اب مارل بولے گا۔۔۔ قسط 8

تحریر ابصار فاطمہ

مارل کے اردگرد کی دنیا چلتی رہتی تھی، مگر اسے یوں لگتا جیسے اس کی اپنی زندگی کہیں رک گئی ہو۔ حاکم سائیں کا حجرہ، اس سے جڑی راہداری، اور اپنا بستر، بس انہی تین کے بیچ اس کی دنیا ایک دائرے کی طرح گھومتی رہتی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ زندگی بدلتی کیسے ہے۔ وہ خود کو اکثر میدان کے بیچ گڑھی اس ڈنڈی جیسا محسوس کرتا، جس کے سائے بدل بدل کر دوسروں کو وقت کا پتا دیتے ہیں، مگر وہ خود وہیں کا وہیں رہتی ہے۔ اسی دائرے میں ایک ہلکی سی دراڑ تب پڑی جب حاکم سائیں نے اسے مہمان خانے کی ذمہ داری میں شامل کر لیا۔ یہ تبدیلی بہت بڑی تو نہیں تھی، مگر اتنی ضرور تھی کہ اسے پہلی بار لگا شاید دائرے سے باہر بھی کچھ ہے --- فرزانہ اور نور علی اسی شام واپس آ گئے تھے۔ راستے بھر فرزانہ کے اندر ایک ہلچل تھی سوال بھی تھے، اور ان کے جواب بھی، مگر وہ جواب ایسے نہیں تھے جیسے وہ چاہتی تھی۔ کافی دیر دونوں خاموش رہے۔ پھر نور علی نے خود ہی بات چھیڑی۔ "تم کچھ پوچھنا نہیں چاہتیں؟" فرزانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا، "تم نے خود ہی منع کیا تھا۔" "ہمم…" نور علی نے آہستہ سے کہا، "صرف وہاں رہنے کے دنوں کے لیے۔ اصل مقصد تو یہی تھا کہ تم دیکھو، سمجھو… اور جو سمجھ نہ آئے، پوچھو۔" فرزانہ کچھ لمحے چپ رہی، پھر جیسے ہمت کر کے بولی، "ادی زیبی کی بھابھی… دھاری تھیں؟" نور علی نے سر ہلا دیا۔ "اور ان کا انتقال…؟" وہ رکی، لفظ ڈھونڈتی رہی، "وہ… حاملہ لگ رہی تھی۔ تھیں؟" "ہاں۔" نور علی نے خود ہی کہنا شروع کیا، "ادی زیبی کے شوہر کے بڑے بھائی کی بیٹی نے پسند کی شادی کی تھی۔ دو ڈھائی سال پہلے کی بات ہے۔ بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔" فرزانہ نے فوراً سوال کیا، "لیکن اس کا ان کی بھابھی کی موت سے کیا تعلق؟" "جس لڑکے سے اس نے شادی کی تھی، وہ اسی بھابھی کا بھائی تھا۔" "تو؟"، "دونوں بھاگ کر دوسرے شہر گئے اور عدالت میں نکاح کر لیا۔ پہلے یہ لوگ انہیں ڈھونڈتے رہے، کہ لڑکی واپس لے آئیں اور لڑکے کو مار دیں۔ پھر وہاں سے بات آئی کہ بدلے میں ہماری لڑکی لے لو… اور معاملہ ختم۔" فرزانہ کے چہرے پر حیرت جم گئی، "بدلے کی لڑکی…؟ یعنی یہی بچی؟" نور علی نے ہونٹ بھینچ کر سر ہلا دیا۔ "اور اگر وہ نہ ملتی… تو واقعی مار دیتے؟" "نہیں صرف دباؤ تھا۔ یا پیسے، یا لڑکی کے بدلے لڑکی۔" فرزانہ نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے بات کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہو، "ایک منٹ۔۔۔۔۔یعنی دو لوگوں نے اپنی مرضی سے شادی کی… اور پورا خاندان انہیں مارنے پر تل گیا۔ اور جب نہیں مار سکے تو… پندرہ سال کی بچی ایک بڈھے کو دے دی… جو پہلے حمل میں ہی مر گئی۔" نور علی نے آہستہ سے کہا، "وہ حمل سے نہیں مری… اس نے کالا پتھر پی لیا تھا۔" فرزانہ کے چہرے پہ دکھ اور بے یقینی امڈ آئی، "اور پولیس؟ وہ کیا کر رہی ہے؟ فاتحہ کے چاولوں کا انتظار؟" نور علی کے لہجے میں تھکن تھی، "یہی سمجھ لو۔ تم اس دن بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی بات کر رہی تھیں نا… وہ یقیناً بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن یہاں مسئلے ایک دوسرے میں ایسے الجھے ہوتے ہیں کہ ایک کو روکنے جاؤ تو کئی اور کھل جاتے ہیں۔ کبھی ایک قتل روکنے کے لیے کئی زندگیاں داؤ پر لگتی ہیں… اور کبھی جائیداد بچانے کے لیے کئی قتل ہو جاتے ہیں۔" --- واپس آ کر بھی کئی دن تک فرزانہ راتوں کو جاگتی رہتی۔ گل بانو کا چہرہ، اس کی کم عمری، اور وہ ایک فیصلہ، بار بار ذہن میں آتا۔ فرزانہ کو لگتا تھا اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے سرے سے پتا ہی نہیں تھا کہ گاؤں دیہات میں کم عمر لڑکیوں کی شادیاں یا حمل کے دوران اموات ہوتی ہیں مگر کسی اخبار میں چھپی ایک خبر پڑھنے اور ایک گوشت پوست کے انسان کی میت دیکھنے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ وہ خود کو روکنا چاہتی تھی، مگر یہی سوال دوبارہ دماغ میں پنجے گاڑنے لگتا تھا۔ ایسا کیا ہوا ہوگا کہ ایک پندرہ سالہ بچی نے جینے کے بجائے مرنا آسان سمجھا؟ چھ ماہ لگے اسے دوبارہ گاؤں جانے کے لیے خود کو راضی کرنے میں۔ نور علی نے بھی اس دوران کوئی اصرار نہیں کیا۔ دوسری بار وہ صرف دو دن کے لیے گئی۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا، اتنا معمول کہ اسے ڈر لگتا رہا کہیں یہ سکون بھی کسی خبر سے نہ ٹوٹ جائے۔ وقت کے ساتھ گل بانو کی یاد کا بوجھ ہلکا تو ہوا، مگر مکمل ختم نہیں ہوا۔ وہ وقفے وقفے سے گاؤں جانے لگی۔ کبھی ہفتے کے آخر میں، کبھی پورا ہفتہ۔ اسی دوران اس کی سب سے دعا سلام بڑھی، اور نورین سے ایک الگ سی دوستی ہو گئی۔ پہلے پہل اسے یہ بات عام سی لگی تھی کہ نورین نے طلاق کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی۔ مگر آہستہ آہستہ اسے سمجھ آیا کہ یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ سارے گاؤں میں واحد طلاق یافتہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہاں کبھی کسی کی طلاق نہیں ہوئی تھی۔ مگر برادری والے زیادہ عرصے انہیں صرف طلاق یافتہ نہیں رہنے دیتے تھے جلد ہی کسی اور جگہ شادی کردی جاتی تھی۔ دیکھنے میں بہت ذاتی فیصلہ اتنا بھی ذاتی نہیں تھا۔ نورین کا گھر اسی احاطے میں ہوتے ہوئے بھی سب سے الگ اور چھوٹا تھا۔ لوگ مورو سے دودھ تو لے لیتے تھے، مگر اپنے بچوں کو اس کے گھر نہیں بھیجتے تھے۔ شادی بیاہ میں بلاتے بھی تو ایک طرف بٹھا دیتے، جیسے وہ رسم کا حصہ نہ ہو، صرف ایک ضرورت ہو۔ فرزانہ کی اس سے دوستی پر سسرال میں ہلکی ہلکی چبھتی باتیں ہونے لگیں، مگر نور علی نے انہیں وہیں دبا دیا۔ یہ بات خود فرزانہ کو بھی معلوم نہیں تھی کہ نورین کے اس فیصلے کے پیچھے کہیں نہ کہیں نور علی کی خاموش حمایت تھی، ورنہ شاید اسے اس گاؤں میں جگہ بھی نہ ملتی۔ --- مورو سے بات کرنا فرزانہ کو الگ انداز سے اچھا لگتا تھا۔ بارہ سال کا بچہ، مگر باتیں کبھی کبھی ایسی کرتا جیسے عمر اس سے کہیں آگے ہو۔ وہ زندگی کے پیچیدہ فلسفے بھی اپنی معصومیت میں یوں سادہ کردیتا تھا کہ فرزانہ کو لگتا تھا کہ زندگی مشکل ہے ہی نہیں۔ ایک دن اس نے ہنستے ہوئے کہا، "مامی، اللہ میاں نے گائے کو دودھ دیا، گائے نے مجھے دیا، اور میں سب کو دے دیتا ہوں… اور اپنی مزدوری لے لیتا ہوں۔ وڈیرہ سائیں بھی یہی کرتے ہیں، اللہ میاں نے انہیں فصل دی وہ ہمیں دیتے ہیں، بس ان کی مزدوری بہت زیادہ ہے۔" یہ کہہ کر وہ خود ہی ہنس پڑا، اس کی عادت تھی کہ وہ واپس آکر سب سے پہلے دودھ کے کنستر دھو کے رکھتا تھا۔ بقول اس کے "مامی دودھ کے کنستر میں پرانا دودھ رہ جائے تو وہ تازہ دودھ کو بھی خراب کردیتا ہے۔ جیسے دل میں کوئی پرانی بات رہ جائے تو نئی بات بھی کڑوی ہوکے منہ سے نکلتی ہے۔" فرزانہ نے ایک دن یوں ہی مذاق میں سے پوچھا، "مورو تم اتنا تھک جاتے ہو ایک دن کام نہ کرو، چھٹی کرلو؟" وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر کندھے اچکا کر بولا، "پھر کوئی اور کر لے گا، اور مجھے پیسے نہیں ملیں گے۔" --- وقت کے ساتھ فرزانہ کی مورو سے ملاقات کم ہوتی گئی۔ آخری بار جب وہ گاؤں آئی، تو پورا ہفتہ گزر گیا مگر اس سے بات نہ ہو سکی۔ بس ایک دو بار گلی سے گزرتے ہوئے وہ نظر آیا۔ اس بار وہ اکیلا نہیں تھا۔ چار پانچ لڑکوں کے ساتھ تھا۔ ان میں ایک دو اس کی عمر کے تھے، مگر باقی اس سے خاصے بڑے، بیس پچیس سال کے، جن کے انداز میں لڑکپن کم اور پختہ عمری زیادہ تھی۔ مورو نے ایک بار، دور سے فرزانہ کو دیکھا بھی، جیسے پہچانا ہو، مگر پھر فوراً نظریں ہٹا لیں، اور باقی لڑکوں کے ساتھ ہنستے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ جاری ہے۔۔۔۔۔

Scroll to Top