تنگ گلی
عالیہ عروج
تنگ گلی میں، اذان آج پھر اپنے معذور باپ کے ساتھ سبزی کی ریڑھی دھکیلتا ہوا فرنس موڑ سے گزرا تو حسبِ دستور پان والے نے وہی پرانا فقرہ چست کیا: “اوئے، ذرا سیدھا ہو کر دکھا سوہنیا، ساری سبزیاں منٹوں میں بکا لوں گا!” اور پھر وہی گھٹیا، اونچا قہقہہ۔
اذان روز اپنے باپ پر کسی جانے والی یہ باتیں سنتا تھا، مگر وہ ‘اذیت’ کے لفظ سے ناواقف تھا۔ وہ تو بس اتنا سمجھتا تھا کہ بیماری صرف جسمانی ہوتی ہے، جو اس کے ابا کو ہے، اور اس کی اماں کو ہے۔ اور پھر اس کے ننھے ذہن میں سوال ابھرتا: “کیا میں ٹھیک ہوں؟” جب اذان نے ہوش سنبھالا تھا، اسے اماں ابا صحت مند لگتے تھے اور اپنا آپ بیمار محسوس ہوتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس معاشرے نے اسے تلخ حقیقت کا مفہوم سمجھا دیا۔
مُنے پان والے کی باتوں نے تو جیسے اب اس کے احساس کو سُن کر دیا تھا، مگر تھوڑا آگے جا کر اذان نے مسجد کے اپنے دوست احمد کو سکول جاتے دیکھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے بہت کرب ناک ہوتا تھا۔
مُنے پان والے نے جب اذان کو یوں کھویا کھویا دیکھا تو پاس آ کر اس کے منہ پر پان کا پورا پتہ مل دیا۔ اذان کے جسم میں جیسے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا۔ پاس کھڑا ہجوم کھلکھلا کر ہنس گیا۔ مگر اذان خاموش رہا۔ وہ سب کو معمول کے مطابق اور خود کو غیر معمولی (ابنارمل) محسوس کرتا تھا۔ وہ ذہنی صحت کے تصور سے ناواقف تھا، حالانکہ موجودہ حالات اسے اندر سے بدتر کر رہے تھے۔
وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ اگلی گلی میں جا کر موجود نلکے سے منہ دھونے لگا۔ اذان کا باپ، “اکّو”، اپنی معذوری اور بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بننے پر خود کو کوس رہا تھا۔ مگر اس باپ بیٹے کے پاس ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی لفظ موجود نہ تھا۔
ڈاکٹر طلحہ اپنی چھت سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ نیچے اترے۔ اذان کو منہ دھونے اور سنبھلنے کا وقت دینے کے بعد اس کے قریب آئے۔ انہوں نے آلو پالک خریدی اور باتوں باتوں میں دونوں کے حالات اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیا۔ ہفتہ بھر وہ ان سے سبزی خریدتے رہے اور یوں آہستہ آہستہ ان کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔
ایک مہینے بعد ڈاکٹر طلحہ تمام پہلوں کو سمجھ کر اور ترتیب دے کر اذان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اذان اور اسکے والد کو ایک دکان کا بتایا جو ڈاکٹر طلحہ کے دوست کی تھی اور وہ ڈاکٹر طلحہ سے مشورہ کرنے کے بعد بہت کم کرائے پر دینے کو تیار تھا۔ دونوں باپ بیٹے نے مشورہ کیا۔اكو ویسے ہی اپنے بیٹے کی خود کی وجہ سے عزتِ نفس مجروح ھوتے دیکھتا خود ہی خود میں بہت شرمندہ ہوتا رہتا تھا۔
اس کے بعد ڈاکٹر طلحہ نے روز دکان پر آ بیٹھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اذان کے ذہن کی گنجلیں کھولنی شروع کیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد اذان کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اسے بیماری اور صحت کا مفہوم زیادہ واضح ہوا۔
اور پھر سال بعد اذان سکول جانے لگا۔ زندگی آسان تو اب بھی نہیں ہوئی تھی، مگر ہاں، بہت سے مسئلوں میں الجھے رہنے کی بجائے، اذان اب کچھ مسائل پر قابو پانے لگا تھا۔
زندگی میں کبھی ہمیں کسی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے، اور کبھی زندگی ہمیں کسی کا کندھا بننے کا موقع دیتی ہے۔ ایسے مواقعوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، یہی تو زندگی کی روشن کرنیں ہیں۔