Author name: admin

Naaye Khwaab

Blog, Qurratulain Shoaib

بورڈنگ ہوم کی ڈائری سے (سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر)

قرۃالعین شعیب میں ایک ایسے بورڈنگ ہوم میں کام کر رہی تھی جہاں تین سال سے لے کر چھ سال کی بچیاں تھیں۔ میرے سامنے بچوں کی جذباتی ضروریات کے حوالے سے بے شمار کیسز ہیں۔ میں آج ایک اہم واقعہ شیئر کر رہی ہوں جو والدین، اساتذہ اور بورڈنگ ہومز میں بچوں کی نگہداشت پر مامور لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایک بچہ جو اظہار کرنے کے قابل نہیں کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے، اس کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے۔ ہمارے پاس بورڈنگ ہوم میں ایک بچی، تسمیہ بتول تھیں۔ بہت بھولی اور معصوم، جو اپنی ماں کو کھو چکی تھیں۔ اور پھر ان کے والد نے انھیں یہاں داخل کروا دیا۔ ماں کے بعد باپ کی جدائی، دوستوں اور اس محلے، گلی اور کوچے سے جدائی جہاں وہ سارا دن آزادانہ گھوما کرتی تھی۔ بورڈنگ ہوم اس کے لیے ایک قید بن گیا۔ وہ روتی رہتی، مسلسل روتی، اور اچانک پیٹ درد کی شکایت کرتی۔ اسے فوری ہسپتال لے جایا جاتا، میڈیسن دی جاتیں، مگر وہ بچی اچانک پیٹ درد سے تڑپنے لگتی۔ڈاکٹرز بھی دوائیں تبدیل کر کر کے تھک چکے تھے۔ اور ہم اس کی صورت حال پر بہت پریشان تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ سب بچے باہر آؤٹنگ پر جا رہے تھے، جب کہ تسمیہ نے جانے سے انکار کر دیا۔ بہت کوشش کی، مگر وہ نہ مانی۔ پیٹ درد کی شکایت کر کے کمرے میں لیٹ گئی۔ میں دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے بے انتہا رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے اسے آفس میں بلالیا۔ وہ میرے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی۔ چھ سالہ تسمیہ کا ہاتھ میں نے محبت سے اپنے ہاتھ میں لیا، ماتھے پر پیار کیا، تو اس نے رونا بند کر دیا۔ میں نے اس کا سراپنی گود میں رکھا تو وہ مسکرانے لگی۔ میں اس کے بال سہلانے لگی ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ پیٹ درد محض جدائی کی تکلیف بھی تو ہو سکتی ہے۔ جب اسے اپنے پیارے یاد آتے ہوں۔ یہ درد شاید وہ غبار ہے جو اتنی سی بچی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے اس سے پوچھا، “پیٹ میں درد کب ہوتا ہے؟” اس نے کہا، “جب مجھے امی ابو یاد آتے ہیں۔” اور پھر میں نے پوچھا، “آپ کا دل گھبراتا ہے اور آپ رونے لگتی ہو؟” اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ یہ وہ بے قراری ہے، وہ درد ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اپنوں سے جدائی دیکھی ہو۔ اس غبار کو محسوس کیا ہو۔ میں نے اس بچی کو سینے سے لگایا، بہت پیار دیا جیسے ایک ماں پیار دے سکتی ہے۔ وہ مسکرانے لگی اور کہنے لگی، “میرا درد ختم ہو گیا۔” پھر میں نے اسے کہا، “جس وقت بھی آپ کی اس طرح کیفیت ہو، آپ نے بھاگ کر میرے دفتر آنا ہے اور مجھے گلے لگا لینا ہے۔” یقین کریں، اس تھراپی اور محبت سے وہ بچی چند دنوں میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ وہ ہشاش بشاش اور خوش رہنے لگی۔ کہیں ہم نے تین ماہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی۔ اور اب وہ مسکرانے لگی۔ میں نے بھی روزانہ صبح اس سے گلے ملنے کو اپنا معمول بنا لیا۔بچے کی جذباتی ضرورت ماں کی محبت ہے۔ اسی لیے اللہ نے ماں تخلیق کی۔ بچوں کے زیادہ تر مسائل جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کو، بورڈنگ یونٹس کے ہیڈز ، یتیم خانوں کے سربراہان کو ، بچوں کی نگہداشت پر معمور لوگوں کو اور ماؤں کو بچوں کی جذباتی ضروریات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تسمیہ کے درد کو میں نہ سمجھتی تو یہ درد اس کا عمر بھر کا روگ بن جاتا۔ کتنی تسمیہ ہوں گی جن کے درد کو کوئی نہیں سمجھ پاتا ہوگا ۔۔۔ اور بہت سے بچپن کے دکھ اور مسائل عین جوانی میں نفسیاتی مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی جذباتی ضروریاتِ کو بچپن میں ہی پورا کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے دکھوں کو سمجھنا چاہیے۔ تسمیہ کی حالت “سائیکوسومیٹک ڈس آرڈر” کی مثال تھی، جہاں جذباتی درد جسمانی علامات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جیسے کہ پیٹ درد۔ بچوں میں یہ علامات اکثر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ اپنی جذباتی کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ والدین، اساتذہ، اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچے جسمانی کے ساتھ ساتھ جذباتی نگہداشت کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔ ان کے آنسو، ضد، یا خاموشی اکثر اندرونی دکھ، خوف، یا محرومی کا اظہار ہوتے ہیں۔ محبت، توجہ، اور مستقل جذباتی سپورٹ وہ دوا ہے جو کسی بھی دوائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بچوں کی جذباتی ذہانت کو سمجھنا اور فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان معصوم دلوں کی دنیا کو سمجھ کر ہی ہم ایک محفوظ، مثبت، اور محبت بھرا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Blog, Aaliya Arooj

تنگ گلی

تنگ گلی عالیہ عروج تنگ گلی میں، اذان آج پھر اپنے معذور باپ کے ساتھ سبزی کی ریڑھی دھکیلتا ہوا فرنس موڑ سے گزرا تو حسبِ دستور پان والے نے وہی پرانا فقرہ چست کیا: “اوئے، ذرا سیدھا ہو کر دکھا سوہنیا، ساری سبزیاں منٹوں میں بکا لوں گا!” اور پھر وہی گھٹیا، اونچا قہقہہ۔اذان روز اپنے باپ پر کسی جانے والی یہ باتیں سنتا تھا، مگر وہ ‘اذیت’ کے لفظ سے ناواقف تھا۔ وہ تو بس اتنا سمجھتا تھا کہ بیماری صرف جسمانی ہوتی ہے، جو اس کے ابا کو ہے، اور اس کی اماں کو ہے۔ اور پھر اس کے ننھے ذہن میں سوال ابھرتا: “کیا میں ٹھیک ہوں؟” جب اذان نے ہوش سنبھالا تھا، اسے اماں ابا صحت مند لگتے تھے اور اپنا آپ بیمار محسوس ہوتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس معاشرے نے اسے تلخ حقیقت کا مفہوم سمجھا دیا۔مُنے پان والے کی باتوں نے تو جیسے اب اس کے احساس کو سُن کر دیا تھا، مگر تھوڑا آگے جا کر اذان نے مسجد کے اپنے دوست احمد کو سکول جاتے دیکھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے بہت کرب ناک ہوتا تھا۔مُنے پان والے نے جب اذان کو یوں کھویا کھویا دیکھا تو پاس آ کر اس کے منہ پر پان کا پورا پتہ مل دیا۔ اذان کے جسم میں جیسے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا۔ پاس کھڑا ہجوم کھلکھلا کر ہنس گیا۔ مگر اذان خاموش رہا۔ وہ سب کو معمول کے مطابق اور خود کو غیر معمولی (ابنارمل) محسوس کرتا تھا۔ وہ ذہنی صحت کے تصور سے ناواقف تھا، حالانکہ موجودہ حالات اسے اندر سے بدتر کر رہے تھے۔وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ اگلی گلی میں جا کر موجود نلکے سے منہ دھونے لگا۔ اذان کا باپ، “اکّو”، اپنی معذوری اور بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بننے پر خود کو کوس رہا تھا۔ مگر اس باپ بیٹے کے پاس ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہ تھا۔ڈاکٹر طلحہ اپنی چھت سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ نیچے اترے۔ اذان کو منہ دھونے اور سنبھلنے کا وقت دینے کے بعد اس کے قریب آئے۔ انہوں نے آلو پالک خریدی اور باتوں باتوں میں دونوں کے حالات اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیا۔ ہفتہ بھر وہ ان سے سبزی خریدتے رہے اور یوں آہستہ آہستہ ان کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔ایک مہینے بعد ڈاکٹر طلحہ تمام پہلوں کو سمجھ کر اور ترتیب دے کر اذان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اذان اور اسکے والد کو ایک دکان کا بتایا جو ڈاکٹر طلحہ کے دوست کی تھی اور وہ ڈاکٹر طلحہ سے مشورہ کرنے کے بعد بہت کم کرائے پر دینے کو تیار تھا۔ دونوں باپ بیٹے نے مشورہ کیا۔اكو ویسے ہی اپنے بیٹے کی خود کی وجہ سے عزتِ نفس مجروح ھوتے دیکھتا خود ہی خود میں بہت شرمندہ ہوتا رہتا تھا۔اس کے بعد ڈاکٹر طلحہ نے روز دکان پر آ بیٹھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اذان کے ذہن کی گنجلیں کھولنی شروع کیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد اذان کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اسے بیماری اور صحت کا مفہوم زیادہ واضح ہوا۔اور پھر سال بعد اذان سکول جانے لگا۔ زندگی آسان تو اب بھی نہیں ہوئی تھی، مگر ہاں، بہت سے مسئلوں میں الجھے رہنے کی بجائے، اذان اب کچھ مسائل پر قابو پانے لگا تھا۔زندگی میں کبھی ہمیں کسی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی زندگی ہمیں کسی کا کندھا بننے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے مواقعوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، یہی تو زندگی کی روشن کرنیں ہیں۔

Blog, Iffat Navaid

یہ بچیاں معصوم ہیں آوارہ نہیں۔ عفت نوید

یہ بچیاں معصوم ہیں آوارہ نہیں عفت نوید جن گھروں میں لڑکیوں پر بے جا پابندیاں ہوتی ہیں، یا پھر جوائنٹ فیملی سسٹم یا بچوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے ماں باپ بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ نہیں دے پاتے، گھر کے سب بڑوں کی باتیں سننا، چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا،کام کاج کرتے رہنا، پڑھائی لکھائی میں دوسرے بچوں سے پیچھے ہونے کی وجہ سے والدین اوراساتذہ سے سخت و سست سننا، ایسے میں بچیاں ذہنی آسودگی کے لیے لڑکوں سے میل ملاپ بڑھاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بچیاں اپنی محنت، ذہانت اخلاق اور فرماں برداری کی وجہ سے اسکول میں اساتذہ کی پسندیدہ بھی ہو تی ہیں لیکن ایک مرحلہ آتا ہے جب گھر سے توجہ، محبت اور اعتماد کی عدم دستیابی کی بنا پر پر غیروں سے ان چیزوں کی طلبگار ہو جا تی ہیں۔ کسی کا پیار سے دیکھنا، توجہ دینا، سراہنا ان کے لیے خوشیوں کا سبب بن جا تا ہے۔اسکولوں میں اکثر چھوٹی بچیاں لڑکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے انہیں میسج کرتی ہیں، محبت بھرے خط لکھتی ہیں، جن میں ان سے محبت کا واضح اظہار ہو تا ہے۔نو عمر لڑکے اسے ایک کھیل سمجھ کر ان کے ساتھ شریک ہو جا تے ہیں۔ لیکن ان معصوم دوستیوں میں کو ئی کانٹریکٹ نہیں ہو تا، وعدے وعید نہیں ہوتے، ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں نہیں کھائی جا تیں۔ کچی عمر کی محبتیں، رنجشیں، کلفتیں بھی پوری طرح نہیں کھلتیں۔اکثر چھوٹی سی بات پر شکوے شکایات لڑائی میں تبدیل اور پھر اپنی شدید خفگی کا اظہار کسی دوسرے لڑکے کو اپنی جانب ملتفت کرنے پر ہو تا ہے۔ کسی دوسرے کی جانب رخ کرنے،اپنی جانب مائل کر کے، در اصل وہ اپنی ہستی کی وہ قدر جاننا چاہتی ہیں، جو انہیں گھر میں نصیب نہیں ہوئی۔۔معصوم بچیاں عشق، محبت کے مفہوم سے نا آشنا ہوتی ہیں۔ ایک سے لڑائی، دوسرے کو پیغامِ محبت۔ اسکول میں ایسی لڑکی ، باقی لڑکیوں کے لیے عبرت اور لڑکوں کے لے بازی بن جا تی ہے۔جو باری آنے پر کسی دوسرے کے ہاتھ آئے۔نرم دل استاد بچی کو اپنے طور پر سمجھاتے ہیں۔ سخت گیر استاد ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیتے ہیں۔ اب آنسوؤں کو ہتھیار کر طور پر استعمال کر کے ہمدردیاں بٹوری جاتی ہیں۔ لڑکے مہنگے گفٹ دے کر لڑکی کی توجہ صرف اپنی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں۔ایسی قدر و قیمت جان کر یہ بچیاں اپنی التفات ِ نظر کے دام بڑھا دیتی ہیں۔جب پانی سر سے اونچا ہو گیا۔ بات لڑکوں کے والدین کے علم میں آئی۔ انہوں نے سکول آکر طوفان سر پر اٹھا لیا۔ان کے خیال میں ایک آوارہ لڑکی ان کے لڑکوں کو لوٹ رہی تھی۔ ہیڈ مسٹریس نے انہیں لڑکی کو سخت سزا، اور اسکول سے نکال دینے کے عندیے پر روانہ کیا۔ہیڈ مسٹریس کو اپنے اسکول کی ساکھ عزیز تھی۔ جسے ان کے خیال میں ایک گیارہ بارہ سال کی بچی داؤ پر لگا رہی تھی۔ لڑکی کے والدین کو بلا یا گیا۔ وہ سارے لڑکے جنہیں لڑکی نے جال میں پھنسایا تھا۔ آفس میں طلب کیے گئے۔لڑکے چور بنے چپ کھڑے رہے۔ تو طوفان کا رخ لڑکی کی جانب موڑ دیا گیا۔ پے در پے سخت سوالوں سے پریشان ہو کر لڑکی نے خود اعتراف کر لیا کہ اس نے کس کس سے کیا کیا وصول کیا۔والدین بیٹی کا اعتراف سن کر شرم سے زمین میں گڑ جاتے ہیں۔ شرمندگی کے باعث نہ صرف خود ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، بلکہ بچی کو بھی ایسے ملامت کرتے ہیں جیسے اس نے چار پانچ قتل کر دیے ہوں۔مزید کیا کہوں۔۔۔۔۔بچی کی ان حرکات کو نظر انداز کریں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جی ہاں کچھ نہیں ہو ا، نہ آسمان واٹا ہے، نہ زمین پھٹی ہے۔ بس اس کو زرا رخ بدل کر دیکھیں یہ بیٹی نہیں بیٹا ہوتی، چار پانچ لڑکیاں اس کے آگے پیچھے ہوتیں، تب آپ کا رد عمل کیا ہو تا کیا آپ یوں ہی زمین میں گڑے رہتے، بیٹے کا جینا دوبھر کر دیتے،اسے اسکول جا نے، سے روک دیتے۔ ظاہر ہے کچھ نہ کرتے۔تو اب بھی وہی کیجیے، ہنس کر ٹال دیجیے۔ اور اپنا احتساب کیجیے۔ آپ سے کہاں غلطی ہو ئی ہے۔ اپنے اعمال اور گھر کے ماحول پر نظر ثانی کریں۔بچیوں کو نرم لہجے میں سمجھائیں، ان سے ناراضی کے اظہار کے بجائے انہیں گلے لگائیں۔ ڈھیر ساری باتیں کریں۔ ان کی خواہشات اور ارادوں کی بابت جاننے کی کوشش کریں۔ان کے واہمے، ڈر،خوف آپ کے دیے ہوئے اعتماد سے ہی دور ہوں گے۔ورنہ وہ کسی روز گھر سے بھاگ جائیں گی۔ یا پھر پہلے رشتے پر ہی ہاں کر دیں گی۔ کیوں کہ آپ کا ماحول، اعتماد اور محبت ان کے پر پھیلانے اور سانس لینے کو کم ہے۔

Review, Blog, Muqadas Majeed

To speak of emotions, is to speak of the heart

To speak of emotions, is to speak of the heart For they are one and the same, never apart (Daima Hussain) Tides of Emotion’ is the first poetry book of a dynamic educator, poet, writer and blogger Daima Hussain who started her own blog under the title Chardasuuraj.com in 2018. Gradually, this blogger surrendered in front of the magic of poetry, dedicated her efforts to exploring diverse poetic forms and allowed the untapped poet in her to pen down her scattered imaginations in the form of moving poems. Daima’s poems delve deeper into the complexities of emotional patterns and I truly loved her specific poems describing particular emotions and feelings like joy, gratitude, passion, contentment, boredom, anxiety, monotony, anger, hate and weariness. Her expression reflects her art of conveying complicated abstract concepts in mature, meaningful and touching words. I agree with the idea that creativity and sensitivity are twin sisters. The creative touch and the emotional depth that Daima’s poems present, point to the ocean of sensitivity that she holds in her heart. Her poem ‘Story of the Bag’ displays her artistic lens of finding life-lessons and interesting stories in daily-life things that go unnoticed. Poem ‘To Butterflies’ is a conversation with my favourite insects, the butterflies, an admiration of their beauty, spell and freedom. Daima turned into a poet in her mature years but deep down there was a baby poet in her who was collecting memories and imaginative ideas, who had been growing with her and at this point it pushed Daima and handed her over the stored treasure to be turned into meaningful poems. Reviewed by Muqadas Majeed Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Poetry, Blog, Meher Ali

صبح کی پہلی کرن مهر علی

عنوان : صبح کی پہلی کرن ( مهر علی) شام اتری آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے صبح کی پہلی کرن! دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے صبح کی پہلی کرن! نادیہ سے یوں کم نامیوں کے پھول چنا چھوڑو سے گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پریوں ٹہلنا چھوڑ دے رات کا در توڑ دے صبح کی پہلی کرن! اں کی سیڑھیاں نیچے اتر جلدی جلدی آسماں کی ۔ اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کرڈھونڈ اس تاریک بن میں شادمانی کا ہرن صبح کی پہلی کرن! Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Absar Fatima

احساسِ بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے؟

احساس بے بسی کیا نفسیاتی مسائل جنم دیتا ہے ؟  ہم دنیا میں بیک وقت کئی رشتوں، چیزوں، اور کاموں سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اور عوامل ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں پہ اثر کرتے ہیں۔ اور اکثر ہمیں احساسِ بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ احساسِ بےبسی تب جنم لیتا ہے جب حالات ہماری خواہش سے بہت مختلف ہوں اور ان کا مختلف ہونا ہمیں بے چینی، جھنجھلاہٹ اور کبھی کبھی جذباتی تکلیف میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ جس نوعیت کے حالات ہوتے ہیں اسی شدت کی احساسِ بے بسی ہوتی ہے۔ مثلاً سردی میں کولڈ ڈرنک پینے کی خواہش پوری نہ ہوپانے پہ جو احساسِ بے بسی ہوگا وہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو بیماری میں دوا تک رسائی نہ رکھ پانے پہ ہوگا۔ کچھ حالات میں ہمیں یہ ماننا ضروری ہے کہ ہم ہر وقت ہر کام اپنی خواہش کے مطابق نہیں کر سکتے۔ اور محدود اختیار ہونے میں کوئی بری بات نہیں۔ لیکن کچھ مسائل میں ان حالات پہ قابو پانا اور ان کا حل بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ خاص طور سے جہاں مسئلہ آپ کی بقاء کا ہو۔ وہ بقاء کئی پہلوؤں کی حامل ہوسکتی ہے۔ یعنی کبھی آپ مادی اشیاء تک رسائی نہ ہونے پہ احساسِ بے بسی محسوس کرتے ہیں اور کبھی اپنے لیے فیصلے کا اختیار نہ ہونے پہ، کبھی یہ احساسِ بے بسی تب محسوس ہوتا ہے جب کوئی ہمارے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے لیکن یا تو اس کی معاشرتی حیثیت یا آپ کی کوئی معاشرتی زمہ داری کی وجہ سے آپ اس کے غلط رویے پہ کوئی ردعمل نہیں دے پاتے یا اسے روک نہیں پاتے۔ اس قسم کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب ہم کسی ابیوسیو یا پرتذلیل تعلق میں ہوں۔ وہ چاہے ہمارے والدین کی طرف سے ہو، بہن بھائیوں کی طرف سے، شریک حیات کی طرف سے، باس کی طرف سے یا دوستوں کی طرف سے۔ اور کچھ حالات میں اولاد کی طرف سے بھی ممکن ہے۔ یہ احساسِ بے بسی ہمیں شدید جذباتی اذیت کا شکار کر دیتا ہے۔ اگر یہ احساسِ بے بسی مستقل ہو تو یہ کئی نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔  کبھی کبھی یہ احساسِ بے بسی مسلسل اعصابی تناؤ کا شکار رکھتی ہے اور بتدریج ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر حالات بدل بھی جائیں تو ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے جب تک دوسرے لوگ نہ بدل جائیں۔ یہ احساس ہمیں ڈپریشن کی طرف لے جاسکتا ہے۔ مسلسل ایک مایوسی کی کیفیت طاری رہتی ہے کیوں کہ ہمیں کسی بھی فیکٹر پہ اختیار محسوس نہیں ہوتا۔ ہر قدرتی احساس کی طرح یہ احساس بھی وقتی ہو تو پریشانی کی بات نہیں بلکہ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ جب ہم کسی وجہ سے بے بسی محسوس کر رہے ہیں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس سچویشن کا مشاہدہ کریں۔ پھر یا تو ان حالات کو قبول کرلیں یا اگر ضروری ہے تو ان حالات کو مثبت انداز میں بدلنے کے اقدامات کرسکیں۔ لیکن جب یہ احساس مسلسل طاری رہنے لگے تو یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور تعلقات پہ اثر کرنے لگتا ہے۔ ہم یا تو مکمل طور پہ اپنی زندگی کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا پھر ہم اس احساس کو ختم کرنے کے لیے دوسروں کی زندگی میں دخل اندازہ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسروں کو اپنی مرضی سے چلانے کے باوجود اگر آپ کا احساسِ بے بسی آپ کے نفسیاتی مسائل کا شاخسانہ ہے تو کئی لوگوں پہ اختیار رکھتے ہوئے بھی آپ خود کو بہت کمزور اور بے اختیار شخص محسوس کریں گے۔ اپنے مرضی کے خلاف ہوئے چھوٹے چھوٹے کاموں پہ بھی ہم شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جائیں گے اور دوسروں پہ مزید سخت رویہ مسلط کرنا شروع کردیں گے۔ والدین اساتذہ اور باس کا، اولاد، شاگرد یا ماتحت کی غلطی پہ انہیں صفائی کا موقع نہ دینا اور ان کے جواب کو نافرمانی سمجھنا اسی احساس بے بسی کا ردعمل ہے۔ جب تک ہم اپنی ذات پہ اختیار بڑھانے پہ کام نہیں کریں گے تب تک ہم یا تو دوسروں کو اپنی ذات پہ اختیار دیتے رہیں گے یا زبردستی دوسروں کی ذات پہ خود حاکم بننے کی کوشش کریں گے۔ جب ہم ایک دفعہ جان جاتے ہیں کہ ہمارا احساسِ بے بسی ہماری اندرونی وجوہات کاشاخسانہ ہے تو ہم ناصرف ان وجوہات پہ کام کرنا شروع کرتے ہیں بلکہ یہ مشاہدہ کرنا شروع کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار ہماری زندگی کے کن کن عوامل پہ اب بھی ہے۔ پھر ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارا اختیار جن عوامل پہ نہیں ہے ان پہ ہونا چاہیے یا نہ ہونا بھی ٹھیک ہے یا جزوی اختیار ہے۔ مثال کے طور پہ میرے لیے میرے لباس کے انتخاب پہ کون سے عوامل اثر کر رہے ہیں؟ مجھے خود کیسا لباس پسند ہے؟ میرے گھر والوں کی طرف سے مجھے وہ لباس منتخب کرنے کی اجازت ہے؟ میرے معاشرے میں وہ لباس قابل قبول ہے؟ میں کس موسم میں وہ لباس پہننا چاہتی ہوں کیا وہ مجھے موسم کی شدت سے بچائے گا؟ یہاں آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کچھ جگہ میرا اختیار جزوی ہے۔ یعنی اگر میں سردی میں کسی تقریب کے لیے سلک کی ساڑھی پہننا چاہوں اور کسی گرم کمرے میں رہوں تو میں باآسانی پہن سکوں گی۔ لیکن اگر مجھے گھر والوں کی طرف سے ساڑھی پہننے کی اجازت نہیں ہے تو مناسب موسم میں بھی نہیں پہن سکوں گی۔ موسم کی شدت اور گھر کی طرف سے اجازت نہ ہونا دونوں طرح کی بےبسی الگ احساس دے گی۔ یہاں اگر میں اپنا جزوی اختیار استعمال کرنا چاہوں تو میں یہ دیکھ سکتی ہوں کہ کس قسم کی ساڑھی گھر والوں کے لیے قابلِ قبول ہوسکتی ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہم روز اپنے لیے کئی فیصلے کر رہے ہوتے ہیں مگر اس کا ادراک نہیں کرپاتے۔ اور چند بڑے بڑے فیصلوں میں دوسروں کا اثر

Green Zone story, Uzma Aziz

عظمیٰ عزیز کی گرین زون کہانی

عظمیٰ عزیز کی گرین زون کہانی ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون فلسفہ اور مالٹن وومن کونسل ساری عمر ہری پیلی اور لال بتی کے ٹریفک سگنل کو دیکھتے رہے مگر یہ کبھی بھی خیال ہی نہ گزرا کہ ہمارے اندر بھی اس طرح کی بتییاں جلتی بجھتی رہتی ہیں جو دراصل ہمارے اندرونی جذبات کی ٹریفک کا سگنل ہوتی ہیں۔ ۲۰1۹ میں گرین زون فلسفے کا ذکر تو سنا تھا لیکن اس کی تفصیل سے ناواقف تھے۔ پھر دو سال کے بعد ایک روز کووڈ کی ایک یخ بستہ شام میں ڈاکٹر خالد سہیل زوم کی چھوٹی سی کھڑکی سے مالٹن وومن کونسل کی بیٹھک میں تشریف لائے اور اپنے سہل اندازِ بیان سے اس گرین زون فلسفہِ نفسیات بلکہ فلسفہ حیات کے  بارے میں ایک ڈیڑھ گھنٹے کا لیکچر دیا۔ ڈاکٹر صاحب تو چلے گئے لیکن  اس مختصر سے لیکچر سے جو ہماری روز مرہ کی گفتگو میں کچھ نئے الفاظ و اصطلاحات کا اضافہ ہوا وہ دراصل ان سے دوبارہ مستفید ہونے کا اشارہ تھا۔  ڈاکٹر سہیل کے اس لیکچر کے بعد ہم سوچنے لگے کہ کس طرح اس concept کو اور ڈاکٹر صاحب کے آسان فہم تصورَ سیلف ہیلپ کو گھر گھر تک پہنچایا جائے۔ مالٹن وومن کونسل جو کہ کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے شہر مسساگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں مالٹن میں ۲۰۰۹ سے عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات سرگرداں ہے’ وہ کمیونیٹی میں  بالخصوص خواتین کی مجموعی صحت سے متعلق بہت سے معلوماتی پروگرام پیش کرتی ہے  ان دنوں مالٹن وومن کونسل بزرگوں کی مینٹل ہیلتھ کو مد نظر رکھتے ہوئے کمیونیٹی میں دس مینٹل ہیلتھ امبیسیڈر کو تربیت فراہم کرنا چاہ رہی تھی جس سے یہ امبیسیڈر کمیونیٹی میں زیادہ سے زیادہ بزرگوں کو اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور نگہداشت کی ترغیب دے سکیں۔ اس سلسلے میں بھلا گرین زون لوونگ سے بہتر ٹریننگ کیا ہو سکتی تھی۔ چنانچہ ہم نے ڈاکٹر خالد سہیل سے رجوع کیا اور انہوں نے بہترین انداز میں ہمارے ایمبسڈرز کو گرین زون فلسفے کی ٹریننگ دی۔ اب گرین زون مالٹن وومن کونسل کی بھی صحت کا ضامن بن گیا تھا اور ہم اپنی کونسل کو بھی گرین زون میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگے۔ ہمارا پروجیکٹ “ سویرا “ ایسی خواتین کے ساتھ کام کر رہا تھا جو کہ زندگی میں کہیں نہ کے رشتہ بدسلوکی  باعث ذہنی تشدد کا شکار رہیں۔ ان کے ماضی کے زخم ان کے حال میں بھی تازہ تھے۔ ان کو ایک ایسے معالج کی تلاش تھی جو کہ نہ صرف ان کے زخموں پہ مرہم رکھ سکے بلکہ آیندہ بھی اپنے آپ کو ہر طرح کی ذہنی اور جذباتی چوٹ سے بچا سکے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے اس ضمن  میں مسساگا اور گرد و نواح کی سینکڑوں خواتین کو انفرادی تھراپی اور چھ ہفتوں کے گروپ سیشن بھی دیے ہیں جن سے ان خواتین کی ذہنی صحت میں خاطر خواہ مثبت تبدیلی آئی ہے۔ گرین زون فلسفے نے نہ  صرف ہمیں اپنے اندر کے ٹریفک سگنل کی پابندی کرنے کی ترغیب و تحریک دی ہے بلکہ ہمیں اس ہماری کونسل کو بھی سرسبز و شاداب  بنانے کے گرُ سیکھا دیے ہیں۔ عظمیٰ عزیز ایکسیکٹو ڈائریکٹر مالٹن وومن کونسل Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Dr. Mahan Aslam
Blog, Dr. Mahan Aslam

Beyond the Present: How Marriage and Parenthood Shape Generations

Marriage and parenthood are often celebrated as life’s greatest milestones, marking the start of a beautiful new chapter. However, alongside the joy and excitement, these roles come with unspoken challenges and sacrifices —realities that are rarely acknowledged. What’s often portrayed as perfection hides the complexities that many face in these life-changing experiences. In the book It Didn’t Start with You by Mark Wolynn (2017), I encountered a thought-provoking concept: the transmission of generational trauma. It made me realize that many of the struggles we face are not as unique as we think—they often echo across The book explains how emotional and mental burdens can be unknowingly passed down from a mother to her unborn child. It’s eye-opening to consider that a child may start carrying the weight of inherited struggles even before birth. While numerous factors shape a child’s mental health, a significant portion of it begins during pregnancy. The emotional and mental challenges a mother faces deeply affect her child, often becoming an unspoken legacy that is carried forward. These generational patterns influence not only the immediate family but can also have lasting effects on future generations. This is why it’s crucial to start having honest conversations about the hidden realities of marriage and parenthood now. Too often, we focus on how these milestones affect us in the present, but the responsibilities we take on extend far beyond the immediate moment. These challenges are passed down through generations, impacting future generations in ways they didn’t choose and often without their knowledge. By not addressing these issues now, we’re unfairly passing on struggles to those who had no part in creating them. As soon as individuals marry, there’s an immediate societal expectation for pregnancy, as if it’s the natural next step. However, what many fail to understand is that the transition into parenthood is not merely physical—it’s emotional, mental, and deeply impactful on the future of both the mother and the child as I discussed above. Once pregnant, however, she is often expected to maintain the same health, energy, and routine as she had before, with little regard for the physical, emotional, and mental toll pregnancy can take. In my experience as a medical student, I’ve heard countless remarks in gynecology wards that reflect this attitude. I’ve often heard comments like, ‘She’s not the only one who’s been pregnant. We’ve been there too and still managed the work.’ These remarks, typically from family members or even other women, reduce pregnancy to physical endurance, ignoring the deeper emotional struggles. Instead of offering support, many women are shamed for not being able to ‘push through,’ further adding to the burdens they face Every challenge a mother faces, whether it’s stress, emotional strain, or physical hardship, has the potential to impact the baby’s development, from physical health to mental well-being. Moreover, once the child is born, the first ten years of their life are crucial in shaping who they will become as adults. The love, care, and upbringing they receive during these formative years, along with the nutrition they have access to, all play vital roles in their future health, mindset, and overall development. The foundation laid in these early years becomes the blueprint for their adulthood, influencing everything from their emotional resilience to their ability to form healthy relationships. Therefore, understanding the interconnectedness of a mother’s well-being during pregnancy and her child’s future is key to breaking the cycle of generational struggles and ensuring healthier futures. In today’s generation, women are often expected to play dual roles as both nurturers and providers, which becomes an overwhelming burden for them and their children. Balancing these responsibilities can be particularly difficult, as the pressure to provide financially alongside caring for the family takes a toll on a woman’s physical and mental health. Similarly, the traditional role of a father as the sole provider also has its own set of pressures, making it difficult for him to handle the emotional and financial weight alone. These gendered expectations often result in the inheritance of burdens, limiting both parents’ emotional wellbeing and creating an environment that affects the mental health of children as well. As we continue to pass these norms on, it’s crucial that we begin questioning and changing these societal structures. Creating spaces where both men and women are supported in their roles, and where shared responsibilities are emphasized, can help break this cycle, offering a healthier and more balanced environment for future generations. While some challenges in marriage and parenthood may be inevitable, they can be minimized through open communication and mutual understanding. Before taking on shared responsibilities, both partners should take the time to truly understand each other’s needs, capabilities, and emotional states. Rather than sticking to outdated norms where the father is the sole provider and the mother is expected to be the only nurturer, both roles should be shared in a way that considers the emotional and physical capacities of each partner. For instance, during the initial phase after childbirth, when the mother is going through one of the hardest transitions, the father should be the one offering support, both emotionally and physically. By creating spaces where both men and women are equally supported in their roles and responsibilities are shared, we can help break the cycle of unbalanced expectations and create a healthier, more equitable environment for future generations. Khushal dasSeptember 22, 2025 at 2:24 am | Edit Goood one.. create a healthier, more equitable environment for future generations. Reply NabilaMay 3, 2025 at 12:44 am | Edit Nice! Reply Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Blog, Aaliya Arooj

کھلا آسمان

کھلا آسمان عالیہ عروج آج اُمید کی آٹھویں سالگرہ تھی، مگر اس حقیقت سے اس کی ماں، رانی، قطعی بے خبر تھی۔ رانی تو بس اتنا جانتی تھی کہ جس دن اس کی بیٹی پیدا ہوئی تھی، آسمان پھٹ کر برسا تھا اور قدرت نے اس کی مدد کے لیے ایک فرشتہ بھیجا تھا۔ کیونکہ یہ ننھی جان اس کی بستی کے مستقبل کا ستارہ تھی – امید کا استعارہ۔بدبو اور کچرے کے انبار پر بسی اس کسمپرسی کی بستی میں، رانی چوتھی بار ماں بننے کی اذیت سے گزر رہی تھی۔ اس سے پہلے اس کے تین پھول سے بچے صفائی کے فقدان اور طبی امداد میسر نہ ہونے کے سبب پیدا ہوتے ہی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ رانی نے اپنے ہاتھوں سے ان ننھے جسدِ خاکی کو سینے سے لگا کر دفنایا تھا۔ چھوٹے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا، حقیقتاً تو کوئی جنازہ نہیں ہوا تھا، مگر رانی نے برسوں تک اپنے کپکپاتے وجود کی ہر ہڈی سے اس دکھ کا جنازہ ادا کیا۔ تین سال تک وہ ان ننھی قبروں کا بوجھ اپنے دل پر محسوس کرتی رہی۔چوتھی بار جب درد کی لہریں اٹھیں، دائی نے اسے پھر خبردار کیا کہ یہ کوشش اس کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ مگر جہاں غربت اور بے چارگی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہوں، وہاں ایک عورت کا زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنا کوئی انہونی بات نہیں سمجھی جاتی، یہ تو محض ایک بےرحم آنکھ مچولی تھی۔رانی درد سے کراہ رہی تھی اور بستی کے چند بے بس مکین یہ دلدوز منظر دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ عین اسی وقت کونین اور حمزہ کی گاڑی اتفاقاً اسی کچرے کے ڈھیر کے قریب آ کر خراب ہو گئی۔ حمزہ کے لیے اس عفونت زدہ ماحول میں سانس لینا محال تھا، مگر دور سے ہی کونین کو رانی کی کربناک چیخیں سنائی دیں۔ حمزہ نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی، مگر کونین ابھی کچھ دیر پہلے ہی قبرستان سے اپنی ماں کی فاتحہ پڑھ کر آئی تھی۔ وہ موت کے دکھ کو محسوس کر کے آئی تھی، وہ جانتی تھی کہ اس وقت اس عورت پر کیا بیت رہی ہے۔ کونین نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر، بارش سے لت پت اس کوڑے پر قدم رکھا جہاں سانس لینا بھی ایک آزمائش تھا۔ حالات کی سنگینی فوراً اس کی سمجھ میں آ گئی۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کیا اور ایمبولینس منگوائی۔وقت پر ہسپتال پہنچنے پر، رانی جب ہوش میں آئی اور آنکھیں کھولیں تو اپنی گود میں اپنی زندہ بچی کو پا کر وہ شکرگزاری کے آنسوؤں سے بہت روئی۔ کونین کو دیکھ کر اس نے بچی اسے تھمائی۔ ننھی جان کی آنکھوں میں دیکھتے ہی کونین حیران رہ گئی۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گونجا: “اس کی آنکھوں میں امید ہے۔ آج سے اس کا نام ‘اُمید’ ہے۔”اُمید ابھی ‘اُمید’ لفظ کے معنی سے ناواقف تھی، مگر اس کی پیدائش نے واقعی بستی میں ایک نئی امید کی کرن روشن کی۔ کونین نے وہاں موجود کچرے کو اٹھوانے کا انتظام کیا، اس بستی کے حالات کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا، مختلف این جی اوز سے رابطہ کیا اور ان کی مدد سے وہاں ایک ‘اسلم سکول’ قائم کیا گیا۔ آج اُمید اسی سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یہ اس ‘اُمید’ پر کہ وہ اس بستی میں ایک نئی زندگی جینے کی رمق پیدا کرے گی۔کیونکہ جینے کا حق تو خدا اور اس زمین نے ہر ذی روح کو عطا کیا ہے، مگر اس حق کی بقا اور فراہمی کے لیے وہ کسی کسی کو ہی وسیلہ بناتا ہے۔ سو، جب آپ محسوس کریں کہ قدرت آپ کو پکار رہی ہے، تو رکنا نہیں ۔

Green Zone story, Fatima Tu Zahra

فیملی-آف-ہارٹ

فیملی آف ہارٹ “فیملی آف ہارٹ” یا آسان معنوں میں ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ کا دلی لگاؤ کسی مخصوص رشتے اور ناطے کی بنیاد پہ نہیں ہوتا بلکہ گفتگو کے دوران پیدا ہونے والی ایک جیسی جذباتی و نفسیاتی کیفیت کے باعث پیدا ہوتا ہے۔  ایک ایسا مضبوط اور پر اعتماد تعلق جس میں آپ کھل کر ہر اس ڈر اور خوف کے متعلق بات کرسکیں جو آپ کی شخصیت کو متاثر کررہا ہے۔ اس کےلیے طویل عرصے سے رابطے میں ہونا اہم نہں ہے اور نہ ہی دو افراد کا ہم عمر ہونا معنی رکھتا ہے۔ ہر وہ شخص جو آپ کی صورتحال کو آپ کی شخصیت اور آپ کا کردار جج کیے بغیر سمجھ سکے اور اس کے حل کےلیے آپ کے ساتھ کوشش کرے وہ فیملی آف ہارٹ کا حصہ بن جاتا یے۔ تو کسی بھی تعلق کو فیملی آف ہارٹ کے نقطہ نظر سے دیکھنے پر جہاں بے شمار چیزیں واضح ہوتی ہیں وہیں ایک گلٹ بھی مکمل طور پہ ختم ہوجاتا ہے جس میں ہم میں سے اکثر لوگ ہمیشہ جکڑے رہتے ہیں کہ شاید ہم ہمارے طویل عرصے پہ مشتمل تعلقات کو جن میں خاندان کے بنیادی رشتے بشمول والدین بھائی بہن اور دیگر افراد کے ساتھ ساتھ قابلِ ذکر دورانیے پہ مشتمل جاری دوستی سے انحراف کرتے ہوئے نئے رشتوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں  اور ایسا کرنا کہیں نا کہیں غلط ہے۔  جب کہ  لیکن یہ بات درست نہیں۔ دراصل جب کوئی ذہنی اور نفسیاتی طور پہ ہمیں ہماری سطح پہ آکر سمجھ سکتا ہے جو کہ کسی بھی شخص کا ہماری صورتحال جاننے کے بعد ایک لاشعوری رویہ ہوتا ہے تو ہم ایسے لوگوں کے ساتھ ایک لگاؤ محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں ایک با اعتماد تعلق پیدا ہونا کوئی مضائقہ نہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اگر آپ کسی سے جذباتی وابستگی نہیں رکھتے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تعلق عارضی ہے اور کچھ عرصے بعد نئے سفر کے آغاز کے ساتھ یہ ختم ہو جائے گا۔ ایک مخصوص جگہ کے لوگ وہیں رہ جائیں گے اور ایک خاص مقام پہ آپ اور وہ الگ الگ سفر کا آغاز کریں گے۔ اس ساری حقیقت کا ادراک ہونے کے باوجود ایک مضبوط اور مربوط تعلق بن جانا اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ وہ اور آپ ایک ایسے تعلق میں بندھ چکے ہیں جس کی ضرورت ہر انسان کو کبھی نا کبھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ خوبصورت ترین رابطہ اور اس میں بندھے لوگ جنہیں ہم فیملی آف ہارٹ کا نام دیتے ہیں گرین زون ٹریننگ پروگرام کے دوران سیکھی گئی ایک ایسی اصطلاح تھی جس نے ذاتی طور پہ مجھے بے حد متاثر کیا۔ اگر آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کا مخاطب آپ کو سمجھ سکتا ہے اور آپ کو اپنی بات اسے سمجھانے کےلیے خاص محنت نہیں کرنا پڑتی۔ آپ الجھنوں کا شکار ہونے کے بجائے مزید بہتر سوچنے کی صلاحیت لےکر واپس آتے ہیں تو ایسے لوگ جذباتی و نفسیاتی طور پہ ہمارے قریب ہوتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات جو میں نے دیکھیں وہ یہ کہ یا تو آپ دونوں ایک سے تجربات سے گزرے ہوں گے یا آپ دونوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے کچھ ایسا ہوگا جس کی آپ دونوں کو بیک وقت ضرورت  ہوگی۔ انسانی تعلقات کہیں نا کہیں ضروریات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ ضرورت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی یا جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی یا روحانی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے۔ وقت کی ضرورت کے مطابق نئے لوگوں کےلیے اپنی زندگی میں جگہ بنانا آپ کی بقا و سلامتی کا ضامن ہے۔ ایسے میں اس طرح کے تعلقات کو بنانے سے نبھانے کے دوراں کسی الجھن کا شکار ہونا یا  احساس جرم کا شکار ہونا قطعاً مناسب نہیں۔   Leave a Comments Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Scroll to Top