Qurratulain Shoaib

Qurratulain Shoaib

Blog, Qurratulain Shoaib

جذباتی مردہ خانے

جذباتی مردہ خانے پہلا شخص: یار سنو تمھیں معلوم ہوا کہ مصنوعی سانس بہت مشکل سے دستیاب ہے۔ لوگ تیزی سے جذباتی موت مر رہے ہیں۔ بازاروں میں دکانوں پر حتی کہ اب بلیک میں بھی مصنوعی سانس دستیاب نہیں۔ دوسرا شخص: تو پھر شرح اموات بہت زیادہ ہوگئ ہوگی۔ پہلا شخص : بالکل، شرح اموات اتنی ہے کہ اس کو درج کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ دوسرا شخص : رشتہ داروں کی طرف سے یا حکومت کی طرف سے ان کے کفن دفن کا کوئی انتظام نہیں ؟ پہلا شخص : بالکل نہیں ایسا کوئی انتظام نہیں، حتی کے انتہائی قریبی عزیز بھی ان کے جذباتی جنازوں میں شامل نہیں ہوتے۔ وہ خود ہی اپنی قبر کھودتے ہیں اور رات کے اندھیروں میں تنہا خود کو دفناتے ہیں۔ دوسرا شخص : ان کی قبر مزار یا کوئی نشانی جہاں فاتحہ پڑھی جا سکے؟ پہلا شخص : ارے بھائی, جو جیتے جی نہیں پوچھتے وہ کسی مزار پر فاتحہ پڑھنے کیوں آئیں گے۔ یہاں لوگ جذباتی موت کا سبب تو بنتے ہیں۔ لیکن مرنے سے بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آتا۔ یہ خود ہی اپنی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور خود ہی اپنے لیے فاتحہ پڑھتے ہیں۔ دوسرا شخص: بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔ تو حکومت اتنے بڑے بحران پر کچھ نہیں کرتی؟ پہلا شخص : حکومت کی ترجیحات مختلف ہیں۔ انھیں کھانے پینے اور مال سمیٹنے کی فکر ہے۔ انسانی المیہ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص : مصنوعی سانس کون بناتا ہے۔ یہ فیکٹریاں کہاں ہیں۔ کیا حکومت ان فیکٹریوں کو سپورٹ کرتی ہے ؟ پہلا شخص : پہلے مصنوعی سانس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ پھر ڈیجیٹل ڈیوائسز مصنوعی سانس مہیا کرنے لگیں۔ اب وہ آوٹ ڈیٹڈ ہیں۔ کچھ لوگوں کے دوست اور عزیز و اقارب بھی مصنوعی سانس کا کام کرتے تھے۔ اب وہ سب بھی میسر نہیں رہے۔ اور حکومت کا ایسا سپورٹ کا کوئی پروگرام نہیں۔ بلکہ وہ بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی گھٹن سے لوگوں کی بچی کچی سانسیں بھی کھینچ لیتی ہے۔ دوسرا شخص : آخر اس بحران کی وجہ کیا ہے؟ پہلا شخص : کچھ خاص نہیں، بس مفادات اور خودغرضی کی جنگوں کے بعد فضا میں تعفن اور آلودگی بہت پھیل گئی۔ کچھ لوگ سروایو کر جاتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ مصنوعی سانس کے بغیر نہیں چل پاتے۔ دوسرا شخص: اس تکلیف سے بچانے کے لیے کوئی ادارہ ، کوئی بحالی سینٹر کوئی ہسپتال ؟ پہلا شخص : ہسپتال تو کچھ موجود ہیں۔ مہنگے ہیں تو زیادہ تر جذباتی گھٹن کا شکار لوگوں کی ان تک رسائی نہیں ہے۔ آکسیجن کی بھی کمی ہے بعض ہسپتالوں میں۔ ڈاکٹرز بھی بس سپورٹ کرتے ہیں۔ زیادہ تر مریض کو خود ہی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ یوں بھی عوام کی مدد اور فلاح کے ادارے بنانا ہمارے ملک میں مشکل کام ہے۔ لوگ کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں یہ ادارے جو حقیقی طور پر فلاحی ہوں بڑے جھنجھٹ کا کام ہے۔ دوسرا شخص: آبادی کے تناسب سے کتنی جذباتی اموات ہو چکی ہیں؟ پہلا شخص: معلوم نہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ اموات کی شرح زیادہ ہے۔ میڈیا صرف گولی، دھماکوں اور جنگوں سے مرنے والوں ،قتل کر دیے جانے والوں ، سیلاب میں بہہ جانے والوں ،زلزلہ میں دب کر مرنے والوں ، اور لٹکا کر مار دیے جانے والوں کی خبریں دیتا ہے ۔۔۔۔ جذباتی موت کی خبر نہیں چلتی ۔ دوسرا شخص : کیا عدالتیں اس جذباتی موت پر انصاف مہیا کرتی ہیں ؟ پہلا شخص : فلحال عدالتوں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ایسے کیسسز مضحکہ خیز ہوں گے۔ کوئی مخصوص عدالتیں نہیں ہیں۔ہمارے ہاں انصاف سستا ہی کہاں ہے۔ ابھی تو گولی سے مرنے والوں کے کیسسز ہی سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ جذباتی موت مرنے والوں کی حقیقی موت بھی واقع ہو جائے تو اس نظام میں انصاف نہیں مل سکتا۔ دوسرا شخص : مجھے تو لگتا ہے کہ یہ شہر زومبیز سے جلد بھر جائے گا۔ پہلا شخص : ہاں مرے ہوئے شخص کا زندہ لوگوں کی طرح چلنا پھرنا اور زندگی جینا گویا اسی طرح ہے جیسےزومبیز ۔۔۔دوسرا شخص : کیا جذباتی قتل کی کوئی سزا ہے۔ پہلا  شخص : یہاں کے قانون کے مطابق جذباتی قتل کی سزا مقتول ہی سہتا ہے۔ اور ہمیشہ سہتا ہے۔ جب کہ قاتل پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ دوسرا شخص : یہ صورت حال تو کافی تشویش ناک ہے۔ پہلا شخص : ہے تو سہی لیکن کیا کہہ سکتے ہیں ۔ دوسرا شخص : اچھا بھائی بہت وقت ہوگیا چلتے ہیں ابھی گھر جا کر بڑے بھائی کو گھر سے نکالنا ہے۔ زیادہ بولتا نہیں ، معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ محبت کرنے والا ہے ، قربانی دینے والا ہے ۔۔۔ لیکن ڈر ہے کہ ذہین بہت ہے۔ سارے کاروبار پر قبضہ نہ کر لے۔ کچھ کرنا پڑے گا، دعا کرنا پہلا شخص: ہاں جی ! کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے۔ میری چھوٹی بہن بھی نرس بننا چاہتی تھی ۔ اچھے نمبروں سے پاس ہوئی تع میں نے شادی کر دی زبردستی۔ پتہ تو ہے ہسپتالوں کے معاملات، ہماری ناک کٹواتی ۔۔۔۔۔ اب اس کے چار بچے ہیں۔ خوب خاوند نے باندھ کر رکھا ہے۔ ہماری بلا سے اب شوہر جانے اور وہ جانے۔ ہماری عزت تو بچی ۔۔۔۔ پہلا شخص : ہاں بس پھر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوتا ہے۔اچھا پھر ملیں گے، خدا حافظ! Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Qurratulain Shoaib

بچے ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

بچے ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ قرۃالعین شعیب ہر بچے کی عادات اور فطرت مختلف ہوتی ہے۔ ایک بچے کو ہم نے کیسے ڈیل کیا اس فارمولے کو دوسرے بچے پر لاگو نہیں کر سکتے ۔ کچھ بچے ایک بار کہہ دینے سے چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ دوسرے بچے جو بار بار کہنے سے بھی نہیں بیٹھیں گے۔ اسی طرح ایک بچہ ہر وقت روتا رہتا ہے جب کہ دوسرا مسکراتا رہتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہےاگر کوئی چیز ایک بچے کو اچھی لگی تو دوسرے بچے کو بری بھی لگ سکتی ہے۔ بچے کی نفسیات کو سمجھنا سب سے اہم ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ یا اس کے عمل کے پیچھے کے محرکات کیا ہیں۔ اس کی پسند نا پسند کیا ہے۔ وہ کیا سوچتا اور کیا چاہتا ہے۔ میں بچوں سے منسلک مختلف اداروں میں کام کرچکی ہوں۔ ایک سکول میں بطور کیمپس ڈائریکٹر کام کر رہی تھی ۔ ایک دن ایک ٹیچر ایک بچے کو میرے پاس لائیں جو پہلی کلاس کا طالب علم تھا۔ بچہ کی عمر سات سال تھی۔ وہ غصہ سے سرخ ہوئے جا رہی تھیں کہ مس i cant handle This child anymore. میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں میڈم یہ روزانہ ڈرائنگ کی کلاس میں اتنی اچھی ڈرائنگ کرتا ہے اور میرے فائل میں لگانے سے پہلے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیتا ہے یہ بہت بدتمیز بچہ ہے۔ میں اس کی یہ بدتمیزی مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ اس وقت میں سمجھ گئی کہ بچہ چھوٹے کاغذ کے ٹکڑے کیوں کرتا ہے۔ ٹیچر کو کہا آپ چھٹی کے وقت ملیں۔ بچے کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ آپ نے اس کے ٹکڑے کر کے کیا کرنا تھا۔ وہ ڈرا سہما جواب نہیں دے پایا نہ ہی چہرہ اپر اٹھا رہا تھا۔ میں نے دوستی کرنے کے لیے اسے چاکلیٹ تھما دی۔ پھر پوچھا کہ آپ ان ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑ کر تصویر بنانا چاہتے ہو۔ وہ مسکرا دیا اور کہتا جی۔ میں نے اسے گلو دی پیپر دیا اور کہا آپ بناؤ۔ وہ بچہ اتنا خوش تھا کہ جیسے اس نے کوئی خزانہ حاصل کر لیا۔ اس کی باڈی لینگویج تبدیل ہو گئی۔ وہ جو سر جھکا کر آنسو بہا رہا تھا ۔ تیزی تیزی سے ٹکڑے جوڑنے لگا۔ چھٹی کے بعد ٹیچر کو بٹھا کر سمجھایا کہ بچہ کیا چاہتا تھا اور اس کی نفسیات کیا تھی۔ تو اس نے کہا میں نے اس پہلو پرکبھی نہیں سوچا۔ انھیں سمجھایا کہ بچے کا ہر عمل بدتمیزی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ہر عمل کے پیچھے کوئی محرک ہوتا ہے اسے تلاش کیا کریں۔ ایسے کئی اور واقعات ہیں جہاں بچے کی نفسیات کو سمجھے بغیر اسے دباو اور مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کیا چاہتا ہے ، ایسا کیوں کرتا ہے اس کے عمل کے پیچھے کی وجہ کوئی جاننا نہیں چاہتا۔ نہ اساتذہ نہ ہی والدین۔ ہر بچہ منفرد شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر بچے کے جذبات ، کیفیات اور پھر ردعمل مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی ایک بچہ دوسرے بچے جیسا نہیں ہوتاہے۔ اکثر والدین اور اساتذہ بچوں کا موازنہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ کہ فلاں کا بچہ تو بہت ذہین ہے۔ یا وہ پوزیشن ہولڈر ہے۔ کھیل میں اچھا ہے۔ آپ بھی اس جیسے بنو۔ کوئی ایک بچہ دوسرے بچے جیسا کبھی نہیں بن سکتا۔ ہر بچے کی اپنی الگ شناخت ، سوچ اور فکر ہے۔ اس کی اپنی الگ دنیا ہے۔ بچے کو اس کے اندر کا جہاں خود تسخیر کر کے آباد کرنے میں اس کی مدد کریں۔ہر بچے کے دل و دماغ کی دنیا الگ ہے۔ صلاحیتیں اور خواب الگ ہیں ۔ سکولوں میں بچے کا رویہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔اس لیے ایک بچے پر اپنائی گئی حکمت عملی دوسرے پر لاگو کرنا مؤثر نہیں ہوتا۔بچہ جس رویے کا اظہار کرتا ہے، اس کے پیچھے کوئی محرک ضرور ہوتا ہےجو بچہ ہر وقت روتا ہے یا جو بچہ ہر وقت ہنستا ہے ، دونوں کے پیچھے کوئی نفسیاتی، جذباتی یا جسمانی محرک ہوتا ہے۔ جیسے توجہ کی کمی ، خوداعتمادی کی کمی ، کسی اندورنی خوف یا دباؤ کا اظہارِ ، اظہارخیال کے دوسرے ذرائع کی کمی۔ تخلیقی بچوں کے جذبات کی پیچیدگی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ والدین اور اساتذہ عموما ظاہری رویے کو دیکھتے ہیں، اندرونی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔جب کہ ایک باشعور استاد یا نگہبان وہ ہوتا ہے جو یہ سوال کرے کہ بچہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ والدین اور اساتذہ مشاہدہ کریں کہ اس بچے کے رویے کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ بچے کی باڈی لینگویج ، بول چال، اور معمولات پر نظر رکھیں۔غور کریں اور ہر عمل کے پیچھے محرک کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں سے مختلف سوالات کریں۔ بچے سے براہِ راست نرمی سے بات کریں۔بچے کو اس کے مسائل کا حل دیں، سزا نہیں نہ ہی مار اور ڈانٹ۔ اگر آپ انھیں نہیں سمجھ پا رہے تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ اس کی مدد لیں۔ اگر والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کی نفسیات کو سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ بچہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے پیچھے کوئی محرک ضرور ہوتا ہے۔ تو بہت سے بچے صحت مند اور خوشگوار بچپن گزار سکتے ہیں۔ اور اس خوشگوار بچپن کے اثرات ان کی آنے والی نسلوں تک جائیں گے۔ اس طرح صحت مند اور خوشحال نسلیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ بچوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنانا اساتذہ اور والدین کے ساتھ ساتھ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سکولوں میں چائلڈ کانسلرز کی تعیناتی کو ممکن بنائیں۔ اور جن سکولوں اور بچوں کے اداروں کے پاس کانسلرز نہ ہوں انھیں مہیا کرے۔ یہ بہت حد تک ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مد میں عوام میں شعور اجاگر کرے۔ جب والدین ، اساتذہ اور ریاست بچوں کی نفسیات کے حوالے سے ایک پیج پر ہوں گے تو ہی ہمارا معاشرہ بہت سے نفسیاتی مسائل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو سکے گا۔ Leave a Reply Cancel

Blog, Qurratulain Shoaib

بورڈنگ ہوم کی ڈائری سے (سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر)

قرۃالعین شعیب میں ایک ایسے بورڈنگ ہوم میں کام کر رہی تھی جہاں تین سال سے لے کر چھ سال کی بچیاں تھیں۔ میرے سامنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے حوالے سے بے شمار کیسز ہیں۔ میں آج ایک اہم واقعہ شیئر کر رہی ہوں جو والدین، اساتذہ اور بورڈنگ ہومز میں بچوں کی نگہداشت پر مامور لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایک بچہ جو اظہار کرنے کے قابل نہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، اس کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے۔ ہمارے پاس بورڈنگ ہوم میں ایک بچی، تسمیہ بتول تھیں۔ بہت بھولی اور معصوم، جو اپنی ماں کو کھو چکی تھیں۔ اور پھر ان کے والد نے انھیں یہاں داخل کروا دیا۔ ماں کے بعد باپ کی جدائی، دوستوں اور اس محلے، گلی اور کوچے سے جدائی جہاں وہ سارا دن آزادانہ گھوما کرتی تھی۔ بورڈنگ ہوم اس کے لیے ایک قید بن گیا۔ وہ روتی رہتی، مسلسل روتی، اور اچانک پیٹ درد کی شکایت کرتی۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا جاتا، میڈیسن دی جاتیں، مگر وہ بچی اچانک پیٹ درد سے تڑپنے لگتی۔ڈاکٹرز بھی دوائیں تبدیل کر کر کے تھک چکے تھے۔ اور ہم اس کی صورت حال پر بہت پریشان تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ سب بچے باہر آؤٹنگ پر جا رہے تھے، جب کہ تسمیہ نے جانے سے انکار کر دیا۔ بہت کوشش کی، مگر وہ نہ مانی۔ پیٹ درد کی شکایت کر کے کمرے میں لیٹ گئی۔ میں دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے بے انتہا رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے اسے آفس میں بلالیا۔ وہ میرے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔ چھ سالہ تسمیہ کا ہاتھ میں نے محبت سے اپنے ہاتھ میں لیا، ماتھے پر پیار کیا، تو اس نے رونا بند کر دیا۔ میں نے اس کا سراپنی گود میں رکھا تو وہ مسکرانے لگی۔ میں اس کے بال سہلانے لگی ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ پیٹ درد محض جدائی کی تکلیف بھی تو ہو سکتی ہے۔ جب اسے اپنے پیارے یاد آتے ہوں۔ یہ درد شاید وہ غبار ہے جو اتنی سی بچی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے اس سے پوچھا، “پیٹ میں درد کب ہوتا ہے؟” اس نے کہا، “جب مجھے امی ابو یاد آتے ہیں۔” اور پھر میں نے پوچھا، “آپ کا دل گھبراتا ہے اور آپ رونے لگتی ہو؟” اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ یہ وہ بے قراری ہے، وہ درد ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنوں سے جدائی دیکھی ہو۔ اس غبار کو محسوس کیا ہو۔ میں نے اس بچی کو سینے سے لگایا، بہت پیار دیا جیسے ایک ماں پیار دے سکتی ہے۔ وہ مسکرانے لگی اور کہنے لگی، “میرا درد ختم ہو گیا۔” پھر میں نے اسے کہا، “جس وقت بھی آپ کی اس طرح کیفیت ہو، آپ نے بھاگ کر میرے دفتر آنا ہے اور مجھے گلے لگا لینا ہے۔” یقین کریں، اس تھراپی اور محبت سے وہ بچی چند دنوں میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ وہ ہشاش بشاش اور خوش رہنے لگی۔ کہیں ہم نے تین ماہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی۔ اور اب وہ مسکرانے لگی۔ میں نے بھی روزانہ صبح اس سے گلے ملنے کو اپنا معمول بنا لیا۔بچے کی جذباتی ضرورت ماں کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ نے ماں تخلیق کی۔ بچوں کے زیادہ تر مسائل جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کو، بورڈنگ یونٹس کے ہیڈز ، یتیم خانوں کے سربراہان کو ، بچوں کی نگہداشت پر معمور لوگوں کو اور ماؤں کو بچوں کی جذباتی ضروریات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تسمیہ کے درد کو میں نہ سمجھتی تو یہ درد اس کا عمر بھر کا روگ بن جاتا۔ کتنی تسمیہ ہوں گی جن کے درد کو کوئی نہیں سمجھ پاتا ہوگا ۔۔۔ اور بہت سے بچپن کے دکھ اور مسائل عین جوانی میں نفسیاتی مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی جذباتی ضروریاتِ کو بچپن میں ہی پورا کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے دکھوں کو سمجھنا چاہیے۔ تسمیہ کی حالت “سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر” کی مثال تھی، جہاں جذباتی درد جسمانی علامات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جیسے کہ پیٹ درد۔ بچوں میں یہ علامات اکثر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ اپنی جذباتی کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ والدین، اساتذہ، اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچے جسمانی کے ساتھ ساتھ جذباتی نگہداشت کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔ ان کے آنسو، ضد، یا خاموشی اکثر اندرونی دکھ، خوف، یا محرومی کا اظہار ہوتے ہیں۔ محبت، توجہ، اور مستقل جذباتی سپورٹ وہ دوا ہے جو کسی بھی دوائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں کی جذباتی ذہانت کو سمجھنا اور فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان معصوم دلوں کی دنیا کو سمجھ کر ہی ہم ایک محفوظ، مثبت، اور محبت بھرا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Scroll to Top