Asma Khalid

ذہنی صحت: انسانی زندگی پر اثرات اور اس کا تدراک

اس  جدید دور میں جسمانی صحت کی  بہتری کے لئے تو جِدوجہد کی جارہی ہے مگر ذہنی صحت کو بدترین بحران میں دھکیل دیا گیا ہے۔پاکستان میں یہ بحران روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ کراچی میں منقعدہ حالیہ ” 26ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ذہنی امراض “کے دوران ماہرین نے پاکستان میں ذہنی امراض کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔  اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال ذہنی دباؤ کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔کانفرنس کے چیئرمین پروفیسر محمد اقبال آفریدی نے کے مطابق   ملک میں ہر تین ہزار افراد میں سے ایک شخص کسی نہ کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہے، جبکہ دنیا میں یہ شرح پانچ میں سے ایک ہے۔

یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں ہیں بلکہ ہمارے ہمسائے، رشتے داروں اور احباب و رفقا ء کی داستانِ غم ہیں۔ یہ مسئلہ اب ایک سماجی ہنگامی صورت ِحال اختیار کر چکا ہے  جس کو ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حسن نجمی سکندر پوری نے کیا خوب کہا ہے؛

                                                                                         شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی                                                                                                                              آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا دیکھ 

 عالمی ادارہ صحت  کے مطابق ذہنی صحت  کو “مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود” قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہم  نےاس کی تعریف انتہائی محدود کر دی ہے۔  “روزنامہ جنگ” کے ایک تازہ اداریہ  (8 فروری 2024)  میں اس بحران پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی جس میں خاص طور پر نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے ڈپریشن اور اس کے نتیجے میں خودکشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اداریے کے مطابق  ”  گلگت بلتستان کارہائشی 17سالہ ذوالفقار اختر راولپنڈی سکستھ روڈ پر واقع ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں قیام پذیر تھا ۔ وہ سالِ دوم کا طالب علم تھا اور فرسٹ ائیر کے امتحان میں نمبر کم آئے تھے جس پر وہ دل برداشتہ ہوا اوراس نےاپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔”  یہ کوئی الگ واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے میں پھیلتے ہوئے ایک خاموش وائرس کی علامت  اور ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود دراڑوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کارکردگی کا دباؤ،  گھروں میں  جذباتی  بات چیت کا فقدان اور معاشرے میں مدد طلب کرنے کو کمزوری سمجھنا، نوجوان نسل کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں نفسیاتی مرض سے جڑا “داغ”  اتنا گہرا  اثر رکھتاہے کہ افراد  اس کےعلاج سے کتراتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے رہتے ہیں۔      انتہائی مطالعے کے بعدمعلوم ہوا ہے کہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن پاکستان میں ایک سنجیدہ مسئلہ   ہےجسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اکثر لوگ  اسے سایہ سمجھتے ہیں اور علاج نہیں کرواتے۔ ایک تحقیق  کے مطابق ڈپریشن اس وقت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جب عورت کو شوہر یا خاندان کی طرف سے مناسب سماجی تعاون نہ ملے، اور ایسے خاندانی عوامل خواتین کو اپنے مسائل شیئر کرنے اور علاج   معالجہ سے روکتے ہیں۔ یہ رویہ ہمارے ہاں عام ہے۔ ذہنی بیماری کو بھوت پریت، جادو ٹونے یا ایمان کی کمزوری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی فرسودہ سوچ نہ صرف مریض کی حالت کو بگاڑتی ہے بلکہ پورے خاندان کو معاشرتی تنقید اور نفسیاتی دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔

ذہنی صحت کا بحران شہر اور دیہات دونوں میں اپنے مختلف روپ میں موجود ہے۔جہاں شہروں میں تنہائی، مسابقت اور روزگار کا دباؤ ذہنی امراض کی بنیادی وجہ ہے۔ وہیں دیہات میں ناخواندگی، غربت اور جہالت کے باعث ذہنی امراض کو سمجھا ہی نہیں جاتا۔   ایک حالیہ واقعہ جو میری ایک دوست نے میرے گوش گزار کیا کہ سندھ کے ایک دور دراز گاؤں  میں  منقسم شخصیت کے عارضہ کےمریضوں کو مقامی “پیر” کے پاس لے جایا جاتا ہے، جہاں انہیں زنجیروں سے باندھ کر مارا پیٹا جاتا ہے۔  گاؤں والوں  کے مطابق یہ تو جن بھوت ہے، ڈاکٹر کیا کر لےگا؟ اس لئے لوگ مریض کو پیر بابا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ المناک صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بنیادی آگاہی اور صحت کی سہولیات تک رسائی کے بغیر، ذہنی صحت کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں  سماجی و جذباتی تعلیم کو لازمی شامل کیا جائے۔   طلباء کواساتذہ کے طرف سے دیا گیا دباؤ  برداشت کرتے ہوئے اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے، شخصیت میں صبر و تحمل کا عنصر پیدا کرتے ہوئے اپنے جذبات کو پہچاننے اور  انسانی ہمدردی جیسے موضوعات پر توجہ دینی چاہیے۔ اساتذہ کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ مقصد سکھانا ہوتا ہے نہ کہ سرِعام ذلیل و رُسوا کر کے بچے کی خوداعتمادی  کو ٹھیس پہنچانا ۔ جیسا کہ ابھی چند روز قبل لاہور یونیورسٹی میں طالبِ علم اویس کی خود کشی کے افسوسناک واقعہ میں اساتذہ کا رویہ بھی انتہائی قابلِ افسوس ہے۔   لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا “صحت مند دماغ” پروگرام  اس سمت میں ایک قابل تقلید قدم ہے، جس کے تحت طلباء و اساتذہ کے لیے مفت کاؤنسلنگ سیشنز اور آگاہی ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ڈراموں اور ٹاک شوز میں ذہنی صحت کے مسائل کو حساسیت کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی ڈرامے “عشق زہے نصیب “نے “اختلالِ شخصیت کی تقسیم” کوموضوع بنایا، “سراب” نے “شیزوفرینیا” کو حساس انداز میں پیش کیا، اور “آخری اسٹیشن” نے مختلف کرداروں کے ذریعے “ڈپریشن “جیسی نفسیاتی حالتوں کو دکھایا، جس کا ناظرین پر مثبت اثر پڑا۔      

2019 کے ذہنی صحت ایکٹ  پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ہر ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مکمل طور پر فعال ماہرینِ نفسیات

   پر مشتمل شعبہ قائم کیا جائے۔ نجی شعبے میں بھی ملازمین کے لیے ذہنی صحت کے پروگرامز لازمی قرار دیے جائیں۔ ریڈیو کے ذریعے آسان اردو اور مقامی زبانوں میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے۔ مقامی صحت کے کارکنوں کو بنیادی نفسیاتی تربیت دی جائے تاکہ وہ ابتدائی سطح پر مدد فراہم کر سکیں۔سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے بھی آگاہی پھیلائی جا سکتی ہے۔         جیسے نوجوانوں کے آن لائن پلیٹ فارمز  ذہنی صحت کے بارے میں درست معلومات اور آن لائن سپورٹ گروپس مہیا کر رہے ہیں، جن میں سے ایک پلیٹ فارم “نئے خواب” کا ہے۔

ذہنی صحت محض کسی فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ  “دماغ بھی ایک عضو ہے، اور اس کی بیماری بھی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی دل یا جگر کی۔”   جس طرح ہم بخار ہونے پر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اسی طرح دماغ کی بے چینی، مسلسل اداسی یا شدید بے خوابی ہونے پر ماہر نفسیات سے رجوع کرنا معیوب نہیں، بلکہ دانشمندی ہے۔

آئیں، ہم ایک ایسے پاکستان کا عہد کریں جہاں کوئی ذوالفقار  اپنی جان نہ گنوائے، کوئی اویس اپنے خواب چھوڑنے پر مجبور نہ ہو، اور نا ہی کوئی معصوم شخص زنجیروں میں جکڑا جائے۔ یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئے گی، مگر ہمارا ہر ایک قدم، ہماری ہر ایک  آواز، اور ہماری ہر ایک ہمدردانہ پیش قدمی اس سفر کو آسان بنا سکتی ہے۔ کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ صرف صحت مند ذہنوں سے ہی تعمیر ہو سکتا ہے۔یہ مضمون معتبر ذرائع سے اخذ کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ تمام تجاویز تعمیری، قابل عمل اور ہمدردی کے جذبے سے پیش کی گئی ہیں۔ کسی فرد یا گروہ کی توہین مقصد نہیں بلکہ آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنا ہے۔

نام:      اسما                      خالد                بٹ                                                                                                                                                                                                                                                                    نمبر  :  03314071951  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top