احسان لینا قبول کریں
عفت نوید
ہم نے اکثر لوگوں کو، خاص طور پر بزرگوں سے سنا ہے کہ اللہ چلتے ہاتھ پیر اٹھا لے۔ کسی کا محتاج نہ کرے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنا،اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دینا۔کسی سے اپنا کام کہتے،اپنا بوجھ ڈالتے، اپنی تکلیف بتاتے،
خودداری کے احساس پر ٹھیس لگتی ہے اس لیے بہت سے لوگ اپنی پریشانی مشکل، تکلیف یا ضرورت کسی کو نہیں بتاتے کسی سے شیئر نہیں کرتے۔ بہت سے لوگوں کو ہمدردیاں سمیٹنا اچھا نہیں لگتا۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں قابل ترس سمجھیں۔ خودداری کا یہ احساس بعض اوقات شخصیت اور اعصاب کو اس بری طرح جکڑ لیتا ہے کہ انسان اپنے قریب ترین رشتوں اور چاہنے والوں پر بھی اپنی پریشانی ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ اور پیارے بھی کون سگی اولاد سگے بہن بھائی، شوہر یا پھر قریب ترین دوست۔
مجھے اپنی مثال دیتے اچھا نہیں لگتا لیکن خامی بیان کرنے کے لیے میں خود کو، خود سے نزدیک پاتی ہوں۔ مجھے بخار تھا،پانی کی طلب محسوس ہوئی، شوہر سامنے بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی کھڑی ہوئی چکرا کر بستر پر بیٹھ گئی۔ شوہر نے پوچھا ” کیا چاہیے”؟
میں نے کہا ”پا نی” ٗ ‘‘پانی ’’
پانی پی کر انہیں گلاس تھما دیا۔ انہوں نے گلاس میز پر رکھا اور غصے سے بولے ”میں تمہارے سامنے بیٹھا تھا،مجھے کہتیں۔جس طرح تمہیں سب کی خدمت کرنا اچھا لگتا ہے، ہمیں بھی اچھا لگتا ہے۔ ہمیں بھی موقع دو۔ایسا نہیں کہ تم کسی کو تکلیف دینا نہیں چاہتیں، اصل بات یہ ہے کہ تم کسی کا احسان لینا نہیں چاہتیں۔ تم انا پرست ہو۔“
مجھے لگا وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔
مجھے احساس ہوا کہ انا پرستی اچھی چیز نہیں، اپنی تکالیف جھیلتے، درد برداشت کرتے، اپنے احساسات کو اپنی ذات تک محدود کرتے اور اذیت پسندی سے گزر کر جانے کب ہم خود پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ انسان کو کسی بھی مشکل، درد،تکلیف سے نکلنے کے لیے سوائے اپنی ذات کے کوئی نظر نہیں آتا، وہ خود ہی سے تمام مسائل کا حل مانگتے ہیں اور انہیں تنہا حل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور اسے خود داری کا نام دیتے ہیں۔مگر ایک بات ہمیں یاد رکھنا ہوگی کہ انا پرست اور خوددار ہونے میں بڑا فرق ہے۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کا ایک دوسرے سے درد کا بھی رشتہ ہے۔
اپنے ہوں یا پرائے انسانیت درد کے رشتے سے جڑی ہے۔ درد بانٹنا،غموں کا مداوا کرنا، تکلیف میں ساتھ دینا ہر حساس انسان کی فطرت ہے۔ جس کے تحت وہ لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خدمت کے جذبے کا احترام کرنا چاہیے۔
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے
کچھ لوگ اپنی ذات کے مضبوط حصار میں اتنے قید ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو وہ اسے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے تن تنہا ہاتھ پیر مارتے ہیں۔ دریا کی لہروں کے بھنور میں پھنسنے والا شور مچانے کے بجائے محض ہاتھ پیر چلائے تو کنارے پر کھڑے لوگ اسے ایک مشاق تیراک سمجھ کر اس پر کوئی توجہ نہیں دیں گے۔
کسی کی مدد کرنا، خیال کرنا، کسی ضرورت کے لیے پوچھتے رہنا یہ پیار کرنے والوں کے دلی سکون کا باعث ہوتا ہے۔ عام طور پر بزرگ اپنے بچوں کی پریشانی، بے آرامی اور زحمت کے خیال سے انہیں اپنی کوئی تکلیف نہیں بتاتے، اپنے احساسات اور کیفیات کا ذکر نہیں کرتے۔ کسی ضرورت کا اظہار نہیں کرتے، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ان سے پیار کرنے والے ان کی جنبش لب کے منتظر ہیں۔ جسے وہ زحمت سمجھ رہے ہیں وہ ان کے لیے راحت ہے۔
اپنوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ان کے لیے رحمت ہے۔ بزرگ انہیں رحمت و راحت سے محروم کر کے خود تو دل میں یہ اطمینان لیے جاں کنی کے عذاب سے گزر کر عالم ارواح سدھار جاتے ہیں کہ ان کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہوئی۔مگر اپنے خونی رشتوں کے لیے پچھتاوا، ملامت اور لوگوں کی لعن طعن، اثاثے میں چھوڑ جاتے ہیں۔