سماجی و جذباتی فلاح و بہبود
خوشحال انسانی زندگی اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد
انسانی زندگی کی تکمیل صرف مادی خوشحالی یا جسمانی صحت کے حصول سے نہیں ہوتی۔ حقیقی اور پائیدار خوشی کا راز دراصل ہماری سماجی اور جذباتی فلاح و بہبود میں موجود ہے۔ یہ دونوں عناصر انسانی شخصیت کے ایسے پہلو ہیں جو ہماری سوچ، احساسات، رویوں اور تعلقات کو گہرائی اور معنی بخشتے ہیں۔ یہ محض نفسیاتی اصطلاحات نہیں، بلکہ یہ ایک خوشگوار اور ہم آہنگ اور پائیدار زندگی گزارنے کے لیے لازمی شرائط ہیں۔ سماجی و جذباتی فلاح و بہبود دو ایسے جڑے ہوئے ستون ہیں جو انسانی بہبود کی عمارت کو سنبھالتے ہیں۔
جذباتی فلاح و بہبود سے مراد ہمارا اپنے جذبات کو پہچاننے، سمجھنے، ان پر قابو پانے اور ان کا درست طریقے سےاظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک جذباتی طور پر تندرست فرد ناامیدی اور غصے جیسے منفی جذبات کا مقابلہ بہترطریقے سے کرتا ہے، ناکامیوں سے سبق حاصل کرتا ہے، اور اندرونی سکون برقرار رکھتے ہوئے زندگی کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو جذباتی فلاح سے محروم ہے وہ کبھی بھی اس طرزکو اختیار نہیں کر سکتا۔
مؤثر مواصلت، فعال سماعت، تعاون، اور مثبت رویہ سماجی فلاح و بہبود کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے دوسروں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور معیار سماجی رابطوں کو فروغ دینے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ یہ ہمیں مضبوط خاندانی رشتے، حقیقی دوستی، اور معاشرے میں ایک اچھا شہری بننے کے قابل بناتی ہے۔ سماجی طور پر تندرست فرد تنہائی کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک حمایتی سماجی حلقے کا حصہ ہوتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے ایک کالم (2 نومبر 2025) کے مطابق دماغی صحت سے متعلق ایک حالیہ کانفرنس میں پاکستان میں نفسیاتی صحت کی حالت کے بارے میں تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی ذہنی بیماری سے متاثر ہے، جب کہ ملک میں گزشتہ سال تقریباً 1000 خودکشیاں ذہنی پریشانی سے منسلک تھیں۔یہ نتائج کراچی میں منعقدہ 26ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے دماغی بیماری کے دوران سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں خواتین گھریلو جھگڑوں اور معاشرے میں اپنی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہیں۔ غضنفر صاحب کا شعر یہاں بلکل مناسب رہے گا کہ
؎ ذہن کے خانوں میں جانے وقت نے کیا بھر دیا
بے سبب ہونے لگی اک ایک سے ان بن مری
آج کا دور بے پناہ مسابقت، تیز رفتار تبدیلیوں، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سماجی ہم آہنگی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا دور ہے۔ ایسے میں سماجی و جذباتی فلاح و بہبود کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ظاہری روابط تو بڑھا دیے ہیں، لیکن گہرے، حقیقی اور جذباتی طور پر تسکین بخش تعلقات میں واضح کمی آئی ہے۔ ، سائبرکرائمز کا تقابل نوجوان نسل میں تنہائی، بے چینی اور خود اعتمادی کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ طلبہ اور ملازمین پر کارکردگی کے بے پناہ دباؤ، مستقبل کی بے یقینی، اور کام ا ور زندگی میں توازن کی مشکل نے ذہنی دباؤ اور جلن کو عام بنا دیا ہے۔
اردو نیوزکی خبر ( 25 جولائی 2025) کے مطابق پاکستان میں حالیہ دنوں میں بچوں کی خودکشی اور اموات کے دلخراش واقعات نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ میٹرک کے نتائج کے بعد سے کم از کم تین بچوں نے ناکامی کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنی جان لے لی۔پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے درنگ چٹاری سے تعلق رکھنے والے کاشف نے میٹرک میں فیل ہونے کے بعد دریا میں چھلانگ لگا دی اور بچانے کی کوشش میں اسکے بھائی کی جان بھی چلی گئی۔ اسی طرح ضلع کوٹلی میں ایک لڑکی نے دریائے پونچھ میں چھلانگ لگائی مگر اسے بچا لیا گیا۔وسطی پنجاب کے علاقے پنڈی بھٹیاں کے گاؤں اطلے مروان میں ایک طالب علم نے نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ جبکہ سوات میں ایک بچہ مدرسے میں استاد کے تشدد کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا گیا۔ خاندان کے مطابق بچے نے بار بار شکایت کی تھی کہ مدرسے میں اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا، لیکن اس کی بات کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان واقعات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بچوں کی جذباتی فلاح و بہبود کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے جو انہیں شدید نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیتی ہے۔
سماجی و جذباتی فلاح و بہبود یافتہ افراد کے لیے فوائد کا دائرہ وسیع ہے۔انفرادی سطح پرحاصل کردہ فوائد میں بہتر ذہنی و جسمانی صحت، طویل العمری، مضبوط قوتِ مدافعت ، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت، اور تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی شامل ہیں۔ مضبوط اور محبت پر مبنی رشتے ، گھریلو تشدد میں کمی، اور خاندانی ہم آہنگی ایسے فوائد ہیں جو خاندان کو جوڑےرکھتے ہیں۔ ایک فلاحی طور پر مضبوط معاشرے کے اندر تعلیمی اداروں میں مثبت تعلیمی ماحول، تشدد کے واقعات میں کمی اور طلبہ کی بہتر کارکردگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔معاشرتی سطح پر کم جرائم، زیادہ سماجی ہم آہنگی، اور ایک پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
اس مقصد کے حصول میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔جذبات پر بات کرنے، مدد مانگنے، یا کسی کے سامنے دل ہلکا کرنے کو اکثر سماجی طور پر کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مردوں میں یہ رجحان خاص طور پر شدید ہے۔ “مرد روتے نہیں” یہ جملہ انھیں جذباتی اظہار سے روکتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کا زیادہ تر زور علمی کامیابی پر ہے، جبکہ جذباتی ذہانت، تعلق سازی، اور پرابلم سول وِنگ ابیلیٹی کی تعلیم یکسر نظر انداز ہے۔جدید معاشرہ مادی کامیابی کو حتمی معیار سمجھنے لگا ہے، جس کے لیے انسان اپنے جذبات اور تعلقات کو قربان کر دیتا ہے۔ انفرادیت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اجتماعی زندگی اور باہمی انحصار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں انفرادی، خاندانی، تعلیمی اور اجتماعی سطح پر جامع حکمت عملی اپنانا چاہیے۔
خاندان پہلا اور اہم ترین مدرسہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے جذبات کو نام دے کر پہچاننے میں ان کی مدد کریں (مثلاً “لگتا ہے تم غصہ محسوس کر رہے ہو”۔) ایک بہترین اور انسان دوست ماحول بنائیں جہاں ہر قسم کے جذبات کا اظہاریقینی بنایا جائے ۔ خاندانی اجتماعات، کھیل اور بات چیت کو ترجیح دیں۔ فلموں، ڈراموں اور میڈیا میں ایسی کہانیاں پیش کی جائیں جو ہمدردی، رواداری، جذباتی لچک اور مثبت تعلقات کو فروغ دیں۔ اداروں کو چاہیے کہ ملازمین کی سماجی و جذباتی فلاحی و بہبودکو ترجیح دیں خواہ وہ انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی-
ہر شخص اپنی بہبود کی ذمہ داری خود لے اور محاسبہ کے ذریعے اپنے جذبات کو پہچانیں۔ حقیقی سماجی روابط کو مضبوط بنائیں اور فون بند کر کے دوستوں اور خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزاریں۔ اپنی حدود کا متعین کریں اور “نہ” کہنے کا فن سیکھیں۔ ضرورت پڑنے پر ماہرین کی مشاورت حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
سماجی و جذباتی فلاح و بہبود کوئی عیاشی یا غیر ضروری شے نہیں، بلکہ انسانی ترقی کے لیے لازم ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر فرد کی خوشی، خاندان کی مضبوطی، اداروں کی کامیابی اور معاشرے کی ہم آہنگی قائم ہوتی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیم، صحت اور ترقی کی ہر پالیسی کا مرکز صرف “انسان” نہیں، بلکہ ایک سماجی اور جذباتی طور پر تندرست انسان ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، دفاتراور اپنے ارد گرد کے حلقوں سے شروع کرتے ہوئے ایک ایسی ثقافت کی تخلیق کرنی چاہیے جہاں جذبات کی زبان سمجھی جائے، تعلقات کی قدر کی جائے، اور ہر فرد کو سماجی و جذباتی طور پر پروان چڑھنے کا موقع ملے