Author name: admin

Naaye Khwaab

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 7

اب مارل بولے گا قسط 7 مارل اب روز، جب بھی راہداری ویران دیکھتا کچھ دیر کے لیے ماروی کی تصویر نما خطاطی کے سامنے کھڑا ہوجاتا۔ شروع شروع میں جب اسے لگا تھا کہ ماروی اس سے بات کر رہی ہے۔ اور سن پارہی ہے۔ اس نے اسے بہت کچھ بتانا چاہا۔ مگر کچھ کہنے کی بجائے حلق میں ہی آواز گھٹ گئی اور کئی دن بس یوں گزر گئے کہ وہ آتا، ماروی کے سامنا کھڑا ہو کے روتا رہتا اور پھر آنسو پونچھ کے دوبارہ کاموں میں لگ جاتا۔ مگر اب آہستہ آہستہ وہ ماروی سے باتیں کرنے لگا تھا۔ پہلے دن کے بعد سے دوبارہ کبھی ماروی نے جواب نہیں دیا تھا مگر اسے ابھی بھی لگتا تھا کہ ماروی اسے سن رہی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی دوبارہ اسے پکارے گی۔وہ اسے بتاتا کہ اکثر راتوں میں اس پہ کیا گزرتی ہے۔ درد ختم نہیں ہوا تھا مگر اب برداشت کے قابل لگنے لگا تھا۔ جیسے ابلتے پانی میں کوئی تھوڑا سا ٹھنڈا پانی ملا دے۔ اور کچھ لمحوں کے لیے ابال کو چھپا دے۔ —————- فرزانہ کو نہیں پتا کہ شمائلہ نے نور علی سے کچھ کہا یا نور علی خودہی کچھ سمجھ گیا مگر اس دن گھر آکر فرزانہ کو خود کہنے کے ضرورت نہیں پڑی کہ وہ گاؤں جانا چاہتی ہے۔ کچھ دیر تو گھر پہنچ کر دونوں کے درمیان ان دیکھا کھنچاؤ رہا، فرزانہ خاموشی سے باورچی خانے میں چائے بنانے لگی اور نور علی لاؤنج میں نیچے کارپیٹ پہ لیٹ گیا۔ فرزانہ نے لاکر چائے نور علی کے سرہانے کے قریب رکھ دی اور پلٹ کر جانے لگی۔ “فئیری! اس ہفتے کو گوٹھ چلتے ہیں۔” فرزانہ نے پلٹ کر دیکھا تو نور علی گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ پوچھے اگر شمائلہ نے اس سے کوئی بات کی ہے لیکن پھر خود ہی لگا کہ ابھی اس بات کے لیے مناسب وقت نہیں۔ وہ ابھی بھی دل و دماغ میں جذبات پکتے محسوس کر رہی تھی۔ کوئی ایک بات بھی اونچی نیچی ہوتی تو آسانی سے بگڑ جاتی۔ دو ہی دن تو رہ گئے تھے ہفتہ آنے میں۔ ” ٹھیک ہے۔ سادہ کپڑے لے کر چلوں یا وہاں کوئی دعوتوں کا ارادہ ہوگا؟” ” ہاں، زیادہ تر تھوڑے ہلکے فینسی کپڑے ہی رکھ لو۔ پہلی دفعہ وہاں چل جائیں گے۔ دعوتوں کا ابھی مجھے بھی نہیں پتا۔” “اور برقعہ وغیرہ؟” “برقعہ وہاں کم خواتین ہی پہنتی ہیں، اس کی فکر نہ کرو، چادر یا بڑے دوپٹے سے کام چل جاتا ہے۔ ویسے بھی میرا ارادہ ہے کہ ادا رفیق کی گاڑی لے چلیں۔ گھر کے اندر اتریں گے وہیں سے واپسی۔” “تم نے کہا تھا کہ ادا رفیق نے گاڑی بیچ دی ہے۔” “ہاں بیچی تھی نئی لینے کے لیے ناں، تو مہران بیچ دی آلٹو لے لی، دو ہفتے پہلے۔” فرزانہ بتدریج اپنے اعصاب کو پرسکون ہوتا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔“تمہارے ادا رفیق کے پاس ٹھیک ٹھاک پیسہ ہے۔” نور علی نے فئیری کی بات پہ شرارتی انداز میں بھنویں اچکائیں جیسے دونوں کو پتا ہو کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔ دو دن کیسے یک دم گزر گئے پتا ہی نہیں چلا۔ جب تک گاڑی ہائی وے پہ چلتی رہی سفر کسی بھی دقت کے بغیر طے ہوتا رہا۔ مگر جیسے ہی گاڑی نے اندرونی رستوں کی جانب رخ کیا دھول اور دھچکوں نے غنودگی میں جاتی فرزانہ کو مکمل طور پہ جگا دیا۔ اردگرد نظر آتے کھیت کافی دلفریب تھے مگر غیر ہموار سڑک سے گزرنا کافی صبر آزما تھا۔ “نور، یہ وڈیرے خود ہی الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں خود ہی جیتتے ہیں تو سڑکیں کیوں نہیں بنواتے یار۔” فرزانہ بہت دیر تک اپنے اندر گھونٹتے سوال کو لبوں تک لے ہی آئی۔ نور علی نے اسٹئرنگ سے ایک ہاتھ اٹھا کے انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھی۔ ” ابھی چند دن سب صرف غور سے دیکھو۔” “یہ کیا بات ہوئی۔” “کچھ عوامل تم خود دیکھو گی تو ان کا پس منظر بتانا اور ان کے سرے جوڑنا آسان ہوگا۔”” ہمم ٹھیک ہے۔” گاڑی کچھ ہی دیر بعد بالآخر ایک بڑے احاطے میں داخل ہوگئی۔ احاطے میں گیٹ کے ساتھ کچی پکی ملی جلی اینٹوں سے کچھ دور تک دونوں اطراف میں دیوار بنی تھی مگر کچھ آگے جاکر وہ دیوار جھاڑیوں سے بنی باڑھ میں بدل گئی تھی۔ دائیں طرف چار بھینسیں بندھی تھیں، ان سے کچھ دور تین بکریاں تھیں۔ چند مرغیاں اور بطخیں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔ ان میں سے ہی ایک سرمئی اور بھوری بطخ کو مٹک مٹک کے چلتے دیکھ کر فرزانہ کی نظر اس کے ساتھ بندھ سی گئی بطخ قریب ہی گزرتی پانی کی ایک لکیر کے پاس جاکر رک گئی۔ یہ لکیر کہیں پیچھے سے بہتی ہوئی آرہی تھی۔ فرزانہ کی نظریں اس لکیر سے پیچھے پانی کا منبع تلاش کرنے لگیں جو جلد ہی مل گیا کچھ ہی دور سیمنٹ سے بنے چوکور سے ٹکڑے پہ ایک ہینڈ پمپ لگا تھا جہاں کی نالی سے یہ پانی بہتا ہوا آگے کہیں احاطے سے باہر نکل رہا تھا۔ اسی سیمنٹ کے ٹکڑے کے ساتھ تین سیڑھیوں کی بلندی پہ دو کمرے ایک ساتھ بنے ہوئے تھے جن سے آتی مخصوص بو سے اندازہ ہوا کہ وہ غسل خانہ اور بیت الخلاء ہیں۔ بو کے باوجود فرزانہ کو کچھ سکون محسوس ہوا۔ “فرزانہ!” نور علی کی آواز اور انداز دنوں پہ ہی وہ چونکی۔ اپنے فرزانہ کہے جانے پہ اس نے شرارتی طنز سے نور علی کو گھورا اور اس کے پیچھے چل دی۔ نور علی کا رخ بائیں طرف بنے کمروں کی طرف تھا۔ یہ دو بڑے بڑے کمرے تھے جن کے سامنے بر آمدے میں تین پلنگ رکھے تھے ان میں سے ایک پلنگ پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی تھیں۔ برآمدے کے کونے میں ایک چولہا رکھا تھا جس میں نور علی کی والدہ کی سی عمر کی ایک خاتون کچھ پکانے میں مصروف تھیں۔ فرزانہ کو ابھی تک ایک بھی شکل جانی پہچانی نظر نہیں آئی تھی۔ کھانا پکاتی خاتون کی نظر ان دونوں پہ پڑی تو وہ دوپٹہ سر پہ

Ayesha Hassan

When Women Judge Women

“When Women Judge Women” At the heart of who I am, are three extraordinary women: my mother, my Nano, and my Pova. Each of them has faced immense challenges and emotional pain, yet they never let bitterness take root. Instead, they chose love, understanding, and unwavering support. My mother taught me quiet strength and self-respect, while my nano and pova’s warmth, prayers, and unconditional care made me feel deeply grounded. In Pakistan, women grow up navigating a world shaped by traditions, expectations, and inherited fears. In conversations about patriarchy in Pakistan, the focus almost always rests on men. While men undeniably benefit most from the system, the truth is more complicated and more uncomfortable. Patriarchy does not survive on men alone. It is often protected, justified, and passed down by women themselves. This is not an accusation. It is an observation rooted in daily life. In many households, women speak about other women in front of their husbands in ways they would never tolerate for themselves. A woman’s character, clothes, marriage, or independence becomes casual conversation often wrapped in mockery, suspicion, or moral judgment. She may think she is protecting her position but in reality, she is normalizing misogyny inside her own home. In many families, sons are protected from accountability in ways daughters never are. Boys are excused for anger, entitlement, and disrespect, while girls are trained to be patient, polite, and accommodating. Some mothers teach their sons that responsibility, emotional sensitivity, or respect for a wife will make them “weak” or “fragile.” Phrases like: “Don’t listen too much to your wife.”  “Men don’t apologize.”  “If you’re too loving, she’ll control you.”  “Never ever cry, especially in front of a woman”. Toxic masculinity does not appear overnight. It is nurtured in living rooms, reinforced at dinner tables, and excused in childhood. When a boy is never taught to clean up after himself, regulate his emotions, or respect women’s boundaries, he grows into a man who expects service instead of partnership. When his anger is defended and his behavior justified, he learns that women will always be responsible for fixing him. This does not mean mothers are villains. Many women raise sons the way they were taught within systems that punished them for doing otherwise. But acknowledging structural pressure does not erase responsibility. If women are trusted to raise daughters with discipline, dignity, and morality, then they are equally capable of raising sons with empathy, accountability, and respect. I try to carry this forward in my life by: ● Asking women how their day went and genuinely listening. These simple acts create safe spaces where women feel seen, valued, and empowered. They replace judgment and competition with empathy and encouragement. ● Celebrating their small joys, choices, and achievements. ● Acknowledging challenges and reminding them of the people they love. Every word, every action, every small choice matters. Women Lifting Women Hands that lift, hearts that care, Voices that cheer, always there. Strength in kindness, love that frees, Together we rise, like roots and trees. “So let’s rise, lift each other, and make every woman feel seen, valued, and strong. Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Ayesha Abdulrehman
Ayesha Abdulrehman

موضوع:صنفی،معذوری اور خواجہ سرا برادری کے مسائل

موضوع : صنفی،معذوری اورخواجہ سرابرادری کے مسائل انسانی تہذیب کی ترقی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کمزور اور اقلیتی طبقات کے ساتھ کس حد تک انصاف اور احترام کا برتاؤ رکھتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اس وقت تین ایسے گروہوں کے بنیادی حقوق اور ہمارے معاشرے میں انکی شمولیت کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے: خواتین ، معذور افراد  اور خواجہ سرا   برادری۔ یہ تینوں گروہ تاریخی، ثقافتی اور ساختی غیر امتیازی کا شکار  ہیں۔ ان کے مسائل محض انفرادی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور قانونی   ہیں۔ صنفی بنیاد پر امتیاز ہمارے معاشرے کا ایک پرانا مسئلہ ہے۔ اگرچہ خواتین نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، لیکن سماجی ناروا رویے اور اداروں میں حقوق سے محرومی  اب بھی مساوات کے حصول میں رکاوٹ ہیں۔دیہات اور پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم کے یکساں  اور بہترین مواقع میسر نہیں ہیں۔ پرائمری سطح کے بعد لڑکیوں کی تعلیم حاصل نا کرنے کی  شرح بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سہولیات کا فقدان، غیر محفوظ ما حول اور رسم و رواج ہیں۔ملازمت کے مواقع موجود ہیں مگر ان  میں صنفی تفریق، کام کے یکساں معاوضے کا نہ ہونا، اور غیر رسمی شعبے میں استحصال ،خواتین کی معاشی خودمختاری میں رکاوٹ ہیں۔ گھریلو تشدد، جنسی ہراساں کرنا، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے جیسے واقعات نہ صرف جرائم ہیں بلکہ سماجی  غیر اخلاقی ذہنیت کے عکاس بھی ہیں۔ اکثر  اوقات  خواتین انصاف کے حصول سے محروم رہ جاتی ہیں۔  عورت اس بات پر کتنا ہی اصرار کر لے کہ                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                              ؎                                                                            زمانے!    اب تیرے مدِمقابل                                                                                  کوئی کمزور سی عورت  نہیں ہے                                                   (فریحہ نقوی)                                                                                                                                                                                مرد کسی نا کسی اسٹیج پر چاہے وہ معاشرتی ہو یا معاشی ہو، اس کے حصول سلب کرنے سے باز نہیں آتے۔ وہ ساحر لدھیانوی کا کیا خوب شعر ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                           ؎                                                                                                   عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا                                                                                                                                           جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا قانون کے اداروں میں خواتین کی نمائندگی ناکافی ہے۔ اگرچہ کوٹہ سسٹم موجود ہے، لیکن  اختیار اور تعلقات کی سطح پر خواتین کی شرکت محدود ہے۔ ان مسائل کی جڑیں دقیانوسی تصورات اور قانونی نظام کی کمزور عملداری سے وابستہ ہیں۔ معذور افراد ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ان کے مسائل صرف طبی یا جسمانی نہیں، بلکہ زیادہ تر سماجی ہیں۔ ہمارے عوامی مقامات، عمارتیں، نقل و حمل کے نظام، تعلیمی ادارے اور تفریحی مراکز اکثر معذور افراد کی ضروریات کے مطابق ڈھلے ہوئے ہی نہیں ہیں۔ معذور بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی ادارے  بہت محدود ہیں اور ان کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔ روزگار کے میدان میں غیر امتیازی سلوک اور منفی رویے انہیں معاشی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ معذوری کو اکثر  شرم کا باعث  سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سےمعذور افراد کو سماجی تقریبات سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ یہ غلط رویہ ان کی نفسیاتی صحت پر شدید منفی اثر ڈالتا ہے۔ معذور افراد کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں، لیکن ان کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے۔ “معاشرہ معذوری کو فرد کا مسئلہ سمجھتا ہے، حالانکہ یہ دراصل معاشرے کا مسئلہ ہے ۔” خواجہ سرا   برادری شاید ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ پسا  اور  ستایا ہوا طبقہ ہے۔ ان کا مسئلہ محض صنفی شناخت کا نہیں، بلکہ بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کا ہے۔ خاندان اور معاشرے کی طرف سے ابتدا ہی سے انہیں قبول نہیں کیا جاتا جوکے بےحددکھ کا سبب ہے۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد ان کے پاس سر چھپانے کے لیے چھت اور معاش کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ تعلیم اور روزگار کے تمام دروازے ان پر بند ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پاس معاش کے محدود ذرائع رہ جاتے ہیں۔ مجبوراً بھیک مانگنے، ناچ گانے یا جسم فروشی جیسے پیشے اپنانے پڑتے ہے۔وہ پولیس اور عام شہریوں کی جانب سے جسمانی و جنسی تشدد کا آسان ہدف بنتے ہیں لیکن  اب حکومتِ پاکستان نے ان کے لئے تعلیمی اور شناختی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ستمبر 2025 میں صوابی میں ایک مقامی کمیٹی نے خواجہ سرا افراد سے ضلع چھوڑنے کا مطالبہ کیا جس کی  ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نےسخت مذمت کی۔ اس کمیٹی نے کہا کہ خواجہ سرا لوگوں کی موجودگی معاشرتی اقدار کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ خواجہ سرا افراد نے واضح کیا کہ وہ آئینی حقوق کے طلبگار ہیں اور قانون کے تحت رہنے کا حق رکھتے ہیں۔  ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ کسی بھی شہری کو صرف جنس کی بنیاد پر رہنے یا روزگار کمانے سے محروم نہیں کیا جا سکتا،  اور اس طرح کے مطالبے غیرامتیازی سلوک کی نمائندہ ہیں۔                                                                                                                                                                                            ؎                                                                                                                                                             گالوں پر غازے کے پیچھے درد کے سوکھے پھول                                                                                                                                      لچکیلی بانہوں کی شاخوں پر نفرت کی دھول                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  کالی کالی قسمت ان کی نیلے پیلے خواب                                                                                                                                                                                                                                                                                                                           اتنے رنگوں میں اپنی پہچان بھی ایک عذاب              (الیاس بابر اعوان)                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             طبی مراکز پر غیر امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔انڈیپنڈنت اردو کے مطابق ا کتوبر 2025 میں پاکستان میں خواجہ سرا افراد کو جنسی ہم آہنگی کی محفوظ سرجری حاصل کرنے میں شدید مشکلات اور سماجی مزاحمت کا سامنا ہوا، اگرچہ قانون کے مطابق انہیں یہ حق حاصل ہے۔کالم میں لکھا  ہے کہ پاکستان میں، جہاں حال ہی میں صنفی ہم آہنگی کی سرجری  کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، بنٹی ان چند ٹرانس خواتین میں شامل ہیں، جو یہ عمل محفوظ طریقے سے کروانے کی استطاعت رکھتی تھیں۔بنٹی نے بتایا کہ وہ لاہور کی واحد خاتون ڈاکٹر کے پاس گئیں، جو ٹرانس خواتین کے لیے چھاتی بڑھانے کی سرجری کرتی ہیں۔

Asma Khalid
Asma Khalid

ذہنی صحت:   انسانی زندگی پر اثرات اور اس کا تدراک

ذہنی صحت: انسانی زندگی پر اثرات اور اس کا تدراک اس  جدید دور میں جسمانی صحت کی  بہتری کے لئے تو جِدوجہد کی جارہی ہے مگر ذہنی صحت کو بدترین بحران میں دھکیل دیا گیا ہے۔پاکستان میں یہ بحران روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ کراچی میں منقعدہ حالیہ ” 26ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ذہنی امراض “کے دوران ماہرین نے پاکستان میں ذہنی امراض کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔  اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال ذہنی دباؤ کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔کانفرنس کے چیئرمین پروفیسر محمد اقبال آفریدی نے کے مطابق   ملک میں ہر تین ہزار افراد میں سے ایک شخص کسی نہ کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہے، جبکہ دنیا میں یہ شرح پانچ میں سے ایک ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں ہیں بلکہ ہمارے ہمسائے، رشتے داروں اور احباب و رفقا ء کی داستانِ غم ہیں۔ یہ مسئلہ اب ایک سماجی ہنگامی صورت ِحال اختیار کر چکا ہے  جس کو ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حسن نجمی سکندر پوری نے کیا خوب کہا ہے؛                                                                                          شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی                                                                                                                              آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا دیکھ   عالمی ادارہ صحت  کے مطابق ذہنی صحت  کو “مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود” قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہم  نےاس کی تعریف انتہائی محدود کر دی ہے۔  “روزنامہ جنگ” کے ایک تازہ اداریہ  (8 فروری 2024)  میں اس بحران پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی جس میں خاص طور پر نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے ڈپریشن اور اس کے نتیجے میں خودکشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اداریے کے مطابق  ”  گلگت بلتستان کارہائشی 17سالہ ذوالفقار اختر راولپنڈی سکستھ روڈ پر واقع ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں قیام پذیر تھا ۔ وہ سالِ دوم کا طالب علم تھا اور فرسٹ ائیر کے امتحان میں نمبر کم آئے تھے جس پر وہ دل برداشتہ ہوا اوراس نےاپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔”  یہ کوئی الگ واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے میں پھیلتے ہوئے ایک خاموش وائرس کی علامت  اور ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود دراڑوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کارکردگی کا دباؤ،  گھروں میں  جذباتی  بات چیت کا فقدان اور معاشرے میں مدد طلب کرنے کو کمزوری سمجھنا، نوجوان نسل کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں نفسیاتی مرض سے جڑا “داغ”  اتنا گہرا  اثر رکھتاہے کہ افراد  اس کےعلاج سے کتراتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے رہتے ہیں۔      انتہائی مطالعے کے بعدمعلوم ہوا ہے کہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن پاکستان میں ایک سنجیدہ مسئلہ   ہےجسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اکثر لوگ  اسے سایہ سمجھتے ہیں اور علاج نہیں کرواتے۔ ایک تحقیق  کے مطابق ڈپریشن اس وقت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جب عورت کو شوہر یا خاندان کی طرف سے مناسب سماجی تعاون نہ ملے، اور ایسے خاندانی عوامل خواتین کو اپنے مسائل شیئر کرنے اور علاج   معالجہ سے روکتے ہیں۔ یہ رویہ ہمارے ہاں عام ہے۔ ذہنی بیماری کو بھوت پریت، جادو ٹونے یا ایمان کی کمزوری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی فرسودہ سوچ نہ صرف مریض کی حالت کو بگاڑتی ہے بلکہ پورے خاندان کو معاشرتی تنقید اور نفسیاتی دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ ذہنی صحت کا بحران شہر اور دیہات دونوں میں اپنے مختلف روپ میں موجود ہے۔جہاں شہروں میں تنہائی، مسابقت اور روزگار کا دباؤ ذہنی امراض کی بنیادی وجہ ہے۔ وہیں دیہات میں ناخواندگی، غربت اور جہالت کے باعث ذہنی امراض کو سمجھا ہی نہیں جاتا۔   ایک حالیہ واقعہ جو میری ایک دوست نے میرے گوش گزار کیا کہ سندھ کے ایک دور دراز گاؤں  میں  منقسم شخصیت کے عارضہ کےمریضوں کو مقامی “پیر” کے پاس لے جایا جاتا ہے، جہاں انہیں زنجیروں سے باندھ کر مارا پیٹا جاتا ہے۔  گاؤں والوں  کے مطابق یہ تو جن بھوت ہے، ڈاکٹر کیا کر لےگا؟ اس لئے لوگ مریض کو پیر بابا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ المناک صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بنیادی آگاہی اور صحت کی سہولیات تک رسائی کے بغیر، ذہنی صحت کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں  سماجی و جذباتی تعلیم کو لازمی شامل کیا جائے۔   طلباء کواساتذہ کے طرف سے دیا گیا دباؤ  برداشت کرتے ہوئے اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے، شخصیت میں صبر و تحمل کا عنصر پیدا کرتے ہوئے اپنے جذبات کو پہچاننے اور  انسانی ہمدردی جیسے موضوعات پر توجہ دینی چاہیے۔ اساتذہ کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ مقصد سکھانا ہوتا ہے نہ کہ سرِعام ذلیل و رُسوا کر کے بچے کی خوداعتمادی  کو ٹھیس پہنچانا ۔ جیسا کہ ابھی چند روز قبل لاہور یونیورسٹی میں طالبِ علم اویس کی خود کشی کے افسوسناک واقعہ میں اساتذہ کا رویہ بھی انتہائی قابلِ افسوس ہے۔   لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا “صحت مند دماغ” پروگرام  اس سمت میں ایک قابل تقلید قدم ہے، جس کے تحت طلباء و اساتذہ کے لیے مفت کاؤنسلنگ سیشنز اور آگاہی ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ڈراموں اور ٹاک شوز میں ذہنی صحت کے مسائل کو حساسیت کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی ڈرامے “عشق زہے نصیب “نے “اختلالِ شخصیت کی تقسیم” کوموضوع بنایا، “سراب” نے “شیزوفرینیا” کو حساس انداز میں پیش کیا، اور “آخری اسٹیشن” نے مختلف کرداروں کے ذریعے “ڈپریشن “جیسی نفسیاتی حالتوں کو دکھایا، جس کا ناظرین پر مثبت اثر پڑا۔       2019 کے ذہنی صحت ایکٹ  پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ہر ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مکمل طور پر فعال ماہرینِ نفسیات    پر مشتمل شعبہ قائم کیا جائے۔ نجی شعبے میں بھی ملازمین کے لیے ذہنی صحت کے پروگرامز لازمی قرار دیے جائیں۔ ریڈیو کے ذریعے آسان اردو اور مقامی زبانوں میں ذہنی صحت کے بارے

Amina Hassan

About Mental Health

About Mental Health Today mental health finds itself at the crossroads of globalization. As the world is becoming more concerned about productivity and socio-economic success, so the human minds are collapsing under unbearable burden of social validation. The rise in depression, anxiety, self-harm and suicide is not merely a medical phenomena or a sign of mental weakness but in many situations, mental disorders are produced by social structures, cultural systems, and religious or digital exploitation. When we neglect the main factors behind mental illness, it results in blaming the victims for the situation beyond their control and thus it fosters guilt, shame due to fear of social judgement and negative commentary.The World Health Organization (WHO) defines mental health as “a state of well-being in which individuals realize their potential, can handle the tensions of life, can work productively and contribute fully to society.” This definition may be clinically useful but it equates health solely with productivity and it also pathologizes non-conformity. Also Karl Marx’s theory of alienation describes the capitalist systems which separate workers from their work, their feelings and themselves. According to him, capitalism reduces human life to a means for profit and it infuses feelings of powerlessness, meaninglessness, and isolation. A person may suffer emotional exhaustion and mental deterioration while maintaining the economic status and social appearance. The outward adjustments cannot eliminate internal conflicts rising in the human mind. In this era, self-worth is solely measured by grades, jobs, financial status, achievements, and social recognition and these social standards insert continuous academic pressure, fear of unemployment, and struggles to achieve high social identity.The complexities of mental health can’t be understood in isolation from the body. The chronic psychological stress activates prolonged cortisol release, which disrupts sleep routine, impairs memory, weakens immunity, and alters brain regions such as amygdala and hippocampus that regulate emotion and fear. Over time this biological dysregulation increases vulnerability to depression, and cardiovascular illness. Treating symptoms without addressing the environments that continuously generate stress reduces medicine to only maintenance rather than-healing.One of the major distortions is the romanticization of silence and patience in many cultures, they frame suffering as spiritual purification, patience as moral superiority, and endurance as dignity. The modern individual is urged to stay positive while experiencing economic precarity and emotional isolation. This idea aligns with Freud’s concept of repression, which shows that pain buried too early and too deeply to be consciously remembered can disturb adult behavior. In many cultures, speaking about pain is labeled as ingratitude or weakness. The real evil thrives not in cruelty but in normalization. When suffering and suppression becomes normal, then emotional disturbance is considered a shame. Some mental diseases are rooted in profound detachment from nature and art as humans need natural environments, creative expressions, painting, and writing to regulate their emotional lives. These are the activities that historically allow individuals to get a little break from distress, but nowadays these forms of creativity are dismissed as unprofitable. When human value is measured by economic utility and exhaustion is normalized in the society then rest begins to feel like guilt of being non-productive or useless and so the mental health deteriorates.Mental health struggles often begin at home and school. In many family structures emotional neglect, authoritarian parenting, generational abuse, and unspoken fears are passed down like heirlooms. When the family gathering that should be spaces of safety and shared vulnerability, become arenas of judgement, comparison, and mockery then one avoids human interaction and prefers to suffer in isolation. When children suffer emotional neglect during childhood then there are more chances of facing difficulty in secure attachments formation and they may develop anxious or avoidant attachment patterns that persist into adulthood. Favoritism, gender prejudice, constant comparison with peers, or unequal attention among children living in same households results in emotional invalidation and resentment. The unequal nurturing of children fractures self-worth and significantly increases vulnerability to lifelong emotional insecurity. Mental health varies differently according to age, number of siblings a child has and birth order of a child. Classroom inequality further deepens mental distress, as the students are ranked, labeled and compared within rigid academic hierarchies and this performance-based validation leaves many students anxious and chronically inadequate. The academic pressure, parental expectations, comparison culture, unequally divided privileges and relentless pursuit of validation from family, peers, and social media perpetuates self-doubt and reshapes the human mind. The developing brain becomes highly sensitive to fear of failure and rejection. Gender further complicates mental health. Layered social customs, financial systems, cultural distortions, and emotional oppression define women’s mental health. In most societies, women endure disrespect and suppress their ambitions to keep the household intact. The social ills such as domestic abuse, lack of autonomy, low educational or job resources for women and violence (bullying and sexual attacks) remain undiscussed and unsolved. Men are also suffering in silence as social expectations associate manhood with emotional restraint, strength, and financial provision while expressing emotions is frowned upon. The larger and unequal family burdens on both men and women, especially in married life, result in chronic psychological strain rather than companionship. Any human connection that demands endurance over dialogue becomes the root cause of emotional numbness. In current era, the tragic rise in suicides reflects not the fragility of youth but the brutality of expectations placed upon them. Suicides are not impulsive acts but consequence of long-term mental exhaustion. Every suicide represents a collective failure; a failure to listen, validate, and protect. Youth are so burdened and controlled that death may feel like an escape. According to WHO , over one billion people worldwide live with a mental disorder, while depression alone affects approximately 280 million globally and suicide claims more than 730,000 lives each year, making it the leading cause of death among people aged fifteen to twenty-nine.Digital capitalism is one of the main causes of modern mental distress. Social media platforms monetize insecurity by promoting curated perfection, success without struggle, filtered beauty and superficial happiness among people. They deregulate dopamine pathways

Menahal Jabbar

عنوان: سماجی و جذباتی فلاح و بہبود

سماجی و جذباتی فلاح و بہبود  خوشحال انسانی زندگی اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد انسانی زندگی کی تکمیل صرف مادی خوشحالی یا جسمانی صحت کے حصول سے نہیں ہوتی۔ حقیقی اور پائیدار خوشی کا راز دراصل ہماری سماجی اور جذباتی فلاح و بہبود میں موجود ہے۔ یہ دونوں عناصر انسانی شخصیت کے ایسے پہلو ہیں جو ہماری سوچ، احساسات، رویوں اور تعلقات کو گہرائی اور معنی بخشتے ہیں۔ یہ محض نفسیاتی اصطلاحات نہیں، بلکہ یہ ایک خوشگوار اور ہم آہنگ اور پائیدار زندگی گزارنے کے لیے لازمی شرائط ہیں۔ سماجی و جذباتی فلاح و بہبود دو ایسے جڑے ہوئے ستون ہیں جو انسانی بہبود کی عمارت کو سنبھالتے ہیں۔جذباتی فلاح و بہبود سے مراد ہمارا اپنے جذبات کو پہچاننے، سمجھنے، ان پر قابو پانے اور ان کا درست طریقے سےاظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک جذباتی طور پر تندرست فرد ناامیدی اور غصے جیسے منفی جذبات کا مقابلہ بہترطریقے سے کرتا ہے، ناکامیوں سے سبق حاصل کرتا ہے، اور اندرونی سکون برقرار رکھتے ہوئے زندگی کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو جذباتی فلاح سے محروم ہے وہ کبھی بھی اس طرزکو اختیار نہیں کر سکتا۔مؤثر مواصلت، فعال سماعت، تعاون، اور مثبت رویہ سماجی فلاح و بہبود کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے دوسروں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور معیار سماجی رابطوں کو فروغ دینے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ یہ ہمیں مضبوط خاندانی رشتے، حقیقی دوستی، اور معاشرے میں ایک اچھا شہری بننے کے قابل بناتی ہے۔ سماجی طور پر تندرست فرد تنہائی کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک حمایتی سماجی حلقے کا حصہ ہوتا ہے۔ایکسپریس نیوز کے ایک کالم (2 نومبر 2025) کے مطابق دماغی صحت سے متعلق ایک حالیہ کانفرنس میں پاکستان میں نفسیاتی صحت کی حالت کے بارے میں تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی ذہنی بیماری سے متاثر ہے، جب کہ ملک میں گزشتہ سال تقریباً 1000 خودکشیاں ذہنی پریشانی سے منسلک تھیں۔یہ نتائج کراچی میں منعقدہ 26ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے دماغی بیماری کے دوران سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں خواتین گھریلو جھگڑوں اور معاشرے میں اپنی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہیں۔ غضنفر صاحب کا شعر یہاں بلکل مناسب رہے گا کہ؎ ذہن کے خانوں میں جانے وقت نے کیا بھر دیا بے سبب ہونے لگی اک ایک سے ان بن مری آج کا دور بے پناہ مسابقت، تیز رفتار تبدیلیوں، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سماجی ہم آہنگی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا دور ہے۔ ایسے میں سماجی و جذباتی فلاح و بہبود کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ظاہری روابط تو بڑھا دیے ہیں، لیکن گہرے، حقیقی اور جذباتی طور پر تسکین بخش تعلقات میں واضح کمی آئی ہے۔ ، سائبرکرائمز کا تقابل نوجوان نسل میں تنہائی، بے چینی اور خود اعتمادی کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ طلبہ اور ملازمین پر کارکردگی کے بے پناہ دباؤ، مستقبل کی بے یقینی، اور کام ا ور زندگی میں توازن کی مشکل نے ذہنی دباؤ اور جلن کو عام بنا دیا ہے۔ اردو نیوزکی خبر ( 25 جولائی 2025) کے مطابق پاکستان میں حالیہ دنوں میں بچوں کی خودکشی اور اموات کے دلخراش واقعات نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ میٹرک کے نتائج کے بعد سے کم از کم تین بچوں نے ناکامی کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنی جان لے لی۔پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے درنگ چٹاری سے تعلق رکھنے والے کاشف نے میٹرک میں فیل ہونے کے بعد دریا میں چھلانگ لگا دی اور بچانے کی کوشش میں اسکے بھائی کی جان بھی چلی گئی۔ اسی طرح ضلع کوٹلی میں ایک لڑکی نے دریائے پونچھ میں چھلانگ لگائی مگر اسے بچا لیا گیا۔وسطی پنجاب کے علاقے پنڈی بھٹیاں کے گاؤں اطلے مروان میں ایک طالب علم نے نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ جبکہ سوات میں ایک بچہ مدرسے میں استاد کے تشدد کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا گیا۔ خاندان کے مطابق بچے نے بار بار شکایت کی تھی کہ مدرسے میں اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا، لیکن اس کی بات کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان واقعات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بچوں کی جذباتی فلاح و بہبود کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے جو انہیں شدید نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیتی ہے۔سماجی و جذباتی فلاح و بہبود یافتہ افراد کے لیے فوائد کا دائرہ وسیع ہے۔انفرادی سطح پرحاصل کردہ فوائد میں بہتر ذہنی و جسمانی صحت، طویل العمری، مضبوط قوتِ مدافعت ، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت، اور تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی شامل ہیں۔ مضبوط اور محبت پر مبنی رشتے ، گھریلو تشدد میں کمی، اور خاندانی ہم آہنگی ایسے فوائد ہیں جو خاندان کو جوڑےرکھتے ہیں۔ ایک فلاحی طور پر مضبوط معاشرے کے اندر تعلیمی اداروں میں مثبت تعلیمی ماحول، تشدد کے واقعات میں کمی اور طلبہ کی بہتر کارکردگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔معاشرتی سطح پر کم جرائم، زیادہ سماجی ہم آہنگی، اور ایک پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔اس مقصد کے حصول میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔جذبات پر بات کرنے، مدد مانگنے، یا کسی کے سامنے دل ہلکا کرنے کو اکثر سماجی طور پر کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مردوں میں یہ رجحان خاص طور پر شدید ہے۔ “مرد روتے نہیں” یہ جملہ انھیں جذباتی اظہار سے روکتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کا زیادہ تر زور علمی کامیابی پر ہے، جبکہ جذباتی ذہانت، تعلق سازی، اور پرابلم سول وِنگ ابیلیٹی کی تعلیم یکسر نظر انداز ہے۔جدید معاشرہ مادی کامیابی کو حتمی معیار سمجھنے لگا ہے، جس کے لیے انسان اپنے جذبات اور تعلقات کو قربان کر دیتا ہے۔ انفرادیت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اجتماعی زندگی اور باہمی انحصار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں انفرادی، خاندانی، تعلیمی اور اجتماعی سطح پر جامع حکمت عملی اپنانا چاہیے۔خاندان پہلا اور اہم ترین مدرسہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے جذبات کو نام دے کر پہچاننے میں

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط نمبر 6

اب مارل بولے گا قسط نمبر 6 مارل!۔۔۔۔۔اسے کسی نے سرگوشی نما آواز دی۔وہ طویل راہداری کے ایک ہونے میں گھٹنوں میں سردئیے بیٹھا تھا۔ ابھی ابھی حاکم سائیں کے کمرے سے لوٹا تھا۔ اس کا بارہ سالہ وجود راہدری کے کونے میں بکھر سا گیا تھا۔ اسے ہر بار خود کو سنبھالنا شدید مشکل لگتا تھا۔ آج بھی وہ سانس لیتے رہنے کی، زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ جس کی خواہش اور ہمت روز بروز کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی۔آواز پہ اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سنسان راہداری میں اس کے علاوہ کوئی اور ذی روح موجود نہیں تھی۔ “مارل اوپر دیکھو”۔۔۔۔آواز دوبارہ آئی اس نے سر اوپر اٹھایا۔ راہداری کی دیواروں پہ شاہ لطیف کی شاعری کی خطاطی سے بنی سات سورمیوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اس کے بالکل سامنے والی دیوار پہ ماروی سے منسوب خطاطی آویزاں تھی۔ اسے یوں لگا جیسے اس خطاطی میں چھپے نقوش اس سے مخاطب ہوں۔ وہ اٹھ کر اس تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے خبر دیکھ کر ہونٹ بھینچ لیے۔ اس نے نظر اٹھا کے نور علی کی طرف دیکھا وہ بھی اپنے موبائل میں کچھ دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں دلچسپی اور لاتعلقی بیک وقت موجود تھیں۔ فرزانہ کو ایک لمحے کے لیے لگا وہ بھی وہی خبر دیکھ رہا ہے اور اس کی آنکھوں کے تاثر نے اسے بے چین کردیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے ایک دم ہی نور کو مخاطب کیا، ” نور!” اس کے لہجے میں شدید تیزی اور سختی تھی۔ نور نے سر اٹھا کے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں موجود دلچسپی کی جگہ تحیر آن ٹھہرا تھا۔ فرزانہ نے جارحانہ انداز میں اپنا موبائل نور کے سامنے رکھ دیا۔ جیسے جتانا چاہ رہی ہو کہ تم جو چھپانا چاہ رہے تھے وہ مجھے پتا چل گیا ہے۔ نور علی نے اپنا موبائل ٹیبل پہ رکھ دیا اور فرزانہ کا موبائل ہاتھ میں لے لیا۔ نور کے موبائل کی روشن اسکرین پہ ایک مختصر مزاحیہ وڈیو موجود تھی جو دو سے تین سیکنڈ چلتی اور پھر دوبارہ شروع ہوجاتی۔ نور کی نظریں فرزانہ کے موبائل پہ تھیں اور فرزانہ کی نور کے موبائل پر۔ تھوڑی ہی دیر بعد فرزانہ کو احساس ہوا کہ نور نے شاید خبر پڑھ لی ہے اور اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔“یہ تمہارا ڈسٹرکٹ ہے ناں؟” فرزانہ نے کوشش کی کہ اس کا لہجہ جارحانہ نہ رہے مگر شاید ابھی بھی کچھ اسی لہجے کا شائبہ باقی رہ گیا تھا۔ “ہاں! تو؟” نور علی کے سوال پہ فرزانہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھی رہی۔ “تم نے یہ خبر دیکھی تھی…؟”“نہیں، ابھی تم نے دکھائی تو پتا چلا۔” فرزانہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ “تم اس فیملی کو جانتے ہو؟” “نہیں یار، مجھے کیسے پتا ہوسکتا ہے۔ یہ کافی دور کے گوٹھ کی خبر ہے۔ بس ڈسٹرکٹ ایک ہے۔ اور ویسے بھی ایسی خبریں تو روز آتی ہیں اخباروں میں۔ ““روز آتی ہیں تو کیا اہمیت ختم ہوجائے گی؟” فرزانہ کا لہجہ دوبارہ تیز ہوگیا اسے لگا نورعلی اس واقعے پر اپنا اور علاقے کا دِفاع کررہا ہے۔“نہیں یار، اہمیت ہے بہت اہمیت ہے۔ مگر ہر واقعے میں متاثرہ خاندان کے بارے میں معلوم ہونا ضروری نہیں ناں۔ دیہاتوں میں ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ کبھی سچے ہوتے ہیں کبھی بس آپس کے جھگڑوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔” “مطلب بچہ جھوٹ بول رہا ہے؟” فرزانہ کا غصہ کچھ مزید بڑھ گیا۔ “فئیری کیا ہوگیا ہے؟ اس میں غصے کی کیا بات ہے۔ اور وہ بھی پبلک پلیس پہ؟ میں نے اس خبر کے بارے میں کب کہا۔ میں تو عمومی واقعات کی بات کر رہا تھا۔ گھر چل کے بات کریں اس پہ؟” فرزانہ نے چند لحظے اس دیکھا پھر خاموشی سے اپنا موبائل اس کے ہاتھ سے لے کر کینٹین سے باہر نکل گئی۔ نور علی بھی فوراً ہی نکل آیا مگر تب تک فرزانہ لفٹ میں سوار ہوچکی تھی اور لفٹ کا دروازہ بند ہورہا تھا۔ اپنی ٹیبل پہ آکر فرزانہ بہت دیر تک اسی خبر کے بارے میں سوچتی رہی۔ خبر کی تفصیل نے اسے ذہنی اور جذباتی طور پہ مضطرب اور منتشر کردیا تھا۔ زیادتی کرنے والے لڑکے اس بچے کے دوست بھی تھے اور ایک ہی ذات سے تعلق رکھتے تھے اس لیے رشتے دار بھی تھے۔ فرزانہ کو اندازہ تھا کہ اکثر دیہات میں ایک ذات کا مطلب رشتے دار ہونا ہی ہوتا ہے۔ فرزانہ سوچے جارہی تھی کہ کوئی اپنے رشتے دار بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ خاص طور سے جس سے دوستی کا دعویٰ ہو۔ اسے ساتھ ساتھ نور علی کے رویے پہ بھی غصہ آرہا تھا۔ وہ اس خبر کو اتنا معمولی کیسے لے سکتا تھا۔ اگر خدا ناخواستہ وہ ہمارا بچہ ہوتا۔ فرزانہ نے یہ سوچ آتے ہی آنکھوں کو زور سے بھینچا اور سر کو ایک دم جھٹکا جیسے اس سوچ کو فوراً دماغ سے جھٹک دینا چاہتی ہو۔ وہ ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچ کر کہ جس کا دنیا میں آنے کا پتا بھی نہیں تھا اتنی پریشان ہو گئی تھی اور نور۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے اپنی کیفیت سے گھبرا کے ساتھ بیٹھی شمائلہ کو پکارا۔” شمائلہ” ” ہمم” شمائلہ کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود فائل پہ تھیں۔ “ارے یار ادھر دیکھو۔ میری بات سنو ذرا” “ہاں بولو۔” شمائلہ نے فائل جزوی انداز میں یوں بند کرلی کہ بند فائل میں بھی اس کی شہادت کی انگلی بک مارک کی طرح اس صفحے پہ تھی جو وہ پڑھ رہی تھی۔ ” یار لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کیسے کر لیتے ہیں؟” فرزانہ کے لہجے میں بے یقینی اور دکھ ایک ساتھ تھا۔” کیوں تم نے پیڈوفائلز کے بارے میں نہیں سنا۔”” ہاں سنا ہے۔ نیٹ پہ سرچ کرکے تفصیل بھی پڑھی ہے۔ مگر پھر بھی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ جنسی کشش تو ایک خوبصورت رومانوی جذبہ ہے۔ یہ پھول جیسے معصوم بچوں پہ تشدد کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں لوگ؟” “عجیب بات کردی محترمہ، کون سے یوٹیوپیا کی بات

اب مارل بولے گا قسط 5
Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 5

اب مارل بولے گا قسط 5 مارل تاریک کمرے کے کونے میں اپنے بستر پہ لیٹا خلاء میں دیکھے جارہا تھا۔ پورے دن جو جو اس پہ گزرا سب کچھ نظروں کے سامنے بار بار چل رہا تھا۔ وہ شدید تھکا ہوا تھا۔ آنکھیں جل رہی تھیں مگر وہ سونا نہیں چاہتا تھا۔ بہت دیر تک نیند سے لڑتے لڑتے تھک گیا اور اسے پتا ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ آنکھیں بند ہوتے ہی دماغ میں چلتے عکس اور واضح ہوگئے۔ جیسے وہ سب دوبارہ ہورہا ہو۔ حاکم سائیں کے ہاتھ نے اس کے منہ اور ناک کو یوں ڈھانکا ہوا تھا کہ اس کی سانسیں مشکل سے چل رہی تھیں۔ گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔ اور پھر ہوتے ہوتے وہ گھٹن اتنی بڑھ گئی کہ یک لخت اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پورا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور مسلسل کپکپا رہا تھا۔ اس کا جاگنا سونا اسی ایک اذیت کے گرد گھومتے رہتے تھے۔ دن میں گزارے اذیت کے چند لمحے پوری رات خوابوں پہ حاوی رہتے۔ اس کی آنکھیں لال رہنے لگی تھیں۔ چہرے پہ نقاہت چھائی رہتی تھی۔ مگر اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہونے والا اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔ ـ ————- فرزانہ کو اب جاکر وہ خوشی اور اطمینان محسوس ہونے لگا تھا جس کا اس نے نور علی کے ساتھ تصور کیا تھا۔ آفس سے آکر چائے پیتے ہوئے دنیا جہان کی باتیں کرنا، کبھی ساتھی کام کرنے والوں کی غیبتیں، کبھی نظام کی خرابیاں کبھی معاشی مسائل اور مہنگائی پہ تبصرے جو اکثر بیچ میں ہی کہیں رہ جاتے اور دونوں ایک دوسرے کے لمس کی نئی نئی جہتیں دریافت کرنے میں مگن ہوجاتے۔ مگر ہفتہ اتوار آتے ہی اس میں چھوٹا سا وقفہ آیا۔ شادی سے پہلے نور علی کا معمول رہا تھا کہ وہ مہینے کے دو ویک اینڈز گاؤں میں گزارتا تھا ہفتہ اتوار تو چھٹی ہوتی ہی تھی وہ جمعے کی بھی کرلیا تھا تھا۔ اس بار ایک ہفتہ تو ان کی شادی کا ہنگامہ رہا اگلے ہفتے تک امی اور تائی یہیں تھیں۔ لہٰذا اس دفعہ ہر حال میں جانا ضروری تھا۔ فرزانہ ذہنی طور پہ تیار تھی کہ یہ اس کا سسرال میں پہلا قیام ہوگا جمعرات کو آفس سے آتے ہی نور علی کو چائے دے کر وہ کمرے میں چلی گئی تاکہ لے جانے والے کپڑے نکال سکے۔ پہلے تو کچھ کپڑے بیڈ پہ رکھ کے تجزیہ کرتی رہی کہ کون سا جوڑا لے جانا مناسب لگے گا پھر سوچا نور علی شاید بہتر مشورہ دے دے۔ اسے فرزانہ کی شخصیت کا بھی اندازہ ہے اور اپنے گھر والوں کی پسند نہ پسند کا بھی۔ فرزانہ کے آواز دینے پہ نور علی چائے کا کپ ہاتھ میں لیے کمرے میں آگیا۔ دروازے سے اندر آتے ہوئے بھنوؤں کو سوالیہ انداز میں خفیف سے اچکایا۔” یار بتاؤ ناں کون سا سوٹ لے کر جانا ہے۔” ” کہاں” ” گوٹھ جانا ہے ناں۔” ” آج تھوڑی جانا ہے۔ کل جاؤں گا۔” “جاؤں گا کیوں؟ میں بھی تو چلوں گی۔” فرزانہ کے لیے نور کا صرف اپنے لیے کہنا غیر متوقع تھا۔ “تمہارے چلنے کی تو بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ نہ میں نے ابھی وہاں بتایا ہے کہ تم آؤ گی۔” “یہ کیا بات ہوئی۔ اب شادی ہوگئی ہے تو میں بھی تو جایا کروں گی ناں وہاں یہ کوئی الگ سے بتانے کی بات ہے۔” فرزانہ تھوڑی چڑ گئی” ہاں کم از کم پہلی دفعہ جانے پہ تو الگ سے بتانے کی بات ہی ہے۔ وہاں سارے مائٹر (رشتہ دار) دعوت وغیرہ رکھیں گے۔ اماں وڈی نے خیرات اور میلاد وغیرہ رکھنے کا کہا ہے تو انہیں کچھ دن پہلے سے بتانا ہوگا۔ عید پہ چلنا تو چھٹی زیادہ لے کر چلیں گے۔ یہ سارے کام نمٹا لیں گے۔” “یعنی یہ پہلے سے طے تھا؟ اور تم نے مجھے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی۔” “مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی جلدی وہاں جانے کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہوگی۔ ابھی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی زیادہ وقت نہیں ملا۔ ان لوگوں کو بھی تم زیادہ سمجھ نہیں پائیں۔ مجھے لگا تم بھی ابھی شاید نہ جانا چاہو۔” “خود ہی میری طرف سے اندازے لگا لیے۔ یہ کیا بات ہوئی۔” ” نہیں یار اندازہ لگانے کی بات ہی نہیں۔ تمہاری کسی بات سے اندازہ بھی تو نہیں ہوا تھا کہ تم جانا چاہ رہی ہو۔ آج تم نے بات کی تو میں نے بھی بتادیا۔ خود سے میں کہنا نہیں چاہتا تھا کہ تمہیں یہ نہ لگے کہ میں زبردستی تم پہ ملنے ملانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہوں۔” نور علی کی بات مناسب بھی تھی اور لہجہ بھی سادہ تھا اس کے باوجود فرزانہ کو اچھا نہیں لگا۔ کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے نور علی اپنے گھر والوں کے کہنے پہ اسے گاؤں نہیں لے جارہا۔ ” خیرات اور میلاد کرنی ہے یا ایک ‘دھاری’ کو وہ لوگ خاندان میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔” لاشعور میں دبا یہ لفظ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دم اس کی زبان پہ آگیا۔ “تمہیں کس نے کہا” نور علی کا لہجہ کسی قدر جارحانہ ہوگیا۔” براہ راست تو مجھے نہیں کہا لیکن کئی دفعہ اپنے متعلق بات چیت میں یہ لفظ اپنے حوالے سے سننے میں آیا۔” ” اوہ اچھا، تو اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے؟” پھر کچھ سوچ کے پوچھا۔ ” تمہیں دھاری کے معنی پتا ہیں؟” “نہیں، اور مسئلہ لفظی معنی میں نہیں ان کے لہجوں میں ہے جیسے دھاری کوئی بہت بری عورت ہوتی ہے۔” ” ارے یار کوئی بری عورت نہیں ہوتی سادہ سا لفظ ہے دھار یعنی الگ اس سے دھاری یعنی الگ خاندان کی، اس حساب سے میری امی بھی دھاری ہیں۔ کیوں کہ میرے والد سے ان کا نکاح عوض میں ہوا تھا میرا ننھیال بھی ادھر کا ہی ہے لیکن ذات الگ ہے۔” پھر وہ اس کے قریب آگیا نرمی سے کپڑے لے کر ایک طرف رکھے اور پیچھے سے اس کے شانوں پہ بازو پھیلا کر ساتھ بیڈ پہ بٹھا لیا۔ “فئیری دیکھو، سو فیصد سب

Ayesha Hassan

“Behind Every Strong Mother Is a Story No One Asked: Menopause Needs a Voice”

“Behind Every Strong Mother Is a Story No One Asked: Menopause Needs a Voice” Growing up, I was always close to the women in my family, my mother, my aunts, and even my grandmother. I saw their strength, their dedication, and the way they held our families together. But as I grew older, I also began to notice something else: they were going through changes that no one talked about. That silence is what made me look closer. And what I found changed the way I see women’s health forever. “Behind Every Strong Mother Is a Story No One Asked: Menopause Needs a Voice” In many cultures especially in Pakistan menopause is often treated like something women should “just bear.” Talking about pain, mood changes, exhaustion, dizziness, or cramps feels shameful. Even in loving families, many mothers don’t feel comfortable sharing what they’re going through. Because of this silence, many women face severe symptoms that go unnoticed, their emotional well-being begins to suffer, and they often feel isolated during one of the hardest phases of their lives. Families may misunderstand their mood swings or fatigue, assuming it’s irritation or stress rather than a natural hormonal transition. Husbands and children, unaware of what menopause truly brings, often misinterpret their struggles, leaving women to carry an invisible burden entirely on their own. When I saw my mother and my aunts going through these changes, I wanted to help. I started reading, researching, and learning and that’s when I discovered how much I didn’t know before. I learned about the Estrogen drop — the major hormonal shift that causes many emotional and physical symptoms, Muscle loss — why strength decreases during menopause, Bone density changes — leading to higher risks of arthritis and osteoporosis, Sleep problems — why many women feel exhausted, Severe cramps or pelvic pain, Mood fluctuations — not because they are “emotional,” but because their bodies are transforming and the importance of screenings like uterus scans, breast exams, and checking for fibroids. A Daughter’s Role: One day I decided to take a step for my mother. I asked her to visit the doctor. I encouraged her to get her checkups – uterus, breast, fibroids, everything. I helped her understand what was happening. And slowly, I saw a change. She wasn’t just healing physically; she started to feel supported. She laughed more. She shared more. She trusted the process. How You Can Support: Here are simple ways to make a real difference: ask her how she’s feeling with gentle, non judgmental concern, go with her to a doctor if she feels nervous, encourage regular checkups for her uterus, breasts, and bone density, learn basic menopause symptoms and talk about them openly, be patient with any changes in her mood or energy, offer emotional support because sometimes listening is enough, and create a safe environment where she never feels ashamed of what she’s experiencing. As daughters, sons, and young members of society, we have the power to break this cycle of silence. Let’s start the conversation. Let’s normalize women’s health. PERIOD ! Leave a Reply Cancel Reply Logged in as admin. Edit your profile. Log out? Required fields are marked * Message*

Absar Fatima

اب مارل بولے گا قسط 4

اب مارل بولے گا قسط 4 تحریر ابصار فاطمہ مارل شاہی بازار کی آخری دکان کی اوٹ سے بچوں کے جھنڈ کو گزرتے دیکھ رہا تھا۔ اس میں اکثر بچے اسی کی عمر کے تھے۔ یہ بھی سارے بچے غریب ہاریوں کے تھے نہ تن پہ مکمل کپڑے نہ پیر میں چپل۔ مگر وہ خوش تھے۔ ان کے قہقہوں میں کھنک تھی۔ مارل کو نہیں یاد وہ کب دل سے ہنسا تھا۔ وہ ہنستا بھی تھا تو آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ اس کے تن پہ بھی ویسا ہی سادہ لباس تھا۔ مگر اس کی تقدیر ان کی تقدیر سے بہت مختلف تھی۔ اتنی مختلف کہ چہرے کے نقوش کے ساتھ کھدی تھی۔ اسی ٹولے میں سے کسی کی نظر اس پہ پڑی اس نے وہیں سے آواز لگائی اوو کارا۔۔۔۔ اووو کارا۔۔ مارل فوراً دیوار کی اوٹ میں چھپ گیا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ سخت، گھونگھریالے بالوں سے پسینے کے قطرے بہتے ہوئے چہرے تک آگئے تھے۔ قہقے قریب آرہے تھے کچھ دیر پہلے کے بے فکر قہقہوں میں کھنک کہ جگہ اب حقارت کی سختی عود آئی تھی۔ —– —— —— —— سب کچھ بہت جلد نمٹ گیا۔ یا شاید خود بخود کیا نمٹتا اسی نے جیسے بس کر گزرنے کی ٹھان لی تھی۔ کسی اگر مگر کو دماغ میں نہیں آنے دیا تمام خدشوں کو اپنے لاشعور میں کہیں دفن کردیا۔ اور ایک ماہ کے اندر اندر وہ فرزانہ نور علی بن گئی تھی۔ رخصت ہوکر وہ اسی شہر کے ایک فلیٹ میں گئی جو نور علی نے رشتہ طے ہوجانے کے بعد کرائے پہ لیا تھا۔ لیکن ایک بات جو اس کے اور نور علی کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھی وہ یہ کہ یہ گھر صرف نور علی کے نام سے کرائے پہ نہیں لیا گیا تھا اس کا کرایہ اور گھر میں آنے والے سامان کا خرچ دونوں کا آدھا آدھا تھا۔ کرایہ نامہ دونوں کے نام بنا تھا کوئی کسی دوسرے کو یہ کہہ کر گھر سے نہیں نکال سکتا تھا کہ یہ میرا گھر ہے۔ کئی اور بہت سی چھوٹی بڑی شرائط تھیں جو ان دونوں کے درمیان بہت پہلے سے طے تھیں لیکن نکاح نامے میں درج نہیں تھیں کیوں کہ اگر یہ مسئلہ دونوں خاندانوں کے بیچ رکھا جاتا تو نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی جو کم از کم فرزانہ فی الحال بالکل نہیں چاہتی تھی۔ اسے پتا تھا یہ ان دونوں کے درمیان کا معاملہ ہے جسے وہ دونوں ہی آپس میں نمٹائیں تو بہتر ہے۔ اس کے باوجود یہ کمزور سا نکاح نامہ جس پہ اس کے تحفظ کے لیے ایک بھی شرط موجود نہیں تھی مسلسل اسے عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر رہا تھا۔ اس نے کئی بار خود کو یقین دلایا کہ مسئلہ نکاح نامے میں نہیں ہے بس وہ پچھلے تجربے سے ڈری ہوئی ہے۔ نور علی کے تقریباً تمام ہی رشتے دار شہر آئے ہوئے تھے۔ ساری خواتین تو اسی فلیٹ میں تھیں اور مردوں کے لیے اسی عمارت کی ایک اور منزل پہ انتظام کیا ہوا تھا۔ ان مہمانوں میں نور علی کی بیٹی مومل بھی شامل تھی جو زیادہ تر اپنی دونوں پھپھیوں میں سے کسی کے پاس نظر آتی تھی۔ یا جیسے ہی اسے نور علی، فرزانہ سے دور نظر آتا تو اس کے پاس لگ کے بیٹھ جاتی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کا دل شرمندگی اور دکھ کے احساس سے بوجھل سا ہوجاتا تھا لیکن اس کے باوجود اس نے کوئی ردعمل دینے سے احتراز کیا۔وہ پہلے نواز علی کے گھر کے ماحول کو سمجھنا چاہتی تھی۔ جو فی الحال اسے ناممکن سا لگ رہا تھا۔ اسے کسی حد تک سندھی سمجھ آجاتی تھی لیکن دیہاتی لہجے میں بلند آواز سے بیک وقت بولتی تمام خواتین کی ایک بات بھی سمجھ نہ آپاتی، کچھ وہ بھی اسے دیکھتے ہی کھسیانے سے انداز میں خاموش ہوجاتی تھیں۔ ہاں ایک لفظ جو تواتر سے اس کے کان میں پڑ رہا تھا وہ تھا “دھاری” اور لاشعوری طور پہ اسے لگا کہ یہ لفظ اس کے لیے ہی استعمال ہورہا ہے۔ اس نے یہ تمام اہم غیر اہم لیکن دماغ میں چبھتی رہنے والی باتیں جمع کرکے رکھ لیں تھیں تاکہ کچھ وقت گزرنے کے بعد نور علی سے ان پہ بات کرسکے۔ ولیمے کے دو دن کے اندر اندر اکثر رشتے دار واپس چلے گئے۔ مومل بھی اپنی پھپھیوں کے ساتھ ہی گاؤں چلی گئی اب یہاں فرزانہ کے ساتھ صرف نور علی کی والدہ اور تائی رہ گئیں۔ نور علی کی والدہ چھریرے سے بھی کچھ دبلے جسم کی حامل متحرک سی خاتون تھیں جنہیں فرزانہ نے اتنے دن کچھ نہ کچھ کرتے ہی پایا۔ جب کہ تائی ذرا بھاری جسم کی خاتون تھیں جو اکثر ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی تھیں لیکن جہاں وہ بیٹھتی تھیں ساری خواتین بھی اسی جگہ ان کے گرد بیٹھ جاتی تھیں۔ فرزانہ نے غور کیا تھا کہ اکثر گفتگو کی پتوار انہی خاتون کے ہاتھ میں رہتی تھی اور وہ اپنی مرضی سے گفتگو کا رخ موڑتی رہتیں تھیں۔ ان کا باقی سب کے جانے کے بعد بھی رکنا فرزانہ کے اعصاب کو کسی حد تک کشیدہ کر رہا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اس قسم کی خاتون ہیں جن کی ہر چیز پہ نہ صرف گہری نظر ہوتی ہے بلکہ ایک غیر متزلزل قسم کی رائے بھی ہوتی ہے۔ نور علی نے بتایا تھا کہ وہ اس کے تایا کی پہلی بیوی تھیں خاندان کی سب سے بڑی بہو۔ پھر تقریباً آٹھ سال اولاد کا انتظار کرنے کے بعد تایا کی دوسری شادی کروا دی گئی لیکن بڑی تائی کو باقاعدہ گھر کی خواتین کا سربراہ بنادیا گیا تاکہ انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ یہ بات نور علی نے بہت فخر سے بتائی تھی اور فرزانہ خود بھی کسی حد تک گاؤں کے اس چلن سے متاثر ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ ان کے رکنے پہ گھبراہٹ کا شکار تھی ان کی اس کے لیے بنی رائے ہمیشہ کے لیے پورے خاندان میں اس کی حیثیت کا تعین کردیتی۔ وہ مسلسل خود کو دل ہی

Scroll to Top