مکالمے کے حوالے سے چند طالب علمانہ معرو
حماد نیازی
کسی بھی موضوع یا متن کو مکالمے کی نہج تک تب لانا چاہیے جب ہمیں اس متن کے تمام مندرجات سے مکمل نہیں تو کم ازکم اتنی آگاہی ضرور ہو کہ وہ اس کے معروف معانی یا معلوم تعبیرات کا احاطہ کر سکے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر دو انتہاؤں پر رہنے والے ہمارے” جید ثقہ” عالم نما لوگ اس موضوع کے بنیادی متن کی اہم، ضروری اور معاصر تعبیرات تو کجا، اس متن کی زبان کو ہی اپنے اذہان کے شعور کی تشکیل کے لیے قبول نہیں کر پاتے مگر جب ان سے کہا جائے کہ یہ متن تو آپ کے بے ترتیب اور بے سمت اخلاقی خود ساختہ نظام زندگی کو رد کرتا ہے تو اسی متن کے مندرجات پر وہ وہ عالمانہ بلکہ فقیہانہ اعتراضات سامنے لے آتے ہیں کہ جن کا اس موضوع یا متن سے دور دور تک کوئی طفلانہ تعلق بھی نہیں بنتا مگر انکی پیش کش اور لہجے کے تکبر سےایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے علم اپنے ازلی و ابدی ہر معانی میں صرف ان کے پاس ہی موجود ہے اور وہ اس خزانہ ء بے بہا کی ہر ممکنہ تعبیر کے بلا شرکت غیرےمالک ہیں
پھر اس پر دوہرا ظلم یہ کہ ان بے سروپا اعتراضات کوسوال کے علمی دائرے سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی متن سے آگاہی کے بعد اس کی مختلف تعبیرات سے متعلق خالص علمی سوال مکالمے کے متنوع اسالیب سے متعارف کراتے ہیں اور ان سے ہی متن کی تعبیرات سے اصل آگاہی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
مگر ایسے بے سروپا اعتراضات جن کا اول و آخر منشا و مبدا موضوع سے آگاہی کی بجائے صرف اس موضوع یا متن سے برآمد ہونے والے مخالف بیانیہ سے متفق لوگوں کو الجھا کر زیرِ دست لانے کے سوا کچھ اور نہ ہو تو پھر مکالمہ کو مناظرہ میں بدلتے ہوئے چند لمحے درکار ہوتے ہیں۔ مکالمہ ایسے فکری ماحول میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔ اگر یہی سوال اور بحث کی دعوت متن سے آگاہی کے بعد خالص تعمیری نیت سے دی جا رہی ہو تو اس متن کے نا معلوم یا غیر معروف معانی اور تعبیرات کی طرف کئی راہیں کھل سکتی ہیں.
اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف کا خالص تعمیری پہلو دوسرے مکتبہ فکر کی نظر میں تخریبی پہلو قرار پا سکتا تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مکالمے کے تعمیری پہلو سے مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہر دو نکتہ نظر کسی ایک پہلو پر ہر صورت متفق ہوں مکالمے کے ممکنہ نتائج میں سے ایک نتیجہ کسی ایک خاص مقام پر دونوں کے مابین اتفاق کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے مگر یہ نہ بھی ہو تو ایک ہی متن کی مختلف تعبیرات کے رد و قبول کے معیارات کا تعین ہو جانا، اس متن کی ہر تعبیر کا سماجی و تہذیبی سطح پر دائرہ کار کا طے ہونا اور یہ بھی نہ ہو تو کم از کم باہمی اختلاف کا خالص علمی اظہار ہی اگر ہو تب بھی یہ سارا عمل ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے
ہم اور کچھ نہیں تو مکالمے کی مبادیات سے ہی واقف ہو جائیں تو ہماری ذاتی زندگی سے لے کر سماجی زندگی کے کئی حوالوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی تشکیل میں اس پہلو پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا اور اس خلا کے مہلک نتائج میں سے سب سے کم تر نتیجہ ہر سطح کی عدم برداشت کا وائرس ہے جو اس وقت کم از کم ہمارے معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے. .