کسی انجان بستی میں
جانے وہ کہاں سے پٹخ دی گئی ہے
یہاں لوگ کوئی اور زبان بولتے ہیں
الفاظ سے جملوں کو دلہن کی طرح سجانے
اور
خنجر کی طرح دل میں گھونپنے والی
بے زبان ہو کر رہ گئی ہے
پرائی زبان والوں کی باتوں کو
لہجوں کے پیمانے سے سمجھتی ہے
اور ذہن کی کتاب پر آئے دن
نئی کہانیاں لکھتی ہے
اس کی کہانیاں متلاشی ہیں
ہم زبان قاری کی
تم اسے کب ملو گے؟
1 Comment
Why it’s sound like my inner voice?