا ہے، لیکن اپنی ذات اور زندگی کے حقائق کے ساتھ صحت مند تعلق جینے کو ہمارے لیے با معنی بناتا ہے۔  اپنے غم سے اوپر اٹھ کر اپنی زندگی کو جینا، اس میں آگے بڑھتے رہنا بھی اسی کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Suniya Daar

نفسیاتی شفا کا فلسفہ

سنیہ ڈار جب ہم کسی اور کی کہانی میں خود کو دیکھتے ہیں، تو اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔درحقیقت تو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے، لیکن ہمیں اس بات کا ڈر بھی ہوتا ہے کہ ہمیں واقعی پہچان لیا جائے۔ ہم تھراپی میں اپنے مسائل کو ایک قیمتی خزانے کی طرح تھامے آتے ہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ ہم شروع سے ہی غلط سوالات پوچھتے رہے ہیں۔ ہمارے سب سے گہرے زخم اکثر اوقات اُن باتوں یا واقعات ہی کی وجہ سے نہیں ہوتے جو ہمارے ساتھ ہوئیں، بلکہ اُن کہانیوں سے ہوتے ہیں جو ہم نے زندہ رہنے کے لیے اپنے اندر تخلیق کر لیں اور ہم ان کہانیوں میں جینے لگے۔ سچ خاموشی سے آتا ہے، اُن چھوٹے لمحوں میں جب ہم آخرکار تکلیف دہ حقائق کا سامنا کرنے سے بھاگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہم اندر کی کہانیوں میں اپنے فرار حاصل کرنے کو چیلنج کرتے ہیں۔ اپنی ذات اور زندگی کے جن حصوں کو ہم سب سے زیادہ چھپاتے ہیں، اور اپنے جن حقائق سے ہم بھاگتے رہتے ہیں انہیں جرات اور وقار سے دیکھ پانے اور قبول کر پانے سے ہی شفا کا آغاز ہوتا ہے۔ تھراپی میں بیٹھے دو عام انسانوں کے درمیان اکثر آنسو بہتے ہیں، جبکہ ایک ہر چیز کو ٹھیک کرنے کی خواہش سے لڑ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اپنے ایک ہاتھ میں توثیق و تسلی اور دلاسے کے ساتھ دوسرے ہاتھ میں آئینہ لیے بیٹھا ہوتا ہے تا کہ لڑنے والا اس میں اپنی ذات اور حقائق کا عکس دیکھ سکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کبھی کبھی مدد اور اصل حل بس یہی ہوتا ہے کہ دردناک لمحات میں ساتھ موجود رہا جائے اور خود سے حالت جنگ میں مبتلا انسان کا اپنے ہی اندر موجود اس کے اپنے مسیحا سے تعلق بحال کیا جائے ۔ ہم مسائل کا فورا حل چاہتے ہیں ، جبکہ بعض اوقات اُنہیں حل کرنے کی بجائے صرف تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم غیر محسوس جذبات کے ساتھ بیٹھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، اور جلد حل ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اصل تعلق کامل الفاظ میں نہیں ہوتا — بلکہ اُس ہمت میں ہوتا ہے جو ہمیں روکے رکھتی ہے جب دل چاہتا ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ دیں۔ ہماری گہری شفا تب آتی ہے جب ہمیں واقعی دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے، اور جب ہمارا تانہ بانہ ہمارے اندر کے مسیحا سے جڑ جاتا ہے نہ کہ جب ہمیں کوئی جواب یا حل ملتا ہے۔ ایک تشخیص اچانک سامنے آتی ہے، جو ہمارے خود کو دیکھنے کا انداز بدل دیتی ہے اور عام لمحوں کی خوبصورتی کو بے نقاب کرتی ہے۔  ہمیں آزادی تب ملتی ہے جب ہم موت سے انکار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور زندگی کی مختصر مدت کو قبول کرتے ہیں۔ ہم جینے کو مؤخر کرتے ہیں، کامیابیوں اور کامل رشتوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ انجام کا خوف ہمیں حقیقی آغاز سے روکے رکھتا ہے۔ ہمارا محدود وقت کوئی ظالمانہ مذاق نہیں — بلکہ وہ چیز ہے جو ہر چیز کو معنی دیتی ہے۔ وقت قیمتی تب بنتا ہے جب اُس کی حدود ہوں؛ محبت گہری تب ہوتی ہے جب ہم اُس کی نازکی کو پہچانیں۔ ہماری فانی حیثیت خوشی کو برباد نہیں کرتی — وہی تو اُسے جنم دیتی ہے۔“کچھ بھی کام نہیں کر رہا”، ہم کہتے ہیں، حالانکہ ہم وہی پرانے طریقے دہراتے رہتے ہیں ایسے بہت کچھ سے اپنی نظریں چرا کر جو موجود تو ہے لیکن ہمارے لیے نیا ہے اور پرانے طریقوں پر زندگی گزارتے رہنے کا کمفرٹ ہی وہ چیز ہے جو ہمیں مطلوبہ زندگی سے دور رکھتا ہے۔ ہمارے اندر کا ایک بڑا فریب یہ ہوتا ہے کہ تبدیلی بڑے بڑے ڈرامائی فیصلوں سے آتی ہے، جبکہ تبدیلی درحقیقت مسلسل لیے جانے والے بہت چھوٹے چھوٹے قدموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم کسی بجلی کے کوندنے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ ایک سادہ، سچا سوال کرنے، ایک حد مقرر کرنے، یا ایک لمحے کے لیے کمزوری دکھانے کی طاقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ترقی بڑی بڑی باتوں میں نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے تجربات میں ہوتی ہے جہاں ہم نئے طریقے آزماتے ہیں۔ آگے کا راستہ کسی اچانک وارد ہونے والی بصیرت سے نہیں، بلکہ ایک غیر یقینی قدم اٹھانے اور پھر اٹھاتے رہنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہماری شفا کسی کامل فہم سے نہیں، بلکہ روزانہ کی گئی چھوٹی سی مشق اور  نامکمل ہمت سے آتی ہے

Scroll to Top