اب مارل بولے گا قسط 7

اب مارل بولے گا قسط 7

مارل اب روز، جب بھی راہداری ویران دیکھتا کچھ دیر کے لیے ماروی کی تصویر نما خطاطی کے سامنے کھڑا ہوجاتا۔
شروع شروع میں جب اسے لگا تھا کہ ماروی اس سے بات کر رہی ہے۔ اور سن پارہی ہے۔ اس نے اسے بہت کچھ بتانا چاہا۔ مگر کچھ کہنے کی بجائے حلق میں ہی آواز گھٹ گئی اور کئی دن بس یوں گزر گئے کہ وہ آتا، ماروی کے سامنا کھڑا ہو کے روتا رہتا اور پھر آنسو پونچھ کے دوبارہ کاموں میں لگ جاتا۔
مگر اب آہستہ آہستہ وہ ماروی سے باتیں کرنے لگا تھا۔ پہلے دن کے بعد سے دوبارہ کبھی ماروی نے جواب نہیں دیا تھا مگر اسے ابھی بھی لگتا تھا کہ ماروی اسے سن رہی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی دوبارہ اسے پکارے گی۔
وہ اسے بتاتا کہ اکثر راتوں میں اس پہ کیا گزرتی ہے۔ درد ختم نہیں ہوا تھا مگر اب برداشت کے قابل لگنے لگا تھا۔ جیسے ابلتے پانی میں کوئی تھوڑا سا ٹھنڈا پانی ملا دے۔ اور کچھ لمحوں کے لیے ابال کو چھپا دے۔

—————-

فرزانہ کو نہیں پتا کہ شمائلہ نے نور علی سے کچھ کہا یا نور علی خودہی کچھ سمجھ گیا مگر اس دن گھر آکر فرزانہ کو خود کہنے کے ضرورت نہیں پڑی کہ وہ گاؤں جانا چاہتی ہے۔ کچھ دیر تو گھر پہنچ کر دونوں کے درمیان ان دیکھا کھنچاؤ رہا، فرزانہ خاموشی سے باورچی خانے میں چائے بنانے لگی اور نور علی لاؤنج میں نیچے کارپیٹ پہ لیٹ گیا۔ فرزانہ نے لاکر چائے نور علی کے سرہانے کے قریب رکھ دی اور پلٹ کر جانے لگی۔
“فئیری! اس ہفتے کو گوٹھ چلتے ہیں۔” فرزانہ نے پلٹ کر دیکھا تو نور علی گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ پوچھے اگر شمائلہ نے اس سے کوئی بات کی ہے لیکن پھر خود ہی لگا کہ ابھی اس بات کے لیے مناسب وقت نہیں۔ وہ ابھی بھی دل و دماغ میں جذبات پکتے محسوس کر رہی تھی۔ کوئی ایک بات بھی اونچی نیچی ہوتی تو آسانی سے بگڑ جاتی۔ دو ہی دن تو رہ گئے تھے ہفتہ آنے میں۔

” ٹھیک ہے۔ سادہ کپڑے لے کر چلوں یا وہاں کوئی دعوتوں کا ارادہ ہوگا؟”
” ہاں، زیادہ تر تھوڑے ہلکے فینسی کپڑے ہی رکھ لو۔ پہلی دفعہ وہاں چل جائیں گے۔ دعوتوں کا ابھی مجھے بھی نہیں پتا۔”
“اور برقعہ وغیرہ؟”
“برقعہ وہاں کم خواتین ہی پہنتی ہیں، اس کی فکر نہ کرو، چادر یا بڑے دوپٹے سے کام چل جاتا ہے۔ ویسے بھی میرا ارادہ ہے کہ ادا رفیق کی گاڑی لے چلیں۔ گھر کے اندر اتریں گے وہیں سے واپسی۔”
“تم نے کہا تھا کہ ادا رفیق نے گاڑی بیچ دی ہے۔”
“ہاں بیچی تھی نئی لینے کے لیے ناں، تو مہران بیچ دی آلٹو لے لی، دو ہفتے پہلے۔” فرزانہ بتدریج اپنے اعصاب کو پرسکون ہوتا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
“تمہارے ادا رفیق کے پاس ٹھیک ٹھاک پیسہ ہے۔” نور علی نے فئیری کی بات پہ شرارتی انداز میں بھنویں اچکائیں جیسے دونوں کو پتا ہو کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔
دو دن کیسے یک دم گزر گئے پتا ہی نہیں چلا۔ جب تک گاڑی ہائی وے پہ چلتی رہی سفر کسی بھی دقت کے بغیر طے ہوتا رہا۔ مگر جیسے ہی گاڑی نے اندرونی رستوں کی جانب رخ کیا دھول اور دھچکوں نے غنودگی میں جاتی فرزانہ کو مکمل طور پہ جگا دیا۔ اردگرد نظر آتے کھیت کافی دلفریب تھے مگر غیر ہموار سڑک سے گزرنا کافی صبر آزما تھا۔
“نور، یہ وڈیرے خود ہی الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں خود ہی جیتتے ہیں تو سڑکیں کیوں نہیں بنواتے یار۔” فرزانہ بہت دیر تک اپنے اندر گھونٹتے سوال کو لبوں تک لے ہی آئی۔
نور علی نے اسٹئرنگ سے ایک ہاتھ اٹھا کے انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھی۔
” ابھی چند دن سب صرف غور سے دیکھو۔”
“یہ کیا بات ہوئی۔”
“کچھ عوامل تم خود دیکھو گی تو ان کا پس منظر بتانا اور ان کے سرے جوڑنا آسان ہوگا۔”
” ہمم ٹھیک ہے۔”
گاڑی کچھ ہی دیر بعد بالآخر ایک بڑے احاطے میں داخل ہوگئی۔ احاطے میں گیٹ کے ساتھ کچی پکی ملی جلی اینٹوں سے کچھ دور تک دونوں اطراف میں دیوار بنی تھی مگر کچھ آگے جاکر وہ دیوار جھاڑیوں سے بنی باڑھ میں بدل گئی تھی۔ دائیں طرف چار بھینسیں بندھی تھیں، ان سے کچھ دور تین بکریاں تھیں۔ چند مرغیاں اور بطخیں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔ ان میں سے ہی ایک سرمئی اور بھوری بطخ کو مٹک مٹک کے چلتے دیکھ کر فرزانہ کی نظر اس کے ساتھ بندھ سی گئی بطخ قریب ہی گزرتی پانی کی ایک لکیر کے پاس جاکر رک گئی۔ یہ لکیر کہیں پیچھے سے بہتی ہوئی آرہی تھی۔ فرزانہ کی نظریں اس لکیر سے پیچھے پانی کا منبع تلاش کرنے لگیں جو جلد ہی مل گیا کچھ ہی دور سیمنٹ سے بنے چوکور سے ٹکڑے پہ ایک ہینڈ پمپ لگا تھا جہاں کی نالی سے یہ پانی بہتا ہوا آگے کہیں احاطے سے باہر نکل رہا تھا۔ اسی سیمنٹ کے ٹکڑے کے ساتھ تین سیڑھیوں کی بلندی پہ دو کمرے ایک ساتھ بنے ہوئے تھے جن سے آتی مخصوص بو سے اندازہ ہوا کہ وہ غسل خانہ اور بیت الخلاء ہیں۔ بو کے باوجود فرزانہ کو کچھ سکون محسوس ہوا۔
“فرزانہ!” نور علی کی آواز اور انداز دنوں پہ ہی وہ چونکی۔ اپنے فرزانہ کہے جانے پہ اس نے شرارتی طنز سے نور علی کو گھورا اور اس کے پیچھے چل دی۔ نور علی کا رخ بائیں طرف بنے کمروں کی طرف تھا۔ یہ دو بڑے بڑے کمرے تھے جن کے سامنے بر آمدے میں تین پلنگ رکھے تھے ان میں سے ایک پلنگ پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی تھیں۔ برآمدے کے کونے میں ایک چولہا رکھا تھا جس میں نور علی کی والدہ کی سی عمر کی ایک خاتون کچھ پکانے میں مصروف تھیں۔ فرزانہ کو ابھی تک ایک بھی شکل جانی پہچانی نظر نہیں آئی تھی۔ کھانا پکاتی خاتون کی نظر ان دونوں پہ پڑی تو وہ دوپٹہ سر پہ رکھتی پلو سے ہاتھ پونچھتی اٹھ کے ان کے قریب آگئیں۔
فرزانہ! یہ چاچی کریمت ہیں۔ اور یہ ان کی ساس اور بابا کی بوا اماں زینت ہیں۔” فرزانہ کچھ شش و پنج میں مبتلا سی دونوں سے سلام دعا کرنے لگی۔ اسے لگا کہ وہ لوگ اب ان کمروں میں جائیں گے۔
لیکن کیوں؟ اس گھر میں تو نور علی کے گھر کا کوئی بندہ نہیں تھا۔ وہ جب ان دونوں خواتین سے گلے مل کر دعائیں لے کر فارغ ہوئی تو نور علی اشارہ کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ کمروں کے مزید بائیں جانب ایک بہت چھوٹی سی گلی تھی جس پہ فرزانہ کی نظر پڑی ہی نہیں تھی۔
اس گلی سے گزر کے نور علی اگلی کھلی جگہ نکل آیا۔ جہاں سب سے پہلے خیر مقدم ایک کتے نے کیا۔ فرزانہ قریب آتے کتے کو دیکھ کر ایک دم ہی جھجھک کر رک گئی۔
” او دریا۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔ رک جا۔” پیچھے سے کسی لڑکی کی سی آواز پہ قریب آتا کتا وہیں رک گیا۔
فرزانہ کی نظریں آواز کے تعاقب میں گئیں تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ باریک سی آواز لڑکی کی نہیں بلکہ دس گیارہ سالہ بچے کی تھی۔ بچہ اب کتے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اور اشتیاق بھری نظروں سے فرزانہ کو دیکھ رہا تھا۔
” ادی ڈرو نہیں یہ کچھ نہیں کہتا۔ شور زیادہ مچاتا ہے۔ اپنے سندھو دریا کی طرح”
“یہ مامی ہے تیری مورو۔” نور علی نے بچے کو ٹوکا۔ مورو نامی بچہ مسکراتی نظروں سے فرزانہ کو دیکھتا رہا لیکن مزید کچھ نہیں کہا۔ بچے کی شخصیت میں معصومیت، اعتماد اور جھجھک کا عجیب سا امتزاج تھا۔ نور علی فرزانہ کو لیے اسی طرح کئی احاطوں اور گلیوں سے گزرا ہر جگہ کچھ نہ کچھ نفوس ان کا خیر مقدم کرتے۔ وہ دعائیں لیتی اور یہ لوگ آگے بڑھ جاتے کچھ شکلیں بالکل انجان تھیں اور کچھ مبہم سے انداز میں یاد تھیں مگر نام یاد نہیں تھے۔ بالآخر یہ لوگ ایک کافی بڑے احاطے میں پہنچ گئے یہاں بھی ایک طرف کچھ مویشی بندھے تھے۔ چولہے کے پاس اماں وڈی بیٹھی تھیں۔ جن کے پاس ہی مومل بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ایک ساتھ ہی ان دونوں پہ پڑیں۔ فرزانہ جو کچھ دیر سے بار بار ان جزوی جان پہچان کے چہروں میں اماں وڈی اور نور علی کی امی کے چہرے اور ہر بچی میں مومل کو کھوجتی آرہی تھی انہیں دیکھ کر ایک دم ہی اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اسے اپنے احساسات بہت عجیب لگے۔ مومل بھاگ کے نور علی کی گود میں چڑھ گئی۔
ارے بسم اللہ میری نونھن گھر آئی ہے۔” اماں وڈی نے نے اپنی پوری طاقت سے فوراً اٹھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکیں۔ نور علی نے مومل کو گود سے اتارا اور اماں وڈی کو بازو سے پکڑ کے سہارا دے کر اٹھایا۔ اماں وڈی کی آواز سن کے کمروں سے باقی گھر والے بھی نکل آئے۔
فرزانہ کو لگا یہ سب اس کا جانا پہچانا ہے۔ سب کچھ نیا ہونے کے باوجود نیا نہیں لگ رہا تھا۔ یقینی اور بے یقینی کی سی کیفیت تھی۔ وہ سب سے ملتی محبت سے مغلوب بھی ہورہی تھی مگر ساتھ ہی سب کچھ بغور دیکھ رہی تھی۔ اسے خود پہ حیرانی ہورہی تھی کہ وہ ہر چیز کو اتنی جانچتی ہوئی نظروں سے کیوں دیکھ رہی ہے۔ نور علی کے اپنے گھر کا احاطہ باقی گھروں سے نسبتاً بڑا تھا لیکن گھر کا داخلی دروازہ ایک چھوٹی گلی میں کھلتا تھا جہاں تک بائیک یا رکشہ تو آجاتا تھا آلٹو جیسی نسبتاً ذرا سی بھی بڑی گاڑی نہیں آسکتی تھی۔
یہاں بھی کمرے زیادہ ہونے کے باوجود ملتی جلتی ساخت تھی۔ برآمدے میں چولہے کے ساتھ ایک فریج رکھا تھا، باہر صحن میں ایک طرف مویشی، ایک طرف ہینڈ پمپ کے ساتھ بیت الخلاء اور غسل خانہ، ہاں یہاں صحن میں ایک طرف کچھ سبزیاں بھی لگی ہوئی تھیں۔ صحن کے بالکل بیچ میں ایک بیری کا درخت بھی تھا، سبزیوں کے ایک طرف سہانجنا کے تین درخت قطار میں لگے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے سفید پھول اردگرد بکھرے تھے۔ فرزانہ کچھ دور برآمدے میں بیٹھ کے بھی ان کی ہلکی ہلکی مہک محسوس کر پارہی تھی۔ اسے لگا اگر یہ گاؤں کی زندگی ہے تو بہت خوبصورت اور مکمل ہے۔ محبت کرنے والے مہمان نواز لوگ، مٹک مٹک کرچلتی بطخیں، اپنے آپ میں مگن چارے چرتی بکریاں اور بھینسیں، گھر میں اگتی صاف قدرتی سبزیاں۔ زندگی میں اور کیا چاہیے۔
فرزانہ کی احساسات چہرے سے شاید کچھ زیادہ ہی عیاں تھے۔ جو کسی اور کو تو نہیں مگر نور علی کو واضح نظر آرہے تھے۔ اور اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ کچھ دن کا یہ قیام ان احساسات میں کسی رولر کوسٹر کی طرح بار بار تبدیلیاں لانے والا ہے۔
اگلے کئی دن بہت تیزی سے گزرے حالاں کہ یہاں صبح کا آغاز شہر کی نسبت کچھ مزید جلدی ہوجاتا تھا۔ وہ اکثر سات بجے زے پہلے ہی باہر سے آتی آوازوں سے اٹھ جاتی تھی۔ سورج نکلتے ہی کھلے صحن میں بھری مکمل دھوپ یوں بھی دن چڑھ جانے کا احساس دلاتی تھی۔ لیکن پھر سورج ڈھلتے ہی دن اور اس کی ساری رونق بھی یک دم سست روی اختیار کر لیتی تھی۔ کمروں سے باہر صحن میں پھیلی ملگجی روشنی اور احاطے کی دیواروں سے باہر پھیلا گہرا اندھیرا احساس دلاتا کہ بس اب بھاگتی زندگی کے کچھ دیر دم لینے کے اوقات ہوگئے ہیں۔
روز ہی کسی رشتے دار کے گھر دعوت ہوتی۔ جو اکثر دوپہر کے کھانے کے وقت ہوتی تھی۔ پہلے دن کی دعوت میں دیسی مرغی کا قورمے نما مگر زیادہ شوربے والا سالن اور یخنی والے انداز کے سادہ چاول تھے۔ جن کے ساتھ زرد رنگ کا ہی زردہ تھا۔ اسے یہ خالص دیہاتی انداز کا کھانا بہت لذید تو نہیں لیکن منفرد اور دلچسپ لگا۔ لیکن یہ دلچسپی پہلی دفعہ تک ہی تھی کیوں کہ اگلے تمام دعوتوں میں ہر جگہ یہ دو کھانے یکساں ہوتے تھے۔ چند ایک گھروں میں مچھلی بھی بھی جو بہت منفرد ترکیب سے بنی تھی اور اس کی توقعات سے کہیں زیادہ لذیذ تھی۔ ہاں آخری دعوت جو ان کی واپسی سے دو دن پہلے ہوئی وہ بہت منفرد سی تھی۔ وہ اس گھر میں پہنچی تو ہر گھر کی ہی طرح لگا کہ یہاں پہلی دفعہ آئی ہے۔ لیکن وہاں گھومتے کتے کو وہ حیرت انگیز طور پہ پہلی نظر میں پہچان گئی۔ یہ دریا تھا اور اسے دیکھتے ہی فرزانہ کی نظریں مورو کو ڈھونڈنے لگیں۔ جس کا پتا اسے کچھ دیر بعد چلا کہ مورو گھروں میں دودھ پہنچانے کے لیے گیا ہوا ہے۔ مورو اپنی ماں اور نانی کے ساتھ رہتا تھا۔ ماں کی پانچ سال پہلے طلاق ہوگئی تھی۔ یہ اس پوری برادری کا واحد گھر تھا جس میں ایک ہی کمرہ تھا اور احاطے میں کوئی مویشی نہیں تھا۔ اس دعوت پہ نہ شوربے والی مرغی تھی ناں پیاز ٹماٹر میں تلی مچھلی، سادہ سے مسالے میں تلے آلو تھے اور ساتھ نمک زیرے میں تلی ہوئی بھنڈیاں۔ فرزانہ کو یقین ہوگیا کہ وہ ہر ذائقہ بھول سکتی ہے مگر ان بھنڈیوں کا ذائقہ کبھی نہیں بھولے گی۔
مورو کی ماں نورین، چھبیس سالہ لڑکی تھی جس کے چہرے سے نقاہت اور شرمندگی عیاں تھی۔ کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود وہ اپنی سادہ سہ دعوت پہ بہت شرمندہ لگ رہی تھی۔ اور اس کی شرمندگی محسوس کرکے فرزانہ خود بھی شرمندہ ہورہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ کھانے کی تعریف کرکے اس نے نورین کو مزید شرمندہ کردیا ہے۔ حالاں کہ اس نے یہ تعریف سب سے زیادہ سچے دل سے کی تھی۔ ان کے اٹھنے سے کچھ دیر پہلے مورو بھی واپس آگیا۔ فرزانہ کا دل چاہا کہ وہ خرچی کے طور پہ بطور مامی پہلی دفعہ آنے کے بہانے مورو کے ہاتھ میں کچھ پیسے رکھ دے۔ مگر چند لمحوں کے حساب کتاب نے احساس دلا دیا کہ یہ اس کی سب سے بڑی غلطی ہوتی۔ یہ ہزار کا ایک آدھ نوٹ ان کی حالت تو نہیں بدلتا مگر اس کے اور نورین کے درمیان امارت کی ایک مضبوط ان دیکھی دیوار کھڑی کر دیتا۔ جو آگے جاکر کب ٹوٹتی اس کا اسے پتا نہیں تھا۔ اس نے بہت زیادہ کوئی بات چیت نہیں کی۔ دماغ میں ہی ادھیڑ بن میں لگی رہ گئی۔ رات سونے سے پہلے اس کا دماغ اسی گھر اور مکینوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ نورین کی ماں خاموش طبع سی بزرگ خاتون تھیں۔ جو دعوت کے سارے وقت اکثر خاموش ہی رہیں۔ ان کا کردار کچھ ایسا تھا جو شاید کچھ سالوں میں اس کے دماغ سے یوں محو ہوجاتا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ ایک ایسا کردار جو کہانیوں میں بس کسی اور کردار کے جواز کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ فرزانہ یہ سوچتے سوچتے کب سوگئی اسے پتا نہیں چلا۔ اگلی صبح اس کی آنکھ غیر معمولی ہلچل سے ہوئی۔ وہ بستر پہ لیٹی لیٹی آوازوں سے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جب نور علی کمرے میں آیا۔ وہ چہرے سے کچھ دکھی لگ رہا تھا۔
“فئیری، ادی زیبی کے جیٹھ کی بیوی، مطلب ادی کی بھابھی کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہم سب وہیں جارہے ہیں تم تیار ہوجاؤ۔” نور علی نے اپنی سب سے بڑی بہن زبیدہ کا نام لیا جو نور علی سے آٹھ سال بڑی تھیں۔ نور علی نے جس طرح انتقال ہونے والی خاتون کے لیے جھجھک کے بھابھی کہا وہ فرزانہ کو بہت واضح طور پہ عجیب لگا۔ ابھی تو یوں بھی پوچھنا مناسب نہیں تھا اور ساتھ ہی وہ نور علی کی کہی بات پہ عمل کرکے صرف مشاہدہ کر رہی تھی۔ لیکن نور علی کی جھجھک کی وضاحت میت دیکھ کر ہوگئی اسے نور علی سے کم از کم اس بارے میں کچھ بھی پوچھنا نہیں پڑا۔ جو سوال بعد میں اٹھنے تھے وہ کہیں زیادہ سنجیدہ ہونے والے تھے۔
اس کو پہلی حیرت مردہ خاتون کی شکل دیکھ کر ہوئی، ایک تو وہ کوئی خاتون نہیں تھی، بمشکل پندرہ سولہ سالہ جوان لڑکی تھی جس کی جلد کی رنگت سیاہ پڑی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی اس کے جسم سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ حاملہ تھی اور واضح لگ رہا تھا کہ حمل کو آٹھ سے نو ماہ مکمل ہوچکے تھے۔
وہ ابھی تک سمجھ رہی تھی انتقال کرنے والی خاتون پینتالیس پچاس سالہ ہوں گی کیوں کہ ادی زبیدہ کے شوہر ہی پچاس سال کے تھے ان کے بڑے بھائی زیادہ نہیں تو ایک سال تو یقیناً بڑے ہوتے۔ وہ دماغ میں عمروں کے اس فرق کا حساب لگانے کی کوشش کر رہی تھی جو ناصرف بہت زیادہ تھا بلکہ اس کے لیے اخلاقی طور اسے مناسب ماننا بھی بہت مشکل تھا۔
میت والے گھر میں بہت عجیب پراسرار سی خاموشی تھی۔ مرنے والی لڑکی کا نام اس نے گل بانو سنا تھا۔ اور لگ رہا تھا جیسے اس کے گھر سے ابھی تک کوئی نہیں آیا۔ اور یہ بات بھی اسے بہت حیران کر رہی تھی۔ جنازہ اٹھنے تک یہی خاموشی طاری رہی۔ سب مرد قبرستان سے واپس آئے تو کھانا لگا۔ اب دھیرے دھیرے ادھر ادھر بھنبھناتی ہوئی سرگوشیاں شروع ہوئیں۔ جن میں تین لفظ بار بار اس کے کانوں میں پڑ رہے تھے
دھاری، عوضی اور کارو پتھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top