Poetry, Blog, Muqadas Majeed

ہم زبان

ہم زبان  مقدس مجید  کسی انجان بستی میں جانے وہ کہاں سے پٹخ دی گئی ہے یہاں لوگ کوئی اور زبان بولتے ہیں الفاظ سے جملوں کو دلہن کی طرح سجانے اور خنجر کی طرح دل میں گھونپنے والی بے زبان ہو کر رہ گئی ہے پرائی زبان والوں کی باتوں کو  لہجوں کے پیمانے سے سمجھتی ہے اور ذہن کی کتاب پر آئے دن نئی کہانیاں لکھتی ہے اس کی کہانیاں متلاشی ہیں  ہم زبان قاری کی تم اسے کب ملو گے؟ Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*