Blog

Blog

Blog, Meher Ali

نئے خواب، نیا نصاب”: مختصر تعارف و تبصرہ”

نئے خواب، نیا نصاب”: مختصر تعارف و تبصرہ” مقدس مجید صاحبہ سے میری پہلی ملاقات پاک ٹی ہاؤس میں ہوئی۔ ہم دونوں Urban World USA کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایک پروگرام Pakistan Youth Poet Laureate کا حصہ تھے، اس لیے شاعری ہی ہمارے درمیان پہلا تعارف بنی۔ پہلی ملاقات میں ان سے ادب اور ادب کے علاوہ بہت سے موضوعات پر گفتگو کا موقع ملا، اور اس حوالے سے ان کے خیالات سن کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں عام طور پر لوگوں سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ مجھے یاد نہیں کہ میں کب کسی سے متاثر ہوا تھا۔ البتہ یہ بات میں مقدس مجید کے بارے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں ان کی شخصیت اور ان کے خیالات سے بے حد متاثر ہوا۔ اسی ملاقات میں انہوں نے اپنی پہلی کتاب “نئے خواب، نیا نصاب” بھی پڑھنے کے لیے عنایت کی۔ یہ کتاب دراصل مقدس مجید اور معروف نفسیات دان ڈاکٹر خالد سہیل کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہے، جس میں کل 29 خط شامل ہیں۔ معاشرے کا شاید ہی کوئی ایسا مسئلہ ہو جو ان خطوط کا موضوع نہ بنا ہو۔ سوال اٹھانے کی اہمیت سے لے کر عورتوں کے مسائل اور دیگر ایسے موضوعات، جنہیں آج بھی ہمارے معاشرے میں taboo سمجھا جاتا ہے، ان خطوط کا حصہ ہیں۔ یہ کتاب دراصل نوجوان نسل کے مسائل پر ایک مکالمہ ہے، جن میں معاشرتی اور نفسیاتی ہر طرح کے مسائل شامل ہیں۔ یہ کتاب ایک فرد پر معاشرے کی لگائی گئی پابندیوں کا تذکرہ کرتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ کبھی بھی ایک فرد کو وہ نہیں بننے دیتا جو وہ بننا چاہتا ہے۔ نطشے نے کہا تھا: Society tames the wolf into a dog, and man is the most domesticated animal. ہمارے معاشرے میں آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کہ بچپن ہی سے اس کے سوالات پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے، اور اس کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، اور شاید سب سے زیادہ اسکول، کالج اور مدارس سے، جہاں کچھ بھی نیا سوچنے یا پوچھنے پر ستائش کے بجائے سزا ملتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ تمام زندگی انہیں خیالات اور نظریات کے سہارے گزار دیتے ہیں جو ہمیں معاشرے اور خاندان سے ملتے ہیں۔ ہم کبھی ان پر سوچنے کی کوشش نہیں کرتے، نہ ہی ان پر سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ یا کیا یہ نظریات اور خیالات درست بھی ہیں یا نسل در نسل بغیر کسی شواہد کے منتقل ہو رہے ہیں؟ اس کتاب میں نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہوئے مقدس مجید نے ایک بہت اہم سوال اٹھایا ہے کہ آخر کامیابی کیا ہے؟ یہ سوال اکثر میں بھی سوچتا ہوں، اور یقیناً یہ سوال ہم میں سے اکثر لوگ اپنے آپ سے پوچھتے ہوں گے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اس حوالے سے بہت ہی عمدہ جواب دیتے ہیں کہ کامیابی مختلف لوگوں کے لیے مختلف تصور رکھتی ہے۔ کامیابی کی ایک تعریف وہ ہے جو معاشرہ ہمیں دیتا ہے، یعنی پیسے کمانا، دنیاوی آسائشوں کے لیے جدوجہد کرنا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا وغیرہ۔ جبکہ اس کے برعکس کامیابی کا ایک تصور غیر روایتی اور تخلیقی ہے، جس میں ایک فرد اس کامیابی کی اُس تعریف کو، جو اسے معاشرے کی طرف سے ملی ہے، رد کر دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ہاں کامیابی سچ کی تلاش اور اپنے اور دیگر انسانوں کی فلاح و بہبود ہوتی ہے — یعنی ادیب، سائنس دان، فلسفی وغیرہ۔ یہ بات بھی ایک معمہ ہے کہ معاشرے سے ملنے والے تصور پر عمل پیرا ہونے والے افراد صرف اپنی ذات کے غم میں مبتلا ہوتے ہیں، جبکہ جو معاشرے سے ہٹ کر اپنی کامیابی کا تصور خود تراشتے ہیں، وہ اپنی ذات کے بند کمرے سے نکل کر پورے معاشرے کے لیے سوچتے ہیں۔ اس کتاب میں ان مسائل پر بھی گفتگو کی گئی ہے جو پدرسری معاشرے میں عورت کو پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شادی، بچوں کی ذمہ داری، نفسیاتی مسائل وغیرہ پر بھی بہت تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے، جس کو پڑھ کر ہمارے ذہنوں میں نئے نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کسی بھی کتاب کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے قاری کو کس حد تک سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو کتاب آپ کے ان نظریات پر، جو کلیشے کی صورت اختیار کر چکے ہوں، سوال نہیں اٹھا سکتی یا آپ کو سوچنے کے لیے آمادہ نہیں کر سکتی، وہ کتاب کامیاب نہیں کہلا سکتی۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کتاب نہایت کامیاب ہے۔ ایسا معاشرہ، جہاں لوگ سوال نہیں اٹھاتے، یا جس میں لوگوں کی آنکھیں روایت سے ہٹ کر خواب نہیں دیکھتیں، وہ معاشرہ مشینوں کا معاشرہ ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ آج بھی ایسے معاشرے میں مقدس مجید جیسی شخصیات موجود ہیں جو اس حوالے سے ہم نوجوان نسل کی نمائندگی کر رہی ہیں اور تاریک شب میں چراغ کے مانند ہیں۔ اختتام پر پیرزادہ قاسم صاحب کا ایک شعر: میں ایسے فرد کو زندوں میں کیا شمار کروں جو سوچتا بھی نہیں، خواب دیکھتا بھی نہیں (مہرعلی) Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Shabana Aslam

ایک سفر، درد سے سکون کی جانب

ایک سفر، درد سے سکون کی جانب مجھے ہمیشہ سے صوفی یا درویش کو جاننے کا تجسس رہتا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میں نے بہت سی کیٹیگری کے لوگوں کے قریب ہو کر دیکھا، لیکن مجھے مایوسی ہی ہوئی۔ ان کے درویش ہونے یا بننے کے پیچھے ذاتی مفاد اور اچھا کہلوانے سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ اسی تلاش میں میرا رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے مقدس مجید صاحبہ سے ہوا تو لگا جیسے تلاش ختم ہوئی۔ مقدس مجید صاحبہ کے ذریعے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے بھی سیشنز ہوئے اور گرین زون فلاسفی کو جاننے کا موقع ملا۔ مقدس مجید صاحبہ پاکستان میں اور ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کینیڈا میں گرین زون فلاسفی پر کام کر رہے ہیں۔ میری نظر میں یہ دونوں ہستیاں صوفی ہیں اور ان کی فلاسفی ایک مرہم ہے، جو کہ سیلف ہیلپ پروگرام ہونے کی وجہ سے چند دن آپ کو تکلیف سے نجات نہیں دے گی، بلکہ زندگی بھر کے لیے آپ کو سیلف کیئر کرنا سکھاتی ہے۔ شدید سردیوں کے دن تھے اور ایک صبح آفس کے لیے گھر سے نکلی تو گھر کے ارد گرد سب کچھ واضح تھا۔ جیسے ہی گاڑی آفس روٹ پر ڈالی تو سموگ کی وجہ سے ہر منظر غائب ہو گیا تھا۔ بہت مشکل سے روڈ پر گاڑی رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ جو راستہ روزانہ 12 سے 15 منٹ میں طے ہو جاتا تھا، آج ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہو رہا تھا۔ میں بہت زیادہ خوف، گھبراہٹ اور ٹینشن میں تھی۔ بہت سارے خدشات دماغ میں ہلچل مچا رہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تکلیف میں سفر کرنے کے بعد آفس میں جا کر بیٹھی تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ سموگ نے نہ صرف ہر منظر دھندلا کر دیا، بلکہ میرے جذبات کو بھی منتشر کر دیا اور میری صلاحیتیں بھی دب گئیں۔ واپسی میں دھوپ نکلی تو سب کچھ وہی تھا: سفر، روڈ، گاڑی، ساتھی اور ارد گرد کے مناظر۔ لیکن سب کچھ واضح ہونے کی وجہ سے میں پرسکون تھی۔ اب اسی واقعہ سے گرین زون فلاسفی کو سمجھنا آسان ہوا۔ انہی دنوں مقدس مجید صاحبہ نے پاکستان میں گرین زون لیونگ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا، جس میں خوش قسمتی سے میری بھی سلیکشن ہو گئی۔ ہمارا کوٹ پہلا تھا۔ پورے پاکستان سے نوجوان شامل تھے۔ یہ آٹھ ہفتوں کا ٹریننگ پروگرام تھا، جس نے زندگی بھر کا لائف اسٹائل ہی تبدیل کر دیا۔ جس دن میں پہلا سیشن اٹینڈ کرنے بیٹھی تو میری ذہنی حالت ایسی تھی جیسے سموگ کی وجہ سے گاڑی کا چلنا مشکل تھا۔ جذبات کی دھند نے میری زندگی کی گاڑی نہ صرف سست کر رکھی تھی، بلکہ سانس تک لینا دشوار تھا۔ مقدس مجید صاحبہ نے پہلے ہی سیشن میں اتنے اچھے انداز سے جذبات کو آئڈینٹیفائی کرنا سکھایا کہ سموگ چھٹنے لگی۔ پھر آٹھ ہفتوں کے سیشنز نے دل اور دماغ میں چبھے ہوئے ایک ایک تکلیف دہ کانٹے کو نہ صرف نکال باہر پھینکا بلکہ گرین زون اسٹریٹجیز سے ان پر مرہم بھی رکھا۔ اس فلاسفی کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سیلف ہیلپ پروگرام ہے، جس میں آپ کسی پر عمر بھر ڈیپینڈ کرنے کی بجائے خود کا خیال رکھنا اور جذبات کو پہچان کر کنٹرول کرنا سیکھتے ہیں کہ کس طرح خود کو ریڈ زون میں جانے سے بچانا ہے اور گرین زون میں رہنا ہے۔ اس فلاسفی کا سب سے خوبصورت پہلو اپنی ہیلدی باؤنڈریز سیٹ کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے میرے اندر سے بیرونی حل کم ہوا۔ اسی طرح گرین زون آور اور “می ٹائم” نے میرے اندرونی حل کو کنٹرول کرنے میں مدد کی اور مجھے خود کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ زندگی میں پہلی دفعہ خود سے محبت ہونے لگی۔ سب مناظر واضح ہونے لگے۔ جو زندگی گزارنا مشکل ہو رہا تھا، اب وہی زندگی خوبصورت لگنے لگی۔ یہ فلاسفی ایک مینٹل ہیلتھ پروگرام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہیلدی لائف اسٹائل بھی ہے، جس میں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب اور مقدس مجید صاحبہ بڑے خوبصورت انداز میں سکھاتے ہیں کہ self caring نہیں، self carrying کرنی ہے۔ میں ایک بے چین سی لڑکی تھی، ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہو جانے والی اور ڈپریشن کا شکار۔ مایوسی کا یہ عالم تھا کہ خودکشی کرنے کو دل کرتا تھا۔ اس پروگرام کو اٹینڈ کرنے کے بعد میں ایک مضبوط انسان میں بدل چکی ہوں۔ اب مجھے ہر ٹاکسک انسان اور ٹریگرز سے خود کو محفوظ کرنا آ چکا ہے۔ میں جان چکی ہوں کہ میری مینٹل ہیلتھ میری زندگی کے لیے کتنی اہم ہے۔ آخر میں ایک بات ضرور کہوں گی کہ میں نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب اور مقدس مجید صاحبہ کے لیے “درویش” کا لفظ کیوں استعمال کیا۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ ولی ہونے کا پہلا درجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے بے ضرر ہو جاتے ہیں، اور آخری درجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بلا جھجک آپ سے فیض حاصل کرنے لگتے ہیں۔ اور یہ دونوں ہستیاں بے لوث خدمتِ خلق میں مشغول ہیں اور اپنی گرین زون فلاسفی سے تکلیف میں مبتلا لوگوں کی زندگیوں میں مرہم رکھ رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ یہ فلاسفی ہر انسان تک پہنچے۔ اسی لیے مجھ سے جب بھی کوئی سوال کرتا ہے کہ آپ اتنی پرسکون کیسے رہنے لگی ہیں تو میں فوراً گرین زون فلاسفی سے متعارف کروانے لگتی ہوں۔ جس طرح سبزہ ہماری جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح گرین زون فلاسفی ہماری ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے تاکہ ہم خوشگوار زندگی گزار سکیں۔ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Aaliya Arooj

The Present is an Eternity

The Present is an Eternity The humid air on July 20th was heavy and suffocating, just as it always was after a July rain. At 6:30 PM, the sun was about to set as she walked the familiar road back home. The sky was a breathtaking canvas of three shades: misty orange, blue, and peach. But her mind was suffocating too, filled with familiar thoughts: the regret of a past she couldn’t change and the fear of a future she couldn’t control. Walking always soothed her soul, though not her mind. Every day, she passed the same old tree, its roots planted outside the residence of an 18th-century legend. The house stood stark white against the busy road, but nobody offered it a glance in their hurried lives. The sky’s soothing colors offered a temporary escape. As usual, two or three rickshaws—chingchis—slowed down, their drivers asking if she needed a ride. She said no, but they insisted, lingering just to stare—like so many men in this society. Then, a biker pulled up, asked a vulgar question, and sped off. She walked faster, a sense of urgency propelling her forward. Suddenly, her thoughts turned to an old woman struggling to cross the busy road. For a moment, the woman was the center of her attention—a tiny, fragile figure battling the traffic. Then, she reached the other side and disappeared. In that instant, a realization struck Sanober: This is the present.A moment that vanishes in an instant.No one bothers with another’s present because everyone is consumed by their own. She saw a man washing a car, silently wishing for a day off. She thought of a granddaughter visiting a sacred place for the first time with her grandmother—the granddaughter knowing nothing of the place, and the grandmother knowing nothing of the routes. Both were lost in their own worries but had faith in each other. The present is a different moment for everyone. People are so lost in their own moments that they don’t have time to notice anyone else’s. She passed the marquee where her friend had been married just a few months ago. Her friend had since moved away, and now, another couple was inside, awaiting their own wedding ceremony. This, too, was the present. No one here cared about the people who celebrated their wedding yesterday—or months ago—or how their lives were unfolding now. She thought about how she had walked this same road four years ago, on her way to her academy. But nobody remembered. Nobody cared. They had their own moments. Why, then, did she let the past, present, and future consume her? Who truly cared what she had done for the last 30 years, or what she would do in the next? Who cared how her present moments looked to others? She looked up at the new moon, which always appeared just after Maghrib prayers. The moon had witnessed everything: the night of Imam Hussain in Karbala, the night Hazrat Ibrahim saw his dream, the night the Holy Prophet spent his first night after the death of Hazrat Khadija, and the night her own grandmother died. The moon had seen it all and would continue to see everything. So, she decided to stop thinking—just like the road and the moon. They had witnessed incredible moments in history, both joyous and devastating, but they didn’t hold on to a single one. And she?She would be gone. She would leave the earth and the endless cycle of time—past, present, and future.So, it’s better to live in the moment’s eternity. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Suniya Daar

وقت ہر زخم کا مرہم ہے

وقت ہر زخم کا مرہم ہے ایسا کچھ نہیں جتنا دل شکن بسا اوقات یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں — تھراپی، ڈائری لکھنا، غور و فکر کرنا، ذہنی و جسمانی مشقیں مشکل گفتگوئیں — اور پھر بھی آپ کو وہی جذباتی تکلیف محسوس ہو۔ آپ نے کبھی کتابیں پڑھیں۔ کبھی حدود مقرر کرنے پر کام کیا۔ کبھی تھراپی میں خط لکھا اور پھر اسے رسم کے طور پر جلا دیا۔ پھر بھی، کہیں نا کہیں کسی لیول پر وہی کیفیت واپس آتی ہے، سینے میں جکڑن، وہ مانوس سا خوف، وہ یادیں جو اعصابی نظام کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، اور وہ آنسو جو کسی ایک گانے پر بہہ نکلتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں: میرے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ یہ سب ختم کیوں نہیں ہو جاتا؟ آپ خود کو بتاتے ہیں کہ آپ آگے بڑھ چکے ہیں، آپ خود پر بہت کام کر چکے ہیں۔ مگر آپ کا جسم شاید ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکا ہوتا۔ تب لوگ کہتے ہیں: “بس وقت دو۔”وقت گزرنے کے ساتھ سب بھلا ہو جائے گا اور اگر آپ میری طرح ہیں تو یہ جملہ آپ کو بہت سطحی یا پریشان کن محسوس ہوگا۔ تو کیا میں بس یہاں بیٹھ کر انتظار کروں؟جیسے جیسے وقت گزرے گا سب صحیح ہونے کا انتظار کرتی رہوں؟ میں عام طور پر بہت سی جگہوں پر وہ پہلی انسان ہوتی ہوں جو کہتی ہے کہ صرف وقت ہمیں شفا نہیں دیتا۔ بلکہ یہ اہم ہے کہ ہم اپنے وقت کا استعمال کیسے کرتے ہیں اور میں اب بھی اسی بات پر قائم ہوں لیکن مجھے یہ ماننا ہوگا کہ ہاں وقت اور اسپیس کی بھی ایک اپنی اہمیت ہے۔ وقت ہمیں فاصلے کا موقع دیتا ہے اس چیز، جگہ، شخص یا ان حالات و واقعات سے جن کے ساتھ ہماری اٹیچمنٹ اور سروائیول کی جنگ میں ہمارا سابقہ پیش آتا ہے اور جن سے ہمارا زخم وابستہ ہوتا ہے اور اس وقت کے بیتنے اور فاصلہ ملنے سے ہمیں سمجھنے کی اسپیس میسر آتی ہے کہ آخر کیا ہوا تھا، ہماری تکلیف کی حقیقت کیا تھی، ہماری طرف آنے والی تکلیف میں ہمارا کردار کیا تھا، ہمیں کیا ٹھیک کرنا ہے، ان غلطیوں کو کیسے ہم دوبارہ نہ دہرائیں جن میں ہم مبتلا رہ چکے، اور سب سے اہم یہ کہ ہم اس سب کا مطلب کیسے اخذ کریں جو ہم پر بیت چکا۔یوں سمجھیں وقت اور فاصلہ ہمیں اس جنگل کو درختوں سے الگ دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے جہاں ہم رہ رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب ہم جنگل میں رہا کرتے تھے تو جنگل اور درخت ایک ہی محسوس ہوتے تھے اور جب ہم نے وقت کے ساتھ وہاں سے نکل کر اس جگہ اور یہاں موجود ہر چیز ، یہاں درپیش آنے والے مصائب کو باہر سے جانچا تو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ جنگل کو درختوں سے الگ کر کے دیکھا تو بہت کچھ مختلف دیکھنے لگا۔ ژاں پال سارتر نے لکھا: “آزادی یہ ہے کہ آپ اُن چیزوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں جو آپ کے ساتھ ہو چکی ہیں۔اور میں نے پایا ہے کہ روح اور دل و دماغ پر لگے زخموں کے لیے نسخہ شفا بھی بہت حد تک یہی ہےیعنی وہ آزادی کہ ہم اُن زخموں کے غلام نہ رہیں جو ہمیں چیر گئے تھے۔ لاہور شہر میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے باوجود بھی مجھے برسوں اس شہر میں رہنے نے بے حد بے چین رکھا۔ اس شہر میں رہتے ہوئے ہمیشہ میں مضطرب رہی اور میرا آسمان کچھ زیادہ ہی اُداس رہتا۔ ہر وقت یہاں سے نکل کر کہیں دور جا کر بس جانے کے خیالات تنگ کرتے۔ دوپہر تک ایسا لگتا جیسے میں اپنی ہی کھال سے باہر نکل آؤں اور اُسے کسی چیز یا کسی پر دے ماروں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ شہر مجھے میرے تعلقات میں میری مسلسل گھبراہٹ کے ادوار، اور اس اندھیرے کے ساتھ کنیکٹ رکھتا جو اُس وقت تک میرے اندر بسا رہا جب تک میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ مجھے خود کا ہی کچھ علم نہیں تھا — نہ یہ کہ میں کون ہوں، نہ یہ کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہی ہوں۔ کس اندھیرے میں گم ہوں ۔یہ مجھے اُس خود کی یاد دلاتا تھا جسے میں بھولنا چاہتی تھی —میری ذات کے وہ حصے جو کسی وقت میں کہیں گم تھے، اور میں غلط فیصلے کر رہی تھی۔لیکن دو سال اسلام آباد میں بسنے بہت مہینے کراچی میں خود کے ساتھ وقت گزارتے رہنے کے بعد اب جب پچھلے کچھ مہینے مجھے مسلسل لاہور آنا جانا اور کچھ دن کے لیے قیام کرنا پڑا تو حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ مجھے کچھ بے چینی اور گھبراہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ نہ اضطراب، نہ چڑچڑاپن، نہ بے چینی۔ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر کا وہ زخم مندمل کر دیا ہو۔ جیسے ڈینٹسٹ آپ کے مسوڑھوں پر سن کرنے والی دوا لگا دے تو کسی نا کسی درجے میں دباؤ  محسوس ہونے کے باوجود بھی درد نہیں ہوتا۔ مجھے اب بھی وہ دکھ انہی رشتوں سے مل کر، انہیں رستوں سے گزر کر یاد آتے رہے، جہاں سے میرے زخم جڑے تھے لیکن میں اب اُن زخموں میں نہیں رہ رہی تھی وہ اندھیرا چھٹ چکا تھا جیسا کہ کبھی میرے اندر ماضی میں ہوا کرتا تھا ۔ مجھے لگا میں اپنے زخموں سے کہیں اوپر اٹھ چکی تھی۔ برسوں لگے، تھراپی، خود کی تلاش اور کئی بار سخت اور تکلیف دہ ذاتی تبدیلیاں پیدا کرنے پر کام کرنے میں۔لیکن جب میں نے اپنا کام مکمل کر لیا، تب وقت نے بھی اپنا کام کیا۔ اور اُس نے کیا۔اب میں وہی شہر جا سکتی ہوں، مکمل طور پر پُر سکون ہو کر بے اثر، لاتعلق، بلکہ تھوڑا سا مطمئن بھی۔ وقت اور فاصلہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم درد کو حکمت میں تبدیل کریں۔ ہم جو کچھ جھیل چکے ہوں، اُس کو اپنے اندر پائیں تو اُسے خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ فلسفی ہائیڈیگر نے کہا تھا:” ہم وقت میں موجود نہیں ہم خود وقت ہیں۔”ہمارا وجود یادوں، معنی،

Blog, Suniya Daar

غم سے تعلق

غم سے تعلق غم زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے اور مختلف حالات و واقعات میں پلے بڑھے افراد کی دکھ، غم یا تکلیف کو سہنے اور پراسس کر پانے کی قوت برداشت مختلف ہوتی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے نروس سسٹم ڈیویلپمنٹ اس کو میسر آنے والے ماحول اور مواقع پر منحصر ہوتی ہے اور مختلف ماحول و ذرائع میں پلے بڑھے انسانوں کے لیے نروس کیپسٹی یا قوت برداشت کا مختلف ہونا فطری ہی نہیں ایک سائنسی حقیقت ہے۔نیورو سائیکالوجی کی سائنسی تحقیقات پر کچھ لوگ اپنی تکلیف کو اسی لیے کم وقت میں جبکہ کچھ لوگ قدرے زیادہ وقت میں پراسس کر پاتے ہیں اور ہر کسی کی رفتار انفرادی ہوتی ہے۔ یہ جاننا بہت اہم ہے کہ بہت سے افراد خود کو درپیش دکھ یا تکلیف سے کہیں زیادہ اپنی تکلیف پر اپنے ردعمل یا اظہار کے طریقوں پر اپنی طرف آنے والے معاشرتی و اجتماعی رویوں کے باعث نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔معاشرہ اور اردگرد کے لوگ عمومی طور پر ہم سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم جلدی آگے بڑھ جائیں۔ کسی بھی فرد کی انفرادی قوت برداشت اور نیورل کیپیسٹی(Neural capacity) کا لحاظ کیے بغیر اس کا موازنہ جلدی آگے بڑھ جانے والے لوگوں سے کرتے ہوئے اسے کمزور تصور کیا جاتا ہے۔ تکلیف میں مبتلا انسان کے انفرادی رد عمل و اظہار کو سمجھنے اور قبولیت فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل جج کیا جاتا ہے۔ جذباتی سہارا دینے کے بجائے پند و نصائح  کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔ڈاکٹر جوآن کیچیٹورے کی کتاب “Bearing the Unbearable” اس سوچ کے خلاف ایک نرم مگر طاقتور پیغام دیتی ہے۔یہ کتاب فوری حل یا آسان جواب اور پند و نصائح فراہم کرنے کی بجائے ان لوگوں کے لیے ایک محبت بھرا ساتھی بن جاتی ہے جو کسی عزیز کے بچھڑنے یا کسی درد کے کٹھن سفر سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس کتاب کے چند پیغامات کچھ اس طرح ہیں ۔ہر شخص کا غم دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، جیسے ہر انسان کے انگلیوں کے نشان الگ ہوتے ہیں۔غم منانے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہو سکتا۔اس انفرادیت کو تسلیم کرنا ہمیں اس دباؤ سے آزاد کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی توقعات کے مطابق غم کا اظہار کریں۔غم صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔تھکن، نیند کا خراب ہونا یا بھوک میں کمی جیسے علامات بہت عام ہیں۔ان علامات کو سنجیدگی سے لینا اور جسم کی آواز سننا اس وقت بہت ضروری ہوتا ہے۔ ارد گرد کے لوگوں کا ان علامات سے گزرنے والے فرد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔غم تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے البتہ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم زندگی میں کچھ کھو دینے یا زندگی کے تلخ حقائق کے ساتھ اپنے تعلق کو ایکسپلور کریں ۔یہ تعلق شعوری طور پر ایکسپلور کرنا دل کو سکون، قبولیت اور مقصد دے سکتا ہے۔شفا ایک سیدھا، فکسڈ اور آسان راستہ نہیں بلکہ نشیب و فراز سے بھرا سفر ہے۔یہ ضروری ہے کہ ہم خود کو ہر قسم کے جذبات کو محسوس کرنے کی اجازت دیں، بغیر کسی شرمندگی کے۔آہستہ آہستہ اٹھایا گیا ہر قدم، چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، ایک بڑی کامیابی ہوتا ہے۔غم کے دوران دوسروں سے جڑنا زندگی کی ڈور بن جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے ساتھ تجربات بانٹنا جو خود بھی اسی راہ سے گزرے ہوں، یا آپ کو سمجھنے اور سپورٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں ایک محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ایسا ہمدردی بھرا تعلق دل کو تقویت دیتا ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد ایسے لوگ یا ایسا کوئی ذاتی سرکل موجود نہیں تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا اور ایکسپرٹ کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار نان ججمنٹل اسپیس میں کرنا اپنی ذات اور دکھ سے تعلق استوار کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔غم انسان کو انتہائی کمزور اور نازک محسوس کرا دیتا ہے۔ اس کمزوری کو اپنانا، کھلے دل سے قبول کرنا انسان ہونے کا فطری اور خوبصورت حصہ ہے۔یہی نرمی ہمیں اصل شفا یعنی اپنی ذات سے گہرے اور انسانیت پر مبنی تعلق اور زندگی کے حقائق کو قبول کر کے انکے ساتھ اندرونی سکون پیدا کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔غم کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو “ٹھیک” کیا جا سکے۔یہ ایک لمبی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے، جس کے ساتھ ہمیں جینا سیکھنا ہوتا ہے۔وقت کے ساتھ غم بدل سکتا ہے، پھر سے سامنے آ سکتا ہے، لیکن اپنی ذات اور زندگی کے حقائق کے ساتھ صحت مند تعلق جینے کو ہمارے لیے با معنی بناتا ہے۔  اپنے غم سے اوپر اٹھ کر اپنی زندگی کو جینا، اس میں آگے بڑھتے رہنا بھی اسی کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Qurratulain Shoaib

جذباتی مردہ خانے

جذباتی مردہ خانے پہلا شخص: یار سنو تمھیں معلوم ہوا کہ مصنوعی سانس بہت مشکل سے دستیاب ہے۔ لوگ تیزی سے جذباتی موت مر رہے ہیں۔ بازاروں میں دکانوں پر حتی کہ اب بلیک میں بھی مصنوعی سانس دستیاب نہیں۔ دوسرا شخص: تو پھر شرح اموات بہت زیادہ ہوگئ ہوگی۔ پہلا شخص : بالکل، شرح اموات اتنی ہے کہ اس کو درج کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ دوسرا شخص : رشتہ داروں کی طرف سے یا حکومت کی طرف سے ان کے کفن دفن کا کوئی انتظام نہیں ؟ پہلا شخص : بالکل نہیں ایسا کوئی انتظام نہیں، حتی کے انتہائی قریبی عزیز بھی ان کے جذباتی جنازوں میں شامل نہیں ہوتے۔ وہ خود ہی اپنی قبر کھودتے ہیں اور رات کے اندھیروں میں تنہا خود کو دفناتے ہیں۔ دوسرا شخص : ان کی قبر مزار یا کوئی نشانی جہاں فاتحہ پڑھی جا سکے؟ پہلا شخص : ارے بھائی, جو جیتے جی نہیں پوچھتے وہ کسی مزار پر فاتحہ پڑھنے کیوں آئیں گے۔ یہاں لوگ جذباتی موت کا سبب تو بنتے ہیں۔ لیکن مرنے سے بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آتا۔ یہ خود ہی اپنی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور خود ہی اپنے لیے فاتحہ پڑھتے ہیں۔ دوسرا شخص: بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔ تو حکومت اتنے بڑے بحران پر کچھ نہیں کرتی؟ پہلا شخص : حکومت کی ترجیحات مختلف ہیں۔ انھیں کھانے پینے اور مال سمیٹنے کی فکر ہے۔ انسانی المیہ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص : مصنوعی سانس کون بناتا ہے۔ یہ فیکٹریاں کہاں ہیں۔ کیا حکومت ان فیکٹریوں کو سپورٹ کرتی ہے ؟ پہلا شخص : پہلے مصنوعی سانس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ پھر ڈیجیٹل ڈیوائسز مصنوعی سانس مہیا کرنے لگیں۔ اب وہ آوٹ ڈیٹڈ ہیں۔ کچھ لوگوں کے دوست اور عزیز و اقارب بھی مصنوعی سانس کا کام کرتے تھے۔ اب وہ سب بھی میسر نہیں رہے۔ اور حکومت کا ایسا سپورٹ کا کوئی پروگرام نہیں۔ بلکہ وہ بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی گھٹن سے لوگوں کی بچی کچی سانسیں بھی کھینچ لیتی ہے۔ دوسرا شخص : آخر اس بحران کی وجہ کیا ہے؟ پہلا شخص : کچھ خاص نہیں، بس مفادات اور خودغرضی کی جنگوں کے بعد فضا میں تعفن اور آلودگی بہت پھیل گئی۔ کچھ لوگ سروایو کر جاتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ مصنوعی سانس کے بغیر نہیں چل پاتے۔ دوسرا شخص: اس تکلیف سے بچانے کے لیے کوئی ادارہ ، کوئی بحالی سینٹر کوئی ہسپتال ؟ پہلا شخص : ہسپتال تو کچھ موجود ہیں۔ مہنگے ہیں تو زیادہ تر جذباتی گھٹن کا شکار لوگوں کی ان تک رسائی نہیں ہے۔ آکسیجن کی بھی کمی ہے بعض ہسپتالوں میں۔ ڈاکٹرز بھی بس سپورٹ کرتے ہیں۔ زیادہ تر مریض کو خود ہی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ یوں بھی عوام کی مدد اور فلاح کے ادارے بنانا ہمارے ملک میں مشکل کام ہے۔ لوگ کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں یہ ادارے جو حقیقی طور پر فلاحی ہوں بڑے جھنجھٹ کا کام ہے۔ دوسرا شخص: آبادی کے تناسب سے کتنی جذباتی اموات ہو چکی ہیں؟ پہلا شخص: معلوم نہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ اموات کی شرح زیادہ ہے۔ میڈیا صرف گولی، دھماکوں اور جنگوں سے مرنے والوں ،قتل کر دیے جانے والوں ، سیلاب میں بہہ جانے والوں ،زلزلہ میں دب کر مرنے والوں ، اور لٹکا کر مار دیے جانے والوں کی خبریں دیتا ہے ۔۔۔۔ جذباتی موت کی خبر نہیں چلتی ۔ دوسرا شخص : کیا عدالتیں اس جذباتی موت پر انصاف مہیا کرتی ہیں ؟ پہلا شخص : فلحال عدالتوں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ایسے کیسسز مضحکہ خیز ہوں گے۔ کوئی مخصوص عدالتیں نہیں ہیں۔ہمارے ہاں انصاف سستا ہی کہاں ہے۔ ابھی تو گولی سے مرنے والوں کے کیسسز ہی سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ جذباتی موت مرنے والوں کی حقیقی موت بھی واقع ہو جائے تو اس نظام میں انصاف نہیں مل سکتا۔ دوسرا شخص : مجھے تو لگتا ہے کہ یہ شہر زومبیز سے جلد بھر جائے گا۔ پہلا شخص : ہاں مرے ہوئے شخص کا زندہ لوگوں کی طرح چلنا پھرنا اور زندگی جینا گویا اسی طرح ہے جیسےزومبیز ۔۔۔دوسرا شخص : کیا جذباتی قتل کی کوئی سزا ہے۔ پہلا  شخص : یہاں کے قانون کے مطابق جذباتی قتل کی سزا مقتول ہی سہتا ہے۔ اور ہمیشہ سہتا ہے۔ جب کہ قاتل پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ دوسرا شخص : یہ صورت حال تو کافی تشویش ناک ہے۔ پہلا شخص : ہے تو سہی لیکن کیا کہہ سکتے ہیں ۔ دوسرا شخص : اچھا بھائی بہت وقت ہوگیا چلتے ہیں ابھی گھر جا کر بڑے بھائی کو گھر سے نکالنا ہے۔ زیادہ بولتا نہیں ، معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ محبت کرنے والا ہے ، قربانی دینے والا ہے ۔۔۔ لیکن ڈر ہے کہ ذہین بہت ہے۔ سارے کاروبار پر قبضہ نہ کر لے۔ کچھ کرنا پڑے گا، دعا کرنا پہلا شخص: ہاں جی ! کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے۔ میری چھوٹی بہن بھی نرس بننا چاہتی تھی ۔ اچھے نمبروں سے پاس ہوئی تع میں نے شادی کر دی زبردستی۔ پتہ تو ہے ہسپتالوں کے معاملات، ہماری ناک کٹواتی ۔۔۔۔۔ اب اس کے چار بچے ہیں۔ خوب خاوند نے باندھ کر رکھا ہے۔ ہماری بلا سے اب شوہر جانے اور وہ جانے۔ ہماری عزت تو بچی ۔۔۔۔ پہلا شخص : ہاں بس پھر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوتا ہے۔اچھا پھر ملیں گے، خدا حافظ! Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Khushal das Parmar

Man’s Search for Meaning by Viktor E. Frankl

Man’s Search for Meaning by Viktor E. Frankl There aren’t many things in life that bring me to tears—my closest friends know this fact. I have sat through heartbreaking movies, read tragic stories, even faced quiet personal losses, but for some reason, the tears don’t usually come. It’s just hard for me to cry. But Viktor Frankl’s Man’s Search for Meaning broke that wall. Not with drama or sentiment, but with something much deeper: truth. The honest, raw, dignified truth. There are books you read, and then there are books that read you. They sit quietly in your hands while slowly turning the pages of your soul. Frankl’s book is exactly that. It doesn’t just tell a story—it sees you. It meets you in your quiet despair, your unanswered questions, your restless search for meaning, and then it speaks—gently, bravely, and truthfully. It was a chilly evening in December 2022. I was traveling from Islamabad to Lahore, and the train was completely booked. I didn’t even have a seat. I found a small spot near the washroom gate, right next to the bogie door, and sat there with my small backpack and the one thing that mattered most on that journey: a book. That book was Viktor E. Frankl’s Man’s Search for Meaning. I opened it just to pass the time. But the moment I started reading, the world around me began to blur. The noise of the train, the cold metal under me, even the discomfort of sitting by the door—all of it disappeared. The five-hour journey passed in what felt like minutes. During that quiet ride, with the cold wind brushing past and strangers around me lost in their own little worlds, I found myself slipping into a story that began to speak to me. It felt like the book was quietly sitting beside me, holding up a mirror to the darkest chapters of human history and the things we try to forget, but desperately need to remember. Frankl, a neurologist and psychiatrist, was also a Holocaust survivor. He didn’t write this book to shock or to preach. He wrote it to understand. To understand why some people survived the Nazi concentration camps, while others gave up. And his conclusion is hauntingly beautiful:“Those who have a ‘why’ to live can bear almost any ‘how’.” The book is divided into two parts. The first is a raw, firsthand account of life in Auschwitz and other concentration camps. The second introduces Frankl’s psychological theory, logotherapy, which centers on the belief that the primary human drive is not pleasure or power, but meaning. Frankl describes entering the camp with only a manuscript of his life’s work stitched inside his coat. In the concentration camp, Viktor Frankl’s manuscript was confiscated. In a moment, his academic life was reduced to ash. Yet something within him remained untouched: the will to find purpose in suffering. He writes about how the people in those camps—ordinary men, women, and even teenagers—were pushed to the very edge of human endurance. They faced unbearable hunger, freezing cold, violence beyond imagination, and the terrifying closeness of death, day after day. But what stayed with me most was this: according to Frankl, it wasn’t the physically strongest who made it through—but those who managed to hold on to even a tiny flicker of inner strength. Those who found meaning, even in the darkest places. He writes of one fellow prisoner who had a dream and believed with all his heart that they would be liberated by March 30. That date became his lifeline. But when the day came and went, and they were still imprisoned, something inside him broke. He lost all hope—and not long after, he died. Frankl writes that it wasn’t infection that killed him, but hopelessness. That part of the book stayed with me for a long time. It made me realize hope isn’t just a feeling we hold onto for comfort. Sometimes, it’s the very thing that keeps us alive. There was one line in the book that hit me so deeply, I had to pause and just breathe. It felt like the words had reached straight into my chest and pulled something raw and real to the surface:“When we are no longer able to change a situation, we are challenged to change ourselves.” Life is not about what we expect from it, but what it expects from us. Even in the camps, he found meaning—in comforting a fellow prisoner, in remembering his wife’s smile, in imagining himself lecturing after the war about the psychology of suffering. He tells a story of walking through the snow in torn shoes, half-starved, and imagining himself speaking to his future students. That vision gave him strength to take the next step. In a place designed to erase identities, he clung to meaning like oxygen. We, in our world of minor disappointments and endless distractions, complain of burnout, boredom, and emptiness. Yet Frankl reminds us:“Life is never made unbearable by circumstances, but only by lack of meaning and purpose.”That quote still stays with me, especially in those moments when I’m endlessly scrolling through social media or going through the motions of a day that feels a bit too routine. We live in a world that offers so much comfort, yet often leaves us feeling lost. We have freedom, but not always a sense of purpose. And without that, even the most comfortable life can feel strangely empty. In the second part of the book, Frankl shifts from storytelling to reflection. He writes about the role of a psychiatrist and introduces us to logotherapy, a school of thought he founded. Unlike Freud, who believed that pleasure is the primary human drive, or Adler, who emphasized power, Frankl argues that our deepest motivation is the search for meaning. Logotherapy is based on one powerful idea: that life always has meaning—even in the hardest times—and it’s up to us to find it. He also writes about patients who were depressed, anxious, or

Blog, Laiba Rashid

From Hesitation To Healing: My Green Zone Therapy’s Expereince

From Hesitation To Healing: My Green Zone Therapy’s Experience Trying therapy for the first time through initiative of green zone therapy by Naaye Khwaab was an experience I never thought of.I had never entered a space that could really be non judgemental allowing you to speak your heart out and facing your fears. Upon an invitation by my friend Muqaddas, a Green Zone Trainer, I thought why not give it a chance and this chance changed my life. Attending the Green Zone Therapy Fellowship felt like entering a quiet, sacred space within myself—one I had long forgotten existed. It didn’t heal me overnight, nor did it promise to erase what life had carved into me. But slowly, gently, it began to open the stubborn doors I had shut tight—the ones guarding pain that never really belonged to me in the first place. The kind of pain that seeps in through other people’s wounds, the kind that makes you carry battles you were never meant to fight.The therapy helped me see how much of my suffering came from external forces—from people around me, their traumas, their pain, and the ripple effects of their actions. I had been holding onto a grudge for so long, not because I was the one who was hurt, but because someone I loved deeply had been hurt by someone else I also once held close. And in that tug of war, I was the rope—torn between resentment and empathy, hatred and softness. I found myself emotionally exhausted, confused, and stuck.Through the sessions, I was given the space to reflect deeply on the people in my life—who brings peace, who brings pain, and who simply doesn’t deserve the power to trigger my emotions anymore. I learned that it’s okay to step away from things that aren’t mine to fix. That just because I cared for both people involved didn’t mean I had to bleed for a war I never signed up for. I was never a mediator. I was a listener. And somehow, that role turned into a wound of its own.One of the most powerful moments for me was the letter-writing exercise. I poured into that paper every ounce of anger, sorrow, and the unsaid words I’d been carrying for years—things I could never say aloud, not even in the future. Because some bridges don’t just burn; they disappear. And while communication may solve many things, sometimes there’s no opportunity left to speak. So I wrote, not for closure with them, but for freedom within myself.Green Zone Therapy became the safe space where I could finally acknowledge what I’d been suppressing. It helped me realize that it’s not my job to solve other people’s conflicts. If two people are at odds—even if I love them both—it’s their path to navigate, not mine. I can hope they heal, I can wish them peace, but I cannot sacrifice my mental well-being in the name of loyalty.Healing, I’ve learned, isn’t a one-time event—it’s a choice I make every day. I train my thoughts like muscles, gently bringing them back to the path I’ve chosen when they wander into old wounds. I remind myself that I’m not carrying that grudge anymore. I’m not walking around with hate in my heart. Even if the thoughts come back sometimes—and they will—I now know how to let them pass without letting them stay.Green Zone Therapy didn’t just help me fix one trauma—it gave me the tools to live lighter, to love smarter, and to protect my peace without guilt. And for that, I am deeply, profoundly grateful. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Hammad Niazi

“مکالمے کے حوالے سےچند طالب علمانہ معروضات”

حماد نیازی کسی بھی موضوع یا متن کو مکالمے کی نہج تک تب لانا چاہیے جب ہمیں اس متن کے تمام مندرجات سے مکمل نہیں تو کم ازکم اتنی آگاہی ضرور ہو کہ وہ اس کے معروف معانی یا معلوم تعبیرات کا احاطہ کر سکے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر دو انتہاؤں پر رہنے والے ہمارے” جید ثقہ” عالم نما لوگ اس موضوع کے بنیادی متن کی اہم، ضروری اور معاصر تعبیرات تو کجا، اس متن کی زبان کو ہی اپنے اذہان کے شعور کی تشکیل کے لیے قبول نہیں کر پاتے مگر جب ان سے کہا جائے کہ یہ متن تو آپ کے بے ترتیب اور بے سمت اخلاقی خود ساختہ نظام زندگی کو رد کرتا ہے تو اسی متن کے مندرجات پر وہ وہ عالمانہ بلکہ فقیہانہ اعتراضات سامنے لے آتے ہیں کہ جن کا اس موضوع یا متن سے دور دور تک کوئی طفلانہ تعلق بھی نہیں بنتا مگر انکی پیش کش اور لہجے کے تکبر سےایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے علم اپنے ازلی و ابدی ہر معانی میں صرف ان کے پاس ہی موجود ہے اور وہ اس خزانہ ء بے بہا کی ہر ممکنہ تعبیر کے بلا شرکت غیرےمالک ہیںپھر اس پر دوہرا ظلم یہ کہ ان بے سروپا اعتراضات کوسوال کے علمی دائرے سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی متن سے آگاہی کے بعد اس کی مختلف تعبیرات سے متعلق خالص علمی سوال مکالمے کے متنوع اسالیب سے متعارف کراتے ہیں اور ان سے ہی متن کی تعبیرات سے اصل آگاہی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔مگر ایسے بے سروپا اعتراضات جن کا اول و آخر منشا و مبدا موضوع سے آگاہی کی بجائے صرف اس موضوع یا متن سے برآمد ہونے والے مخالف بیانیہ سے متفق لوگوں کو الجھا کر زیرِ دست لانے کے سوا کچھ اور نہ ہو تو پھر مکالمہ کو مناظرہ میں بدلتے ہوئے چند لمحے درکار ہوتے ہیں۔ مکالمہ ایسے فکری ماحول میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اگر یہی سوال اور بحث کی دعوت متن سے آگاہی کے بعد خالص تعمیری نیت سے دی جا رہی ہو تو اس متن کے نا معلوم یا غیر معروف معانی اور تعبیرات کی طرف کئی راہیں کھل سکتی ہیں.اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف کا خالص تعمیری پہلو دوسرے مکتبہ فکر کی نظر میں تخریبی پہلو قرار پا سکتا تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مکالمے کے تعمیری پہلو سے مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہر دو نکتہ نظر کسی ایک پہلو پر ہر صورت متفق ہوں مکالمے کے ممکنہ نتائج میں سے ایک نتیجہ کسی ایک خاص مقام پر دونوں کے مابین اتفاق کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے مگر یہ نہ بھی ہو تو ایک ہی متن کی مختلف تعبیرات کے رد و قبول کے معیارات کا تعین ہو جانا، اس متن کی ہر تعبیر کا سماجی و تہذیبی سطح پر دائرہ کار کا طے ہونا اور یہ بھی نہ ہو تو کم از کم باہمی اختلاف کا خالص علمی اظہار ہی اگر ہو تب بھی یہ سارا عمل ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے ہم اور کچھ نہیں تو مکالمے کی مبادیات سے ہی واقف ہو جائیں تو ہماری ذاتی زندگی سے لے کر سماجی زندگی کے کئی حوالوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی تشکیل میں اس پہلو پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا اور اس خلا کے مہلک نتائج میں سے سب سے کم تر نتیجہ ہر سطح کی عدم برداشت کا وائرس ہے جو اس وقت کم از کم ہمارے معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے. . Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Suniya Daar

نفسیاتی شفا کا فلسفہ

سنیہ ڈار جب ہم کسی اور کی کہانی میں خود کو دیکھتے ہیں، تو اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔درحقیقت تو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے، لیکن ہمیں اس بات کا ڈر بھی ہوتا ہے کہ ہمیں واقعی پہچان لیا جائے۔ ہم تھراپی میں اپنے مسائل کو ایک قیمتی خزانے کی طرح تھامے آتے ہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ ہم شروع سے ہی غلط سوالات پوچھتے رہے ہیں۔ ہمارے سب سے گہرے زخم اکثر اوقات اُن باتوں یا واقعات ہی کی وجہ سے نہیں ہوتے جو ہمارے ساتھ ہوئیں، بلکہ اُن کہانیوں سے ہوتے ہیں جو ہم نے زندہ رہنے کے لیے اپنے اندر تخلیق کر لیں اور ہم ان کہانیوں میں جینے لگے۔ سچ خاموشی سے آتا ہے، اُن چھوٹے لمحوں میں جب ہم آخرکار تکلیف دہ حقائق کا سامنا کرنے سے بھاگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہم اندر کی کہانیوں میں اپنے فرار حاصل کرنے کو چیلنج کرتے ہیں۔ اپنی ذات اور زندگی کے جن حصوں کو ہم سب سے زیادہ چھپاتے ہیں، اور اپنے جن حقائق سے ہم بھاگتے رہتے ہیں انہیں جرات اور وقار سے دیکھ پانے اور قبول کر پانے سے ہی شفا کا آغاز ہوتا ہے۔ تھراپی میں بیٹھے دو عام انسانوں کے درمیان اکثر آنسو بہتے ہیں، جبکہ ایک ہر چیز کو ٹھیک کرنے کی خواہش سے لڑ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اپنے ایک ہاتھ میں توثیق و تسلی اور دلاسے کے ساتھ دوسرے ہاتھ میں آئینہ لیے بیٹھا ہوتا ہے تا کہ لڑنے والا اس میں اپنی ذات اور حقائق کا عکس دیکھ سکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کبھی کبھی مدد اور اصل حل بس یہی ہوتا ہے کہ دردناک لمحات میں ساتھ موجود رہا جائے اور خود سے حالت جنگ میں مبتلا انسان کا اپنے ہی اندر موجود اس کے اپنے مسیحا سے تعلق بحال کیا جائے ۔ ہم مسائل کا فورا حل چاہتے ہیں ، جبکہ بعض اوقات اُنہیں حل کرنے کی بجائے صرف تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم غیر محسوس جذبات کے ساتھ بیٹھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، اور جلد حل ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اصل تعلق کامل الفاظ میں نہیں ہوتا — بلکہ اُس ہمت میں ہوتا ہے جو ہمیں روکے رکھتی ہے جب دل چاہتا ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ دیں۔ ہماری گہری شفا تب آتی ہے جب ہمیں واقعی دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے، اور جب ہمارا تانہ بانہ ہمارے اندر کے مسیحا سے جڑ جاتا ہے نہ کہ جب ہمیں کوئی جواب یا حل ملتا ہے۔ ایک تشخیص اچانک سامنے آتی ہے، جو ہمارے خود کو دیکھنے کا انداز بدل دیتی ہے اور عام لمحوں کی خوبصورتی کو بے نقاب کرتی ہے۔  ہمیں آزادی تب ملتی ہے جب ہم موت سے انکار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور زندگی کی مختصر مدت کو قبول کرتے ہیں۔ ہم جینے کو مؤخر کرتے ہیں، کامیابیوں اور کامل رشتوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ انجام کا خوف ہمیں حقیقی آغاز سے روکے رکھتا ہے۔ ہمارا محدود وقت کوئی ظالمانہ مذاق نہیں — بلکہ وہ چیز ہے جو ہر چیز کو معنی دیتی ہے۔ وقت قیمتی تب بنتا ہے جب اُس کی حدود ہوں؛ محبت گہری تب ہوتی ہے جب ہم اُس کی نازکی کو پہچانیں۔ ہماری فانی حیثیت خوشی کو برباد نہیں کرتی — وہی تو اُسے جنم دیتی ہے۔“کچھ بھی کام نہیں کر رہا”، ہم کہتے ہیں، حالانکہ ہم وہی پرانے طریقے دہراتے رہتے ہیں ایسے بہت کچھ سے اپنی نظریں چرا کر جو موجود تو ہے لیکن ہمارے لیے نیا ہے اور پرانے طریقوں پر زندگی گزارتے رہنے کا کمفرٹ ہی وہ چیز ہے جو ہمیں مطلوبہ زندگی سے دور رکھتا ہے۔ ہمارے اندر کا ایک بڑا فریب یہ ہوتا ہے کہ تبدیلی بڑے بڑے ڈرامائی فیصلوں سے آتی ہے، جبکہ تبدیلی درحقیقت مسلسل لیے جانے والے بہت چھوٹے چھوٹے قدموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم کسی بجلی کے کوندنے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ ایک سادہ، سچا سوال کرنے، ایک حد مقرر کرنے، یا ایک لمحے کے لیے کمزوری دکھانے کی طاقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ترقی بڑی بڑی باتوں میں نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے تجربات میں ہوتی ہے جہاں ہم نئے طریقے آزماتے ہیں۔ آگے کا راستہ کسی اچانک وارد ہونے والی بصیرت سے نہیں، بلکہ ایک غیر یقینی قدم اٹھانے اور پھر اٹھاتے رہنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہماری شفا کسی کامل فہم سے نہیں، بلکہ روزانہ کی گئی چھوٹی سی مشق اور  نامکمل ہمت سے آتی ہے

Scroll to Top