وہ مظلوم نہیں بس تھکی ہوئی ہے
وہ مظلوم نہیں بس تھکی ہوئی ہے کلثوم نثار یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر یہ جملہ جس کو سنا کر خوش قسمتی کا احساس اور اپنے جلے دل کے پھپھولے ظاہر کیے جا رہے ہوتے ہیں، اسکی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ کے تحت کیا جاتا ہے۔ خاندان والے کہتے ہیں ” ہماری بیٹی ہے ہم اسکا خیال رکھیں گے”مگر وقت کے ساتھ یہ خیال رکھنے کا دعویٰ کنٹرول، تنقید اور تنگ نظری میں بدل جاتا ہے.کھانے میں نمک کم ہو جائے تو باتیں، بچے بیمار ہو جائیں تو لاپروائی کے طعنے۔ کوئی کام اپنی مرضی سے کر لے تو خودسر ہونے کا الزام۔ اور سب سے بڑھ کر: “شوہر کے بغیر عورت کچھ نہیں!” شوہر جب سالوں بعد آتا ہے، تو عورت کے لیے وہ شخص اجنبی سا بن چکا ہوتا ہے۔ دن رات کی ذمہ داریاں، بچوں کی پرورش، سسرال کی فرمائشیں، اور خود اپنی خاموشی… یہ سب اس کے اندر ایک خلا پیدا کر دیتے ہیں۔ جب وہ اپنا دکھ کسی سے کہنا چاہے تو کہا جاتا ہے:“صبر کرو، تمھارے شوہر تو باہر تمھارے لیے محنت کر رہے ہیں!”مگر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ کیا اس کا دل نہیں چاہتا کہ اس سے بھی کوئی بات کرے؟ کوئی اس کی ہاں میں ہاں ملائے؟ کوئی اس کے آنسو دیکھ کر روکے، نہ کہ طعنہ دے؟ ایسی عورتیں اکثر ڈپریشن، انزائٹی، خود اعتمادی کی کمی، اور احساسِ کمتری جیسے ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہیں خواب دیکھنے سے پہلے ہی روکا جاتا ہے، اپنے فیصلے خود کرنے پر شرمندہ کیا جاتا ہے، اور اگر وہ بولیں، تو بدتمیز یا ناشکری کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ سسرال اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ عورت کی دیکھ بھال کر رہا ہے، مگر درحقیقت وہ اسے مسلسل جج کر رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ ہنستی ہے تو “بہت خوش ہے”، اگر وہ خاموش ہے تو “بڑا نخرہ ہے”، اگر وہ کسی بات پر اعتراض کرے تو “منہ پھٹ اور بد لحاظ ہو گئی ہے”۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے، رویے، نظر انداز کرنا، تنقید کرنا — سب ایک نفسیاتی زخم بن جاتے ہیں۔ سسرال کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ بہو ایک انسان ہے، روبوٹ نہیں۔ اسے جذباتی، ذہنی اور اخلاقی سپورٹ کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف تنقید۔ جو مرد پردیس میں ہیں، ان کے لیے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ صرف پیسے بھیج دینا کافی نہیں۔ اپنی بیوی سے جذباتی تعلق رکھنا، اس کی سننا، اس کا حال پوچھنا بھی ضروری ہے۔ یہ عورتیں خاموش ہیں، کمزور نہیں۔وہ تنہا اور ٹوٹی ہوئی ہیں، مگر اپنے ہمسفر کی محبت و ہمت سے انکا ٹوٹا وجود انکی ہمت بن سکتا ہے۔وہ صرف سنجیدگی سے سنی جانا چاہتی ہیں۔ان کی قربانی، ان کی خدمت، ان کی خاموشی کو “فرض” مت سمجھیں — یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے، جسے تسلیم کرنا سب کا فرض ہے۔ یہ کہانیاں صرف کہانیاں نہیں، یہ سچ ہے — ہمارے گھروں کی دیواروں کے بیچ، ہمارے محلوں کی گلیوں میں، اور ہماری خاموش چائے کی پیالیوں کے اندر پلتا سچ۔کبھی سوچا ہے کہ جب ایک عورت سسرال میں خاموش بیٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھ رہی ہوتی ہے، تو وہ کیا دیکھ رہی ہوتی ہے؟ شاید اپنے شوہر کا چہرہ، شاید اپنی ذات کا ماضی، یا شاید وہ زندگی جس میں وہ بھی انسان تھی، صرف کسی کی بیوی، بہو یا ماں نہیں۔ہمیں ان عورتوں کو صرف “مری ہوئی امیدیں” سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا، بلکہ ان کے اندر کی چنگاری کو دوبارہ روشنی دینا ہے۔ یہ تب ہوگا جب: گھر والے سنیں، روکیں نہیں۔ شوہر بات کریں، بس پیسہ نہ بھیجیں۔ محلے والی حسد و طنز کرنے کی بجائے تھوڑی محبت سے دیکھیں۔ کوئی ہمدرد پوچھے: “تم کیسی ہو؟” بغیر کسی طنز کے۔ اور سب سے بڑھ کر… وہ خود اپنی آواز کو سنیں، دبائیں نہیں۔ہر عورت جو سسرال میں تنہا ہے، وہ “مظلوم” نہیں — وہ محض تھکی ہوئی ہے۔ اسے بس تھوڑا سا سہارا، تھوڑی سی سمجھ، اور تھوڑی سی اپنی جگہ واپس چاہیے۔کیوں نہ آج ہم سب مل کر اُس کے لیے وہ جگہ خالی کر دیں؟!کہ وہ صرف سانس نہ لے، زندگی بھی جیے Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*
