اپنا گھر ؛ صرف خواب نہیں، ضرورت ہے
اپنا گھر ؛ صرف خواب نہیں، ضرورت ہے رمشا سعید پچھلے کچھ دنوں کی طرح آج بھی زخمی چہرہ لیے، چائے کی پیالی ہاتھ میں پکڑے وہ سامنے زمین پر موجود ٹوٹے ہوئے گلاس اور بکھرے برتنوں کو دیکھ رہی تھی۔ جو کچھ دیر پہلے اُس کا شوہر غصے میں پھینک کر گیا تھا۔ اور ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اپنے دفع میں کچھ نہیں کہہ سکی تھی۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ بدلے میں ملنے والے طنز کا کوئی جواب نہیں ہوگا اُس کے پاس۔~(پس منظر) حنا ایک تعلیم یافتہ، باشعور، خوبصورت اور خوش اخلاق لڑکی تھی۔ وہ اپنی عقل مندی اور سمجھداری کےتحت ہمیشہ والدین کیلئے باعث فخر رہی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی اُس کی شادی کر دی گئی۔بظاہر تو اُس کا شوہر بہت اچھا اور معاون ثابت ہوا۔ گھر میں خوشحالی ہونے کی وجہ سے کبھی کسی کو اس کے ظاہر کے پیچھے چھپے عیب نظر نہیں آئے۔ وہ مالی لحاظ سے فراخ دل تھا مگر اس کے لہجے میں طنز ہمیشہ سے حنا کو کھٹکتا تھا۔اُس نے کبھی ملازمت کا ارادہ نہ کیا کیونکہ اُس وقت نہ ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی اُس کے شوہر نےاجازت دی۔ ازدواجی زندگی ابتدائی سالوں میں متوازن رہی۔ گھریلو کام کاج میں بھی کبھی کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہوا۔ اُس نے اپنی تعلیم ، اپنا ہنر اور اپنی سمجھداری کو محض اپنا گھر سنوارنے اور اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مہنگائی، سماجی دباؤ اور خاندانی معاملات نے منظرنامہ بدل دیا۔ اُس کا بیٹا خودمختار ہو گیا اور كام کے لئے وطن سے باہر چلا گیا۔ شوہر نے دوستی کی مد میں غلط گروہوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ۔ اسی وجہ سے اس کی مزاجی کیفیت میں تلخی آگئی۔ بے وجہ سیر و تفریح اور دوستوں پر خرچ کی وجہ سے مالی حالات بھی پہلےکی طرح نہیں رہے۔ وہ جملے جو کبھی شراکت داری کی زبان تھے، اب الزام اور تضحیک میں بدلنے لگے۔ ~ “کیا تم نے زندگی میں کبھی کچھ کمایا ہے؟” یہ وہ جملہ تھا جو چند مہینے پہلے، پہلی بار حنا نے شوہر سے سنا تھا جب اس نے گھر کے خرچے کے لئے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اور اُس کے بعد تو یہ معمول بن گیا۔ بے وجہ طنز ، کچھ نہ کرنے کے طعنے، پیسے مانگنے پر چیخنا چلانا۔ اِن حالات میں حنا کی سوچوں نے رُخ بدلہ۔ مسلسل بے رُخی اور طنز نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا اس نے اپنی تعلیم ، اپنی پہچان اور اپنی کامیابی کو چھوڑ کر اپنی زندگی اور اپنی خوبصورتی “اِس گھر” کو بنانے میں صرف کی تھی؟ جہاں اس کو بُنیادی ضروریات کے لئے یہ سب سہنا پڑتا ہے۔ صرف باہر جا کر کام نہ کرنے کے بدلے اُس کی عزت نہیں کی جاتی۔ تعلیم و شعور ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرسکتی کیوں کہ اس کے پاس اس چھت کے علاوہ کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے جہاں وہ رہ سکے۔ اور محض اس ڈر سے وہ جانے کب تک روز اپنے وقار اور عزت کو مجروح ہوتا دیکھے گی۔~یہ کہانی حنا کی نہیں بلکہ ہر اس عورت کی ہے جو اپنی انفرادیت کو کہیں پیچھے چھوڑ کر، معاشرے کے بنائے اصولوں پر، اپنا آپ اپنے گھر بار، بچوں اور شوہر کے نام کر دیتی ہے جو کہ اسکی ڈھلتی عمر میں اسی کو محتاج کر دیتا ہے۔سماجی سطح پر جب بھی خواتین کے حقوق، خودمختاری اور تحفظ پر بات کی جاتی ہے تو اکثر گفتگو تعلیم، ملازمت اور مساوی مواقع تک محدود رہتی ہے۔ تاہم، ایک ایسا پہلو جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، وہ ہے “رہائشی خودمختاری” — یعنی عورت کا اپنے نام پر، اپنی مرضی سے، ایک ذاتی ٹھکانہ رکھنا۔ یہ مضمون اسی پہلو کا تجزیہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کے پاس اپنا گھر ہونا نہ صرف اس کی فلاح، بلکہ اس کی خودی، وقار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے جُڑا ہوا ہے۔ ایک عورت جب کسی کی ملکیت میں مقیم ہو — چاہے وہ شوہر ہو یا والد — تو اُس کی خود مختاری مشروط ہو جاتی ہے۔ معاشرتی طور پر عورت کو اکثر “کفیل کے تابع” رہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ تصور نہ صرف محدود ہے بلکہ غیر پائیدار بھی، کیونکہ وقت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدل سکتی ہے — اور تحفظ صرف تعلقات سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح مرد کے لیے ذاتی جائیداد طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے، عورت کے لیے بھی یہ محض قانونی کاغذ نہیں بلکہ ایک وجودی تحفظ ہے۔ کسی صورتِ حال میں اگر عورت کے پاس جانے کو اپنی جگہ ہو، تو وہ بے بسی سے نہیں، وقار سے فیصلہ کرتی ہے۔حنا جیسے کئی کردار تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عملی زندگی میں شریک نہیں ہوتے، کیونکہ اُنہیں سکھایا ہی نہیں جاتا کہ تعلیم خودمختاری کی سیڑھی ہے، صرف شادی کی زینت نہیں۔ گھر بنانا عورت کی ذمےداری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر موقع میسر ہو تو عورت کو یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بُنیادی ضروریات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی، اپنے وقار اور اپنی شناخت کے لئے آگے بڑھنا چاہے۔خواتین کے مسائل کو صرف جذباتی یا فردی تجربات کے زاویے سے نہیں، بلکہ ادارتی اور ساختیاتی سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک عورت کے پاس مالی اختیار، قانونی شعور اور ذاتی رہائش ہو، تو وہ ایک فعال فرد کے طور پر زندگی گزار سکتی ہے، نہ کہ صرف ایک سہارے کی محتاج۔ یہ وقت ہے کہ ہم “گھر” کو صرف جذباتی وحدت نہ سمجھیں، بلکہ عورت کی شناخت، وقار، اور خودمختاری کے ایک ٹھوس مظہر کے طور پر تسلیم کریںاب وقت ہے کہ ہم صرف گفتگو سے آگے بڑھیں عورت کا اپنا گھر —ایک محفوظ کل،ایک باعزت آج،اور ایک آزاد وجود کی ضمانت ہے۔ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*
