Absar Fatima

Absar Fatima

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 7

اب مارل بولے گا قسط 7 مارل اب روز، جب بھی راہداری ویران دیکھتا کچھ دیر کے لیے ماروی کی تصویر نما خطاطی کے سامنے کھڑا ہوجاتا۔ شروع شروع میں جب اسے لگا تھا کہ ماروی اس سے بات کر رہی ہے۔ اور سن پارہی ہے۔ اس نے اسے بہت کچھ بتانا چاہا۔ مگر کچھ کہنے کی بجائے حلق میں ہی آواز گھٹ گئی اور کئی دن بس یوں گزر گئے کہ وہ آتا، ماروی کے سامنا کھڑا ہو کے روتا رہتا اور پھر آنسو پونچھ کے دوبارہ کاموں میں لگ جاتا۔ مگر اب آہستہ آہستہ وہ ماروی سے باتیں کرنے لگا تھا۔ پہلے دن کے بعد سے دوبارہ کبھی ماروی نے جواب نہیں دیا تھا مگر اسے ابھی بھی لگتا تھا کہ ماروی اسے سن رہی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی دوبارہ اسے پکارے گی۔وہ اسے بتاتا کہ اکثر راتوں میں اس پہ کیا گزرتی ہے۔ درد ختم نہیں ہوا تھا مگر اب برداشت کے قابل لگنے لگا تھا۔ جیسے ابلتے پانی میں کوئی تھوڑا سا ٹھنڈا پانی ملا دے۔ اور کچھ لمحوں کے لیے ابال کو چھپا دے۔ —————- فرزانہ کو نہیں پتا کہ شمائلہ نے نور علی سے کچھ کہا یا نور علی خودہی کچھ سمجھ گیا مگر اس دن گھر آکر فرزانہ کو خود کہنے کے ضرورت نہیں پڑی کہ وہ گاؤں جانا چاہتی ہے۔ کچھ دیر تو گھر پہنچ کر دونوں کے درمیان ان دیکھا کھنچاؤ رہا، فرزانہ خاموشی سے باورچی خانے میں چائے بنانے لگی اور نور علی لاؤنج میں نیچے کارپیٹ پہ لیٹ گیا۔ فرزانہ نے لاکر چائے نور علی کے سرہانے کے قریب رکھ دی اور پلٹ کر جانے لگی۔ “فئیری! اس ہفتے کو گوٹھ چلتے ہیں۔” فرزانہ نے پلٹ کر دیکھا تو نور علی گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ پوچھے اگر شمائلہ نے اس سے کوئی بات کی ہے لیکن پھر خود ہی لگا کہ ابھی اس بات کے لیے مناسب وقت نہیں۔ وہ ابھی بھی دل و دماغ میں جذبات پکتے محسوس کر رہی تھی۔ کوئی ایک بات بھی اونچی نیچی ہوتی تو آسانی سے بگڑ جاتی۔ دو ہی دن تو رہ گئے تھے ہفتہ آنے میں۔ ” ٹھیک ہے۔ سادہ کپڑے لے کر چلوں یا وہاں کوئی دعوتوں کا ارادہ ہوگا؟” ” ہاں، زیادہ تر تھوڑے ہلکے فینسی کپڑے ہی رکھ لو۔ پہلی دفعہ وہاں چل جائیں گے۔ دعوتوں کا ابھی مجھے بھی نہیں پتا۔” “اور برقعہ وغیرہ؟” “برقعہ وہاں کم خواتین ہی پہنتی ہیں، اس کی فکر نہ کرو، چادر یا بڑے دوپٹے سے کام چل جاتا ہے۔ ویسے بھی میرا ارادہ ہے کہ ادا رفیق کی گاڑی لے چلیں۔ گھر کے اندر اتریں گے وہیں سے واپسی۔” “تم نے کہا تھا کہ ادا رفیق نے گاڑی بیچ دی ہے۔” “ہاں بیچی تھی نئی لینے کے لیے ناں، تو مہران بیچ دی آلٹو لے لی، دو ہفتے پہلے۔” فرزانہ بتدریج اپنے اعصاب کو پرسکون ہوتا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔“تمہارے ادا رفیق کے پاس ٹھیک ٹھاک پیسہ ہے۔” نور علی نے فئیری کی بات پہ شرارتی انداز میں بھنویں اچکائیں جیسے دونوں کو پتا ہو کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔ دو دن کیسے یک دم گزر گئے پتا ہی نہیں چلا۔ جب تک گاڑی ہائی وے پہ چلتی رہی سفر کسی بھی دقت کے بغیر طے ہوتا رہا۔ مگر جیسے ہی گاڑی نے اندرونی رستوں کی جانب رخ کیا دھول اور دھچکوں نے غنودگی میں جاتی فرزانہ کو مکمل طور پہ جگا دیا۔ اردگرد نظر آتے کھیت کافی دلفریب تھے مگر غیر ہموار سڑک سے گزرنا کافی صبر آزما تھا۔ “نور، یہ وڈیرے خود ہی الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں خود ہی جیتتے ہیں تو سڑکیں کیوں نہیں بنواتے یار۔” فرزانہ بہت دیر تک اپنے اندر گھونٹتے سوال کو لبوں تک لے ہی آئی۔ نور علی نے اسٹئرنگ سے ایک ہاتھ اٹھا کے انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھی۔ ” ابھی چند دن سب صرف غور سے دیکھو۔” “یہ کیا بات ہوئی۔” “کچھ عوامل تم خود دیکھو گی تو ان کا پس منظر بتانا اور ان کے سرے جوڑنا آسان ہوگا۔”” ہمم ٹھیک ہے۔” گاڑی کچھ ہی دیر بعد بالآخر ایک بڑے احاطے میں داخل ہوگئی۔ احاطے میں گیٹ کے ساتھ کچی پکی ملی جلی اینٹوں سے کچھ دور تک دونوں اطراف میں دیوار بنی تھی مگر کچھ آگے جاکر وہ دیوار جھاڑیوں سے بنی باڑھ میں بدل گئی تھی۔ دائیں طرف چار بھینسیں بندھی تھیں، ان سے کچھ دور تین بکریاں تھیں۔ چند مرغیاں اور بطخیں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔ ان میں سے ہی ایک سرمئی اور بھوری بطخ کو مٹک مٹک کے چلتے دیکھ کر فرزانہ کی نظر اس کے ساتھ بندھ سی گئی بطخ قریب ہی گزرتی پانی کی ایک لکیر کے پاس جاکر رک گئی۔ یہ لکیر کہیں پیچھے سے بہتی ہوئی آرہی تھی۔ فرزانہ کی نظریں اس لکیر سے پیچھے پانی کا منبع تلاش کرنے لگیں جو جلد ہی مل گیا کچھ ہی دور سیمنٹ سے بنے چوکور سے ٹکڑے پہ ایک ہینڈ پمپ لگا تھا جہاں کی نالی سے یہ پانی بہتا ہوا آگے کہیں احاطے سے باہر نکل رہا تھا۔ اسی سیمنٹ کے ٹکڑے کے ساتھ تین سیڑھیوں کی بلندی پہ دو کمرے ایک ساتھ بنے ہوئے تھے جن سے آتی مخصوص بو سے اندازہ ہوا کہ وہ غسل خانہ اور بیت الخلاء ہیں۔ بو کے باوجود فرزانہ کو کچھ سکون محسوس ہوا۔ “فرزانہ!” نور علی کی آواز اور انداز دنوں پہ ہی وہ چونکی۔ اپنے فرزانہ کہے جانے پہ اس نے شرارتی طنز سے نور علی کو گھورا اور اس کے پیچھے چل دی۔ نور علی کا رخ بائیں طرف بنے کمروں کی طرف تھا۔ یہ دو بڑے بڑے کمرے تھے جن کے سامنے بر آمدے میں تین پلنگ رکھے تھے ان میں سے ایک پلنگ پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی تھیں۔ برآمدے کے کونے میں ایک چولہا رکھا تھا جس میں نور علی کی والدہ کی سی عمر کی ایک خاتون کچھ پکانے میں مصروف تھیں۔ فرزانہ کو ابھی تک ایک بھی شکل جانی پہچانی نظر نہیں آئی تھی۔ کھانا پکاتی خاتون کی نظر ان دونوں پہ پڑی تو وہ دوپٹہ سر پہ

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط نمبر 6

اب مارل بولے گا قسط نمبر 6 مارل!۔۔۔۔۔اسے کسی نے سرگوشی نما آواز دی۔وہ طویل راہداری کے ایک ہونے میں گھٹنوں میں سردئیے بیٹھا تھا۔ ابھی ابھی حاکم سائیں کے کمرے سے لوٹا تھا۔ اس کا بارہ سالہ وجود راہدری کے کونے میں بکھر سا گیا تھا۔ اسے ہر بار خود کو سنبھالنا شدید مشکل لگتا تھا۔ آج بھی وہ سانس لیتے رہنے کی، زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ جس کی خواہش اور ہمت روز بروز کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی۔آواز پہ اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سنسان راہداری میں اس کے علاوہ کوئی اور ذی روح موجود نہیں تھی۔ “مارل اوپر دیکھو”۔۔۔۔آواز دوبارہ آئی اس نے سر اوپر اٹھایا۔ راہداری کی دیواروں پہ شاہ لطیف کی شاعری کی خطاطی سے بنی سات سورمیوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اس کے بالکل سامنے والی دیوار پہ ماروی سے منسوب خطاطی آویزاں تھی۔ اسے یوں لگا جیسے اس خطاطی میں چھپے نقوش اس سے مخاطب ہوں۔ وہ اٹھ کر اس تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے خبر دیکھ کر ہونٹ بھینچ لیے۔ اس نے نظر اٹھا کے نور علی کی طرف دیکھا وہ بھی اپنے موبائل میں کچھ دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں دلچسپی اور لاتعلقی بیک وقت موجود تھیں۔ فرزانہ کو ایک لمحے کے لیے لگا وہ بھی وہی خبر دیکھ رہا ہے اور اس کی آنکھوں کے تاثر نے اسے بے چین کردیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے ایک دم ہی نور کو مخاطب کیا، ” نور!” اس کے لہجے میں شدید تیزی اور سختی تھی۔ نور نے سر اٹھا کے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں موجود دلچسپی کی جگہ تحیر آن ٹھہرا تھا۔ فرزانہ نے جارحانہ انداز میں اپنا موبائل نور کے سامنے رکھ دیا۔ جیسے جتانا چاہ رہی ہو کہ تم جو چھپانا چاہ رہے تھے وہ مجھے پتا چل گیا ہے۔ نور علی نے اپنا موبائل ٹیبل پہ رکھ دیا اور فرزانہ کا موبائل ہاتھ میں لے لیا۔ نور کے موبائل کی روشن اسکرین پہ ایک مختصر مزاحیہ وڈیو موجود تھی جو دو سے تین سیکنڈ چلتی اور پھر دوبارہ شروع ہوجاتی۔ نور کی نظریں فرزانہ کے موبائل پہ تھیں اور فرزانہ کی نور کے موبائل پر۔ تھوڑی ہی دیر بعد فرزانہ کو احساس ہوا کہ نور نے شاید خبر پڑھ لی ہے اور اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔“یہ تمہارا ڈسٹرکٹ ہے ناں؟” فرزانہ نے کوشش کی کہ اس کا لہجہ جارحانہ نہ رہے مگر شاید ابھی بھی کچھ اسی لہجے کا شائبہ باقی رہ گیا تھا۔ “ہاں! تو؟” نور علی کے سوال پہ فرزانہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھی رہی۔ “تم نے یہ خبر دیکھی تھی…؟”“نہیں، ابھی تم نے دکھائی تو پتا چلا۔” فرزانہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ “تم اس فیملی کو جانتے ہو؟” “نہیں یار، مجھے کیسے پتا ہوسکتا ہے۔ یہ کافی دور کے گوٹھ کی خبر ہے۔ بس ڈسٹرکٹ ایک ہے۔ اور ویسے بھی ایسی خبریں تو روز آتی ہیں اخباروں میں۔ ““روز آتی ہیں تو کیا اہمیت ختم ہوجائے گی؟” فرزانہ کا لہجہ دوبارہ تیز ہوگیا اسے لگا نورعلی اس واقعے پر اپنا اور علاقے کا دِفاع کررہا ہے۔“نہیں یار، اہمیت ہے بہت اہمیت ہے۔ مگر ہر واقعے میں متاثرہ خاندان کے بارے میں معلوم ہونا ضروری نہیں ناں۔ دیہاتوں میں ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ کبھی سچے ہوتے ہیں کبھی بس آپس کے جھگڑوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔” “مطلب بچہ جھوٹ بول رہا ہے؟” فرزانہ کا غصہ کچھ مزید بڑھ گیا۔ “فئیری کیا ہوگیا ہے؟ اس میں غصے کی کیا بات ہے۔ اور وہ بھی پبلک پلیس پہ؟ میں نے اس خبر کے بارے میں کب کہا۔ میں تو عمومی واقعات کی بات کر رہا تھا۔ گھر چل کے بات کریں اس پہ؟” فرزانہ نے چند لحظے اس دیکھا پھر خاموشی سے اپنا موبائل اس کے ہاتھ سے لے کر کینٹین سے باہر نکل گئی۔ نور علی بھی فوراً ہی نکل آیا مگر تب تک فرزانہ لفٹ میں سوار ہوچکی تھی اور لفٹ کا دروازہ بند ہورہا تھا۔ اپنی ٹیبل پہ آکر فرزانہ بہت دیر تک اسی خبر کے بارے میں سوچتی رہی۔ خبر کی تفصیل نے اسے ذہنی اور جذباتی طور پہ مضطرب اور منتشر کردیا تھا۔ زیادتی کرنے والے لڑکے اس بچے کے دوست بھی تھے اور ایک ہی ذات سے تعلق رکھتے تھے اس لیے رشتے دار بھی تھے۔ فرزانہ کو اندازہ تھا کہ اکثر دیہات میں ایک ذات کا مطلب رشتے دار ہونا ہی ہوتا ہے۔ فرزانہ سوچے جارہی تھی کہ کوئی اپنے رشتے دار بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ خاص طور سے جس سے دوستی کا دعویٰ ہو۔ اسے ساتھ ساتھ نور علی کے رویے پہ بھی غصہ آرہا تھا۔ وہ اس خبر کو اتنا معمولی کیسے لے سکتا تھا۔ اگر خدا ناخواستہ وہ ہمارا بچہ ہوتا۔ فرزانہ نے یہ سوچ آتے ہی آنکھوں کو زور سے بھینچا اور سر کو ایک دم جھٹکا جیسے اس سوچ کو فوراً دماغ سے جھٹک دینا چاہتی ہو۔ وہ ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچ کر کہ جس کا دنیا میں آنے کا پتا بھی نہیں تھا اتنی پریشان ہو گئی تھی اور نور۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے اپنی کیفیت سے گھبرا کے ساتھ بیٹھی شمائلہ کو پکارا۔” شمائلہ” ” ہمم” شمائلہ کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود فائل پہ تھیں۔ “ارے یار ادھر دیکھو۔ میری بات سنو ذرا” “ہاں بولو۔” شمائلہ نے فائل جزوی انداز میں یوں بند کرلی کہ بند فائل میں بھی اس کی شہادت کی انگلی بک مارک کی طرح اس صفحے پہ تھی جو وہ پڑھ رہی تھی۔ ” یار لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کیسے کر لیتے ہیں؟” فرزانہ کے لہجے میں بے یقینی اور دکھ ایک ساتھ تھا۔” کیوں تم نے پیڈوفائلز کے بارے میں نہیں سنا۔”” ہاں سنا ہے۔ نیٹ پہ سرچ کرکے تفصیل بھی پڑھی ہے۔ مگر پھر بھی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ جنسی کشش تو ایک خوبصورت رومانوی جذبہ ہے۔ یہ پھول جیسے معصوم بچوں پہ تشدد کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں لوگ؟” “عجیب بات کردی محترمہ، کون سے یوٹیوپیا کی بات

اب مارل بولے گا قسط 5
Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 5

اب مارل بولے گا قسط 5 مارل تاریک کمرے کے کونے میں اپنے بستر پہ لیٹا خلاء میں دیکھے جارہا تھا۔ پورے دن جو جو اس پہ گزرا سب کچھ نظروں کے سامنے بار بار چل رہا تھا۔ وہ شدید تھکا ہوا تھا۔ آنکھیں جل رہی تھیں مگر وہ سونا نہیں چاہتا تھا۔ بہت دیر تک نیند سے لڑتے لڑتے تھک گیا اور اسے پتا ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ آنکھیں بند ہوتے ہی دماغ میں چلتے عکس اور واضح ہوگئے۔ جیسے وہ سب دوبارہ ہورہا ہو۔ حاکم سائیں کے ہاتھ نے اس کے منہ اور ناک کو یوں ڈھانکا ہوا تھا کہ اس کی سانسیں مشکل سے چل رہی تھیں۔ گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔ اور پھر ہوتے ہوتے وہ گھٹن اتنی بڑھ گئی کہ یک لخت اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پورا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور مسلسل کپکپا رہا تھا۔ اس کا جاگنا سونا اسی ایک اذیت کے گرد گھومتے رہتے تھے۔ دن میں گزارے اذیت کے چند لمحے پوری رات خوابوں پہ حاوی رہتے۔ اس کی آنکھیں لال رہنے لگی تھیں۔ چہرے پہ نقاہت چھائی رہتی تھی۔ مگر اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہونے والا اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ ـ ————- فرزانہ کو اب جاکر وہ خوشی اور اطمینان محسوس ہونے لگا تھا جس کا اس نے نور علی کے ساتھ تصور کیا تھا۔ آفس سے آکر چائے پیتے ہوئے دنیا جہان کی باتیں کرنا، کبھی ساتھی کام کرنے والوں کی غیبتیں، کبھی نظام کی خرابیاں کبھی معاشی مسائل اور مہنگائی پہ تبصرے جو اکثر بیچ میں ہی کہیں رہ جاتے اور دونوں ایک دوسرے کے لمس کی نئی نئی جہتیں دریافت کرنے میں مگن ہوجاتے۔ مگر ہفتہ اتوار آتے ہی اس میں چھوٹا سا وقفہ آیا۔ شادی سے پہلے نور علی کا معمول رہا تھا کہ وہ مہینے کے دو ویک اینڈز گاؤں میں گزارتا تھا ہفتہ اتوار تو چھٹی ہوتی ہی تھی وہ جمعے کی بھی کرلیا تھا تھا۔ اس بار ایک ہفتہ تو ان کی شادی کا ہنگامہ رہا اگلے ہفتے تک امی اور تائی یہیں تھیں۔ لہٰذا اس دفعہ ہر حال میں جانا ضروری تھا۔ فرزانہ ذہنی طور پہ تیار تھی کہ یہ اس کا سسرال میں پہلا قیام ہوگا جمعرات کو آفس سے آتے ہی نور علی کو چائے دے کر وہ کمرے میں چلی گئی تاکہ لے جانے والے کپڑے نکال سکے۔ پہلے تو کچھ کپڑے بیڈ پہ رکھ کے تجزیہ کرتی رہی کہ کون سا جوڑا لے جانا مناسب لگے گا پھر سوچا نور علی شاید بہتر مشورہ دے دے۔ اسے فرزانہ کی شخصیت کا بھی اندازہ ہے اور اپنے گھر والوں کی پسند نہ پسند کا بھی۔ فرزانہ کے آواز دینے پہ نور علی چائے کا کپ ہاتھ میں لیے کمرے میں آگیا۔ دروازے سے اندر آتے ہوئے بھنوؤں کو سوالیہ انداز میں خفیف سے اچکایا۔” یار بتاؤ ناں کون سا سوٹ لے کر جانا ہے۔” ” کہاں” ” گوٹھ جانا ہے ناں۔” ” آج تھوڑی جانا ہے۔ کل جاؤں گا۔” “جاؤں گا کیوں؟ میں بھی تو چلوں گی۔” فرزانہ کے لیے نور کا صرف اپنے لیے کہنا غیر متوقع تھا۔ “تمہارے چلنے کی تو بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ نہ میں نے ابھی وہاں بتایا ہے کہ تم آؤ گی۔” “یہ کیا بات ہوئی۔ اب شادی ہوگئی ہے تو میں بھی تو جایا کروں گی ناں وہاں یہ کوئی الگ سے بتانے کی بات ہے۔” فرزانہ تھوڑی چڑ گئی” ہاں کم از کم پہلی دفعہ جانے پہ تو الگ سے بتانے کی بات ہی ہے۔ وہاں سارے مائٹر (رشتہ دار) دعوت وغیرہ رکھیں گے۔ اماں وڈی نے خیرات اور میلاد وغیرہ رکھنے کا کہا ہے تو انہیں کچھ دن پہلے سے بتانا ہوگا۔ عید پہ چلنا تو چھٹی زیادہ لے کر چلیں گے۔ یہ سارے کام نمٹا لیں گے۔” “یعنی یہ پہلے سے طے تھا؟ اور تم نے مجھے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی۔” “مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی جلدی وہاں جانے کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہوگی۔ ابھی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی زیادہ وقت نہیں ملا۔ ان لوگوں کو بھی تم زیادہ سمجھ نہیں پائیں۔ مجھے لگا تم بھی ابھی شاید نہ جانا چاہو۔” “خود ہی میری طرف سے اندازے لگا لیے۔ یہ کیا بات ہوئی۔” ” نہیں یار اندازہ لگانے کی بات ہی نہیں۔ تمہاری کسی بات سے اندازہ بھی تو نہیں ہوا تھا کہ تم جانا چاہ رہی ہو۔ آج تم نے بات کی تو میں نے بھی بتادیا۔ خود سے میں کہنا نہیں چاہتا تھا کہ تمہیں یہ نہ لگے کہ میں زبردستی تم پہ ملنے ملانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہوں۔” نور علی کی بات مناسب بھی تھی اور لہجہ بھی سادہ تھا اس کے باوجود فرزانہ کو اچھا نہیں لگا۔ کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے نور علی اپنے گھر والوں کے کہنے پہ اسے گاؤں نہیں لے جارہا۔ ” خیرات اور میلاد کرنی ہے یا ایک ‘دھاری’ کو وہ لوگ خاندان میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔” لاشعور میں دبا یہ لفظ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دم اس کی زبان پہ آگیا۔ “تمہیں کس نے کہا” نور علی کا لہجہ کسی قدر جارحانہ ہوگیا۔” براہ راست تو مجھے نہیں کہا لیکن کئی دفعہ اپنے متعلق بات چیت میں یہ لفظ اپنے حوالے سے سننے میں آیا۔” ” اوہ اچھا، تو اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے؟” پھر کچھ سوچ کے پوچھا۔ ” تمہیں دھاری کے معنی پتا ہیں؟” “نہیں، اور مسئلہ لفظی معنی میں نہیں ان کے لہجوں میں ہے جیسے دھاری کوئی بہت بری عورت ہوتی ہے۔” ” ارے یار کوئی بری عورت نہیں ہوتی سادہ سا لفظ ہے دھار یعنی الگ اس سے دھاری یعنی الگ خاندان کی، اس حساب سے میری امی بھی دھاری ہیں۔ کیوں کہ میرے والد سے ان کا نکاح عوض میں ہوا تھا میرا ننھیال بھی ادھر کا ہی ہے لیکن ذات الگ ہے۔” پھر وہ اس کے قریب آگیا نرمی سے کپڑے لے کر ایک طرف رکھے اور پیچھے سے اس کے شانوں پہ بازو پھیلا کر ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا۔ “فئیری دیکھو، سو فیصد سب

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 4

اب مارل بولے گا قسط 4 تحریر ابصار فاطمہ مارل شاہی بازار کی آخری دکان کی اوٹ سے بچوں کے جھنڈ کو گزرتے دیکھ رہا تھا۔ اس میں اکثر بچے اسی کی عمر کے تھے۔ یہ بھی سارے بچے غریب ہاریوں کے تھے نہ تن پہ مکمل کپڑے نہ پیر میں چپل۔ مگر وہ خوش تھے۔ ان کے قہقہوں میں کھنک تھی۔ مارل کو نہیں یاد وہ کب دل سے ہنسا تھا۔ وہ ہنستا بھی تھا تو آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ اس کے تن پہ بھی ویسا ہی سادہ لباس تھا۔ مگر اس کی تقدیر ان کی تقدیر سے بہت مختلف تھی۔ اتنی مختلف کہ چہرے کے نقوش کے ساتھ کھدی تھی۔ اسی ٹولے میں سے کسی کی نظر اس پہ پڑی اس نے وہیں سے آواز لگائی اوو کارا۔۔۔۔ اووو کارا۔۔ مارل فوراً دیوار کی اوٹ میں چھپ گیا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ سخت، گھونگھریالے بالوں سے پسینے کے قطرے بہتے ہوئے چہرے تک آگئے تھے۔ قہقے قریب آرہے تھے کچھ دیر پہلے کے بے فکر قہقہوں میں کھنک کہ جگہ اب حقارت کی سختی عود آئی تھی۔ —– —— —— —— سب کچھ بہت جلد نمٹ گیا۔ یا شاید خود بخود کیا نمٹتا اسی نے جیسے بس کر گزرنے کی ٹھان لی تھی۔ کسی اگر مگر کو دماغ میں نہیں آنے دیا تمام خدشوں کو اپنے لاشعور میں کہیں دفن کردیا۔ اور ایک ماہ کے اندر اندر وہ فرزانہ نور علی بن گئی تھی۔ رخصت ہوکر وہ اسی شہر کے ایک فلیٹ میں گئی جو نور علی نے رشتہ طے ہوجانے کے بعد کرائے پہ لیا تھا۔ لیکن ایک بات جو اس کے اور نور علی کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھی وہ یہ کہ یہ گھر صرف نور علی کے نام سے کرائے پہ نہیں لیا گیا تھا اس کا کرایہ اور گھر میں آنے والے سامان کا خرچ دونوں کا آدھا آدھا تھا۔ کرایہ نامہ دونوں کے نام بنا تھا کوئی کسی دوسرے کو یہ کہہ کر گھر سے نہیں نکال سکتا تھا کہ یہ میرا گھر ہے۔ کئی اور بہت سی چھوٹی بڑی شرائط تھیں جو ان دونوں کے درمیان بہت پہلے سے طے تھیں لیکن نکاح نامے میں درج نہیں تھیں کیوں کہ اگر یہ مسئلہ دونوں خاندانوں کے بیچ رکھا جاتا تو نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی جو کم از کم فرزانہ فی الحال بالکل نہیں چاہتی تھی۔ اسے پتا تھا یہ ان دونوں کے درمیان کا معاملہ ہے جسے وہ دونوں ہی آپس میں نمٹائیں تو بہتر ہے۔ اس کے باوجود یہ کمزور سا نکاح نامہ جس پہ اس کے تحفظ کے لیے ایک بھی شرط موجود نہیں تھی مسلسل اسے عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر رہا تھا۔ اس نے کئی بار خود کو یقین دلایا کہ مسئلہ نکاح نامے میں نہیں ہے بس وہ پچھلے تجربے سے ڈری ہوئی ہے۔ نور علی کے تقریباً تمام ہی رشتے دار شہر آئے ہوئے تھے۔ ساری خواتین تو اسی فلیٹ میں تھیں اور مردوں کے لیے اسی عمارت کی ایک اور منزل پہ انتظام کیا ہوا تھا۔ ان مہمانوں میں نور علی کی بیٹی مومل بھی شامل تھی جو زیادہ تر اپنی دونوں پھپھیوں میں سے کسی کے پاس نظر آتی تھی۔ یا جیسے ہی اسے نور علی، فرزانہ سے دور نظر آتا تو اس کے پاس لگ کے بیٹھ جاتی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کا دل شرمندگی اور دکھ کے احساس سے بوجھل سا ہوجاتا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے کوئی ردعمل دینے سے احتراز کیا۔وہ پہلے نواز علی کے گھر کے ماحول کو سمجھنا چاہتی تھی۔ جو فی الحال اسے ناممکن سا لگ رہا تھا۔ اسے کسی حد تک سندھی سمجھ آجاتی تھی لیکن دیہاتی لہجے میں بلند آواز سے بیک وقت بولتی تمام خواتین کی ایک بات بھی سمجھ نہ آپاتی، کچھ وہ بھی اسے دیکھتے ہی کھسیانے سے انداز میں خاموش ہوجاتی تھیں۔ ہاں ایک لفظ جو تواتر سے اس کے کان میں پڑ رہا تھا وہ تھا “دھاری” اور لاشعوری طور پہ اسے لگا کہ یہ لفظ اس کے لیے ہی استعمال ہورہا ہے۔ اس نے یہ تمام اہم غیر اہم لیکن دماغ میں چبھتی رہنے والی باتیں جمع کرکے رکھ لیں تھیں تاکہ کچھ وقت گزرنے کے بعد نور علی سے ان پہ بات کرسکے۔ ولیمے کے دو دن کے اندر اندر اکثر رشتے دار واپس چلے گئے۔ مومل بھی اپنی پھپھیوں کے ساتھ ہی گاؤں چلی گئی اب یہاں فرزانہ کے ساتھ صرف نور علی کی والدہ اور تائی رہ گئیں۔ نور علی کی والدہ چھریرے سے بھی کچھ دبلے جسم کی حامل متحرک سی خاتون تھیں جنہیں فرزانہ نے اتنے دن کچھ نہ کچھ کرتے ہی پایا۔ جب کہ تائی ذرا بھاری جسم کی خاتون تھیں جو اکثر ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی تھیں لیکن جہاں وہ بیٹھتی تھیں ساری خواتین بھی اسی جگہ ان کے گرد بیٹھ جاتی تھیں۔ فرزانہ نے غور کیا تھا کہ اکثر گفتگو کی پتوار انہی خاتون کے ہاتھ میں رہتی تھی اور وہ اپنی مرضی سے گفتگو کا رخ موڑتی رہتیں تھیں۔ ان کا باقی سب کے جانے کے بعد بھی رکنا فرزانہ کے اعصاب کو کسی حد تک کشیدہ کر رہا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اس قسم کی خاتون ہیں جن کی ہر چیز پہ نہ صرف گہری نظر ہوتی ہے بلکہ ایک غیر متزلزل قسم کی رائے بھی ہوتی ہے۔ نور علی نے بتایا تھا کہ وہ اس کے تایا کی پہلی بیوی تھیں خاندان کی سب سے بڑی بہو۔ پھر تقریباً آٹھ سال اولاد کا انتظار کرنے کے بعد تایا کی دوسری شادی کروا دی گئی لیکن بڑی تائی کو باقاعدہ گھر کی خواتین کا سربراہ بنادیا گیا تاکہ انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ یہ بات نور علی نے بہت فخر سے بتائی تھی اور فرزانہ خود بھی کسی حد تک گاؤں کے اس چلن سے متاثر ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ ان کے رکنے پہ گھبراہٹ کا شکار تھی ان کی اس کے لیے بنی رائے ہمیشہ کے لیے پورے خاندان میں اس کی حیثیت کا تعین کردیتی۔ وہ مسلسل خود کو دل ہی

Absar Fatima

اب مارل بولے گا(قسط 3)

اب مارل بولے گا(قسط 3) مارل بہت کچھ دیکھ رہا تھا۔ کچھ اسے سمجھ آتا تھا اور بہت کچھ وہ سمجھے بغیر دیکھ بھی رہا تھا اور جھیل بھی رہا تھا۔ وہ بارہ دری میں کھڑا پہاڑی سے نیچے گزرتے سندھو دریا کو دیکھ رہا تھا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور کچھ میر بحر اپنی آبی اشیانوں کو کھیتے بہاؤ کی مخالف سمت جارہے تھے ان میں سے ہی ایک ملاح سر سامونڈری میں شاہ لطیف کا کلام اونچی آواز میں گاتا جارہا ہے۔ کچھ ہی دیر پہلے یہاں محفل سجی ہوئی تھی۔ وہاں بھی شاہی راگی شاہ سائیں کا کلام سر سامونڈری ہی گا چکے تھے۔ مگر ملاح کی آواز میں ایک استحقاق تھا۔ جیسے اسے بات کا فخر ہو کہ سُر اس کے لیے ہی تخلیق کیا گیا ہے۔ فضا میں ملاح کے گیت اور چپوؤں کی پانی میں غوطے لگانے کی آوازیں مدھر آہنگ کے ساتھ بتدریج بڑھتے بڑھتے معدوم ہونے لگیں۔ مارل کی نظریں بہت دور تک کشتیوں کا تعاقب کرتی رہیں اور پھر کناروں پہ آکر ٹک گئیں جہاں سندھو چھلکنے کو بےتاب لگ رہا تھا۔ اس نے سنا تھا سندھو کی موجیں ہر کچھ سال بعد قربانی مانگتی ہیں تبھی اس کی روانی رہتی ہے۔ اسے نہیں پتا تھا کہ اس کے اندر کا سندھو اگر چھلکا تو کتنی قربانیاں لے گا۔ مگر اسے یہ اندازہ تھا کہ اس کی قربانی یقینی ہے۔ ————— گھر پہ وقتاً فوقتاً شروع ہو جانے والی بحثوں کا اثر یہ ہوا کہ اب تقریباً روز ہی اس کی اور نور علی کی بات چیت تلخ کلامی پہ ختم ہونے لگی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ گاؤں کی زندگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکے اور نور علی کو لگتا تھا کہ وہ گاؤں میں چلتے مسائل پہ اسے قصور وار ٹہرا رہی ہے۔ وہ بے دھیانی میں اپنی میز پہ بیٹھی بال پوائنٹ کی نب کبھی کھولتی تھی کبھی بند کرتی تھی۔ جنوری کی سرد خاموش دوپہر میں پین کھلنے بند ہونے کا شور پورے کمرے میں گونج رہا تھا لیکن اس کے دماغ میں مچلتے شور کے درمیان یہ آوازیں شاید بالکل ہی غیر اہم تھیں کہ وہ انہیں خود تک رسائی کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔وہ پچھلے دو ماہ سے اتنے شدید ذہنی دباؤ میں آگئی تھی کہ کبھی کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی اس لمحے کو کوستی جب نور علی نے جذبات کو الفاظ دئیے تھے۔ انہی الفاظ کو جن کی منتظر وہ مہینوں سے تھی۔“فئیری۔۔۔۔۔ فئیری۔۔۔۔۔” شمائلہ کی آواز پہ اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اس نے پین میز پہ رکھ دیا۔ کیوں کہ شمائلہ کی نظریں اس کے پین پہ ہی تھیں۔ وہ شاید کام کرتے ہوئے توجہ نہیں رکھ پارہی تھی۔“تم کب واپس آئیں؟” اسے تھوڑی حیرت ہوئی کہ اسے شمائلہ کے آنے پہ پتا کیوں نہیں چلا۔“کہاں سے واپس؟” “لنچ سے یار.” “محترمہ میں گئی کب تھی کھانے کے لیے؟” فرزانہ نے لاعلمی والے انداز میں کندھے اچکائے۔“آپ کو اپنے مجنوں سے فرصت ملے تو احساس ہو کہ باقی دنیا میں کیا چل رہا ہے۔” شمائلہ کے لہجے میں دوستانہ شرارت تھی۔ وہ ابھی تک اپنی سوچوں کے اثر میں تھی کہ مسکرا بھی نہیں سکی۔ “خیریت ہے؟ نور علی سے کوئی جھگڑا ہوا کیا؟” ” نہیں جھگڑا تو نہیں کہہ سکتے، اور اس کی وجہ سے میں پریشان ہوں بھی نہیں۔ یہ بحثیں ایک طرح سے ہمارے تعلق کا حصہ ہیں۔” “یہ وہ والا فلسفہ ہے کہ لڑائی سے محبت بڑھتی ہے۔؟” شمائلہ نے خفیف سا قہقہہ لگایا۔“نہیں اس مطلب میں نہیں۔ میرا مطلب ہے کہ ہم ہر موضوع پہ بات کر سکتے ہیں۔ اگر بحث میں ایک دوسرے سے متفق نہ بھی ہوں تو ایک دوسرے کے جذبات کے حوالے سے شک میں نہیں پڑتے۔” “یہ تو اچھی بات ہے۔ بیٹا ایسے میاں قسمت والیوں کو ملتے ہیں جن سے بات کی جاسکے۔ تمہیں تو میاں کی آفر میں دوست مفت مل رہا ہے۔” شمائلہ کے لہجے میں پرخلوص ستائش تھی۔ ان دونوں کو اس سرکاری ادارے میں ساتھ کام کرتے ہوئے تیسرا سال تھا۔ فرزانہ کی نوکری کو سات سال ہونے والے تھے شمائلہ اس سے نسبتاً سینئیر تھی۔ وہ چالیس سالہ، شادی شدہ عورت تھی۔ اس کی شخصیت میں واضح محسوس ہونے والا گھریلو سا احساس تھا۔ جو اکثر یہاں کے سرکاری اداروں خاص طور سے تعلیم سے متعلق محکموں میں موجود اکثر خواتین میں محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ ان سے ان کے آفس سے باہر کہیں ملیں تو کبھی نہ جان سکیں کہ یہ “ورکنگ ویمن” ہیں۔ بلکہ شاید وہ نوکری والی ہوتی بھی اسی لیے ہیں کیوں کہ نوکری سرکاری ہے۔ شمائلہ نے فرزانہ کو اپنی شادی کی جو تصاویر دکھائی تھیں ان سے احساس ہوتا تھا کہ وہ اس وقت ایک خوش شکل، خوش پوش لڑکی رہی تھی۔ لیکن اب شادی کے تقریباً تیرہ سال کے بعد اس کے چہرے پہ مستقل تھکن کے احساس نے نقوش میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ جسے وہ صبح صبح سفید فیس پاوڈر اور کاسنی لپ اسٹک سے کسی قدر مدھم کرنے میں کامیاب ہوجاتی تھی لیکن چھٹی کا وقت آنے تک مٹا مٹا سا میک اپ اسے مزید تھکن زدہ بنا دیتا تھا۔ اس وقت بھی اس کی لپ اسٹک قدرے مٹ چکی تھی اور بولتے ہوئے ہونٹوں کا اصل رنگ اندرونی گوشوں سے جھلک رہا تھا۔نور علی اور فرزانہ کا رومان شمائلہ کے سامنے ہی اپنے رنگ بدلتا یہاں تک پہنچا تھا۔ فرزانہ بہت غور سے شمائلہ کو بولتے دیکھ رہی تھی لیکن اس کا دماغ اپنے مسئلے میں ہی الجھا ہوا تھا۔ اسے مناسب لگا کہ وہ اس حوالے سے شمائلہ سے مشورہ کرلے۔ “تم بتاؤ! تمہارے خیال میں ہمارے گھریلو ماحول اور زبان کا فرق ہمارے آپس کے تعلق پہ بھی اثر کر سکتا ہے؟” فرزانہ کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ چاہتی ہے شمائلہ اسے سب اچھا ہونے کا کہہ دے۔ “ہاں کر تو سکتا ہے، بلکہ اکثر گھروں میں کرتا ہے۔ تمہارے والدین شاید اسی لیے پریشان ہیں کیوں کہ ایسی شادیاں اکثر جھگڑوں کی نظر ہی ہوجاتی ہیں۔ دونوں فریقین تعلق کو اپنی روایات کے مطابق چلانا چاہتے

Novel, Absar Fatima

اب مارل بولے گا

اب مارل بولے گا اسے نہیں یاد کہ اس کے ماں باپ نے اس کا نام کیا رکھا تھا۔ جب اس نے ہوش سنبھالا خود کو غلاموں کے گروہ میں دیکھا۔ وہ اتنا جانتا تھا کہ وہ سندھ میں ہے۔ مگر اسے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ سندھ سے ہے یا نہیں۔ کیا اسے کہیں سے ہونا تھا؟ کیا غلاموں کا کوئی وطن ہوتا ہے؟کوئی اسے مور بلاتا، کوئی مورو اور کوئی مارل۔ اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان ناموں کے مطلب کیا تھے۔بس اتنا کافی تھا کہ اسے پتا تھا کہ کس لفظ پہ اسے جان لینا ہے کہ یہ حکم اس کے لیے تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفس میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف پہلا کمرہ فرزانہ کا آفس تھا۔ فرزانہ اندر کی جانب مڑی تو نور علی نے اس کی طرف الوداعی مسکراہٹ سے دیکھا اور آگے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔فرزانہ اپنے کمرے کے دروازے پہ ہی ایک بازو چوکھٹ پہ ٹکا کے اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔محبت سے نہیں۔۔۔۔ پر سوچ انداز میں۔ نور علی اپنے کمرے میں داخل ہونے لگا تو اسے اندازہ ہوا کہ فرزانہ ابھی تک دروازے پہ ہی کھڑی تھی اس نے مبہم سے سوالیہ انداز میں دیکھا اور فرزانہ اتنے ہی مبہم انداز میں انکاری انداز میں سر ہلا کے کمرے میں مڑ گئی۔ ان کی ذہنی ہم آہنگی اتنی ہی مضبوط تھی کہ دونوں ایک دوسرے کی نظروں کے مطلب بھی سمجھ جاتے تھے۔ اس کے باوجود فرزانہ، نور علی کی شخصیت کے کچھ پہلو نہیں سمجھ پارہی تھی۔ ممکن ہے نور علی بھی ایسی ہی کیفیات سے گزرتا ہو۔ لیکن دونوں نے کبھی اس پہ بات نہیں کی۔ فرزانہ بات کرنا چاہتی تھی لیکن اسے وہ الفاظ نہیں مل پارہے تھے جن کی مدد سے وہ اپنے احساسات واضح کرسکے اور نور علی کو یہ احساس نہ ہوکہ فرزانہ اسے کسی قسم کی عدالت میں جوابدہی کے لیے کھڑا کر رہی ہے۔اس نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں یہ اچھی طرح جان لیا تھا کہ نور علی حساس طبیعت شخص ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی اور معاشرتی مسائل پہ بات کرتے ہوئے چڑ جاتا تھا۔ یا شاید صرف تب چڑتا تھا جب بات میں حوالے کے طور پہ اس کے گاؤں کا تذکرہ نکل آتا تھا۔فرزانہ نے اس بات پہ پہلے اتنا غور نہیں کیا تھا لیکن پچھلے دو ماہ سے اس نے ان معاملات کو الگ انداز میں دیکھنا شروع کیا تھا جب نور علی نے اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ آج بھی وہ اسی حوالے سے سوچ رہی تھی۔ وہ ذہنی طور پہ بالکل تیار رہنا چاہتی تھی کہ اگر وہ نور علی سے شادی کرتی ہے تو اسے اس کے گاؤں میں کس قسم کے ماحول کاسامنا ہوگا۔دیکھا جائے تو فرزانہ کی گاؤں کے ماحول تک رسائی کا ذریعہ صرف اخبار اور خبریں تھیں۔ اور یہ کوئی مثبت تصویر پیش نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے وہ اب بات بات میں نور علی سے اس کے گاؤں کی بات کرنے لگی تھی تاکہ جان سکے۔ یا شاید اس لیے تاکہ اپنی “غلط فہمی” دور کر سکے جو غلط فہمی تھی بھی یا نہیں اسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔کم و بیش یہی پریشانی اس کے گھر والوں کو بھی تھی جس کی بنیاد پہ ابھی تک کوئی واضح فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔بلکہ اصل میں مسئلہ شروع ہی تب ہوا تھا جب اس نے گھر پہ بتایا۔ ابو اور امی دونوں کے الگ الگ تحفظات تھے۔ ابو کو فکر تھی کہ رشتے دار اعتراض کریں گے۔ ہم زبان ہوتا تو چلو کوئی جان پہچان کا بہانہ نکالا جاسکتا تھا۔ مگر یہاں تو زبان بھی الگ ذات بھی الگ، سندھی وہ بھی گاؤں کا۔ اور فرزانہ کا خاندان وہ تھا کہ جب دو بزرگ مل بیٹھیں اور ہندوستان سے ہجرت کا واقعہ نہ نکلے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ اب شاید گن کے دو یا چار ہی ایسے بزرگ رہ گئے تھے جنہوں نے بچپن میں بٹوارہ ہوتے دیکھا تھا۔ فرزانہ کے اپنے والدین پچاس کی دہائی میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ اور وہ اپنے والدین کی سب سے بڑی اولاد تھی۔ انہوں نے بھی ہندوستان سے آنے کے بس قصے ہی سنے تھے۔ ہاں لیکن مہاجر ہونے کا فخر ضرور نسل در نسل منتقل ہورہا تھا۔ اس بات کا فخر کہ ملک کی بنیادوں میں جو خون ہے وہ ہمارے ہی آباؤاجداد کا تھا۔ اس بات کا فخر کہ قومی زبان ہماری مادری زبان ہے۔ ابو نے شہر میں ہونے والے سندھی مہاجر جھگڑے بہت قریب سے دیکھے تھے کالج میں جن دوستوں کے ساتھ کینٹین میں گپیں لگاتے تھے انہی سے پٹے بھی تھے۔ اور موقع ملنے پہ پیٹا بھی تھا۔اب وہ جھگڑے تو نہیں تھے۔ دوبارہ سندھی دوست بھی بنے، آفس کے ساتھیوں میں بھی سندھی تھے۔ پڑوس میں بھی کئی گھر اب سندھی خاندانوں کے تھے لیکن بیٹی ایسے گھر میں دیتے ہوئے لگتا تھا جیسے ساری قوم ان پہ انگلی اٹھائے کھڑی ہے “تم ہو جو سندھو دیش بنانے والوں کی افرادی قوت بڑھا رہے ہو، تم ہو جو ملک میں ڈیم بننے سے روکنے والوں کو رشتے دار بنا رہے ہو۔ اب تم کیسے کہو گے کہ تمہارا تو فلاں زندہ ہے اسی لیے ترقی نہیں کر پارہے۔ اب تمہاری بیٹی کے حجلہء عروسی میں بی بی کی تصویر لگی ہوگی۔” امی کو ڈر تھا کہ فرزانہ، نور علی سے پسند کی شادی کرے گی تو نور علی کے گھر والے کاری کرنے نہ آجائیں۔ ان کی دوسری بڑی پریشانی یہ تھی کہ وہ شادی کرکے گاؤں چلی بھی گئی تو لیٹرین باتھ روم کا کیا کرے گی۔ بندہ کھلے عام لکڑیوں پہ کھانا پکا سکتا ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرزانہ کے لیے یہ تمام اعتراض بالکل غیر منطقی تھے اس کے لیے تو گاؤں کے مسائل باعث فکر ہی اس لیے تھے کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ اسے جتنی انسیت اپنے شہر سے ہے اتنی ہی انسیت گاؤں سے بھی ہے وہی اپنائیت کہ وہ مختلف سہی مگر اپنا ہے۔گھر پہ وقتاً فوقتاً شروع ہو جانے والی بحثوں کا اثر یہ ہوا کہ اب تقریباً روز ہی اس کی

Novel, Absar Fatima

!اب مارُل بولے گا

!اب مارُل بولے گا ابصار فاطمہ قسط نمبر 1 او مارل بچڑا! ادھر آ۔۔۔ حاکم سائیں کے وسیع دربار میں جھاڑو دیتے مارل کے ہاتھ کچھ لمحے کو رکے اور اس کے معصوم چہرے پہ خوف کا سایہ لہرایا۔ حاکم سائیں نے دوبارہ اسے دربار سے ملحقہ حجرے میں بلایا تھا۔ وہ تاریک حجرہ جس کی تاریکی شاید صرف مارل کو نظر آتی تھی۔ ہر دفعہ وہ تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی اور ساتھ ہی مارل کی چپ بھی۔ وہ غلام تھا اور اس حاکم سائیں کا ہر حکم بجا لانا اس کا فرض۔ ————- “یہ تمہارے علاقے کے ابو کبھی کچھ نہیں کریں گے تم لوگ پتا نہیں کیوں جانتے بوجھتے بھی ہر بار اسی شخص کو ووٹ دیتے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے تم لوگ خود بھی حالات نہیں بدلنا چاہتے۔” اس کی نظریں اپنی پیالی پہ تھیں جس میں پڑے دو ٹی بیگز کو وہ ہر ممکن حد تک کھولتے پانی میں گھول دینا چاہتی تھی۔ یا شاید اس کی نظریں ٹی بیگز پہ ضرور تھیں مگر دماغ کا محور اپنی بات تھی اسی لیے بات ختم ہوتے ہی اس نے ٹی بیگز کو چمچ پہ رکھ کر آخری بار نچوڑا اور چمچ سمیت بسکٹ کی پلیٹ میں رکھ دیا۔ “فیری یار, تم اتنی کڑوی چائے کیسے پی لیتی ہو؟”“نور یار، تم اپنے ہی علاقے کے مسائل سے اتنے لا تعلق کیسے رہ لیتے ہو؟”۔ نور علی چند لمحوں تک اسے بغیر پلکیں جھپکائے دیکھتا رہا۔ پھر جھنجھلاہٹ آمیز انداز میں کندھے جھٹکے۔ اس کے انداز میں فرزانہ کے لیے تو نہیں لیکن اس کی بات کے لیے واضح ناگواری تھی۔ “کچھ بولو گے نہیں؟”” کیا بولوں یار؟ ہمیں ایک گھنٹہ ملتا ہے لنچ کا، جو اکثر پورا بھی نہیں ملتا اور تمہیں اپنی بات کرنے کی بجائے سیاست ہی کیوں یاد آتی ہے؟” اس نے اپنے سامنے رکھی چائے کی پیالی ایک طرف کردی اور میز پہ دونوں کہنیاں رکھ کے تھوڑا آگے جھک کے بیٹھ گیا۔“آج میں ہاف ڈے کر لیتا ہوں۔ تم بھی کرلو واپس اوپر جانے کی بجائے یہیں بیٹھ کے مسئلہ حل کر لیتے ہیں اور میرے گاؤں کو فرانس بنا کے ہی اٹھیں گے۔” اس کی جھنجھلاہٹ آمیز سنجیدگی پہ فرزانہ ایک دم ہنس پڑی۔ “اچھا ناں ناراض کیوں ہورہے ہو۔ تمہیں پتا ہے مجھے یہ مسائل کتنا اسٹریسڈ کردیتے ہیں۔ تم سے بات نہ کروں تو کس سے کروں۔” “مجھے بالکل مزا نہیں آرہا۔۔۔۔ ہنستی رہو جتنا مرضی۔ مطلب تم لوگ ایسے ظاہر کرتے ہو جیسے شہر میں تو کوئی مسائل ہی نہیں ہیں۔ سارے مسئلے گاؤں میں ہیں وہ بھی میرے گاؤں میں۔” ” نہیں ہیں؟” فرزانہ کا سوال سنجیدہ تھا لیکن انداز شرارتی تھا۔“مطلب مسئلے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ایسے نہیں ہیں جیسے پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ بھی اسی ملک کا حصہ ہے جہاں کا شرح خواندگی صرف کاغذات میں بڑھ رہا ہے۔ جہاں صرف نام لکھنے والے کو پڑھا لکھا شمار کیا جاتا ہے۔ نہ میرا گاؤں آسمان سے اترا ہے نہ یہ صوبہ۔” اس کے انداز میں کسی حد تک بے بسی نمایاں تھی۔ فرزانہ کو اس پہ ترس آنے لگا۔ ہر بار وہ یہی کوشش کرتی تھی کہ ان کی بات چیت عمومی مسائل تک رہے لیکن کب اور کیسے بات مسائل سے ہوتی ہوئی سیاست اور خاص طور سے نور علی کے گاؤں تک پہنچ جاتی تھی۔ اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ یہ بحث ان کے اچھے خاصے تعلق پہ بھی اثر کر رہی ہے۔ بلکہ صرف اچھا خاصا کہنا تو کافی نہیں تھا اچھا خاصا رومانوی تعلق تھا۔ “اچھا چھوڑو تم چائے تو پیو۔” “ٹھنڈی ہوگئی ہے۔” نور علی کا لہجہ کچھ روٹھا ہوا سا تھا۔ ” ارے مائی فیوڈل لارڈ۔۔۔ معاف فرما دیجیے۔”“یار فیوڈل مت کہا کرو!”” تو نہیں ہو کیا؟” ” بیٹا ہوتا نہ اصلی والا فیوڈل یہاں آفس میں جوتے اور دماغ نہیں گھس رہا ہوتا۔ نہ تمہاری جیسی خود مختار لڑکی سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہوتا۔” اس نے کہتے ہوئے موبائل اسکرین آن کرکے وقت دیکھا اور میز سے کھڑا ہوگیا۔ ” خود مختار عورت” فرزانہ نے بیچ میں سے بات اچک کر تصحیح کی۔ وہ بھی ساتھ ہی کھڑی ہوگئی تھی۔” بتیس سال کی عورت نہیں ہوتی۔” دونوں کینٹین سے باہر کی طرف بڑھ چکے تھے۔” بتیس سال کی ‘مطلقہ’،۔۔۔ عورت ہی ہوتی ہے۔” اس نے مطلقہ پہ تھوڑا زور دیا۔ کینٹین سے باہر اکا دکا لوگ بر آمدے میں آتے جاتے دکھائی دئیے۔ “اب اس پہ لڑ لو۔” وہ دونوں بات کرتے کرتے لفٹ نظر انداز کرکے زینے کی طرف بڑھ گئے۔ “ارے لڑ نہیں رہی۔ بس ایسے ہی کہہ رہی تھی۔ تمہارے مجھے لڑکی کہہ دینے سے تمہارے اور میرے درمیان موجود عمر کا فرق ختم نہیں ہوجائے گا۔” زینے پہ پہلا موڑ مڑتے ہوئے دونوں کے ہاتھ مبہم سے ٹکرائے۔ نور علی نے غیر محسوس انداز میں فرزانہ کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بھی بتا سکتا تھا کہ وہ مسکرا رہی ہے۔ صرف لبوں سے نہیں آنکھوں سے بھی۔ ” محترمہ آپ نے ڈگری پڑھ کے لی تھی یا نقل کی تھی۔” “نقل کی تھی۔” اس کے شرارتی طنزیہ لہجے کو وہ بھی اچھی طرح پہچانتی تھی۔ ” اسی لیے۔۔۔” نور علی کے لہجے میں مصنوعی افسوس تھا۔ ” پڑھ کے ڈگری لی ہوتی تو کم از کم یہ لڑکی بڑی نہیں ہونی چاہیے والی غلط فہمی تو نہ ہوتی۔ دو سال کے فرق سے ویسے بھی آپ ضعیفہ نہیں ہوگئیں۔ میرے کام آہی جائیں گی۔” زینے کی تنہائی نے اس کا انداز اور لہجہ بدل دیا تھا۔ بے ساختہ فرزانہ کی مسکراہٹ گہری ہوگئی” یہ ڈبل میننگ جوک بالکل مت کیا کرو میرے ساتھ۔” اس کے لہجے میں بھی مصنوعی ناراضگی تھی۔“سوری خاتون میں رن مرد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بچی کا باپ ہوں اس لیے ذومعنی والے سے کام چلائیں یک معنی والے واضح لطائف برائے بالغین کی توقع مجھ سے ہرگز مت کریں۔” ” رن مرید ہوتا ہے۔” ” وہ اردو میں ہوتا ہے۔ رن مرد مطلب بیوہ مرد۔” ” توبہ۔۔۔۔ تو رنڈوا کہو ناں” “ارے تو سمجھ گئیں ناں کافی ہے۔” آفس کا دروازہ سامنے آتے ہی فرزانہ نے آہستگی سے ہاتھ

Blog, Absar Fatima

احساسِ بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے؟

احساس بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے ؟  ہم دنیا میں بیک وقت کئی رشتوں، چیزوں، اور کاموں سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اور عوامل ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں پہ اثر کرتے ہیں۔ اور اکثر ہمیں احساسِ بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ احساسِ بےبسی تب جنم لیتا ہے جب حالات ہماری خواہش سے بہت مختلف ہوں اور ان کا مختلف ہونا ہمیں بے چینی، جھنجھلاہٹ اور کبھی کبھی جذباتی تکلیف میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ جس نوعیت کے حالات ہوتے ہیں اسی شدت کی احساسِ بے بسی ہوتی ہے۔ مثلاً سردی میں کولڈ ڈرنک پینے کی خواہش پوری نہ ہوپانے پہ جو احساسِ بے بسی ہوگا وہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو بیماری میں دوا تک رسائی نہ رکھ پانے پہ ہوگا۔ کچھ حالات میں ہمیں یہ ماننا ضروری ہے کہ ہم ہر وقت ہر کام اپنی خواہش کے مطابق نہیں کر سکتے۔ اور محدود اختیار ہونے میں کوئی بری بات نہیں۔ لیکن کچھ مسائل میں ان حالات پہ قابو پانا اور ان کا حل بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ خاص طور سے جہاں مسئلہ آپ کی بقاء کا ہو۔ وہ بقاء کئی پہلوؤں کی حامل ہوسکتی ہے۔ یعنی کبھی آپ مادی اشیاء تک رسائی نہ ہونے پہ احساسِ بے بسی محسوس کرتے ہیں اور کبھی اپنے لیے فیصلے کا اختیار نہ ہونے پہ، کبھی یہ احساسِ بے بسی تب محسوس ہوتا ہے جب کوئی ہمارے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے لیکن یا تو اس کی معاشرتی حیثیت یا آپ کی کوئی معاشرتی زمہ داری کی وجہ سے آپ اس کے غلط رویے پہ کوئی ردعمل نہیں دے پاتے یا اسے روک نہیں پاتے۔ اس قسم کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب ہم کسی ابیوسیو یا پرتذلیل تعلق میں ہوں۔ وہ چاہے ہمارے والدین کی طرف سے ہو، بہن بھائیوں کی طرف سے، شریک حیات کی طرف سے، باس کی طرف سے یا دوستوں کی طرف سے۔ اور کچھ حالات میں اولاد کی طرف سے بھی ممکن ہے۔ یہ احساسِ بے بسی ہمیں شدید جذباتی اذیت کا شکار کر دیتا ہے۔ اگر یہ احساسِ بے بسی مستقل ہو تو یہ کئی نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔  کبھی کبھی یہ احساسِ بے بسی مسلسل اعصابی تناؤ کا شکار رکھتی ہے اور بتدریج ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر حالات بدل بھی جائیں تو ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے جب تک دوسرے لوگ نہ بدل جائیں۔ یہ احساس ہمیں ڈپریشن کی طرف لے جاسکتا ہے۔ مسلسل ایک مایوسی کی کیفیت طاری رہتی ہے کیوں کہ ہمیں کسی بھی فیکٹر پہ اختیار محسوس نہیں ہوتا۔ ہر قدرتی احساس کی طرح یہ احساس بھی وقتی ہو تو پریشانی کی بات نہیں بلکہ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ جب ہم کسی وجہ سے بے بسی محسوس کر رہے ہیں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس سچویشن کا مشاہدہ کریں۔ پھر یا تو ان حالات کو قبول کرلیں یا اگر ضروری ہے تو ان حالات کو مثبت انداز میں بدلنے کے اقدامات کرسکیں۔ لیکن جب یہ احساس مسلسل طاری رہنے لگے تو یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور تعلقات پہ اثر کرنے لگتا ہے۔ ہم یا تو مکمل طور پہ اپنی زندگی کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا پھر ہم اس احساس کو ختم کرنے کے لیے دوسروں کی زندگی میں دخل اندازہ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسروں کو اپنی مرضی سے چلانے کے باوجود اگر آپ کا احساسِ بے بسی آپ کے نفسیاتی مسائل کا شاخسانہ ہے تو کئی لوگوں پہ اختیار رکھتے ہوئے بھی آپ خود کو بہت کمزور اور بے اختیار شخص محسوس کریں گے۔ اپنے مرضی کے خلاف ہوئے چھوٹے چھوٹے کاموں پہ بھی ہم شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جائیں گے اور دوسروں پہ مزید سخت رویہ مسلط کرنا شروع کردیں گے۔ والدین اساتذہ اور باس کا، اولاد، شاگرد یا ماتحت کی غلطی پہ انہیں صفائی کا موقع نہ دینا اور ان کے جواب کو نافرمانی سمجھنا اسی احساس بے بسی کا ردعمل ہے۔ جب تک ہم اپنی ذات پہ اختیار بڑھانے پہ کام نہیں کریں گے تب تک ہم یا تو دوسروں کو اپنی ذات پہ اختیار دیتے رہیں گے یا زبردستی دوسروں کی ذات پہ خود حاکم بننے کی کوشش کریں گے۔ جب ہم ایک دفعہ جان جاتے ہیں کہ ہمارا احساسِ بے بسی ہماری اندرونی وجوہات کاشاخسانہ ہے تو ہم ناصرف ان وجوہات پہ کام کرنا شروع کرتے ہیں بلکہ یہ مشاہدہ کرنا شروع کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار ہماری زندگی کے کن کن عوامل پہ اب بھی ہے۔ پھر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار جن عوامل پہ نہیں ہے ان پہ ہونا چاہیے یا نہ ہونا بھی ٹھیک ہے یا جزوی اختیار ہے۔ مثال کے طور پہ میرے لیے میرے لباس کے انتخاب پہ کون سے عوامل اثر کر رہے ہیں؟ مجھے خود کیسا لباس پسند ہے؟ میرے گھر والوں کی طرف سے مجھے وہ لباس منتخب کرنے کی اجازت ہے؟ میرے معاشرے میں وہ لباس قابل قبول ہے؟ میں کس موسم میں وہ لباس پہننا چاہتی ہوں کیا وہ مجھے موسم کی شدت سے بچائے گا؟ یہاں آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کچھ جگہ میرا اختیار جزوی ہے۔ یعنی اگر میں سردی میں کسی تقریب کے لیے سلک کی ساڑھی پہننا چاہوں اور کسی گرم کمرے میں رہوں تو میں باآسانی پہن سکوں گی۔ لیکن اگر مجھے گھر والوں کی طرف سے ساڑھی پہننے کی اجازت نہیں ہے تو مناسب موسم میں بھی نہیں پہن سکوں گی۔ موسم کی شدت اور گھر کی طرف سے اجازت نہ ہونا دونوں طرح کی بےبسی الگ احساس دے گی۔ یہاں اگر میں اپنا جزوی اختیار استعمال کرنا چاہوں تو میں یہ دیکھ سکتی ہوں کہ کس قسم کی ساڑھی گھر والوں کے لیے قابلِ قبول ہوسکتی ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہم روز اپنے لیے کئی فیصلے کر رہے ہوتے ہیں مگر اس کا ادراک نہیں کرپاتے۔ اور چند بڑے بڑے فیصلوں میں دوسروں کا اثر

Scroll to Top