کھلا آسمان

عالیہ عروج

آج اُمید کی آٹھویں سالگرہ تھی، مگر اس حقیقت سے اس کی ماں، رانی، قطعی بے خبر تھی۔ رانی تو بس اتنا جانتی تھی کہ جس دن اس کی بیٹی پیدا ہوئی تھی، آسمان پھٹ کر برسا تھا اور قدرت نے اس کی مدد کے لیے ایک فرشتہ بھیجا تھا۔ کیونکہ یہ ننھی جان اس کی بستی کے مستقبل کا ستارہ تھی – امید کا استعارہ۔
بدبو اور کچرے کے انبار پر بسی اس کسمپرسی کی بستی میں، رانی چوتھی بار ماں بننے کی اذیت سے گزر رہی تھی۔ اس سے پہلے اس کے تین پھول سے بچے صفائی کے فقدان اور طبی امداد میسر نہ ہونے کے سبب پیدا ہوتے ہی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ رانی نے اپنے ہاتھوں سے ان ننھے جسدِ خاکی کو سینے سے لگا کر دفنایا تھا۔ چھوٹے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا، حقیقتاً تو کوئی جنازہ نہیں ہوا تھا، مگر رانی نے برسوں تک اپنے کپکپاتے وجود کی ہر ہڈی سے اس دکھ کا جنازہ ادا کیا۔ تین سال تک وہ ان ننھی قبروں کا بوجھ اپنے دل پر محسوس کرتی رہی۔
چوتھی بار جب درد کی لہریں اٹھیں، دائی نے اسے پھر خبردار کیا کہ یہ کوشش اس کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ مگر جہاں غربت اور بے چارگی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہوں، وہاں ایک عورت کا زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنا کوئی انہونی بات نہیں سمجھی جاتی، یہ تو محض ایک بےرحم آنکھ مچولی تھی۔
رانی درد سے کراہ رہی تھی اور بستی کے چند بے بس مکین یہ دلدوز منظر دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ عین اسی وقت کونین اور حمزہ کی گاڑی اتفاقاً اسی کچرے کے ڈھیر کے قریب آ کر خراب ہو گئی۔ حمزہ کے لیے اس عفونت زدہ ماحول میں سانس لینا محال تھا، مگر دور سے ہی کونین کو رانی کی کربناک چیخیں سنائی دیں۔ حمزہ نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی، مگر کونین ابھی کچھ دیر پہلے ہی قبرستان سے اپنی ماں کی فاتحہ پڑھ کر آئی تھی۔ وہ موت کے دکھ کو محسوس کر کے آئی تھی، وہ جانتی تھی کہ اس وقت اس عورت پر کیا بیت رہی ہے۔ کونین نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر، بارش سے لت پت اس کوڑے پر قدم رکھا جہاں سانس لینا بھی ایک آزمائش تھا۔ حالات کی سنگینی فوراً اس کی سمجھ میں آ گئی۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کیا اور ایمبولینس منگوائی۔
وقت پر ہسپتال پہنچنے پر، رانی جب ہوش میں آئی اور آنکھیں کھولیں تو اپنی گود میں اپنی زندہ بچی کو پا کر وہ شکرگزاری کے آنسوؤں سے بہت روئی۔ کونین کو دیکھ کر اس نے بچی اسے تھمائی۔ ننھی جان کی آنکھوں میں دیکھتے ہی کونین حیران رہ گئی۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گونجا: “اس کی آنکھوں میں امید ہے۔ آج سے اس کا نام ‘اُمید’ ہے۔”
اُمید ابھی ‘اُمید’ لفظ کے معنی سے ناواقف تھی، مگر اس کی پیدائش نے واقعی بستی میں ایک نئی امید کی کرن روشن کی۔ کونین نے وہاں موجود کچرے کو اٹھوانے کا انتظام کیا، اس بستی کے حالات کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا، مختلف این جی اوز سے رابطہ کیا اور ان کی مدد سے وہاں ایک ‘اسلم سکول’ قائم کیا گیا۔ آج اُمید اسی سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یہ اس ‘اُمید’ پر کہ وہ اس بستی میں ایک نئی زندگی جینے کی رمق پیدا کرے گی۔
کیونکہ جینے کا حق تو خدا اور اس زمین نے ہر ذی روح کو عطا کیا ہے، مگر اس حق کی بقا اور فراہمی کے لیے وہ کسی کسی کو ہی وسیلہ بناتا ہے۔ سو، جب آپ محسوس کریں کہ قدرت آپ کو پکار رہی ہے، تو رکنا نہیں ۔

Scroll to Top