Aaliya Arooj

Blog, Aaliya Arooj

The Present is an Eternity

The Present is an Eternity The humid air on July 20th was heavy and suffocating, just as it always was after a July rain. At 6:30 PM, the sun was about to set as she walked the familiar road back home. The sky was a breathtaking canvas of three shades: misty orange, blue, and peach. But her mind was suffocating too, filled with familiar thoughts: the regret of a past she couldn’t change and the fear of a future she couldn’t control. Walking always soothed her soul, though not her mind. Every day, she passed the same old tree, its roots planted outside the residence of an 18th-century legend. The house stood stark white against the busy road, but nobody offered it a glance in their hurried lives. The sky’s soothing colors offered a temporary escape. As usual, two or three rickshaws—chingchis—slowed down, their drivers asking if she needed a ride. She said no, but they insisted, lingering just to stare—like so many men in this society. Then, a biker pulled up, asked a vulgar question, and sped off. She walked faster, a sense of urgency propelling her forward. Suddenly, her thoughts turned to an old woman struggling to cross the busy road. For a moment, the woman was the center of her attention—a tiny, fragile figure battling the traffic. Then, she reached the other side and disappeared. In that instant, a realization struck Sanober: This is the present.A moment that vanishes in an instant.No one bothers with another’s present because everyone is consumed by their own. She saw a man washing a car, silently wishing for a day off. She thought of a granddaughter visiting a sacred place for the first time with her grandmother—the granddaughter knowing nothing of the place, and the grandmother knowing nothing of the routes. Both were lost in their own worries but had faith in each other. The present is a different moment for everyone. People are so lost in their own moments that they don’t have time to notice anyone else’s. She passed the marquee where her friend had been married just a few months ago. Her friend had since moved away, and now, another couple was inside, awaiting their own wedding ceremony. This, too, was the present. No one here cared about the people who celebrated their wedding yesterday—or months ago—or how their lives were unfolding now. She thought about how she had walked this same road four years ago, on her way to her academy. But nobody remembered. Nobody cared. They had their own moments. Why, then, did she let the past, present, and future consume her? Who truly cared what she had done for the last 30 years, or what she would do in the next? Who cared how her present moments looked to others? She looked up at the new moon, which always appeared just after Maghrib prayers. The moon had witnessed everything: the night of Imam Hussain in Karbala, the night Hazrat Ibrahim saw his dream, the night the Holy Prophet spent his first night after the death of Hazrat Khadija, and the night her own grandmother died. The moon had seen it all and would continue to see everything. So, she decided to stop thinking—just like the road and the moon. They had witnessed incredible moments in history, both joyous and devastating, but they didn’t hold on to a single one. And she?She would be gone. She would leave the earth and the endless cycle of time—past, present, and future.So, it’s better to live in the moment’s eternity. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Aaliya Arooj

تنگ گلی

تنگ گلی عالیہ عروج تنگ گلی میں، اذان آج پھر اپنے معذور باپ کے ساتھ سبزی کی ریڑھی دھکیلتا ہوا فرنس موڑ سے گزرا تو حسبِ دستور پان والے نے وہی پرانا فقرہ چست کیا: “اوئے، ذرا سیدھا ہو کر دکھا سوہنیا، ساری سبزیاں منٹوں میں بکا لوں گا!” اور پھر وہی گھٹیا، اونچا قہقہہ۔اذان روز اپنے باپ پر کسی جانے والی یہ باتیں سنتا تھا، مگر وہ ‘اذیت’ کے لفظ سے ناواقف تھا۔ وہ تو بس اتنا سمجھتا تھا کہ بیماری صرف جسمانی ہوتی ہے، جو اس کے ابا کو ہے، اور اس کی اماں کو ہے۔ اور پھر اس کے ننھے ذہن میں سوال ابھرتا: “کیا میں ٹھیک ہوں؟” جب اذان نے ہوش سنبھالا تھا، اسے اماں ابا صحت مند لگتے تھے اور اپنا آپ بیمار محسوس ہوتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس معاشرے نے اسے تلخ حقیقت کا مفہوم سمجھا دیا۔مُنے پان والے کی باتوں نے تو جیسے اب اس کے احساس کو سُن کر دیا تھا، مگر تھوڑا آگے جا کر اذان نے مسجد کے اپنے دوست احمد کو سکول جاتے دیکھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے بہت کرب ناک ہوتا تھا۔مُنے پان والے نے جب اذان کو یوں کھویا کھویا دیکھا تو پاس آ کر اس کے منہ پر پان کا پورا پتہ مل دیا۔ اذان کے جسم میں جیسے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا۔ پاس کھڑا ہجوم کھلکھلا کر ہنس گیا۔ مگر اذان خاموش رہا۔ وہ سب کو معمول کے مطابق اور خود کو غیر معمولی (ابنارمل) محسوس کرتا تھا۔ وہ ذہنی صحت کے تصور سے ناواقف تھا، حالانکہ موجودہ حالات اسے اندر سے بدتر کر رہے تھے۔وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ اگلی گلی میں جا کر موجود نلکے سے منہ دھونے لگا۔ اذان کا باپ، “اکّو”، اپنی معذوری اور بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بننے پر خود کو کوس رہا تھا۔ مگر اس باپ بیٹے کے پاس ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہ تھا۔ڈاکٹر طلحہ اپنی چھت سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ نیچے اترے۔ اذان کو منہ دھونے اور سنبھلنے کا وقت دینے کے بعد اس کے قریب آئے۔ انہوں نے آلو پالک خریدی اور باتوں باتوں میں دونوں کے حالات اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیا۔ ہفتہ بھر وہ ان سے سبزی خریدتے رہے اور یوں آہستہ آہستہ ان کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔ایک مہینے بعد ڈاکٹر طلحہ تمام پہلوں کو سمجھ کر اور ترتیب دے کر اذان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اذان اور اسکے والد کو ایک دکان کا بتایا جو ڈاکٹر طلحہ کے دوست کی تھی اور وہ ڈاکٹر طلحہ سے مشورہ کرنے کے بعد بہت کم کرائے پر دینے کو تیار تھا۔ دونوں باپ بیٹے نے مشورہ کیا۔اكو ویسے ہی اپنے بیٹے کی خود کی وجہ سے عزتِ نفس مجروح ھوتے دیکھتا خود ہی خود میں بہت شرمندہ ہوتا رہتا تھا۔اس کے بعد ڈاکٹر طلحہ نے روز دکان پر آ بیٹھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اذان کے ذہن کی گنجلیں کھولنی شروع کیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد اذان کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اسے بیماری اور صحت کا مفہوم زیادہ واضح ہوا۔اور پھر سال بعد اذان سکول جانے لگا۔ زندگی آسان تو اب بھی نہیں ہوئی تھی، مگر ہاں، بہت سے مسئلوں میں الجھے رہنے کی بجائے، اذان اب کچھ مسائل پر قابو پانے لگا تھا۔زندگی میں کبھی ہمیں کسی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی زندگی ہمیں کسی کا کندھا بننے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے مواقعوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، یہی تو زندگی کی روشن کرنیں ہیں۔

Blog, Aaliya Arooj

کھلا آسمان

کھلا آسمان عالیہ عروج آج اُمید کی آٹھویں سالگرہ تھی، مگر اس حقیقت سے اس کی ماں، رانی، قطعی بے خبر تھی۔ رانی تو بس اتنا جانتی تھی کہ جس دن اس کی بیٹی پیدا ہوئی تھی، آسمان پھٹ کر برسا تھا اور قدرت نے اس کی مدد کے لیے ایک فرشتہ بھیجا تھا۔ کیونکہ یہ ننھی جان اس کی بستی کے مستقبل کا ستارہ تھی – امید کا استعارہ۔بدبو اور کچرے کے انبار پر بسی اس کسمپرسی کی بستی میں، رانی چوتھی بار ماں بننے کی اذیت سے گزر رہی تھی۔ اس سے پہلے اس کے تین پھول سے بچے صفائی کے فقدان اور طبی امداد میسر نہ ہونے کے سبب پیدا ہوتے ہی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ رانی نے اپنے ہاتھوں سے ان ننھے جسدِ خاکی کو سینے سے لگا کر دفنایا تھا۔ چھوٹے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا، حقیقتاً تو کوئی جنازہ نہیں ہوا تھا، مگر رانی نے برسوں تک اپنے کپکپاتے وجود کی ہر ہڈی سے اس دکھ کا جنازہ ادا کیا۔ تین سال تک وہ ان ننھی قبروں کا بوجھ اپنے دل پر محسوس کرتی رہی۔چوتھی بار جب درد کی لہریں اٹھیں، دائی نے اسے پھر خبردار کیا کہ یہ کوشش اس کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ مگر جہاں غربت اور بے چارگی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہوں، وہاں ایک عورت کا زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنا کوئی انہونی بات نہیں سمجھی جاتی، یہ تو محض ایک بےرحم آنکھ مچولی تھی۔رانی درد سے کراہ رہی تھی اور بستی کے چند بے بس مکین یہ دلدوز منظر دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ عین اسی وقت کونین اور حمزہ کی گاڑی اتفاقاً اسی کچرے کے ڈھیر کے قریب آ کر خراب ہو گئی۔ حمزہ کے لیے اس عفونت زدہ ماحول میں سانس لینا محال تھا، مگر دور سے ہی کونین کو رانی کی کربناک چیخیں سنائی دیں۔ حمزہ نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی، مگر کونین ابھی کچھ دیر پہلے ہی قبرستان سے اپنی ماں کی فاتحہ پڑھ کر آئی تھی۔ وہ موت کے دکھ کو محسوس کر کے آئی تھی، وہ جانتی تھی کہ اس وقت اس عورت پر کیا بیت رہی ہے۔ کونین نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر، بارش سے لت پت اس کوڑے پر قدم رکھا جہاں سانس لینا بھی ایک آزمائش تھا۔ حالات کی سنگینی فوراً اس کی سمجھ میں آ گئی۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کیا اور ایمبولینس منگوائی۔وقت پر ہسپتال پہنچنے پر، رانی جب ہوش میں آئی اور آنکھیں کھولیں تو اپنی گود میں اپنی زندہ بچی کو پا کر وہ شکرگزاری کے آنسوؤں سے بہت روئی۔ کونین کو دیکھ کر اس نے بچی اسے تھمائی۔ ننھی جان کی آنکھوں میں دیکھتے ہی کونین حیران رہ گئی۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گونجا: “اس کی آنکھوں میں امید ہے۔ آج سے اس کا نام ‘اُمید’ ہے۔”اُمید ابھی ‘اُمید’ لفظ کے معنی سے ناواقف تھی، مگر اس کی پیدائش نے واقعی بستی میں ایک نئی امید کی کرن روشن کی۔ کونین نے وہاں موجود کچرے کو اٹھوانے کا انتظام کیا، اس بستی کے حالات کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا، مختلف این جی اوز سے رابطہ کیا اور ان کی مدد سے وہاں ایک ‘اسلم سکول’ قائم کیا گیا۔ آج اُمید اسی سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یہ اس ‘اُمید’ پر کہ وہ اس بستی میں ایک نئی زندگی جینے کی رمق پیدا کرے گی۔کیونکہ جینے کا حق تو خدا اور اس زمین نے ہر ذی روح کو عطا کیا ہے، مگر اس حق کی بقا اور فراہمی کے لیے وہ کسی کسی کو ہی وسیلہ بناتا ہے۔ سو، جب آپ محسوس کریں کہ قدرت آپ کو پکار رہی ہے، تو رکنا نہیں ۔

Scroll to Top